Thursday, March 23, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

بھارتی جمہوریت ذات پات کے حصار میں

ہم جمہوریت کے جتنے دعوے چاہے کریں ہمارے معاشرے سے ذات پات کا نظام ہر گز ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ہر روز ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں دلتوں کے زندہ جلائے جانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ابھی اگلے ہی دن دہلی کے قریب دادریDaddary کے مقام پر ایک پورے دلت گھرانے کو آگ میں جھونک دیا گیا۔ حتیٰ کہ وفاقی دارالحکومت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے اپنے ساتھ ناروا امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہو کر خود کو پھندے سے لٹکا لیا۔ 28 سالہ ایم فل کا طالب علم جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں داخلے کے خواب دیکھتا رہا تھا اور جسے اپنی خوش قسمتی سے چوتھی کوشش میں بالآخر اس موقر مادر علمی میں داخلہ مل گیا۔

اس کا تعلق ملک کے جنوبی علاقے مٹھو کرشنن سے تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت سنجیدہ مزاج نوجوان تھا جو صرف اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس الم ناک واقعے کا نہ تو معاشرے پر کوئی اثر ہوا ہے چہ جائیکہ پورے ملک میں اس کا کوئی اثر نظر آیا ہو۔ یہ بھی ایسا ہی واقعہ ہے جسے بآسانی فراموش کر دیا جائے گا حالانکہ اسقدر الم ناک واقعے پر پورا ملک ہل کر رہ جاتا۔ اونچی ذات کے کسی طالب علم کا واقعہ ہوتا تو بہت سے طلبہ مطالبہ کرتے کہ اس کا پارلیمنٹ میں نوٹس لیا جائے، لیکن چونکہ یہ نچلی ذات کے نوجوان کا واقعہ تھا جسے ہندو معاشرے میں اچھوت قرار دیا جاتا ہے لہٰذا اس کے حق میں کوئی سرگوشی بھی سنائی نہیں دی۔ اس حوالے سے میڈیا بھی برابر کا قصور وار ہے کیونکہ اس نے یہ خبر دوسری کئی بڑی خبروں کی ضمنی کے طور پر شایع کی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ میڈیا میں بھی زیادہ تر اونچی ذات کے لوگ کام کرتے ہیں لہذا ان کا مائنڈ سیٹ بھی وہی پرانا ہے حالانکہ نوجوانوں کو پر جوش اور انقلابی مزاج کا ہونا چاہیے مگر نچلی ذات والوں کے لیے وہ پُر جوش اور انقلابی ہونے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
یہ ظاہر ہے کہ ہلاک ہونیوالے طالب علم کے والد اور چند دیگر طلباء کا خیال ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے تاہم پولیس نے اپنی بچت کی خاطر اسے خودکشی ہی قرار دیا ہے۔ طالب علم کے والدین نے سرکاری تحقیقاتی بورڈ سی بی آئی سے تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن سی بی آئی بھی دہلی پولیس پر انحصار کرتا ہے۔ گزشتہ سال اسی طرح کا ایک واقعہ حیدر آباد یونیورسٹی کے ایک طالب علم روہت وزولا کے ساتھ بھی پیش آیا جس کا تعلق بھی دلت کمیونٹی کے ساتھ تھا لیکن یہ معاملہ طلباء کی طرف سے زبردست احتجاج اور شور شرابے کی وجہ سے اعلیٰ حکام تک پہنچ گیا جنہوں نے یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ کے محافظ عملے کو تبدیل کر دیا۔ مٹھو کرشنن کے طالب علم کی ہلاکت کے واقعے سے روہت کی ہلاکت کا واقعہ بھی یاد آ گیا جس پر حیدر آباد یونیورسٹی کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

نہرو یونیورسٹی کے طالب علم نے ایک فیس بک پوسٹ میں نہرو یونیورسٹی کی نئی داخلہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا اور اس حوالے سے ایسی بہت سی مثالیں پیش کیں جن میں اسے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ آخر یونیورسٹیوں میں ہونے والے اس قسم کے واقعات کس چیز کی نشان دہی کرتے ہیں؟ ہمیں اپنا ذہن استعمال کر کے دیکھنا چاہیے کہ دلت طلباء کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس قسم کے حالات کیوں پیش آتے ہیں۔ اس بات کو زیادہ وقت نہیں گزرا جب حیدر آباد یونیورسٹی کو ان تمام طلباء کی معطلی ختم کرنا پڑی تھی جن کو روہت کی موت کے بعد معطل کیا گیا تھا۔ حیدر آباد میں 2007ء سے 2013ء کے دوران درجن بھر سے زائد دلت طلباء کی خود کشی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ شمالی علاقے میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز دہلی میں جنوری 2007ء سے اپریل 2011ء کے دوران طلباء کی خودکشی کے 14 واقعات رپورٹ کیے گئے۔

ایسے لگتا ہے کہ دلت طلباء کی پے در پے خودکشیوں کا ہم نے نوٹس لینا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اب اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلباء میں بہت سی ذاتیں شامل ہو گئی ہیں جیسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ 2008ء میں اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں 4 فیصد طلباء کا تعلق قبائل سے‘ 13.5 فیصد کا تعلق شیڈول کاسٹ سے اور 35 فیصد کا تعلق دوسرے پسماندہ طبقوں سے ہے۔ صرف ہندوؤں کی شرح طلباء میں 85 فیصد ہے جس کے بعد مسلمانوں کا نمبر آتا ہے جن کی شرح 8 فیصد ہے جب کہ عیسائی صرف 3 فیصد ہیں اور 25میں سے 23 دلت ہیں۔ اس حوالے سے کرائی جانے والی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امتیازی سلوک کے ساتھ توہین آمیز رویہ بھی نچلی ذات کے طالب علموں کو دلبرداشتہ ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ گویا خودکشیوں کی بڑی وجہ ذات پات کی تفریق ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسے تعلیمی ادارے جہاں پیشہ وارانہ تعلیم دی جاتی ہے وہاں پر ذات پات کا تعصب زیادہ شدید ہوتا ہے لیکن بھارتی معاشرے میں اس کو کوئی غیرمعمولی چیز نہیں سمجھا جاتا بلکہ معمول کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

2010ء میں پروفیسر میری تھورنٹن اور ان کے ساتھیوں نے بھارت اور انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم کے 5 اداروں میں تحقیقاتی مطالعہ کیا جس میں یہ ظاہر ہوا کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلباء و طالبات گروپوں کی صورت میں علیحدہ علیحدہ ہو جائے ہیں اور اس طرح ان میں مسابقت کی فضا برقرار رہتی ہے۔ ان گروپوں میں نسلی امتیاز مذہبی امتیاز‘ قومیت‘ ذات پات اور تذکیر و تانیث کے حساب سے گروپنگ کی جاتی ہے۔ 2013ء میں میمسن اووچگن نے بھارت کی ایلیٹ یونیورسٹی میں دلت طلباء کے تجربات پر ایک مطالعاتی تحقیق کی اور یہ ثابت ہوا کہ اس یونیورسٹی میں بھی ذات پات کی تفریق اپنی شدت سے موجود ہے۔ یونیورسٹی کا ماحول دلت اور غیر دلت طلباء میں تفریق کو اور زیادہ واضح کرتا ہے جب کہ دلت طالب علم کھلے اور خفی امتیازی سلوک کا نشانہ بنتے ہیں۔ جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ذات پات کے تعصبات نہایت شدت کے ساتھ موجود ہیں لیکن کوشش یہ کی جاتی ہے کہ اس پہلو کو اجاگر نہ کیا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ خودکشی کے واقعات کو تعصبات اور امتیازی سلوک کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاتا حالانکہ خودکشی کے 25 واقعات میں سے 23 دلت طلباء تھے اور یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے والوں کو حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کیونکہ انکار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب حالات بہتر ہو رہے ہیں لیکن ذات پات کے نظام کی شرمندگی کسی نہ کسی شکل میں بدستور موجود ہے۔ دلت طلباء اور اساتذہ اور انتظامیہ کے تعلقات میں افراط و تفریط کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں دلت اور دوسرے نچلی ذات کے طلباء کے حوالے سے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے انتظامات کرنے چاہئیں اور تمام فیصلہ کن مراحل میں دلتوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ 

کلدیپ نائر
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

Read More

Wednesday, March 22, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے بڑے مسائل

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کارپوریشن لیمیٹڈ کے معاملات ان دنوں بہت سارے فورمز پر موضوعِ بحث ہیں مگر گذشتہ دنوں سینیٹ کی پی آئی اے پر قائم کی گئی خصوصی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں کیمیٹی کے اراکین نے پی آئی اے مسائل کا ایک جائزہ پیش کیا اور اس کے حل کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے۔ سینیٹ کی اس خصوصی ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ تھے جبکہ اس کے اراکین میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ نواز کے سینیٹر ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم شامل تھے۔

اس ذیلی کمیٹی نے پی آئی اے کی انتظامیہ سے دو دن تک معاملات پر بریفنگ لی، پی آئی اے کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، اور کمپنی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹرز اور چیئرمین سے بھی بات کی۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے سول ایوی ایشن کے سابق ڈائریکٹرز اور سیکرٹری ایوی ایشن سے بھی بات کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پی آئی اے میں اس وقت پائی جانے والی بڑی خرابیوں کا ذکر کیا جن میں سے پانچ نمایاں خرابیاں درج ذیل ہیں۔

1: سیاسی مداخلت اور سیاست دانوں کی ناکامی
ماضی کی حکومتوں نے اس کمپنی پر درکار توجہ نہیں دی اور اس کی انتظامیہ میں سیاسی بنیادوں پر تیزی سے تبدیلیاں کی گئیں۔ من پسند افراد کو بھرتی کیا گیا جن میں نہ تو کوئی سٹریٹیجک سوچ تھی اور نہ ہی ایسی صلاحیت کہ وہ منافع بخش منصوبہ بنا سکیں۔ تباہی کی ایک اہم وجہ ادارے کو سیاست کی نذر کرنا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مناسب افراد کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔ یہ سب اب تک پی آئی اے پر ایک بہت بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔

2: اعتماد اور لیڈرشپ کا بحران
پی آئی اے قیادت اور اعتماد کے بحران سے دوچار ہے۔ آج بھی پی آئی اے کا مستقل سی ای او یا سربراہ نہیں ہے اور قائم مقام سی ای او دراصل چیف آپریٹنگ آفسر ہیں۔ موجودہ قائم مقام سی ای او نے نے حکومت اور بورڈ کی جانب سے انتظامی اور آپریشنل معاملات میں ناجائز مداخلت کا شکوہ کیا جو کام صرف سی ای او اور مینیجنگ ڈائریکٹر کا ہونا چاہیے۔

3: عہدوں کے لیے غیر موزوں ڈائریکٹرز
کمیٹی کا کہنا ہے کہ عہدوں پر فائض کچھ ڈائریکٹر ان عہدوں کے لیے غیر موزوں ہیں۔ کمیٹی نے یہ بات لکھی ہے کہ تین ایسے ڈائریکٹرز ہیں جو تین لاکھ سے زیادہ ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں اور اب تک انہیں کوئی کام نہیں سونپا گیا اور وہ بغیر کام کیے ایک سال سے تنخواہ لے رہے ہیں۔

4: یونینز اور ایسوسی ایشنز کی سیاسی پشت پناہی
کمیٹی نے لکھا ہے کہ بدقسمتی سے یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان کی تمام سٹیٹ اونڈ ایٹرپرائزز میں ہر یونین کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ یونینز اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے اپنے استعداد کا غلط استمعال کرتی ہیں اور انتظامیہ کو بلیک میل کرتی ہیں اور تبادلوں اور تقرریوں میں اپنی من مرضی ٹھونستی ہیں۔ حتیٰ کہ آپریشنل تعیناتیوں میں بھی انتظامیہ پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ کمیٹی کو پتا چلا کہ سی بی اے کے علاوہ سات دوسری ایسوسی ایشنز ہیں جو پی آئی اے کے آپریشنز کو غیر قانونی طور پر مفلوج کرنے میں ماضی میں بھی ملوث رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ یہاں تک کے وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کس روٹ پر کون سا عملہ جائے گا جو کہ ایک انتظامی معاملہ ہے۔

5: کرپشن
طیاروں کے فاضل پرزوں کی خریداری سے لے کر فریٹ یعنی سامان لے جانے کے لیے جگہ کی الاٹمنٹ، بھرتیوں اور تبادلوں اور انجنیئرنگ اور کیٹرنگ شعبوں میں کرپشن بھرپور ہے۔ عہدوں کی تنخواہ ان کے کام کے مقابلے میں بعض جگہوں پر غیر متوازن ہے۔ آج بھی پی آئی اے کا مستقل سی ای او یا سربراہ نہیں ہے اور قائم مقام سی ای او دراصل چیف آپریٹنگ آفسر ہیں۔

کمیٹی کی سفارشات
پی آئی اے کے بورڈ کو فی الفور تحلیل کر دیا جائے اور نئے بورڈ میں ہوابازی اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو تعینات کیا جائے۔ بورڈ اپنا چیئرمین خود منتخب کرے۔ بورڈ صرف وسیع پالیسی معاملات، نئے منصوبوں پر غور کرے اور تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات کو انتظامیہ کے سپرد کر دے۔ سی ای او کو اپنی ماہرین کی ٹیم تعینات کرنے کا پورا اختیار دیا جائے۔ تنخواہوں اور مراعات کو معقول بنایا جائے اورحکومت فوری طور پر چیف آپریٹنگ آفیسر تعینات کرے۔ بورڈ اور سی ای او سیاسی مداخلت کو کبھی خاطر میں نہ لائیں اور بھرتی اور برخاست کرنے کا اختیار سی ای او کو دیا جائے جو وہ میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کرے۔

سی بی اے اپنی سرگرمیوں کو گریڈ ایک سے چار کے عملے کی فلاح و بہبود تک محدود رکھے اور ایسی ایسوسی ایشنز جنھوں نے غیر قانونی طور پر سی بی اے کا کردار اپنا لیا ہے کو ان کے مقام پر رکھا جائے اور انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کی بالکل اجازت نہ دی جائے۔

طاہر عمران
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Read More

Monday, March 20, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

سوئس بینکوں میں کالے دھن تک رسائی

Read dr-mirza-ikhtiar-baig Column swiss-bankon-men-kalay-dhan-tak-rasaee published on 2017-03-20 in Daily JangAkhbar

ڈاکٹرمرزا اختیار بیگ

Read More

Sunday, March 19, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

سائبر کرائمز : ایک ارب ای میل اکائونٹس ہیک ؟

ان دنوں ہر طرف ای میل چوروں کا چرچہ ہے۔ کہیں وکی لیکس زیر بحث ہے تو کوئی امریکی انتخابات میں ای میلز اکائونٹس کی ہیکنگ کے ذریعے روسی مداخلت پر تبصرہ کر نے میں مگن ہے۔ ایک اور چونکا دینے والی رپورٹ اس کے علاوہ ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ،عالمی شہرت یافتہ گلوکار جسٹن بیبرر، شکاگو یونیورسٹی اور اٹلانٹا پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت کئی ٹوئٹڑ اکائونٹس کی ہیکنگ پر لوگوں کا دھیان کم ہی گیا ہے۔ چند ہیکروں نے ٹوئٹر اکائونٹس ہیک کر کے ان پر مغرب کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا تھا ۔ بعض اکائونٹس پر ترکی کے جھنڈے کے پوسٹ کر کے ہٹلر کا رسوائے زمانہ ’’سواسٹکا‘‘ پوسٹ کر دیا ہے۔ مقصد یہ باور کرانا ہے کہ بعض مغربی ممالک میں ہٹلر کا اثر اب بھی باقی ہے ۔

صدر طیب اردگان کے ہالینڈ کے خلاف سخت جملے بھی ہیکروں نے تصویروں کے ساتھ لکھ دئیے ہیں۔ ایک کمپنی نے اپنے ایک ارب ای میل اکائونٹس کی ہیکنگ کا اعتراف کیا ہے۔ ہیکروں نے ان اکائونٹس کی ہیکنگ کے لئے ہزاروں اکائونٹس کا سہارا لیا۔ ایک سرچ انجن نے 2014ء میں 50 کروڑ اکائونٹس ہیک کر نے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد اپنے سسٹم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہیکروں کے بعض گروپس نے کم از کم 80 لاکھ اکائونٹس کی معلومات چرائیں۔ 2013ء میں بھی کم از کم ایک ارب اکائونٹس میں سے لوگوں کی نجی زندگی کی معلومات چرا لی گئی تھیں۔ ایسا دوسرا بڑا واقع پچھلے سال 22 ستمبر کو پیش آیا۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک کم عمر بچہ بھی اس کام میں ملوث ہے۔ یہ بھی کہنا ہے کہ بعض ہیکروں کو پس پردہ بعض حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔ 
ایک سرچ انجن کی درخواست پر امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل نے غیر قانونی طور پر لوگوں کی نجی زندگی میں داخل ہونے اور ای میلز ہیک کرنے پر 33 سالہ روسی تی متری الیگزینڈرو ،43 سالہ روسی ایگور اینا تولی وچ ، 39 سالہ روسی الیگزے اور 22 سالہ کریم باراتوف کے خلاف مقدمات بنا دئیے ہیں۔ کریم بارہ توف کو امریکی پولیس نے 14 مارچ کو کینیڈا سے حراست میں لے لیا ہے جبکہ باقی تین روسی ’’اشتہاری‘‘ قرار دے دئیے گئے ہیں۔ ان پر روس کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات ہے۔

محمد سعد صہیب

 

Read More