Header Ads

Breaking News
recent

چند صدیق، چند فاروق درکار ہیں

دنیا بھر میں سیاحت کا شعبہ تیزرفتاری سے ترقی کر رہا ہے اور ٹوراِزم انڈسٹری کا سالانہ حجم 7.5 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ مگر گزشتہ برس ایک عالمی ادارے نے سیاحت کے بارے میں بہت دلچسپ تحقیقی رپورٹ شائع کی کہ اب لوگ محض سیر و تفریح کی غرض سے سفر نہیں کرتے۔ دنیا گھومنا اور چھٹیاں گزارنا بھی مقصود ہوتا ہے مگر ایجنڈے میں سرفہرست کوئی اورعنصر شامل ہوتا ہے مثال کے طور پر ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ یورپی شہری طبی سیاحت کی غرض سے بھارت آتے ہیں اور نہ صرف سستے علاج کی سہولت حاصل کرتے ہیں بلکہ تاج محل کی سیر بھی کر لیتے ہیں ۔

میڈیکل ٹوراِزم سے بھارت کو سالانہ 2بلین ڈالر کی آمدنی ہو رہی ہے اور اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیاحت میں بڑی حد تک مقدس مقامات کی زیارت اور مذہبی یاتر ا کا عنصر شامل ہو چکا ہے ۔اب ٹوراِزم انڈسٹری کا انحصار بڑی حد تک ان زائرین، عازمین اور یاتریوں پر ہے جو عبادت کی غرض سے طویل سفر کر کے بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنے عقیدے کے مطابق منتیں مُرادیں پاتے ہیں۔ یورپ کا چھوٹا سا شہر ویٹی کن اس لئے خوشحال ہے کہ ہر سال کم از کم پچاس لاکھ مسیحی یہاں حاضری لگوانے آتے ہیں۔

اٹلی جو سیاحت کے اعتبار سے سرفہرست دس ممالک میں شمار ہوتا ہے وہاں 65 فیصد ٹورسٹ مذہبی مقامات کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ میں حج اور عمرے کی نیت سے جانے والے عازمین سے سعودی عرب کو سالانہ 16.5ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے جو اس کی جی ڈی پی کا 3 فیصد ہے۔ یروشلم میں پابندیوں کے باجود بیت المقدس دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہے ۔شیعہ زائرین باقاعدگی سے دمشق، تہران ، نجف،مشہد ،کربلا اور کوفہ کا رُخ کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ بیان کیا گیا کہ روایتی سیاحتی شعبہ تو عالمی کساد بازاری جیسے مسائل کا شکار ہوتا ہے مگر مذہبی یاترا (Religious Tourism ) کا سلسلہ بلا توقف وبلا تعطل جاری و ساری رہتا ہے کیونکہ لوگ عین عبادت سمجھ کر عازم سفر ہوتے ہیں۔
لہٰذا دنیا بھر میں یہ رجحان ہے کہ مختلف مذاہب کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش کا اہتمام کر کے سیاحوں کو اپنی جانب مائل کیا جاتا ہے۔پاکستان میں مذہبی یاترا کے وسیع اور لامحدود مواقع موجود ہیں ۔یہاں ہندوئوں ،سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کیلئے اس قدر تاریخی مقامات ہیں کہ اگر ایک مرتبہ ان کی توجہ مبذول کرو الی جائے تو یہ ملک سکھوں کا ویٹی کن ،ہندوئوں کا قبلہ و کعبہ اور بدھ مت کے پیروکاروں کا مرکز بن سکتا ہے ۔کراچی سے لسبیلہ روڈ پر 270کلومیٹر کے فاصلے پر ہنگلاج ماتا جی ’’تیرتھ ‘‘ ہے ۔مندر اور تیرتھ میں فرق یہ ہے کہ مندر تو کہیں بھی بن سکتا ہے مگر ’’تیرتھ ‘‘ کی اہمیت اس مقام کی وجہ سے ہے ۔

اس ماتا جی کی ہندواِزم میں وہی اہمیت اور مقام و مرتبہ ہے جو مسلمانوں کے ہاں حضرت حوا ؑ کے حصے میں آتا ہے ۔یہاں گزشتہ حکومت نے ایک چھوٹا آبی ذخیرہ اور پاور پلانٹ بنانے کی حماقت کی تھی ،وہ تو بھلا ہو متروکہ وقف املاک بورڈ کے موجودہ چیئرمین کا جنہوں نے اس کی اہمیت و افادیت کا اِدراک کرتے ہوئے اس منصوبے پر نظر ثانی کرنے کو کہا اور اب یہاں ہندوئوں کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔اسی طرح کٹاس راج مندر دنیا بھر کے ہندوئوں کیلئے عقیدت و احترام کا دوسرا بڑا مرکز ہے ۔جہاں سے ہندو زائرین پانی بھر کر لے جاتے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق اس پانی میں شفا ہے۔
اسی طرح گردوارہ دربار صاحب ،گردوارہ ڈیرہ صاحب ،گردوارہ پنجہ صاحب اور گردوارہ گرونانک جیسے مقامات سکھوں کیلئے انتہائی معتبر و محترم ہیں۔
پاکستان میں موجود مختلف مذہبی مقامات کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری متروکہ وقف املاک بورڈ پر عائد ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس ادارے کے پہلے سربراہ سے سابق چیئرمین تک جتنے بھی لوگ آئے ،ان کی اکثریت نے اپنوں میں ریوڑیاں بانٹنے اور دونوں ہاتھوں سے مال بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔بالخصوص پیپلز پارٹی کے دور میں تو ایسی اندھیر نگری مچائی گئی کہ یہ منافع بخش ادارہ خسارے میں چلا گیا ۔نیب اور ایف آئی اے میں ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک جو مقدمات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق اس شخص نے ادارے کو دس ہزار ملین روپوں کا نقصان پہنچایا۔

2اکتوبر 2014ء کو جب صدیق الفاروق جیسے ہونہار ،دیانت دار اور فرض شناس شخص نے اس ادارے کی باگ ڈور سنبھالی تو متروکہ وقف املاک بورڈ کا سالانہ خسارہ 15کروڑ روپے تک پہنچ چکا تھا مگر جن افراد نے نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں ایچ بی ایف سی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی کارکردگی دیکھی تھی انہیں یقین تھا کہ یہ شخص جو اسم بامسمیٰ ہے ،کوئی انہونی ضرور کر دکھائے گا ۔اور وہی ہوا ،محض نو ماہ بعد ہی پہیہ الٹا گھومنے لگا اور جو ادارہ خسارے کا شکار تھا ،وہ 13.5کروڑ سرپلس ہو گیا ۔

ناجائز قابضین سے 160ایکڑ 11کینال اراضی واگزار کروائی گئی ،نااہل اور کام چور افراد کو فارغ کیا گیا اور یوں مجموعی طور پر ریونیو میں 371.12ملین کا اضافہ ہوا۔دستیاب معلومات کے مطابق گرونانک ننکانہ صاحب میں ’’امرت جل ‘‘ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا گیا ہے ۔ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں 200کمروں کی تز ئین و آرائش کا سلسلہ جاری ہے ،کٹاس راج میں چیئرلفٹ لگائی گئی ہے ،چڑیا گھر اور جھیل بنانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی سے ننکانہ صاحب میں گرونانک یونیورسٹی اور ٹیکسلا کے قریب گندھارا یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے۔

لیکن یہ کام اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہیں ۔ سکھوں اور ہندئوں سے زیادہ گوتم بدھ کے پیروکاروں کو مذہبی یاترا کیلئے پاکستان کی جانب مائل کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سکھوں کی تعداد 27ملین ہے مگر بدھ مت کے پیروکاروں کی تعداد 300 سے 500 ملین بتائی جاتی ہے جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ، میانمار، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا، ویت نام، جاپان، تائیوان ،کمبوڈیا سمیت بیسیوں ممالک میں آباد بدھ مت کے ماننے والوں کیلئے پاکستان میں ان گنت مقدس مقامات ہیں۔ اگر تخت بھائی ،سوات اور ٹیکسلا میں موجود بدھ عبادت گاہوں اور دیگر تاریخی مقامات تک رسائی کو آسان اور باسہولت بنا دیا جائے تو ہماری معیشت چیونٹی کی مانند رینگنے کے بجائے خرگوش کی رفتار سے دوڑنے لگے ۔

اگر متروکہ وقف اِملاک بورڈ کو مختصر مدت میں منافع بخش بنایا جاسکتا ہے تو مذہبی یاتر یوں کو مائل کرنے کی اس منزل کا حصول بھی ناممکن نہیں ۔ہاں اس کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اس ادارے کے اشتراک سے ملکر کوششیں کرنا ہونگی اور محکمہ سیاحت پر قابض بدعنوان افراد سے نجات حاصل کر کے دیانت دار ،اہل اور فرض شناس افراد کو آگے لانا ہوگا۔بصیرت ،عزم اور اخلاص کے ساتھ ساتھ اس مقصد کیلئے درکار ہیںتو بس چند ’’صدیق‘‘ اور چند ’’فاروق‘‘ جو اسم بامسمیٰ ہوں ۔
 
محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

No comments:

Powered by Blogger.