Thursday, July 21, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

موم بتی مافیا کی شہید

موم بتی مافیا نے قندیل بلوچ کوقتل ہونے کے بعد اپنی شہید قرار دیتے ہوئے ایسی ایسی باتیں کہیں کہ اللہ کی پناہ، مجھے یوں لگا کہ وہ معصوم اور مظلوم تھی جبکہ ہم سب بطور معاشرہ ظالم اورمجرم ، جی جی، آپ نے درست کہا کہ وہ جیسی بھی تھی اس کے قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ، میں اس پرآپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں مگر کیا آپ مجھے قائل کرپائیں گے کہ قندیل بلوچ اپنی زندگی میں جو کچھ کرتی رہی، کیا اس کے قتل کے بعد وہ سب کچھ جائز قرار دیا جا سکتا ہے، اسے آئیڈیلائز کر تے ہوئے معاشرے کے کچے ذہنوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ۔ میں اس کے قاتل بھائی کی ہرگز وکالت نہیں کر رہا، اسے یقینی طور پر ایک قتل کے مجرم کی حیثیت سے ہی سزا ملنی چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ میرا موم بتی مافیا قندیل بلوچ کو بہادر، باغی اور جرات مند قرار دیتا ہے لیکن اگر اس کے آس پاس، چاردیواری کے اندر، کوئی لڑکی دوسرے مردوں کے نام اپنے بیڈ روم سے قابل اعتراض حالت میں لیٹ کر ایسی ویڈیوز بنا کے پوسٹ کر رہی ہو جس میں ان کے ساتھ سب کچھ کرنے کی دعوت بھی موجود ہو توو ہ کیا کریں گے جنہیں غیرت کے نام سے گھن آتی ہے، جنہیں اس بے چارے مشرقی معاشرے کی تمام روایات انتہائی بری لگتی ہیں۔

میں نے قندیل بلوچ کی سوشل میڈیا پروفائل دیکھی اور جانا کہ جس طرح ایک صدقہ جاریہ ہوتا ہے اسی طرح کچھ گناہ بھی ’گناہ جاریہ‘ کے زمرے میں آتے ہیں، جو کوئی قندیل بلوچ کے کردار سے متاثر ہو گا اور اس کی راہ پر چلے گا میرے خیال میں اس کے گناہ میں قندیل بلوچ کا حصہ بھی ہو گا، اس نے ایک سیاسی رہنما کو شادی کی پیش کش کرتے اور انڈین ٹی وی چینل کی طرف سے اس کے رئیلٹی شو میں شرکت کی دعوت ملنے پر بار بار لکھا، ’ نو ون کین سٹاپ می‘ ، یعنی اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر قندیل بلوچ ’ بگ باس ‘ میں شرکت کر لیتی تو وہ وینا ملک کے ریکارڈ بھی توڑ دیتی اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتی ، وہ یقینی طورپر اس کی ’ بین ویڈیو‘ سے بھی آگے کی چیز ہوتی ،موم بتی مافیا کی شہید اسی تیز رفتاری کی قائل تھی جس کی موٹر وے پر ممانعت کی گئی ہے اور جگہ جگہ لکھا گیا ہے کہ تیز رفتاری سب کو بھاتی ہے مگر جان اسی میں جاتی ہے۔
بہت ساری خواتین قندیل بلوچ کو صرف اس لئے ’ خراج عقیدت ‘ پیش کر رہی ہیں کیونکہ وہ خود کو معاشرے میں مردانہ بالادستی کے خلاف ’ جہاد‘کی مجاہدہ سمجھتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ جب مردوں کو غیرت کے نام پر قتل نہیں کیا جاتا تو پھر ایک عورت کوانہی افعال کیوں قتل کیا جائے جنہیں مرد اپنی محفلوں میں فخر کے ساتھ چٹخارے لے لے کر بیان کرتے ہیں مگر اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اگرمرد غلط کرتے ہیں تو اسے عورتوں کی غلط کاری کاجواز نہیں بنایا جا سکتا، ہونا تو یہ چاہئے کہ مردوں کی غلط کاریوں کی روک تھام کے لئے تحریک چلائی جائے نہ کہ ان کی بنیاد پر عورتوں کی غلط کاریوں کو بھی جواز دے دیا جائے۔مجھے انتہائی ادب کے ساتھ عرض کرنے دیجئے کہ قندیل بلوچ کا کردار کسی طور بھی عورتوں اور مردوں میں جاری کشمکش کا شاخسانہ نہیں، یہ ایک عورت کی طرف سے دولت اور شہرت کے حصول کا شارٹ کٹ تھا، ہاں، یہ بات درست ہے کہ مردوں میں قندیل بلوچوں کی کمی نہیں، علمائے کرام میں مفتی عبدالقوی نام کے شخص کو آپ اس کی ایک بہترین یا بدترین مثال قرار دے سکتے ہیں۔

ہمارے ایک صحافی اور مصنف دوست نے اپنے قلم کے ذریعے اسی امر کی نشاندہی کی کہ غیرت کے نا م پر مرد کیوں قتل نہیں ہوتے اور پھر اگلے ہی روز قندیل بلوچ کے شہر ڈیرہ غازی خان سے ہی خبر آ گئی کہ اللہ دتہ نام کے ایک شخص کو غیرت کے نام پر پانچ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، ناک کان اور ہونٹ سمیت اس کے مختلف اعضا کاٹ لئے اور اپنے ساتھ لے گئے، اللہ دتہ کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا، بس ایک کمی رہی کہ کچھ لوگوں کے مطابق یہ کام خواتین کا گلابی گینگ کرتا تو انہیں تسلی ہوتی۔ قندیل محض دولت ،شہرت اور کامیابی کی اندھی ہوس میں مبتلا تھی  وہ معاشرے میں اصلاح کے لئے کوئی جہاد نہیں کر رہی تھی کہ اسے سراہا اور اس پر تنقید کرنے والوں کو گالیوں سے نوازا جائے، جواس کی زندگی میں برا فعل تھا وہ اس کی موت کے بعد بھی قابل مذمت ہی رہے گا۔

بہت ساروں نے کہا، اپنی حرکتوں کی قندیل ذمہ دارنہیں، ذمہ دار تو یہ معاشرہ ہے، کچھ نے منٹو کے کسی افسانے کا یہ زریں قول بھی بیان کیا کہ یہ معاشرہ عورت کو ٹانگا چلانے کی اجازت تو نہیں دیتا مگر کوٹھا چلانے کی اجازت دے دیتا ہے اور مجھے ان سے کہنا ہے کہ اس قتل نے ثابت کر دیا ہے یہ گیا گزرا معاشرہ بھی کسی کو کوٹھا چلانے کی اجازت نہیں دیتا ، ہاں، اگر ٹانگا چلانے سے مراد روزگار کا حصول ہے تو میرے معاشرے کی ہزاروں نہیں لاکھوں خواتین محنت مزدور ی کر کے اپنے بزرگوں اور بچوں کے پیٹ کے جہنم کی آگ بجھا رہی ہیں، وہ شہروں میں دفاتر میں کام کرتی ہیں اور دیہات میں کھیتوں میں اپنا پسینہ اپنے مردوں کے ساتھ بہاتی ہیں مگر اپنی عزت کا سودا نہیں کرتیں ، اپنے جسم کی تشہیر نہیں کرتیں اگر آپ ڈیرہ غازی خان کی فوزیہ کو دولت کے حصول کے لئے قندیل بلوچ بننے کو قابل تحسین گردانتے ہیں تومجھے کہنے دیجئے آپ ان تمام محنت کش خواتین کو احمق قرار دیتے ہوئے ان کی توہین کر رہے ہیں جو آپ کی نظر میں ’کامیابی‘ کے لئے فحاشی اور بے حیائی کے اس شارٹ کٹ کو استعمال نہیں کر رہیں، جی ہاں، مجھے آپ کے اس سوال کا بھی اندازہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تو مرنے کے بعد متوفی کی برائیاں نہیں صرف خوبیاں ہی بیان کی جاتی ہیں،

 اس کے گناہوں کی معافی اور اس کی جہنم کی آگ سے نجات کے لئے دعا کی جاتی ہے اور میں اپنی معاشرتی روایات کے بالکل الٹ اس بی بی کے مرنے کے بعد بھی اس کی برائیاں بیان کر رہا ہوں، جہاں میں قندیل بلوچ کی مغفرت کے لئے دعاگو ہوں وہاں یہ دعا بھی پورے خلوص سے کرتا ہوں کہ مجھے بھی میرا رب معاف فرمائے۔ اے موم بتی مافیا! میرا جواب اس خدشے میں چھپا ہوا ہے کہ تم لوگ قندیل بلوچ کو ہماری خواتین، خاص طور پر وہ جوبہت سارے مردوں کی طرح شارٹ کٹ میں دولت اور شہرت کے حصول کے لئے دیوانی ہو رہی ہوتی ہیں، ان کے سامنے ایک آئیڈیل کے طور پر پیش کر رہے ہو۔ میں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تم اس کے قتل کو بنیاد بناتے ہوئے اسے جتنا مرضی مظلوم ، معصوم ، باغی اور انقلابی بنا کے پیش کرتے رہوہمیں اپنے معاشرے میں مزید قندیل بلوچیں کسی طور قابل قبول نہیں ہیں۔ میں تمہارے ساتھ مل کر اس قتل کی مذمت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر اس کے کردار اور افعال کو جائزیت عطا نہیں کر سکتا۔ بہت ساروں نے سوال کیا کہ اس کے بھائی کی غیرت اب کیوں جاگی، اس سے پہلے جاگتی تو وہ قندیل بلوچ ہی نہ بنتی اور میں موم بتی مافیا کی اسی غیرت کو اب جگانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لے۔

قندیل بلوچ جیسی عورتوں کی اخلاق باختہ اوردعوت گناہ دیتی ہوئی ویڈیوز دیکھنے کے بعد انہیں جرات اوربہادری قرار دینا کسی بھی غیرت مند انسان کے لئے ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن چونکہ ہم سب کچھ مختلف کہنا اور اس پر داد لیناچاہتے ہیں لہذا اس کے قتل کی آڑ لیتے ہوئے ہم یہ بھی کر گزرتے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے گھر میں کسی قندیل بلوچ کو برداشت نہیں کرسکتا۔ موم بتی مافیا اگر واقعی اس مقتولہ کو معاشرے کی باغی کے طور پر آئیڈیلائز کرنے میں منافقت نہیں کر رہا ، محض مشرقی او ر مذہبی روایات کی مخالفت میں جنونی نہیں ہو رہا ، د ل کی گہرائیوں سے مقتولہ کے کردار کو سراہتا ہے تو میں اسے دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنی بیٹیوں کے نام قندیل بلوچ رکھنے کی تحریک کا اعلان کر دے کہ موم بتی مافیا کو اپنی شہید رہنما کا لہوکم از کم اس طرح رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے اور اسے سپورٹ کرنے والے ہر گھر میں کم از کم قندیل بلوچ تو ضرور ہونی چاہئے تاکہ معاشرہ ان کی نظر میں عزت او ر غیرت کے فرسودہ تصورات سے جلد از جلد باہر نکل سکے بلکہ اپنے طور پر قرار دی گئی اس مقدس جنگ میں وہ خود بھی پوری طرح شامل ہوں، محض لفاظی ہی نہ کرتے رہ جائیں۔
 وما علینا الاالبلاغ۔

نجم ولی خان

Read More

Wednesday, July 20, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

ابن ِبطوطہ دنیا کے عظیم سیاح کی داستان

عالم گیر شہرت کے حامل مسلمان سیاح ابن ِ بطوطہ نے 28 سال کی مدت میں 75ہزار میل کا سفر کیا، جن ملکوں کی انہوں نے سیاحت کی، کہاجاتا ہے کہ اُن میں موجودہ پاکستان اور ہندوستان سمیت ایران، شام، تیونس، جزائر شرق الہند، روس، مصر، دمشق، ترکی، افریقا، فلسطین، یروشلم اور چین شامل تھے۔ان تمام سفروں کی روداد انہوں نے ایک کتاب ’عجائب الاسفارنی غرائب الجبار‘ میں درج کی ہے، جسے عالمی ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ یہ کتاب عربی ادب میں اوّلین سفرنامے کے طور پر بھی معروف ہے۔ ابن ِبطوطہ 1304ء میں مراکش کے ایک شہر طنجہ کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے بارے میں معلومات زیادہ تر اُن کی اپنی تحریروں میں دستیاب ہیں، جو انہوں نے اپنے سفروں سے متعلق لکھی ہیں۔ طنجہ ہی میںابن ِبطوطہ نے اسلامی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 
اُن کے والد اور خاندان کے دیگر افراد قاضی کے عہدوں پر کام کرتے رہے تھے اور علم فقہ کے شعبے میں اُن کے خاندان کے علمی کمال کی بڑی دھوم تھیں، لیکن فقہ کے میدان میں مہارت حاصل کرنے کے باوجود ابن ِبطوطہ اس شعبے میں کیریئر بنانے میں چنداں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نوجوانی ہی میں اس شعبے کی طرف راجع ہوئے، جسے انہوں نے آنے والے برسوں میں اپنی پہچان بنانا تھا اور جس میں اُن کے گراں قدر کام نے انہیں ہمیشہ کے لیے ایک افضل رتبہ عطا کیا۔ اکیس برس کی عمر میں وہ حج کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ اپنے شہر سے باہر ان کا پہلا سفر تھا۔ یہ سفر جو سولہ مہینوں میں مکمل ہونا تھا، اگلے چوبیس برسوں پر محیط ہوگیا، جس دوران میں شوق سیاحت نے انہیں کہیں ایک جگہ قیام کرنے سے مانع رکھا۔ اُن کے لیے منزل اہم نہیں تھی بلکہ سفر جاری رکھنے کا ایک بہانہ تھا۔ وہ سفر کے اسیر تھے۔ یہی شوق انہیں دنیا بھر میں مختلف خطوں میں لیے پھرتا رہا۔ زیادہ تر انہوں نے زمینی راستوں کو سفر کے لیے منتخب کیا اور لوٹ مار سے بچنے کے لیے قافلوں میں شامل ہوجاتے ،جو انہیں ہر شعبے کے ماہرین سے ملنے اور ان کے ساتھ سفر کرنے کے مواقع فراہم کرتا۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ زیادہ تر سفر انہوں نے تنہا طے کیے، نہ کسی کارواں میں شامل ہوئے، نہ کسی ساتھی کی صحبت کا سہارا لیا۔ ساتھ رہی تو بس ایک خواہش، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدید ہوتی گئی اور وہ خواہش اجنبی سرزمینوں اور ثقافتوں کی سیر اور اجنبی آبادیوں اور انسانوں سے ملنے کی تھی۔

اس خواہش نے ابن ِ بطوطہ کو اس کے گھر بار، رشتہ داروں اور دوستوں سے دور کردیا۔ گھر اور عورت کا سکھ، دوستوں کی صحبت اور جانی پہچانی راہوں کا اطمینان انہوں نے تج دیا۔ ان سفروں میں انہیں بھوک پیاس سے نڈھا ل ہوکر پیدل سفر کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی۔ کئی بار وہ فوجوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے، لٹیروں کے حملوں کا شکار بنے، باربار لوٹ لیے گئے، ایک سے زائد مرتبہ مرتے مرتے بچے اور متعدد بار راستہ بھٹک کر نئی منزلوں کی جانب رواں ہوئے۔ اپنے سفروں کا آغاز ابن ِبطوطہ نے مشرق وسطی کے ممالک سے کیا، پھر وہ بحیرہ احمر سے ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے ،جہاں انہوں نے حج کا فریضہ ادا کیا۔ طویل صحرائی سفر کے بعد وہ عراق اور ایران پہنچے۔ 1330ء میں وہ پھر سے بحیرہ احمر کے ذریعے عدن اور تنزانیہ گئے۔ ابن ِبطوطہ نے اپنے سفروں کے دوران چار مرتبہ حج کیے۔ 1332ء میں وہ ہندوستان آئے۔ یہاں ہندوستان کے علم دوست بادشاہ محمد بن تغلق کی حکومت تھی۔ اس کے دربار میں اُن کی شہرت اُن کی آمد سے پہلے پہنچ چکی تھی۔ 

بادشاہ نے اُن کی خوب آؤ بھگت کی اور انہیں قاضی کے عہدے پر متعین کیا۔ یہاں وہ سولہ برس رہے۔ اس دربار میں علما، صوفیا اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ ان سولہ برسوں میں ابن ِبطوطہ کو سرکاری دوروں میں برصغیر کے متعدد علاقوں کی سیر کا موقع ملا، جس کا احوال انہوں نے تفصیل سے درج کیا ہے،لیکن وہ خود لکھتے ہیں کہ وہ اس ملک میں بادشاہ کے عتاب کے خوف سے قید ہوکر رہ گئے تھے کہ نہ نوکری چھوڑ کر جا سکتے تھے، نہ خود کو محض اس خطے تک محدود کرنے ہی پر مطمئن ہوتے تھے۔ ہندوستان سے باہر نکلنے کا موقع انہیں 1347ء میں میسر آیا جب وہ سرکاری وفد کے ساتھ چین گئے۔ اس سفر میں وہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹ لیے گئے اور شدید زخمی ہوئے، لیکن پھر سے اپنے قافلے سے آن ملے۔ آئندہ برسوں میں ابن ِبطوطہ مالدیپ اور سری لنکا بھی گئے۔ مالدیپ میں تو وہ قاضی اعلیٰ کے طورپر بھی کام کرتے رہے۔ سری لنکا سے روانہ ہوتے ہوئے بحری قزاقوں کے حملے کے نتیجے میں وہ ڈوبتے ڈوبتے بچے۔ اپنے سفروں میں ابن ِبطوطہ مختلف ثقافتوں اور اُن کے رسوم و رواج کے بیان پر خاص توجہ صرف کرتے ہیں۔ انہیں وہ ایسی تفصیلات کے ساتھ بیان کرتے ہیں، جن میں تجسس کے ساتھ ایک عالمانہ تحقیق بھی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

وہ جہاں کہیں کوئی معمول سے ہٹ اور نیا رویہ یا رواج دیکھتے، اس کا قریب سے مشاہدہ کرتے اور پھر اس کی تفصیلات لکھ لیتے۔ یہ رسوم و رواج انہیں حظ بھی دیتے اور حیرتوں کے نئے دَر اُن پر وَا کرتے۔ ایک موقع پر انہوں نے ہندوؤں میں ستی کی رسم کا مشاہدہ کیا اور اسے تفصیل سے لکھا۔ وہ اس کی ہیبت سے اس قدر دہل گئے کہ لکھتے ہیں کہ جلائی جانے والے عورت کے کرب نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ وہ اس بہیمانہ رسم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ ترکوں اور مغلوں میں عورتوں کی غیر معمولی قدر افزائی پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ مغربی افریقا میں انہوں نے آدم خور قبیلوں کی بودوباش کا مشاہدہ کیا۔ اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ’’حبشی آدم خوروں کا ایک گروہ سلطان سلیمان سے ملنے آیا۔ سلطان کی طرف سے انہیں ایک حبشی کنیز تحفے میں دی گئی۔ انہو ں نے اسے مار کر کھا لیا اور اس کا خون اپنے چہروں پر لگا کر اظہار تشکر کے لیے سلطان سے ملنے آئے۔کسی نے مجھے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ عورتوں کے گوشت کا سب سے مزیدار حصہ اُن کی ہتھیلیوں اور پاؤں کا گوشت ہوتا ہے۔‘‘ 1349ء میں ابن ِبطوطہ چوبیس سالہ سیاحت کے بعد اپنے آبائی وطن مراکش پہنچے، جہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہو ا کہ پندرہ برس پہلے اُن کا باپ اور چند ماہ پہلے اُن کی ماں فوت ہوچکی تھی۔ چند ماہ بعد ہی وہ پھر سے سفر پر روانہ ہوئے۔ 

1354ء میں وہ پھر سے مراکش لوٹے تو اس بار یہیں مستقل اقامت اختیار کرنے کے ارادہ کیا۔ مراکش کے حکمران ابو انان فارس کی فرمائش پر انہوں نے اپنے سفروں کا احوال قلم بند کیا۔ اس کتاب کا پورا نام ’تحفہ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار‘ہے ،تاہم اسے ’الرحلۃ‘ کے مختصر سے بھی پکارا جاتا ہے، جس کا مطلب ’سفر‘ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابن ِبطوطہ کو سفر کے دوران نوٹس لینے کی عادت نہیں تھی۔ انہوں نے سفروں کے اختتام پر اپنی یادداشت کی بنیاد پر اُن کی روداد لکھی یا پھر پہلے سے موجود مختلف سیاحوں کے سفرناموں سے مدد لی۔ چند ایک مورخین کا یہ کہنا بھی ہے کہ جن سفروں کا ابن ِبطوطہ نے اپنے سفرنامے میں ذکر کیا ہے اور جن عجائبات کا بیان ہمیں اُن کے سفرنامے میں پڑھنے کو ملتا ہے، وہ سبھی سوفیصد درست نہیں ۔ بعض تو یہ بات بھی شک کی نظر سے پڑھتے ہیں کہ ابن ِ بطوطہ کبھی چین گئے تھے۔ اسی طرح انتولیا، بلخ وغیرہ کئی سفر ایسے ہیں، جن کے بارے میں اس شک کا اظہار کیا جا تا ہے کہ انہیں مختلف سیاحوں کے سفرناموں کی بنیاد پر تحریر کیا گیا۔ ابن ِبطوطہ کی مسلم دنیا سے باہر شہرت کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا جب جرمن سیاح الرچ جیسپر سیٹزن نے مشرق وسطی میں چند مسودات حاصل کیے۔

انہی مسودات میں 94 صفحات پر مشتمل ایک مسودہ ابن ِبطوطہ کی کتاب کے خلاصے کی صورت میں موجود تھا۔ اس خلاصے کے جرمن زبان میں ترجمے کے بعد ابن ِبطوطہ کے مسودات کی تلاش اور اُن کے تراجم کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1355ء میں ابن ِبطوطہ نے اپنا سفر نامہ مکمل کیا اور مستقل طورپر دمشق میں اپنے آبائی گاؤں میں اقامت اختیار کی۔ ابن ِبطوطہ کی اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں۔ انہیں مراکش میں قاضی کے عہدے پر تعینات کردیا گیا تھا۔ 1369ء میں اسی شہر میںاُن کی وفات ہوئی۔ 

محمدعاصم بٹ
(کتاب ’’دانش ِ مشرق‘‘ سے مقتبس)
 

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

انسان کو سب سے زیادہ پچھتاوا کس چیز کا ہوتا ہے؟

زندگی میں پچھتاوا کس شخص کو محسوس نہیں ہوتا مگر وہ کون سے فیصلے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتانے پر مجبور کردیتے ہیں؟ درحقیقت زندگی میں مواقعوں کو چھوڑ دینے کا پچھتاوا ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران عمر کی 7 ویں دہائی گزارنے والے افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ماضی میں کچھ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا چیز دوبارہ کرنا پسند کریں گے؟
تو جواب میں سامنے آیا کہ ایسی چیزیں جو نوجوانی میں نہیں کرسکیں وہ اس کی تلافی کرنا پسند کریں گے۔ جیسے تعلیم مکمل کرنا، کیرئیر میں ترقی کا عزم، اپنی شخصیت کا خیال رکھنا وغیرہ۔ تحقیق کے مطابق جب ہم پچھتاوے کے بارے میں سوچتے تو ہم میں سے بیشتر کے لیے سب سے بڑا پچھتاوا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم کسی نہ کسی وجہ سے کر نہیں پاتے، حالانکہ ہمارے پاس وقت، پیسے یا توانائی بھی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موقع تھا مگر ہم نے کچھ کیا نہیں، یا ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا۔

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے علاقائی مضمرات

ترک فوج کے ''امن کونسل'' کے نام سے ظاہر ہونے والے ایک دھڑے کی
حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کی تفصیل وقت کے ساتھ منظرعام پرآرہی ہے مگر اس کے ترکی اور انقرہ کی خارجہ پالیسی پر فوری طور پر مرتب ہونے والے اثرات اور مضمرات ابھی سے واضح ہیں۔ اس فوجی بغاوت کے ردعمل میں ترکی کی داخلی حرکیات نے فوری طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بظاہر آغاز سے ہی فوج منقسم نظر آرہی تھی کیونکہ اس بغاوت میں شریک افسر اور فوجی صدر رجب طیب ایردوآن ،حکومتی وزراء اور بعض جرنیلوں کی جانب سے اتحاد کے پیغام کی توقع نہیں کرتے تھے مگر صدر اور ان کے رفقاء ٹی وی چینلز پر فون کال یا فیس ٹائم اور ٹویٹر کے ذریعے پیغامات نشر کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
صدر ایردوآن کی لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل ،ترکی کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اتحاد کے پیغامات اور سب سے بڑھ کر ترکی کی مساجد سے ترک حکومت کے حق میں اٹھنے والی آوازوں سے اس سازش کو ناکام بنانے میں مدد ملی ہے۔

تاہم نقصان تو ہوچکا۔ بیسیوں افراد کی ہلاکت کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں اور حکمراں آق پارٹی کے حامیوں نے مبینہ طور پر بغاوت برپا کرنے والوں کو سرسری سماعت کے بعد سزائیں بھی سنائی ہیں۔
فوجی بغاوت کا فوری اثر تو فوج کی صفوں سے گولن کے حامیوں کا صفایا ہوگا۔سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی رخصتی پر اختلافات ،کرد ارکان پارلیمان کو حاصل استثنیٰ کا خاتمہ اور میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن وغیرہ،ان تمام اقدامات کو اب مہمیز ملے گی۔ اب ترک صدر مزید مضبوط بن کر سامنے آئیں گے اور فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف زیادہ سختی کریں گے۔ پارلیمان سے بھی یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کے لیے سزائے موت بحال کرے۔اگر پھانسی کی سزا بحال ہوتی ہے تو اس سے یقیناً ترکی یورپی یونین کے مدمقابل آجائے گا اور ان کے درمیان مڈبھیڑ ہوجائے گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترکی میں گولن کے حامی عناصر کے قلع قمع سے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ فتح اللہ گولن پنسلوینیا میں (خود ساختہ جلاوطنی کی) زندگی کے ایام گزار رہے ہیں۔ اس سے ایردوآن اور ان کے حامی امریکا سے نالاں ہوسکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ترکی کو گولن تحریک کے خلاف شواہد پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ شاید واشنگٹن کی اگلی انتظامیہ کو اس ادراک کا ازالے کرنے کی ضرورت ہوگی کہ امریکا گولن تحریک کے پیروکاروں کو آق کی مخالفت جاری رکھنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس طرح امریکا پر انچرلیک کے فضائی اڈے کو استعمال کرنے پر بھی دباؤ پڑے گا۔واشنگٹن کے خلاف اس ائیربیس کو استعمال کرنے پر اس طرح کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

سوویت فوجی بغاوت سے موازنہ
بعض تجزیہ کاروں نے ترکی میں فوجی بغاوت کا اس کے نظم اور ناکامی کے اعتبار سے سوویت یونین میں 1991ء میں فوجی بغاوت سے موازنہ کیا ہے۔ انھیں یہ بات باور کرنے کی ضرورت ہے کہ تب فوجی بغاوت اپنی موت آپ مر گئی تھی۔
اس بات کے امکانات ہیں کہ مستقبل میں ترکی کو اناطولیہ اور باقی ملک کے درمیان تقسیم کی وجہ سے مشکل صورت حال سے دوچار ہونا پڑے۔ مقامی مبصرین نے نوٹ کیا ہے کہ اناطولیہ گذشتہ ایک سال سے اپنی ترقی کرتی معیشت کی وجہ سے ''آزاد'' بنتا جارہا ہے۔

بعض نے اس فوجی بغاوت کا سنہ 2002ء میں وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش یا 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں کامیاب فوجی بغاوت سے بھی موازنہ کیا کیا ہے۔ اس طرح کے موازنے مفید ثابت نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ترکی کی صورت حال فوجی بغاوتوں کی تاریخ اور کمال اتاترک کے نظریات کے تحفظ کہ وجہ سے بالکل مختلف ہے لیکن ایردوآن کے عزم کی وجہ سے وہ دن شاید لد چکے ہیں۔ اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کی خارجہ پالیسی کے خطے کے لیے مضمرات پریشان کن ہیں۔ پہلا یہ کہ ترکی کی فوج کو باغی عناصر سے پاک کرنے سے اس کی مختصر مدت میں کارروائیاں کرنے کی صلاحیت پر اثرات مرتب ہوں گے۔ میرے خیال میں ایک کمزور ترک فوج سے داعش اور کرد باغیوں کے دھڑوں کو تقویت مل سکتی پے۔ دوسرا یہ کہ ایردوآن کو ترکی کی فوری ضروریات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی اور یہ سب کچھ انقرہ کے افریقا اور خاص طور پر لیبیا کے لیے خارجہ پالیسی کے منصوبوں کو پس پشت ڈال کر کرنا ہوگا۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط سے ترکی معاشی مقاصد کے تحت اس خطے میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے کام کررہا ہے۔ انقرہ کی لیبیا کے بارے میں پالیسی بھی شاید ناکارہ ہونے جارہی ہے کیونکہ اس نے مشرقی شہر طبرق میں قائم حکومت کو طرابلس میں قائم حکومت پر ترجیح دی تھی۔ تیسرا،اس ناکام فوجی بغاوت کے ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات پر فوری اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ صدر ایردوآن نے حال ہی میں صدر پوتین کے ساتھ (سرد مہری کا شکار) تعلقات پر نظرثانی کی ہے۔ کریملن اس بات پر شاداں ہے کہ ترک صدر کو اندرون ملک سے جھٹکا لگ گیا ہے، اس لیے اب ماسکو اپنی شام ،قفقاز اور اس سے ماورا پالیسی کے بارے میں انقرہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ترکی داعش کے خلاف جنگ اور شامی امن عمل کے اس نازک مرحلے میں جذباتی نکاس کے مشکل دور سے گزرا ہے۔ اس فوجی بغاوت کی لہریں آنے والے مہینوں میں بھی محسوس کی جاتی رہیں گی۔ اس سے علاقائی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے اور مبصرین اور متعلقہ فریقوں کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ ایک گہرا سانس لیں اور نیٹو کے اس رکن ملک میں آیندہ مہینوں کے دوران غیریقینی کی صورت حال کو ملاحظہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
(ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک دبئی میں مقیم جغرافیائی ،سیاسی امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔ انھوں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی لاس اینجلیس سے تاریخ میں چار شعبوں مشرق وسطیٰ ،روس اور قفقاز اور ذیلی شعبے ثقافتی بشریات (کلچرل اینتھروپالوجی) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔)

ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک


Read More