Monday, February 27, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

آو سب مل کر بولیں

Read hamid-mir Column aao-sab-mil-kar-bolen published on 2017-02-27 in Daily JangAkhbar

حامد میر

Read More

Sunday, February 26, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

پنجاب رینجرز ہیلپ لائن

 پاک فوج نے آپریشن ”رد الفساد“ میں پنجاب رینجرز کی معاونت اور کسی بھی مشکوک شخص اور سرگرمی کی اطلاع دینے کیلئے فون نمبرز جاری کر دئیے ہیں۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کیلئے 042-99220030 یا 042-99221230 پر رابطہ کر سکتے ہیں. 
جبکہ واٹس ایپ پر اطلاع دینے کیلئے 0340-8880100 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق عوام اگر کسی مشکوک شخص یا سرگرمی سے متعلق ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دینا چاہتے ہیں تو اس مقصد کیلئے 0340-8880047 نمبر استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ ای میل ایڈریس help@pakistanrangerspunjab.com  پر بھی اطلاع دی جا سکتی ہے۔

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

انسٹاگرام اور وائبر کا نیا فیچر متعارف

انسٹاگرام پر اب بیک وقت 10 تصاویر پوسٹ کرنا ممکن 

بہترین میگا پکسلز سے لیس اسمارٹ فونز نے حالیہ دور میں یادگار لمحوں کو محفوظ بنانا قدرے آسان بنا دیا ہے۔ کبھی کبھی ان یادگار لمحات کی بے شمار تصاویر میں سے کسی ایک کا انتخاب مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ تمام ہی تصاویر ہمارے لیے اہم ہوتی ہیں۔ آخر کار انسٹاگرام کو صارفین کی اس پریشانی کا خیال آ گیا، اسی لیے مشہور فوٹو شیئرنگ ایپلی کیشن نے اپنے صارفین کو ملٹی پکچر پوسٹ کرنے کا آپشن فراہم کر دیا ہے۔ آسان الفاظ میں آپ اب انسٹاگرام پر بیک وقت کئی تصاویر پوسٹ کر سکتے ہیں جو کسی البم کی شکل میں نیوزفیڈ پر نظر آئیں گی۔ انسٹاگرام کے بلاگ پر شائع ہونے والی اس نئی اپ ڈیٹ کی تفصیلات کے مطابق اب صارفین ایک وقت میں 10 تصاویر اور ویڈیوز ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے۔

ان تصاویر اور ویڈیوز کو دائیں اور بائیں جانب سوائپ کر کے دیکھا جا سکے گا۔کسی کی سالگرہ ہو یا شادی یا آپ نے کسی پسندیدہ ترکیب کو اپنے فالوورز سے شیئر کرنا ہو، انسٹاگرام کے نئے فیچر کی مدد سے باآسانی ایسا کیا جا سکے گا۔انسٹاگرام انتظامیہ کے مطابق صارفین کی اپ ڈیٹڈ انسٹاگرام ایپلی کیشن میں ایک نیا آئیکن دکھائی دے گا، جہاں سے ایک ساتھ 10 تصاویر کو پوسٹ کرنے کے لیے شیئر کیا جا سکے گا۔ صارفین تصاویر کی ترتیب اپنی مرضی سے تبدیل کر سکتے ہیں اور مختلف فلٹرز کا بھی استعمال کر سکتے ہیں، تاہم ان سب تصاویر کے ساتھ فی الوقت صرف ایک ہی کیپشن پوسٹ کیا جا سکے گا۔ جبکہ صارفین کے فالوورز تصویر کے ساتھ نظر آنے والے بلیو ڈاٹس کی مدد سے جان سکیں گے سوائپ کرنے پر مزید تصاویر ان کی منتظر ہیں۔ 

وائبر میں اب اشیاء کی خریداری بھی ممکن

 واٹس ایپ کے مقابلے پر سرگرم میسجنگ ایپ وائبر نے اپنے صارفین کے لیے ایک اہم فیچر متعارف کرا دیا ہے جس سے وہ مختلف اشیاء کی خرید و فروخت کرسکیں گے۔ جی ہاں وائبر میں ایک شاپنگ بیگ آئیکون پر مبنی ایک بٹن اسکرین کے نیچے متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین مختلف چیزوں کو خرید سکیں گے۔ یہ فیچر سب سے پہلے 6 مارچ کو امریکا میں متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد یہ بتدریج دنیا بھر میں پیش کر دیا جائے گا۔کمپنی کے مطابق یہاں لوگ الیکٹرونکس، گھریلو مصنوعات اور فیشن پراڈکٹس وغیرہ خرید سکیں گے۔

اس مقصد کے لیے وائبر مختلف کمپنیوں سے شراکت داری کرے گی جبکہ صارفین ڈائریکٹ اس ایپ سے اشیا خرید نہیں سکیں گے بلکہ ایک ڈیپ لنک کے ذریعے اس برانڈ کی ایپ سے جڑیں گے یا موبائل ویب سائٹ پر جائیں گے۔ تا ہم وائبر کے مطابق طویل المدتی بنیادوں پر یہ خریداری وائبر پر ڈائریکٹ ہونے لگے گی تاہم ابتداء میں تجربے کے لیے اسے بلاواسطہ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ہم وائبر کو ایسا پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں جہاں صارفین اچھی مصنوعات کی خریداری کر سکیں اور احمقانہ اشتہارات سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ وائبر نے گزشہ دنوں چیٹ ایکسٹیشنز نامی اپ ڈیٹ بھی متعارف کرائی تھی جو کہ ایک سرچ فیچر ہے جس کے ذریعے تھرڈ پارٹی سروس سے ڈیٹا، جی آئی ایف یا دیگر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ 

(نیٹ سے ماخوذ)  

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

صحراے تھر کی مختصر تاریخ

تھرپارکر ، سندھ کے جنوب مشرق میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کا ہیڈ کوارٹر مٹھی میں ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 21 ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی13 لاکھ ہے معروف سندھی مؤرخ و محقق دوست ڈیپلائی کے مطابق تھر کے لفظی معنی صحرا ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں راجہ کی ریل چلا کرتی تھی لہٰذا تھر کی سماجی زندگی باقی سندھ سے کٹی ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے تھر کی زبان ثقافت اور رسم و رواج باقی ماندہ سندھ سے الگ ہیں۔ 
 قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ بعد ازاں ’’مہرانوں نہر‘‘  کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کی سیرابی کے لیے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر’’باکڑو‘‘ نکلا کرتی تھی‘ جسے 17 ویں صدی میں کلہوڑا حکم رانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا ان جزوی انتظامات کے باوجودپانی کی دستیابی تھر کا صدیوں سے اہم مسئلہ رہا ہے۔
اس حوالے سے کئی مقامی محاورے مشہور ہیں۔ ’دو سے تہ تھ نہ تہ بر‘‘ یعنی اگر بارش ہو تو تھر گلستان بن جاتا ہے ورنہ بیابان کی مانند ہے۔ دوسری کہاوت ہے کہ تھر آھے کن تے یادھن تے‘‘ یعنی تھر کا انحصار بارشوں کی بوند پر ہے یا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر ہے۔ تھر کے مقامی لوگ کرنل تھروٹ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1882ء میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کئی مقامات پر تالاب بنوائے تھے جہاں سے عام لوگوں کو پانی دستیاب ہوتا۔
اس کے علاوہ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے بھی تھر کے باشندوں کے کرب کو بھانپتے ہوئے ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں بھی تھر کی برسات سے قبل اور بعد کی کیفیات کو قلم بند کیا ہے تھر کے لوگوں کا شہارا ہی میگھ (بارش) ہے میگھا برسا تو لوگ خوش ورنہ دربہ در خاک بہ سر۔ نہ تو کوئی زرخیز زمین ہے نہ جاگیر ان کازیادہ تر انحصار بھیڑ بکریوں پر ہوتا ہے۔ دس بارہ بھیڑ بکریاں نہ بجلی نہ گیس نہ موٹر نہ کار کہیں دور جانا ہو تو اونٹ پر چلے جاتے ہیں ورنہ ساری زندگی اپنے ’’دیس‘‘ تھر میں ہی بسر کریں گے۔‘

ڈاکٹرآصف محمود جاہ

 

Read More