Monday, March 20, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

سوئس بینکوں میں کالے دھن تک رسائی

Read dr-mirza-ikhtiar-baig Column swiss-bankon-men-kalay-dhan-tak-rasaee published on 2017-03-20 in Daily JangAkhbar

ڈاکٹرمرزا اختیار بیگ

Read More

Sunday, March 19, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

سائبر کرائمز : ایک ارب ای میل اکائونٹس ہیک ؟

ان دنوں ہر طرف ای میل چوروں کا چرچہ ہے۔ کہیں وکی لیکس زیر بحث ہے تو کوئی امریکی انتخابات میں ای میلز اکائونٹس کی ہیکنگ کے ذریعے روسی مداخلت پر تبصرہ کر نے میں مگن ہے۔ ایک اور چونکا دینے والی رپورٹ اس کے علاوہ ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ،عالمی شہرت یافتہ گلوکار جسٹن بیبرر، شکاگو یونیورسٹی اور اٹلانٹا پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت کئی ٹوئٹڑ اکائونٹس کی ہیکنگ پر لوگوں کا دھیان کم ہی گیا ہے۔ چند ہیکروں نے ٹوئٹر اکائونٹس ہیک کر کے ان پر مغرب کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا تھا ۔ بعض اکائونٹس پر ترکی کے جھنڈے کے پوسٹ کر کے ہٹلر کا رسوائے زمانہ ’’سواسٹکا‘‘ پوسٹ کر دیا ہے۔ مقصد یہ باور کرانا ہے کہ بعض مغربی ممالک میں ہٹلر کا اثر اب بھی باقی ہے ۔

صدر طیب اردگان کے ہالینڈ کے خلاف سخت جملے بھی ہیکروں نے تصویروں کے ساتھ لکھ دئیے ہیں۔ ایک کمپنی نے اپنے ایک ارب ای میل اکائونٹس کی ہیکنگ کا اعتراف کیا ہے۔ ہیکروں نے ان اکائونٹس کی ہیکنگ کے لئے ہزاروں اکائونٹس کا سہارا لیا۔ ایک سرچ انجن نے 2014ء میں 50 کروڑ اکائونٹس ہیک کر نے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد اپنے سسٹم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہیکروں کے بعض گروپس نے کم از کم 80 لاکھ اکائونٹس کی معلومات چرائیں۔ 2013ء میں بھی کم از کم ایک ارب اکائونٹس میں سے لوگوں کی نجی زندگی کی معلومات چرا لی گئی تھیں۔ ایسا دوسرا بڑا واقع پچھلے سال 22 ستمبر کو پیش آیا۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک کم عمر بچہ بھی اس کام میں ملوث ہے۔ یہ بھی کہنا ہے کہ بعض ہیکروں کو پس پردہ بعض حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔ 
ایک سرچ انجن کی درخواست پر امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل نے غیر قانونی طور پر لوگوں کی نجی زندگی میں داخل ہونے اور ای میلز ہیک کرنے پر 33 سالہ روسی تی متری الیگزینڈرو ،43 سالہ روسی ایگور اینا تولی وچ ، 39 سالہ روسی الیگزے اور 22 سالہ کریم باراتوف کے خلاف مقدمات بنا دئیے ہیں۔ کریم بارہ توف کو امریکی پولیس نے 14 مارچ کو کینیڈا سے حراست میں لے لیا ہے جبکہ باقی تین روسی ’’اشتہاری‘‘ قرار دے دئیے گئے ہیں۔ ان پر روس کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات ہے۔

محمد سعد صہیب

 

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کیلاش کے نام زندگی کر دی

پاکستان کے انتہائی پسماندے ضلع چترال میں کیلاش قبیلے کی فلاح کے لیے
زندگی وقف کرنے والی برطانوی خاتون مورین لائنز 80 سال کی عمر میں پشاور میں انتقال کر گئی ہیں۔ پشاور میں بی بی سی نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مورین لائنز کی آخری رسومات اتوار کو پشاور کے گورا قبرستان میں ادا کر دی گئیں۔ مورین لائنز سنہ 1982 میں چترال کے علاقے بھمبوریت آئیں جہاں کیلاش قبیلہ آباد ہے اور پھر مستقل طور پر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ مورین لائنز چند ماہ سے بیمار تھیں اور گذشتہ شب ان کی طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو پشاور کے نجی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئیں۔ گورا قبرستان میں آخری رسومات کے وقت وہ دو خاندان موجود تھے جن کے پاس مورین لائنز چترال اور پشاور میں رہتی تھیں۔
مورین لائنز 1980 میں پاکستان آئیں اور پھر واپس برطانیہ چلی گئیں جہاں انھوں نے نرسنگ کی تربیت حاصل کی اور پھر 1982 میں واپس آئیں تا کہ چترال کے ان نظر انداز لوگوں کی خدمت کر سکیں جنھیں صحت کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
مورین لائنز کے سیکریٹری جانس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی شخصیت انھوں نے نہیں دیکھی جو صرف انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا اگر چترال کے علاقے میں کوئی بیمار ہوتا اور وہاں اس کا علاج نہیں ہو پاتا تھا تو وہ اسے اپنے خرچ پر علاج کے لیے پشاور لاتیں، یہاں ان کا علاج کرایا جاتا اور پھر واپس انھیں چترال لے جایا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مورین لائنز بنیادی طور پر چترال میں طب کے حوالے سے کام کرتی رہی ہیں لیکن اس کے علاوہ انھوں نے کلچر کے میدان میں کام کیا ہے۔
مورین لائنز گرمیوں میں چترال اور سردیوں میں پشاور میں قیام کرتی تھیں۔
خیبر پختونخوا میں محکمہ آثار قدیمہ میں کام کرنے والی کیلاش قبیلے کی ایک خاتون نے بتایا کہ مورئنز لائن چترال میں آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے بھرپور جدو جہد کی اور انھوں نے اس بارے میں ہر جگہ آواز اٹھائی ۔ انھوں نے کہا کہ وہ خود اس سکول میں پڑھتی رہی ہیں جو مورین لائنز نے ان کے علاقے میں قائم کیا تھا اور آج وہ ایک اہم محکمے میں اچھی ملازمت کر رہی ہیں تو اس کا سہرا بھی مورین لائنز کے سر ہے۔ مورین لائنز کی عمر 80 سال پانچ ماہ تھی اور اپنی عمر کے 34 سال انھوں نے پاکستان میں گزارے۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ مورین لائنز کا کہنا تھا کہ وہ انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

چترال کا صدیوں پرانا شاہی قلعہ

چترال کا موسم کافی گرم تھا لیکن قلعے کی طرف جانے والی سڑک پر قدیم اور گھنے چنار کے پیڑوں کا سایہ فرحت بخش تھا۔ بہت سے مقامی لوگ قلعے کی طرف جا رہے تھے۔ قلعے سے پہلے میدان میں کوئی اہم فٹ بال میچ تھا۔ اور چترال کی ساری مذکر آبادی ادھر ہی رواں تھی۔ سڑک سے اترتے ہی پہلے بائیں ہاتھ شاہی مسجد آتی ہے اور اس سے آگے شاہی قلعہ۔ ہم پہلے قلعے کی اور چلے اس خطے میں قلعے ویسے نہیں ہوتے جیسا قلعہ لاہور ہے، پرہیبت اور پروقار بل کہ یہ ایک مستطیل یا چوکور احاطہ ہوتا ہے جس کی دیواریں مٹی پتھر اور چوبی شہتیروں سے اٹھائی جاتی ہیں اور بہت زیادہ بلند بھی نہیں ہوتیں۔ چاروں کونوں پر نگہبانی کے چورس برج ہوتے ہیں اور اندر عام رہائشی تعمیرات۔ 

چترال صدیوں سے یورپی اور ایشیائی حکمرانوں کی راہ گزر رہا ہے۔ کیوں کہ یہ چین اور شمالی مغربی ہندوستان کے درمیان شارٹ کٹ تھا۔ اس لیے بے حد اہم راستہ تھا۔ چنانچہ پہلے یہاں بدھ آئے پھر اسماعیلی آئے، ان کے بعد عرب آئے۔ برصغیر پر انگریز قابض ہوئے تو چترال بھی ان کے زیر نگیں رہا۔ مارکوپولو خود تو چترال نہیں آیا لیکن اپنے چین کے سفرنامے میں اس کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ اب ایسی اہم جگہ پر قلعے تو ہوں گے ہی۔ لیکن چترال کے قلعے کا داخلی دروازہ چھوڑ کر، جواب بھی، اپنی تمام تر خستہ حالی اور بدحالی کے باوجود، خوش نما ہے۔ باقی قلعہ مضحکہ خیز حد تک ازکار رفتہ اور غیر دل چسپ ہے۔ مرے پہ سو درے اب مقامی پولیس اسے اپنے تصرف میں لیے ہوئے ہے اور سیاح کو مرکزی پھاٹک پر ’’رہائشی عمارت۔ داخلہ بند ہے۔‘‘ کی تختی ٹنگی ملتی ہے۔ اور اگر کوئی پھر بھی اندر جانے کی کوشش کرے تو اسے سختی سے روک دیا جاتا ہے۔

 یہاں چنار کے گھنے، قدیم اور کافی بلند پیڑ تھے۔ ہم قلعے سے متصل ایک مہنگے ہوٹل کے سیبوں اور اخروٹوں کے پیڑوں سے بھرے باغیچے کے گرد گھوم کر دریائے کونار پر چلے گئے۔ سرمئی دریا بڑی تیزی سے بہہ رہا تھا۔ دریا کا مشرقی کنارہ شام کی دھوپ میں چمک رہا تھا۔ پہاڑ خشک اور زرد تھے جن کی ڈھلوانوں پر آبادیاں تھیں۔ ہوا تیز تھی اور ہم کچھ دیر پتھروں پر بیٹھے کونار کے ٹھنڈے پانی میں پائوں بھگوتے اور چھوٹے چھوٹے کنکر دریا میں اچھالتے رہے۔پھر ہم ایک کھڑکی سے قلعے کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ ایک تاریک راہ داری تھی جس کی اونچی چھت اندھیرے میں گم تھی۔ دائیں بائیں زمین سے اونچے برآمدے تھے جنہیں بھاری ستون سہارا دئیے تھے۔ برآمدوں کی بالائی منزل پر رہائشی کمرے تھے۔ جن کے آگے پردے ٹنگے تھے۔ آگے صحن تھا جس میں بڑھی ہوئی گھاس، چند پیڑ اور گندگی کے ڈھیر تھے۔ اردگرد منہدم کمرے تھے جیسے دیہاتی مکتبوں میں ہوتے ہیں۔ پیچھے کمرے آگے لکڑی کے برآمدے بلکہ ان کا ملبہ۔ 

قلعے کا عقبی دروازہ ایک شکستہ بالکنی پر کھلتا تھا جس کی ریلنگ غائب ہو چکی تھی۔ کافی نیچے گھاس کا میدان تھا جس کے پار دریائے کونار بہہ رہا تھا۔ بائیں ہاتھ شمال مشرقی برج کا خستہ دروازہ تھا۔ ہم کنڈی کھول کر اندر داخل ہوئے جہاں کافی کھلی اور پست سیڑھیاں بل کھاتی اوپر جاتی تھیں۔ ہوا میں پرانی مٹی کی بُو تھی اور دیواریں چھونے پر خنک محسوس ہوتی تھیں۔ سوکھے پتوں اور مٹی سے ڈھکی سیڑھیوں پر بے آواز چڑھتے ہم اوپر آئے۔ اوپر ایک چوکور کمرہ تھا جس کی چھت جگہ جگہ سے اور فرش کہیں کہیں سے ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کمرے کے چاروں طرف لکڑی کا برآمدہ تھا۔ میں چاروں طرف گھوم کر تصویریں بنانے لگا۔ سامنے شاہی مسجد کے دو گنبد اور مینار نظر آتے تھے۔ میں نے وہیں بلندی سے کچھ لمحے منہدم قلعے کے آثار دیکھا. کیا دیواریں، چھتیں، تہہ خانے، کھڑکیاں، دروازے، سب شکستہ، اجاڑ اور خاموش بے جان سے تھے جن سے یہ قلعہ آباد تھا وہ کہاں گئے۔

(کتاب’’بستی بستی پربت پربت ‘‘سے منقبس)  

Read More