Tuesday, September 27, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

سبی میلہ

یہ تاریخی میلہ ایک طویل عرصہ سے منعقد ہو رہا ہے۔ شہر سبی درہ بولان کے
دھانے پر واقع ایک قدیم شہر ہے۔ زمانہ قدیم میں یہ شہر برصغیر پاک و ہند میں داخلے کے لیے افغانیوں اور ایرانیوں کی گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ انگریز دور حکومت میں یہ شہر افغانستان جانے کے لیے بھی استعمال ہوا۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق اس خطہ میں اسلام سے پہلے یہ شہر قلات کے ساتھ ملحق تھا اور ہندو آبادی اسے ’’سیواس‘‘ کے نام سے پکارتی تھی۔ یہاں مشہور ہندو راجا سہرا رائے کی حکومت تھی اس کا دارالحکومت اسور شہر تھا یہ شہر موجود بھکر کے نزدیک تھا بعد ازاں مسلمانوں کے ساتھ مکران کے مقام پر جنگ میں یہ راجہ مارا گیا اور یہ حکومت مشہور راجہ داھرکے باپ کے ہاتھ میں چلی گئی 
محمد بن قاسم کے زمانے میں سبی مسلمانوں کے دائرہ حکومت میں شامل تھا۔
اس کے بعد اس شہر نے کئی دور حکومت دیکھے اور پھر 1739ء میں یہ برصغیر کے مغربی صوبوں کے ساتھ منسلک ہوگیا۔ خان آف قلات میر محبت خان کے دور حکومت میں شہر قلات میں شامل ہوا ان کے والد میر عبد اللہ خان سندھ حکمران نور محمد کلہوڑہ کے ساتھ ایک طویل لڑائی کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ کچھ تاریخ دانوں کی تحقیق کے مطابق سبی شہر کا نام ایک ہندو شہزادی سیوا رانی کے نام پر رکھا گیا، لیکن تاریخ میں اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ اس شہر کے مقامی لوگ اب تک اس شہر کو سیوا کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ اس علاقے کے لیے خان آف قلات اور اس کی بہن شہزادی بہنجا نے 17 حملوں کا مقابلہ کیا۔ شہزادی اس شہر کے محاصرے کے دوران ہی وفات پاگئی۔ 1834ء میں انگریزوں نے اس علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی افغان جنگ میں اسے مرکز کے طور پر استعمال کیا۔ یہ تو ہوا اس شہر کا ایک مختصر سا تعارف، اب ذرا اس شہر کے مشہور سبی میلے کے تاریخی پس منظر کو بیان کریں اس میلے کے بارے میں بھی تاریخ دان مختلف الرائے ہیں کہ یہ کب اور کیسے شروع ہوا۔اشیاء کے بدلے اشیاء کے اصول پر اس میلے میں تجارت کی جاتی تھی۔

یہ شہر ایران، افغانستان، ترکی اور وسطی ایشیاء کے ممالک کے تاجر حضرات کے لیے ایک بہت بڑا مرکز تھا یہ تاجر اس شہر میں اپنا مال لے کر اکٹھے ہوتے اور اشیاء کا باہمی تبادلہ کر لیتے۔ کچھ کے خیال کے مطابق یہ میلہ بلوچستان کے عظیم ہیرو میر چاکر خان رند کے دور حکومت میں شروع ہوا، جو اکثر اس ماہ میں قبائل کو اکٹھا کرتے تھے تا کہ آپس کے تنازعات طے پاسکیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق 1885ء میں یہاں پہلا افغان گھوڑوں کی فروخت کا میلہ منعقد ہوا۔ میر چاکر خان رند نے سبی کو اپنا دارالحکومت بنایا اور یہاں ہر سال قبائلی سرداروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور قابل تعریف افراد کو اکٹھا کیا جانے لگا۔ ان سربراہان کے ہمراہ بہت سے ملازمین اور کاروباری افراد آتے جو اپنی وقت گزاری کے لیے کچھ نہ کچھ شغل کرتے رہتے ،ان اوقات میں مقامی لوگوں کے علاوہ پنجاب اور سندھ کے تاجر حضرات بھی اپنے مویشیوں کے ہمراہ میلے میں شرکت کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ میلہ میلہ اسپاں و مویشیاں کی صورت اختیار کر گیا۔

انگریزوں کے دور میں سبی حکومت کا سرمائی دارالحکومت بن گیا۔ انہوں نے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اس میلے کو استعمال کیا اور اس میلے کے شرکاء اور معززین کو نقد رقوم اور اعزازت سے بھی نوازا جانے لگا۔ علاقے کے سرداروں کے لیے لازم کر دیا گیا کہ وہ اپنی بگھی کو میلے میں خود کھینچیں ،اکثر نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس فیصلے کو قبول کیا ،لیکن چند سرداروں نے اسے بے عزتی قرار دیا اور انکار کر دیا۔ گورنر جنرل کا علاقائی ایجنٹ ایک سالانہ شاہی جرگہ بلاتا اور ان قبائلی سرداروں کو اعزازی تلوار یں اور انعامات دیئے جانے لگے جو برطانوی حکومت کے لیے خدمات انجام دیتے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور جاری رہا شاہی جرگے کا نام بدل کر سبی دربار رکھ دیا گیا۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کی سیر گائیں)

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

فیس بُک انتظامیہ نے 7 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بغیر وجہ بند کردیئے

 فیس بُک نے گزشتہ ہفتے دو الگ الگ نیوز ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے
سات فلسطینی صحافیوں کے ذاتی اکاؤنٹس کوئی وجہ بتائے یا نوٹس دیئے بغیر بلاک کردیئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جن فلسطینی صحافیوں کے ذاتی فیس بُک  اکاؤنٹس بند کئے گئے ہیں ان کا تعلق شہاب نیوز ایجنسی اور قدس نیوز نیٹ ورک سے ہے۔ فیس بُک کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ غلطی سے ہوا ہے اور ان میں سے 6 صحافیوں کے اکاؤنٹس بحال کردیئے گئے ہیں۔ ساتویں فلسطینی صحافی کا فیس بُک اکاؤنٹ اب تک بحال نہیں کیا گیا ہے۔

اس کے برخلاف فلسطینی صحافیوں کا مؤقف ہے کہ ایسا کسی غلطی کے باعث نہیں ہوا بلکہ یہ فیس بُک کے اعلی عہدیداران اور اسرائیلی حکام کے مابین تل ابیب میں ہونے والی حالیہ ملاقات کا نتیجہ ہے۔ اس ملاقات میں فیس بُک نے اسرائیلی حکومت کے تعاون سے ایسا تمام مواد اس سوشل میڈیا سائٹ سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا جو اسرائیل مخالف ہو یا اسرائیل میں تشدد کا باعث بن سکتا ہو۔ اس اعلان پر انٹرنیٹ ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مذکورہ ’’تعاون‘‘ کا اصل ہدف وہ تمام لوگ بالخصوص فلسطینی اور عرب افراد ہوں گے جو سوشل میڈیا کے ذریعے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ سات فلسطینی صحافیوں کے فیس بُک اکاؤنٹس لاک کرنے کی ’’غلطی‘‘ عملاً فیس بُک کی اسی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے اسرائیل میں گزشتہ اکتوبر (2015) سے تشدد کی ایک نئی لہر پھیل رہی ہے جس میں اب تک سینکڑوں افراد قتل کئے جاچکے ہیں۔ لیکن ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق، اسرائیلی اعداد و شمار جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ اکتوبر 2015 سے جاری ’’الیکٹرونک انتفادہ‘‘ کے دوران اسرائیل میں اب تک 230 فلسطینی، 34 اسرائیلی، دو ا مریکی، ایک اردنی، ایک اریٹریائی اور ایک سوڈانی قتل ہوچکے ہیں۔ خود اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ’’تشدد/ بغاوت‘‘ پر اُکسانے والا مواد فیس بُک پر شیئر کرانے کی پاداش میں گزشتہ نومبر سے اب تک 100 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے جنہیں نظر بندی، کئی ماہ تک قیدِ بامشقت اور ہزاروں امریکی ڈالر کے مساوی جرمانوں جیسی مختلف سزائیں دی جاچکی ہیں۔

فیس بُک کی اسرائیل نوازی پر نکتہ چینی کرنے کے بعد الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں (فلسطینی صحافیوں کا حوالہ دیتے ہوئے) یہ بھی لکھا ہے کہ شہاب نیوز ایجنسی کے اکاؤنٹس ایک سال میں چار بار بند کئے گئے ہیں جن میں سے دو مرتبہ کی بندش عارضی تھی جبکہ دو مرتبہ یہ فیس بُک اکاؤنٹس مستقل بنیادوں پر ختم کردیئے گئے تھے جنہیں نئے سرے سے بنانا پڑا تھا۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بند کرنے کا معاملہ کسی غلطی کا نتیجہ رہا ہو یا ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہو، ہر صورت میں اب انٹرنیٹ پر اظہارِ رائے کی آزادی محدود اور چند مخصوص ممالک کی پسند و ناپسند کے تابع ہونے جارہی ہے۔

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

بھارتی جنگی جنون حد سے باہر


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

فیصلے کی گھڑی

لندن کے ایک معروف اخبار نے 24مارچ‘ 1933 کو ایک ہیڈ لائن لگائی جس نے

پورے یورپ میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ “Judea declare war on Garmany” (یہودیوں نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا)۔ خبر کی تفصیل بہت خوفناک ہے۔ دوسری ہیڈ لائن تھی، ’’دنیا بھر کے یہودی متحد ہو گئے اور انھوں نے جرمنی کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا‘‘۔ خبر بتاتی ہے کہ دنیا بھر کے یہودیوں نے جرمنی کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ یہودی فرد واحد کی طرح اکٹھے ہو چکے ہیں۔ یہ سب یہودی ہر سطح پر جرمنی کا مقابلہ کریں گے‘ دکاندار‘ بینکر‘ تاجر یہاں تک کہ یہودی بھکاری بھی اپنا کشکول جرمنی سے جنگ کے لیے خالی کر دے گا۔ دنیا کے ہر بڑے شہر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں‘‘۔ یہ خبر ٹھیک ایک دن کے بعد اخبار میں لگائی گئی کیونکہ 23مارچ کو ہٹلر کی نازی پارٹی اور اس کی شریک جرمن نیشنل پارٹی نے یہودیوں کی تفتیش کے لیے پہلا کنسٹریشن Concentration کیمپ قائم کیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب نہ چوبیس گھنٹے کا ٹیلی ویژن ہوتا تھا اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ لیکن اگلے دن ہی لندن کے اخبار نے یہودیوں کی طرف سے ہٹلر کے خلاف طبل جنگ بجا دیا اور پھراس قدر بجاتے رہے کہ پورے یورپ میں یہودیوں کے خلاف اور ان کی حمایت میں ایک فضا بن گئی۔

اس سارے کھیل کا مقصد یورپ میں صدیوں سے رہنے والے یہودیوں کو غیر محفوظ بنا کر اسرائیل کی سرزمین کی طرف دھکیلنا تھا جہاں پہلی جنگ عظیم کے بعد سے ہی وہ جا کر آباد ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ معاشی بائیکاٹ اور وہ بھی یہودیوں کی جانب سے‘ کیا اتنا خطرناک تھا کہ حکومت گرا سکتا تھا۔ جی ہاں! اس لیے کہ یہ بائیکاٹ ان یہودی سود خور بینکاروں کی جانب سے تھا جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں اپنا سرمایہ لگایا‘ اور پھر اس سے کئی گنا زیادہ کمایا۔ پہلی جنگ عظیم کے بہت بڑے مورخ ایلن بروگر(Alan Bruger) کے مطابق ان عالمی سود خور بینکاروں نے محاذ جنگ پر مرنے والے ایک سپاہی کے عوض دس ہزار ڈالر کمائے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب 1913 میں امریکا کا کل بجٹ 714 ملین ڈالر تھا اور صرف ایک سرمایہ دار راک فیلر کی سلطنت 900 ملین ڈالر پر محیط تھی۔ 1913سے لے کر آج تک پوری دنیا کے بینکاری نظام پر آٹھ خاندانوں کا قبضہ ہے۔ روتھ شیلڈ (Roth Schid)‘ راک فیلر (Rock feller)‘ کوہن لوچ (Kuhn Loch)‘ لی مین (Lehman)‘ لزارڈ (Lazard) اور اسرائیل موسیز سیف (Israel Moses seif)۔ امریکا کا فیڈرل بینک یعنی ٹریژی بھی انھی  کے کنٹرول میں ہے۔ ایک عالمی جنگ ان سود خور بینکاروں کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ ان سرمایہ دار سود خور بینکاروں کا پیٹ چھوٹے چھوٹے مقروض صنعتکاروں کی دولت سے نہیں بھرتا۔ یہ طریقہ ایک مستقل سردرد ہے چھان پھٹک کر قرض دینا اور اپنے قرضے کی واپسی۔ کس قدر بہتر ہے کہ حکومتوں کو مقروض کرو اور پھر وہ عوام کا خون نچوڑ کر قرض کی ادائیگی کریں۔ اس کے لیے دنیا بھر میں پہلا تجربہ جنگ عظیم اول تھی۔ کوئی مورخ آج تک اس گورکھ دھندے کو حل نہیں سکا کہ پہلی جنگ عظیم شروع کیسے ہوئی۔

سرائیگو میں ولی عہد فرڈنیڈ کے قتل کے بعد آسٹریا نے سربیا سے معافی مانگنے کو کہا‘ سربیا نے معافی نامہ لکھ کر بھیج دیا لیکن آسٹریا نے جنگ کا اعلان کر دیا۔ پورے یورپ کے اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ٹیکسٹ کی کتابوں میں یہی کہانی پڑھائی جاتی ہے۔ لیکن دنیا بھر کے سنجیدہ مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ قتل تو ایک بہانہ تھا اس کے پیچھے کئی سالوں کی جنگی تیاری تھی‘ اسلحہ خریدا جا چکا تھا۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا طوفان عروج پر تھا۔ اس جنگ کو چھیڑنے کے عمل کو آٹھ بڑے سودی بینکار خاندانوں کا فارمولا کہا جاتا ہے جسے روتھ شیلڈ فارمولا کہتے ہیں یعنی’’اقوام کو اقوام کے خلاف کھڑا کرو تاکہ دونوں طرف قرضہ دے کر کماؤ۔‘‘ جنگ عظیم اول ختم ہوئی تو سب کو معلوم تھا کہ جرمنی کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔

لیکن یہ جنگ کسی کو تباہ کرنے کے لیے تھوڑا کی گئی تھی ۔ یہ تو انھیں لوٹنے کے لیے برپا کی گئی تھی۔ پہلے تو جنگ کے دوران بینکوں نے جرمنی کو اس کے خفیہ آپریشن کے لیے قرضہ فراہم کیا‘ پھر جب جرمنی ہار گیا تو اس پر بھاری تاوان جنگ ڈال دیا گیا۔ سب کو پتہ تھا کہ تباہ حال جرمنی جنگ کا تاوان اور قرضہ ادا نہیں کر سکتا۔ یہ سود خوربینکار سامنے آئے‘ جرمنی کو پہلے ڈاوس (Dawes) پلان‘ پھر (Yung) ینگ پلان کے ذریعے امریکیوں نے بھاری قرضے دیے گئے۔ 31اگست 1921ء کو جرمنی نے ایک ارب سونے کے مارک قرض اور سود کی صورت ادا کر دیے ۔ یہ منظر بھی دیکھنے کے قابل تھا جب سونے اور چاندی کے یہ سکے بکسوں میں بھر کر ریل کے ذریعے سوئٹزر لینڈ ‘ ڈنمارک اور ہالینڈ لے جائے گئے اور سٹیمر میں ڈال کر امریکا کے سود خور بینکاروں کے حوالے کیے گئے۔ یہ عالمی بینکاروں کا پہلا کامیاب تجربہ تھا۔

عالمی جنگ سے پیسہ کمانے کا عالمگیر تجربہ۔ اس کے بعد روتھ شیلڈ فارمولا کے تحت پوری دنیا کو دوسو کے قریب قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پاسپورٹ‘ کرنسی‘ ویزا‘ جھنڈہ‘ ترانہ اور سرحد جیسے مقدس لفظ وجود میں آئے۔ ہر ملک کی مسلح افواج بنیں اور ہر ایک کا دشمن بھی تخلیق ہو گیا۔ اب تو جنگ بھی آسان ہو گئی اور اس سے منافع کمانے کا راستہ بھی ۔صرف پچیس سال کے اندر اندر دوسری جنگ عظیم برپا ہوئی۔ امریکا اتحادی فوج کا حصہ تھا لیکن آپ حیران ہوں گے کہ امریکا کی فورڈ کمپنی فرانس میں جرمن فوجیوں کو ٹرک بھیجتی رہی‘اسٹینڈرڈ آئل کمپنی سوئٹزر لینڈ کے راستے جرمنی کوتیل فراہم کرتی رہی۔ انٹرنیشنل امریکن ٹیلیفون کمپٹی ITTکا سربراہ سوستھینی بین Sosthene behn امریکا سے میڈرڈ گیا‘ وہاں سے جرمنی کے شہر برن پہنچا اور ہٹلر کے مواصلاتی نظام کو موثر بنایا اور ان کے ربورٹ بم کی صلاحیت کو بہتر کیا تاکہ وہ لندن پر بم برسا سکیں۔ اسی دوران بال بیرنگ بنانے والی کمپنیوں نے جنوبی امریکا کے ممالک کے ذریعے جرمنی کو بال بیرنگ مہیا کیے جب کہ امریکی افواج اس کی کمی کو شدت سے محسوس کر رہی تھی۔ اس جنگ کے بعد ان سودی بینکاروں نے تباہ حال یورپ سے جو کچھ وصول کیا اور آج تک کر رہے ہیں وہ ان کی مکمل تقدیر ہے۔ ان کو قرضے دے کر پاؤں پر اس لیے کھڑا کیا گیا کہ وہ دوبارہ قرض ادا کریں اور پھر قرض لیں۔

یورپ تباہ ہو گیا ‘ برباد ہو گیا‘ لٹ گیا‘ ہر کسی نے جنگ سے توبہ کر لی‘ ہر کوئی جنگ سے نفرت کر کے ان سودی بینکاروں کی تجوریاں بھرنے کے لیے دن رات کمائی کرنے لگا۔ لیکن کیا دنیا سے جنگ ختم ہو گئی… نہیں ہرگز نہیں… جنگ تو ان سود خوروں کا سب بڑا کاروبار ہے۔ جنگ ویت نام چلی گئی‘ کمبوڈیا اور لاؤس میں جا پہنچی چلی‘ نکارا گوا اور ہنڈراس میں آگ برسانے لگی‘ انگولا ‘ صومالیہ  اور پورے افریقہ میں تباہی پھیلانے لگی۔ افغانستان کو برباد کرتی ہوئی عراق جا نکلی اور اب شام کے افق پر روز بجلی کی طرح چمک رہی ہوتی ہے۔ کیا ان تمام جنگوں میں اسی پورپ کا سرمایہ اسلحہ اور فوجیں شامل نہیں تھیں‘ جنہوں نے جنگ سے توبہ کر لی تھی۔ تو بہ نہیں کی تھی‘ بلکہ یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب جنگ ہم دوسرے کی سرزمین پرلڑیں گے‘ دوسروں کے سروں کی فصلیں کاٹیں گے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان سودی بینکاروں نے جس قدر سرد جنگ کے 45سالوں میں کمایا ہے وہ پہلی دو جنگوں سے بھی زیادہ ہے ۔سامان جنگ نیا بھی ہے اور مہنگا بھی ۔ خوف کا عالم ویسے ہی ہے۔ پہلے نازی دہشت گرد تھے‘ پھر کمیونسٹ دہشت گرد اور اب مسلمان دہشت گرد۔ رنیڈ کارپوریشن نے 2009ء میں کہا تھا،’’ امریکی معیشت کو ایک عالمی جنگ ہی بچا سکتی ہے‘‘۔ میدان جنگ منتخب ہو چکے‘ شام اور ہندوستان ۔ان مضبوط معیشتوں کا بھی اندازہ کر لیا گیا ہے جو جنگ کا خرچہ اٹھاسکتی ہیں۔

یہ ہیں‘ روس‘ چین ‘ بھارت ‘عرب ریاستیں اور ایران ۔ یورپ کو بھی مسلمان دہشت گردوں سے خوفزدہ کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔ 1933ء میں ایک اخبار تھا جس نے ہیڈ لائن لگائی تھی ۔ اب پورا میڈیا ایک خوفناک جن بن چکا ہے۔ شام میں لڑائی چلتی رہتی ہے تو عرب کمزور ہوں گے اور روس اس بندرگاہ کو استعمال نہ کر سکے گا۔ ایک خود مختار کشمیری ریاست کی جدوجہد شروع ہوتی ہے اور وہ بن جاتی ہے تو چین کی معاشی ناکہ بندی ممکن اور پاکستان کا معاشی استحصال۔ صرف دو ماہ پہلے فلپائن کو چین کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں فتح دلوائی گئی کہ چین اپنے جنوبی سمندر کے جزیروں پر حق نہیں رکھتا۔ چین نے کہا ہم اس فیصلے کو نہیں مانیں گے۔

لوہا گرم‘ بھٹی چل پڑ ی ہے‘ کوئی ایک واقعہ‘ ایک حادثہ اس بارود کو آگ لگا دے گا۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی آخری عالمی جنگ کے بارے میں انھی دو محاذوں کا ذکر کیا ہے۔ ’’شام و ہند‘‘ اور فتح کی بشارتیں دی ہیں۔ جو اللہ کے رسول ؐ پر ایمان رکھتے ہیں وہ بھی جان لیں کہ یہ جنگ رکنے والی نہیں ‘ اور جو عالمی نظام کو زر کو خدا مانتے ہیں‘ وہ بھی سمجھ لیں کہ جنگ آ رہی ہے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ یہ جنگ ہم نے کس کے مفاد کے لیے لڑنا ہے‘ اللہ کے دین کی عظمت کے لیے یا عالمی استعمار کے ایجنڈے کے لیے… فیصلے کی گھڑی ہے۔

اوریا مقبول جان

Read More