Sunday, December 4, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

یورپ کا بڑا جرنیل نپولین بونا پارٹ

نپولین فرانس کے جزیرہ کورسیکا میں 15 اگست 1769ء کو پیدا ہوا۔ پیرس اور برائن کے فوجی سکولوں میں تعلیم پائی اور سب سے پہلی کامیابی تولون کے محاصرے (1793ئ) میں حاصل کی، جہاں اُس نے توپ خانے کو ایک ایسے مخصوص انداز میں استعمال کیا کہ اسی کی وجہ سے فتح ہو گئی۔ اس کے بعد اٹلی میں پے در پے فتوحات حاصل ہوئیں اور 1797ء تک وہ ایک قومی ہیرو بن گیا۔ اسی سال اُس کو مصر کے خلاف ایک مہم کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جس کا آخری مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کو فتح کیا جائے۔ نپولین اب تک خشکی کی لڑائیوں میں تو فتح مند ہوتا چلا آتا تھا، لیکن جب دریائے نیل پر برطانوی بیڑے سے مقابلہ ہوا تو اس کا بحری بیڑا نا کام ہو گیا۔ 1799ء کے موسم خزاں میں وہ پیرس چلا آیا اور حکومت کا تختہ الٹ کر خود ’’قونصل اوّل‘‘ بن گیا۔

اس وقت معلوم ہوا کہ نپولین صرف فوجی اعتبار سے بہت بڑا آدمی نہیں، بلکہ انتظامِ حکومت اور قانون سازی میں بھی مثال نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس نے حکومت کی ابتری کو دور کرکے امن و انتظام قائم کیا، مالیات کے نظام نیز عدالتوں کی اصلاح کی، تعلیم کو عام کرنے کا بندوبست کیا اور فرانسیسی قوانین کی باقاعدہ تدوین کرائی۔ 18 مئی 1804ء کو نپولین شہنشاہ بنایا گیا۔ 1810ء میں آسٹریا کے شہنشاہ کی بیٹی ’’ماریا لویسا‘‘ سے شادی کر لی۔ دو سال بعد روس کی مصیبت ناک مہم شروع ہوئی۔ نپولین نے ہمیشہ کی طرح فتح پر فتح حاصل کرنی شروع کی، لیکن عین موسم سرما میں ماسکو سے پسپا ہوتے وقت اُس کی تقریباً ساری کی ساری فوج تباہ ہو گئی۔

1813ء میں پروشیا اور آسٹریا نے روس کے ساتھ مل کر لائپزگ کے مقام پر اس کو شکست دی اور اسے 11 اپریل 1814ء کو تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔ نپولین ایلبا کے جزیرے میں قید تھا، وہاں سے نکل بھاگا اور دوبارہ فرانس کا آمر بن گیا، لیکن آخر 18 جون 1815ء کو بلوشر اور ویلنگٹن نے اس کو واٹر لو کے میدان میں شکست فاش دی اور وہ سینٹ ہلینا کے جزیرے میں جلاوطن کر دیا گیا۔ جہاں 5 مئی 1821ء کو وہ چل بسا۔ 

فجر مسعود،لاہور

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

مان لیجیے، پاکستان سے بڑھ کر بہتر جگہ کوئی نہیں

حارث کی کال آئی تو سب اس جانب متوجہ ہوگئے۔ حارث اپنے والدین کا لاڈلے تھا جس کی وجہ سے اُسے یہاں ہر قسم کی سہولیات میسر تھی، لیکن بیرون ملک جا کر وہ بالکل اکیلا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے اُس کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جب جب اُس سے رابطہ ہوتا ہے تب تب ہم یہ اُمید کرتے ہیں کہ حارث کو اب اچھی نوکری مل گئی ہو گی اور وہ وہاں اچھی زندگی گزار رہا ہو گا، مگر ہر بار حارث کا ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ ’’بس بھائی کیا پوچھتے ہیں، دیکھیں انشاء اللہ بہت جلد کچھ ہوجائے گا‘‘۔ حارث کا تو ہمیں نہیں معلوم لیکن اُس کے حالات سن کر ہمیں ضرور مایوسی کے گہرے بادل اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیتے ہیں، مگر شکر یہ کہ ہر ہر بار اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مایوسی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا کہ؛ ’’خبردار مایوسی کفر ہے‘‘۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل ایک عرصے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ امسال بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر اس کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں اوورسیز پاکستانیز کمیشن فعال دکھائی دیا۔ پنجاب میں اس پر کچھ مزید پیش رفت بھی ہوئی اور اضلاع کی سطح تک کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ جنہیں ہزاروں کی تعداد میں شکایات موصول ہوئیں۔ کمشنر اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب نے دعویٰ بھی کیا کہ اب تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی 4 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 50 فیصد حل کی جا چکی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جارہا ہے۔
گزشتہ روز ایک رپورٹ نظروں سے گزری۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، آسٹریلیا، عراق، ایران، بھارت، افغانستان سمیت 86 ممالک کی جیلوں میں 21 ہزار 790 پاکستانی قید ہیں، جن میں سے بی کیٹیگری کے کیسز میں 10 ہزار 127 کی تعداد میں پاکستانی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت سمیت کئی ممالک میں تو بغیر کسی الزام کے بھی متعدد پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔ بیرون ملک جیلوں میں بند پاکستانیوں کے ورثاء سالوں سے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور دیگر دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے لیکن کوئی نوید نہ ملی۔ متعلقہ سفارتخانوں نے بھی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا نہ کیا۔ میڈیا کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کئی پاکستانی معمولی جرائم کی پاداش میں کئی کئی برسوں سے جیلوں میں قید ہیں۔

بھارت سمیت چند ممالک میں موجود پاکستانی قیدیوں کو سزائیں پوری ہونے کے باوجود رہائی نہیں دی گئی۔ جاری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اس مسئلہ پرموجودہ دور حکومت میں 3 مرتبہ رپورٹس مانگیں، جس پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ بھی دی لیکن پھر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ دوسری جانب محکمہ خارجہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ یہ بات بھی درست ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس دستاویزات مکمل نہیں تھیں اور اکثر معمولی جرائم پر کئی کئی برس سے قید کاٹ رہے ہیں۔

بیرون ممالک پاکستانیوں کی مشکلات کے لئے متعلقہ اداروں کو پہلے سے کہیں بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا دوست حارث بھی ایک سال قبل سعودی عرب میں رزق حلال کی تلاش کے لیے گیا، لیکن وہاں اسے بھی وہاں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے یہ سوچتے ہیں کہ شاید بیرون ممالک جاکر وہ بہت بہتر زندگی بسر کریں گے، مگر حارث کی باتیں سن کر شاید مجھے یہ محسوس ہوا کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جب حارث سعودی عرب کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اُس الوداع کرنے حیدرآباد سے پورا خاندان کراچی آیا ہوا تھا۔ اُس وقت تو سبھی خوش تھے کہ حارث باہر جا رہا ہے، اب اُس کے حالات اچھے ہوجائیں گے، وہ وہاں خوش رہے گا مگر کسی اور کے دیس میں جا کر کیا ہوتا ہے یہ وہاں جاکر ہی معلوم چلتا ہے۔

حارث بھائی کو رخصت کرتے وقت ایک بات کا احساس تھا کہ واپسی کے لئے آنا ان کے اپنے بس کی بات نہیں ہے۔ صرف جانا اپنے اختیار میں ہے۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ کچھ روز قبل بیرون ملک سے واپس آئے ایک شخص نے بتایا کہ وہ جس مقصد کے لئے گیا تھا وہ تو کہیں کھو کر رہ گیا کیونکہ اُس کےعلاوہ انہیں وہاں بہت سے دیگر کام بھی کرنے پڑتے تھے۔ حقوق کی باتیں کرنے والے خود کس طرح نسل پرستی میں ڈوب کر حقوق سلب کرتے ہیں اس بات کا اندازہ حماد سعید کی باتوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں کی مقامی پولیس اور مقامی باشندے تو گویا مقدس گائے ہیں۔ آپ کو وہ کچھ بھی کہیں، ماریں، آپ کا استحصال کریں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر آپ نے ہلکی سی آواز بھی بلند کی تو اس کی سزا بھگتنی پڑے گی اور رہی سہی کسر وہاں کی پولیس پوری کردے گی۔

اپنے حق میں آواز بلند کرنے کا ایک ہی صلہ ملتا ہے اور وہ ہے قصور وار ٹھہرایا جانا اور پھر کچھ دن جیل میں گزارنا۔ حماد کے وہاں پہنچتے ہی ان کے ضروری کاغذات لے کر اپنے پاس رکھ لئے گئے۔ پھر اس وقت تک نہیں دیئے گئے جب تک جیل کی ہوا کھانے کے بعد انہیں ملک کے لئے واپس زبردستی کے انداز میں بھیج نہ دیا گیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ جتنا کمایا تھا اتنا ہی لگ گیا، واجبات بھی نہیں ملے اور الٹا جان کے لالے پڑ گئے۔ ایک دوست عبداللہ بھی کچھ دن قبل ہی لوٹے ہیں، اچانک غائب ہوئے اور کچھ دن بعد ان کا پغام موصول ہوا کہ مقامی حضرت سے الجھ بیٹھے تھے، جس کا خمیازہ انہیں کئی روز جیل میں گزارنے کی صورت میں ملا اور اس کے بعد اب انہیں ٹھیک ٹھاک بےعزت کرکے ملک واپس بھیجا جارہا ہے اور ایک دو دن میں قانونی کارروائی کے بعد عزت سے روزی روٹی کمانے کے لئے جانے والے عبداللہ سمیت کئی پردیسیوں کو نکال باہر کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز 25 اکتوبر 2016ء کو اس معاملے پر اجلاس طلب کرچکی ہے اور بیرون ممالک پاکستانیوں کی قید کے حوالے سے غور کیا گیا ہے۔ تاہم ضرورت ان اجلاسوں کی نہیں ہے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کبھی سوچا کہ جن کے لال بیرون ممالک قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں، غیروں کے رحم و کرم پر ہیں ان کے گھروالوں کی راتیں اور دن کیسے کٹتے ہوں گے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جن کا انگ انگ اپنے رشتوں کے ساتھ ایسے جڑا ہوا کہ درد کہیں ہو تو تکلیف دوسری جانب بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایک بہن اپنے بھائی کے لاڈ و پیار میں، ایک ماں اپنے بیٹے کی ممتا میں، ایک بھائی اپنے بھائی کے پیار میں اور ایک خونی رشتہ اپنے خونی رشتے کی تکلیف میں ویسے ہی یہاں تڑپتے ہیں جیسے وہاں ان کے لال غیروں کے قید خانوں میں تڑپتے ہیں۔

جانے والوں کو بھی سمجھ بوجھ کر جانا چاہیئے کہ دور کے ڈھول بہت سہانے ہوتے ہیں پیارے، مگر حقیقت شاید ویسی نہیں جیسی نظر آتی ہے۔ یہ اپنا دیس، اپنا ملک اور اپنا وطن ہے۔ جیسا بھی ہے جس طرح کا بھی ہے مگر اپنا ملک ہے، یاد رکھیں کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ سمیت تمام پاکستان کا نعم البدل کہیں نہیں ہے۔ یہاں کی مٹی اور اس میں بسی اپنوں کی اپنائیت دنیا کے کسی کونے میں کبھی بھی نہیں ملے گی۔ دو چار روپے تو مل جائیں گے مگر ماں کبھی نہیں ملے گی۔ عزت و شہرت کے بعد رسوائی تو مل جائے گی مگر بھائی، بہن اور دوست احباب کبھی نہیں ملیں گے۔ یہ ملک بہت کچھ دے رہا ہے اس لئے یہیں رہ کر اسے کچھ دیں اور پھر اس سے کچھ لیں۔

عارف جتوئی

Read More

Wednesday, November 30, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

دریائے جہلم

دریائے جہلم جموں و کشمیر کے علاقے پیر پنجال کے دامن میں واقع ایک چشمہ ویری ناگ سے نکلتا ہے۔ شمال مشرقی جموں و کشمیر کے گلیشیرز پگھل کر اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہیں۔ دریائے جہلم سری نگر کے پاس سے گزرتا ہوا وولر جھیل میں گر جاتا ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی گزر گاہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کا مشاہدہ چکوٹھی میں لائن آف کنٹرول سے مظفر آباد اور کوہالہ تک کیا جا سکتا ہے۔ دریائے جہلم مظفر آباد میں دریائے نیلم میں شامل ہو جاتا ہے اور وادیٔ کاغان میں کنہار دریا سے مل کر دیائے پونچھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم آزاد کشمیر کے ضلع میر پور کے مقام پر منگلا پہنچ کر میدانی علاقہ سے بہتا ہوا پنجاب کے ضلع جہلم میں داخل ہو جاتا ہے ،یہاں اس کا رخ شمال سے جنوب مغرب کی طرف ہو جاتا ہے ۔
منگلا کے مقام پر ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کا پانی اس ڈیم میں آتا ہے۔ اس کو منگلا ڈیم کہتے ہیں۔ اس کا پانی آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے کام آتا ہے۔ دریائے جہلم پاکستان میں جہلم، ملک وال اور خوشاب کے میدانی علاقوں سے بہتا ہوا ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم پر1967ء میں منگلا ڈیم بنایا گیا اور اس میں 5.9 ملین ایکڑ پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، اسی دریا پر 1967ء میں رسول بیراج تعمیر کیا گیا ۔ دریائے جہلم سے دو نہریں نکالی گئی ہیں، لوئر جہلم کینال 1901ء میں ضلع گجرات کے مقام رسول سے نکالی گئی، اس کی مزید دو شاخوں کھارا در مشین سے ضلع جھنگ کا شمالی حصہ سیراب ہوتا ہے، اپر جہلم 1915ء میں تعمیر کی گئی، اس کا پانی منگلا سے دریائے چناب تک جاتا ہے۔ رسول بیراج سے رسول قادر لنک اور چشمہ جہلم لنک کینال نکالی گئی ہیں۔ دریائے جہلم اور چناب کے درمیانی علاقہ کو دوآبہ چچ کہتے ہیں۔ 

اس کے مغربی حصہ کو تھل کہتے ہیں۔ دریائے جہلم کو ویدک دور میں وتلستا اور یونانی زبان میں ہائیڈ سپاس کہا جاتا تھا۔ 320 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے دریائے جہلم عبور کر کے راجہ پورس کو شکست دی تھی اور دوشہر تعمیر کروائے ،پہلا اس مقام پر تھا، جہاں لڑائی ہوئی تھی، اس کا نام و نشان مٹ گیا اور دوسرا سکندر اعظم نے اپنے محبوب گھوڑے بیوسیفالس کے نام سے منسوب کیا، جو اس جنگ میں کام آیا۔ جہلم کا موجودہ شہر اس مقام پر آباد ہے۔ بعض حوالوں میں گجرات کے شہر پھالیہ کو سکندر اعظم کے گھوڑے بیوسیفالسس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ہندوستان دریائے جہلم پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے ۔ پاکستان نے اس مسئلہ پر اپنی تشویش سے بین الاقوامی اداروں کو آگاہ کر دیا ہے۔ 

شیخ نوید اسلم
پاکستان کی سیر گاہیں

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کرنسی نوٹوں کا بحران اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت

Read munno-bhai Column currency-noton-ka-bohran-aor-dunya-ki-sab-se-bari-jehmooiat published on 2016-12-01 in Daily JangAkhbar

منو بھائی


Read More