Thursday, April 27, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

کیا کشمیر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟

انڈیا کا بدترین عدم استحکام کا شکار علاقہ اس کے زیر انتظام کشمیر جو ایک
تاریک گھاٹی کے دھانے پر کھڑا ہے اور جسے تجزیہ کار ایک اور 'پرتشدد موسم گرما' کا آغاز قرار دے رہے ہیں وہاں پھر تباہی کی پیش گوئی کرتی سرخیاں 'کیا کشیمر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے' نظر آنے لگی ہیں۔ مسلم اکثریتی والا یہ خطہ گذشتہ موسم گرما میں بدترین تشدد کا شکار رہا۔ نوجوان عسکریت پسند برہان الدین وانی کی گذشتہ برس جولائی میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ چار ماہ پوری شدت سے جاری رہا اور ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے بھرپور استعمال سے سو سے زیادہ افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 

اس سال بھی حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ اس ماہ سری نگر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات تشدد کا شکار ہو گئے اور ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی۔ جلتی ہوئی پر تیل کا کام سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اُن دل د ہلا دینے والی ویڈیوز نے کیا جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نوجوان پر تشدد اور ان کی تذلیل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ گلی کوچوں میں اب طلبا اور طالبات کی طرف سے شدید احتجاج کیا جانے لگا ہے اور اس احتجاج میں پہلی مرتبہ سکولوں کی بچیاں بھی شریک ہیں۔ سکولوں کی بچیوں کا سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے اور نعرے لگانے کے منظر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ایک غیر قدرتی اتحاد میں شامل ہیں گذشتہ پیر کو مرکزی حکومت کو مفاہمتی رویہ اختیار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل شروع کرنے پر رضامند کرنے کے لیے دہلی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں اور دیگر مشتعل عناصر کو مذاکرات کی دعوت نہیں دے سکتے اور خاص طور پر جب شدید تشدد اور عسکریت پسندوں کے حملوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا ہو۔ سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ کشمیر ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ جو کچھ فاروق عبداللہ نے کہا ہے اس پر کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا اور حکومت کو اس معاملے کے تمام فریقین بشمول پاکستان، عسکریت پسند تنظیموں، قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں، کشمیر میں اقلیتی ہندوؤں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے اور فوجی حل کے بجائے کسی سیاسی راستے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

پانچ لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں کشمیر کا انڈیا کے ہاتھوں سے نکل جانا بعید از قیاس ہے۔ انڈیا کے معروف کالم نگار شیکر گپتا کا کہنا ہے کہ کشمیر کی جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہیں لیکن انڈیا نفسیاتی اور ذہنی لحاظ سے کشمیر کھو رہا ہے۔ سری نگر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں صرف سات فیصد لوگوں کا ووٹ ڈالنا اس امر کا آئینہ دار ہے کہ کشمیر میں انڈیا کی آہنی گرفت برقرار ہے لیکن لوگ ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ لہٰذا کشمیر میں جو تبدیلی ہے وہ انڈیا کے لیے باعث تشویش ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ فوجی حکام بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ حالت انتہائی سنگین اور نازک ہے۔
مقامی نوجوان جو شدید احساس محرومی کا شکار ہیں اور کسی حد تک بے پرواہ بھی وہ اب انڈیا کے خلاف علیحدگی کی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ کشمیر میں کُل آبادی کا 30 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی اکثریت شدید غم و غصے اور ابہام کا شکار ہیں۔

بڈگام کے 19 سالہ رہائشی اعجاز نے مجھے بتایا کہ ان کے نسل کے نوجوان بھارتی جبر اور تشدد سے شدید مایوس ہیں اور انھیں موت کا خوف نہیں رہا۔ لیکن جب میں انھیں ایک طرف لے گیا اور ان سے پوچھا کہ ان کا زندگی میں کیا کرنے کا ارادہ ہے تو انھوں نے کہا وہ سرکاری افسر بن کر کشمیر کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما جنید عظیم مٹو نے کہا کہ 'یہ کہنا غلط ہے کہ کشمیر کا نوجوان بے خوف ہو گیا ہے۔ وہ صرف محرومی اور تذلیل کے احساس سے دوچار ہے۔ جب یہ احساس بڑھتا ہے تو خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ نڈر ہو جاتا ہے۔ اور یہ غیر دانشمندانہ رویہ ہے۔' دوئم یہ کہ عسکریت پسندوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور متومل خاندانوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

برہان الدین وانی گذشتہ سال ہلاک ہونے والے نوجوان عکسریت پسند کا تعلق ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور متومل خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک سرکاری سکول میں استاد ہیں۔ وانی کے چھوٹے بھائی خالد جو 2013 میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئِے وہ پولیٹکل سائنس کے طالب علم تھے۔ وانی کی جگہ علیحدگی پسند مسلح گروہ کے سربراہ بننے والے ذاکر رشید بھٹ نے شمالی بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ سے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ سوئم یہ کہ دو سال پرانا حکمران اتحاد اپنے انتخابی نعرے اور وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک ایسا اتحاد جو ایک علاقائی جماعت جو پرامن علیحدگی کی علمبردار رہی ہے اور ایک قومی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی حامل جماعت پر مشتمل ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ دونوں بظاہر متصادم نظریات کے حامل ہیں اور وہ ایک ایسے خطے میں مشترکہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں جو تنازع اور جھگڑے کا شکار ہے۔

چہارم کشمیر کے لیے مرکزی حکومت کے پیغام کا الٹا اثر ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیری نوجوانوں کو دہشت گردی اور سیاحت میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا پیغام دیا تھا تو کشمیریوں کی اکثریت سے مودی کے اس بیان کو کشمیریوں کی ایک طویل جدوجہد کے مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مدہاو کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ اگر حکومت کشمیر کے لوگوں کے خلاف ہوتی تو وہ وادی کے لوگوں کو گلا گھونٹ سکتی تھی۔ اس بیان پر بہت سے مقامی لوگ نے کہا تھا کہ یہ حکومت کے غرور اور تکبر کی عکاسی کرتا ہے۔

ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے نفرت انگیز بیانات اور گاؤ رکشک گروپوں کی طرف سے مسلمانوں پر بھارت کے اندر ہونے والے حملوں سے کشمیر کے لوگ مزید بدزن اور بداعتمادی کا شکار ہوں گے۔ ایک سرکردہ رہنما نے اس صورت حال پر مجھ سے کہا کہ خطرہ اس بات کا ہے کہ اعتدال پسند مسلمان بھی شدت پسندی کی طرف مائل ہوں گے اور ان میں احساس محرومی بڑھے گا۔ سکیورٹی فورسز کی سوچ ذرا مختلف ہے اور وہ اصل میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی سے پریشان ہیں۔ کشمیر میں ایک اعلیٰ ترین فوجی اہلکار لیفٹیننٹ جنرل جے ایس سدھو نے ایک اخبار کو بتایا کہ عوام میں مسلح علیحدگی پسندوں کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت، ان کی مقبولیت اور عزت افزائی اور انتہا پسندی تشویش کا باعث ہیں۔

ایک اور فوجی اہلکار نے مجھے بتایا کہ پتھراؤ کرتے نوجوان سے زیادہ تشویش کی بات بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں گذشتہ دس برس میں تین ہزار کے قریب وہابی فرقے کی مساجد بنی ہیں۔ اکثر کشمیریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مذہبی انتہا پسندی سے زیادہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی انتہا پسندی کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں خدشات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالے جانے کی کم ترین شرح نے قومی سیاسی جماعتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما مٹو کا کہنا ہے کہ اگر قومی سیاسی جماعتیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں اور عوام انھیں ووٹ دینے سے انکار کر دیتے ہیں تو قدرتی طور پر خلا غیر منظم گروہ پُر کریں گے۔ بھارتی خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دولت نے اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی اور کشمیر بالکل بھی نہیں ہے۔ اور اس وقت جو حقیقت ہے وہ ہے نوجوان میں غصہ اور بھارت کے خلاف لوگوں کی بغاوت۔

سوتک بسواس
بی بی سی نیوز

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

پاناما کیس کے فیصلے پرجشن کیوں ؟

پیش گوئی درست تھی۔ پاناما لیکس مقدمے کے فیصلے کے یاد گار ہونے میں کسی
کو کلام نہیں ۔ حتمی نتائج، جو جیتنے اور ہارنے والوں کا تعین کرتے ہیں، کے برعکس اس فیصلے کے نتیجے میں صرف ہارنے والے ہی سامنے آئے ، جو کہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے ۔ نواز شریف کیمپ سے بات شروع کرتے ہیں۔ وہاں جشن کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ حقیقت سے آنکھیں چُرانے اورسیاسی مخالفین کا مذاق اُڑانے کی رسم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اس میں خوشی کا پہلو سمجھ سے بالا تر ہے، نواز شریف کا اس کیس سے بچ نکلنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص برف اور پتھروں کے بلندی سے گرنے والے مہیب تودے کی لپیٹ میں آنے کے باوجود بچ نکلے، جبکہ وہ زخموں سے چکناچور ہو چکا ہو۔ ایک وزیر ِاعظم کا مالیاتی بدعنوانی اور رقم کی مشکوک ترسیل کی تحقیقات کرنے والی نیم فوجی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے کا تصور کسی بھی باوقار سیاست دان کے لئے شرم سے سر جھکا لینے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ موجودہ وزیر ِاعظم کے لئے یہ ایک کاری گھائو سے کم نہیں کہ اس کیس میں دوججوں نے اُنہیں دو ٹوک الفاظ میں بد دیانت کہا جبکہ باقی تین نے اُن کے الفاظ پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔

اکثریتی فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر ِاعظم اور اُن کے بیٹے بیرونی ممالک میں جائیداد کی بابت اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ اختلافی نوٹ لکھنے والوں نے چاقو ذرا گہرا چلا دیا۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے قانونی دلائل سے جوڈیشل مہم جوئی کا تاثر ابھرتا ہو، لیکن اُنھوں نے دوٹوک اندازمیں وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے بہت کاری ضرب لگائی ہے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ کی مثال زندگی بھر مندمل نہ ہونے والا زخم ہے۔ اس ’’عزت افزائی ‘‘ پر مٹھائی بانٹنا عقل و فہم سے ماورا ہے ۔ جب جے آئی ٹی نے کام شروع کیا تو دامن مزید داغدار ہو گا۔ شک کی تپش اور اپوزیشن کی تضحیک سے پہنچنے والی اذیت رسانی سے مفر ممکن نہیں، لیکن تحقیقات اور تلاشی میں یہ کچھ تو ہوتا ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن کے ہاتھوں میں بھی کامیابی کے کنگن نہیں سجے۔ سیاست میں بھی ،جیسا کہ قانون میں، کسی چیز پر قبضہ ہونا 9/10 کامیابی ہوتی ہے ۔ پی ٹی آئی ، پی پی پی ، جماعت ِاسلامی اور کچھ دیگر ’’ضمنی پارٹیوں ‘‘، جیسا کہ پی ایم ایل (ق) اور سیاسی اداکار، شیخ رشید ، سب نے یہی امید لگائی ہوئی تھی کہ نواز شریف کو چلتا کردیا جائے گا۔ چاہے وہ یہ مقصد حاصل کرنے کے کتنے ہی قریب کیوں نہ پہنچ گئے تھے، اب اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ستاون دنوں تک فیصلے کی تاخیر نے اُن کی توقعات کو غیر حقیقی حد تک بڑھا دیا تھا۔ اب فیصلے کے بعد حکومت اپنی جگہ پر موجود، نواز شریف اپنے منصب پر برقراراور اُن کی صاحبزادی ،جو اُن کی ممکنہ سیاسی وارث بھی ہوسکتی ہیں اور جو میڈیا میں تشہیر کردہ پاناما اسکینڈل کا بطور ِ خاص نشانہ تھیں، کو بری کر دیا گیا ہے۔ جج صاحبان کا کہنا ہے کہ وہ زیر ِ کفالت اولاد نہیں۔ اس سے پہلے اپوزیشن نے کوشش کی تھی کہ اُنہیں نواز شریف کی مبینہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے درمیان ایک ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر پیش کریں ، لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ۔

عمران خان کے لئے یہ موقع (اُن کے تخیل کے مطابق) اُنہیں وزیر ِا عظم ہائوس تک پہنچانے والا ایک اور شارٹ کٹ تھا جو ہاتھ سے نکل گیا۔ اگر نواز شریف وزیر ِاعظم ہائوس میں موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پی ایم ایل (ن) پنجاب میں ایک ناقابل ِ شکست سیاسی قوت رہے گی ۔ یہ بات تواتر سے کہنے کے بعد کہ اُنہیں بنچ پر اعتماد ہے اور وہ اس کے فیصلے کو قبول کریں گے، اب پی ٹی آئی کے رہنما اس منقسم فیصلے پر بوکھلائے ہوئے ہیں ۔ ان کی سراسیمگی کا برملا اظہار اس حواس باختہ رویے سے ہوتا ہے کہ ایک طرف فیصلہ سننے کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، اس کا بطور تاریخ ساز فیصلہ، خیر مقدم کیا ، تو دوسری طرف جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا گیا۔ وزیر ِاعظم کے مستعفی ہونے پر اپوزیشن کا اتفاق ِرائے بھی پختہ بنیاد نہیں رکھتا۔ 

پی پی پی کی نواز لیگ پر چڑھائی کرنے کی وجہ سندھ میں عزیر بلوچ کے اعترافات کے بعد آصف زرداری کی مشکلات ہیں۔ اعتزاز احسن کا آئی ایس آئی کے چیف کی غیر جانبداری پر شک غالباً اُن کے وسیع تر تاثر کی غمازی کرتا ہے کہ وزیر ِاعظم کی تلاشی لینے والی جے آئی ٹی میں شامل افسران انہی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جو وزیر ِاعظم کے ماتحت ہیں۔ تاہم اصل معاملہ کچھ اور ہے ۔ اس کا تعلق اعتزاز احسن کے باس، آصف علی زرداری اور ریاستی اداروں کے درمیان سرد جنگ سے ہے جو سکوت اور باہمی افہام و تفہیم کے مختصر دور کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے ۔ اصل مسئلہ وزیر ِاعظم اور اُن کے بیٹوں کی تفتیش کرنے والی اس جے آئی ٹی کا نہیں کہ یہ ماتحت اداروں پر مشتمل ہے ، بلکہ اُس جے آئی ٹی کا ہے جس کے سامنے عزیر بلوچ نے ایسے اعترافات کیے ہیں جو پی پی پی کو ہضم نہیں ہو رہے ۔ کچھ دیگر خوف بھی دامن گیر ہے کہ اگر موجودہ وزیر ِاعظم کے خلاف جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو سابق صدر کے ماضی کے اعمال کا جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی جے آئی ٹی کی مخالفت کر رہی ہے ۔ اس حملے میں اعتزاز احسن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم پس ِ پردہ ان کی ڈور آصف زرداری کے ہاتھ میں ہے۔

یہ اہداف پی ٹی آئی کے مقاصد سے کسی طور ہم آہنگ نہیں۔ اس کا واحد مقصد شریف برادران کی چھٹی کرانا ہے ۔ اہداف کی نیرنگی نواز شریف کے استعفے کے لئے چلائی جانے والی ملک گیر مہم کے راستے میں رکاوٹ ہے ۔اس مسئلے پر جماعت ِاسلامی کا اپنا کوئی موقف نہیں ۔ اس کے امیر کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ قومی سیاسی چیلنجز کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے ۔ کبھی ملکی سیاست کے ایک اہم اور فعال عامل ، جماعت ِاسلامی ، کواب اس طرح یوٹرن لیتے ہوئے بے مقصد سرگرداں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن سیاسی بھونچال پیدا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے ۔ اپنی ناقص گورننس ، کھلے دل سے قرض لینے اور خرچ کرنے اور تباہ کن خارجہ پالیسی سازی کے باوجود پی ایم ایل (ن) اقتدار پر موجود رہے گی۔ پاناما لیکس سے کسی سونامی نے جنم نہیں لیا، اس نے صرف ارتعاش کی لہریں پیدا کی ہیں جو میڈیا کے کچھ عامل ایک بھرپور لہر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو بری طرح شکست ہوئی ہے ۔

پس ِ تحریر: چیف جسٹس آف پاکستان کی عمران خان کو یہ ہدایت برمحل ہے کہ دنیا بھر میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن کہیں اتنا شور نہیں مچتا۔ نیز سپریم کورٹ پر بداعتمادی پیدا کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے ۔

طلعت حسین

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

اب زرداری شریفوں کا پیٹ چیریں گے

ایک وقت تھا کہ شریف برادران نے آصف علی ذرداری کا پیٹ چیر کر لوٹی گئی
اربوں روپے کی قومی دولت کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ آج آصف علی زرداری نے نواز شریف اور شہباز شریف حکومتوں کی کرپشن کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہوئے عوام سے وعدہ کیا کہ اُن کی پارٹی آئندہ الیکشن جیت کر حکومت بنائے گی تو ـ ’’شوباز‘‘ (شہباز شریف) کے پیٹ سے پیسہ نکلوائوں گا۔ زرداری صاحب ان دنوں شریف حکومت کے خلاف کرپشن کی مہم چلا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے اس لیے انہیں اب استعفی دے دینا چاہیے۔

اپنے گزشتہ دور حکومت میں آصف علی زرداری کے اُس وقت کے وزیر قانون بابر اعوان نے پوچھے جانے پر مجھے بتایا تھا کہ زرداری صاحب نے نیب کو شریف فیملی کے کیس نہ کھولنے کی ہدایات دی ہیں۔ بابر اعوان کے حوالے سے پی پی پی دور میں ہی یہ خبر جنگ اور دی نیوز میں بھی شائع ہوئی۔ جو کل وفاق میں حکومت کر رہے تھے وہ آج اپوزیشن میں ہیں جبکہ کل کی اپوزیشن آج کی حکومت ہے۔ رول کے بدلنے کے ساتھ ساتھ دونوں نے اپنے اپنے رنگ بھی بدل لیے۔ کل شریف برادران، زرداری صاحب کی لوٹی ہوئی رقم واپس لانے اور اُن کا پیٹ چیرکر قومی دولت کی واپسی کا وعدہ کر رہے تھے اور آج یہی وعدہ زرداری کر رہے ہیں۔
کل زرداری صاحب نے اپنی حکومت میں شریف فیملی کے خلاف کرپشن کیس کھولنے سے نیب کو منع کیا تو آج اپنے موجودہ دور حکومت میں نواز شریف حکومت نے زرداری کے خلاف ایک بھی کرپشن کا مقدمہ قائم نہیں کیا بلکہ زرداری صاحب کے خلاف جو بچے کچھے مقدمات عدالتوں میں رہ گئے وہ بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک سے زائد مرتبہ میڈیا کو اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اُن کے پاس پی پی پی کے رہنمائوں کی کرپشن کی فائلیں موجود ہیں۔ ن لیگ کے رہنما زرداری صاحب کو جیب کترا اور کرپشن کا آئین اسٹائین کہتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری کرپشن کی بات کریں تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہو گی۔ یعنی ن لیگ کے پاس فائلیں موجود ہیں، ان کے پاس پی پی پی کے خلاف کرپشن کے ثبوتوں کی کمی نہیں، انہیں زرداری کی کرپشن پر کوئی شک نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات کیوں قائم نہیں کیے گئے اور ’’کرپشن کے آئین اسٹائین‘‘ کو سزا کیوں نہیں دلوائی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پی پی پی نے اپنی حکومت میں ن لیگ پر مہربانی کیے رکھی، اسی طرح ن لیگ کی موجودہ حکومت پی پی پی پر مہربان ہے۔ ہاں لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے کرپشن کرپشن کا کھیل جاری ہے اور اس کے لیے میڈیا کو بھی خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کھیل میں عمران خان بھی خوب زور و شور سے شریک ہیں جبکہ عدلیہ کی طرف سے سیاستدانوں اور حکومتوں کو کرپشن کے طعنے ملتے رہتے ہیں۔ آج ہی کے اخبارات میں سپریم کورٹ میں مارگلہ پہاڑیوں سے درختوں کی کٹائی کے متعلق مقدمہ کو سنتے ہوئے جسٹس شیخ عظمت سعید کے ریمارکس شائع ہوئے جس میں انہوں نے کہا کہ کیا وفاق، خیبر پختون خواہ اور پنجاب حکومتوں نے مافیا سے پیسے لیے ہوئے ہیں۔

پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی وزیر اعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے معروف ناول ’’گاڈ فادر‘‘ سے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ شریف فیملی کا کوئی احتساب نہ ہوا کیوں کہ ان کی حکومت کے دوران ماضی میں ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات میں ایک ایک کر کے اُن کو بری کر دیا گیا۔ لیکن یاد رہے کہ مقدمات سے بری عدالتوں نے کیا۔ جج حضرات کو سب معلوم ہے کہ کیسے کرپشن کے مقدمات کو ختم کروایا جا رہا ہے۔ جو جسٹس کھوسہ صاحب نے شریف فیملی کے مقدمات کے متعلق کہا کچھ یہی پی پی پی دور حکومت میں اُن کے رہنمائوں کے مقدمات کے ساتھ ہوا۔ یعنی ایک ایک کر کے تمام کرپشن مقدمات کو عدالتوں کے ذریعے ختم کروا دیا گیا۔

یہ سب لکھنے کا میرا مقصد ایک بات ثابت کرنا ہے کہ کرپشن کرپشن کی سیاست ہر طرف جاری ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کا علاج کوئی تجویز نہیں کر رہا۔ ہمارے ملک کی سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے الزامات لگانا اور دوسرے کو سب سے بڑا کرپٹ گردانا ایک رواج ہے لیکن کوئی ایک بھی ایسی سیاسی جماعت یا حکومت نہیں جو کرپشن کے خاتمہ کے لیے آزاد اور خود مختار احتساب ادارے کے قیام کے لیے کام کرے اور باتوں اور نعروں کی بجائے عملی طور پر کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈالے۔ سیاسی جماعتیں عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں اور افسوس اس امر پر ہے کہ جج حضرات کے سامنے سارا معاملہ کھلا ہوا ہے جیسا کہ جسٹس کھوسہ صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا لیکن اُن سمیت سپریم کورٹ نے بھی پاناما کیس کے اپنے حالیہ فیصلہ میں نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر جیسے اداروں کو آزاد اور خودمختار بنانے کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔ گویا کرپشن کرپشن کی سیاست جاری رہے گی لیکن ان لعنت کے خاتمہ کے لیے کوئی سنجیدہ نہیں۔

انصار عباسی


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

اسلامی فوجی اتحاد اور پاکستانی پالیسی کے تقاضے

اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد، مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی کے منظر نامے میں
ایک اہم تبدیلی کا آغاز ہے۔ اس اتحاد اور اس میں پاکستان کی شمولیت کے مضمرات نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ارتعاش پیدا کیا بلکہ اس کی گونج مغربی حلقوں میں بھی سنی گئی۔ پاکستان کو اس اتحاد میں شمولیت پر نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہوئے کبھی اسے سنی اتحاد کے مترادف اور کبھی خطے میں سنی شیعہ اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا گیا۔ ان اعتراضات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ان کا جواب دوسری نوعیت کے دلائل سے دیا گیا کہ یہ اتحاد عالم اسلام کی فورسز کی محض صورت گری کرے گا، اس میں زمینی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔

تاہم یہ اسلامی نیٹو تشکیل دینے کی نمائندگی ضرور کرے گا۔ دلائل کے تیسرے سلسلے میں یہ کہا گیا کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے سیکورٹی معاملات میں مبینہ کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی اندرونی سرحدوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اسے خطے کے کسی رسمی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اس دلیل میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اتحاد میں پاکستان کی شمولیت سے ایران ناراض ہو جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے سیکورٹی کا مسئلہ مزید الجھ سکتا ہے۔ آخری دلیل کے مطابق پاکستان کو ادراک ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیکورٹی کا مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی سے کوئی اشتراک نہیں۔

ان تمام دلائل سے بظاہر لگتا ہے کہ پاکستان کا اس فوجی اتحاد کا حصہ بننا شاید اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بد ترین فیصلہ ہے، لیکن پوری صورتحال کا قریب سے جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ حقیقت اس اسٹرٹیجک لینڈ سکیپ کے برعکس ہے جس کی بنیاد پر یہ سب کچھ کہا جا رہا ہے ۔ اولاً، اسلامی فوجی اتحاد اساسی طور پر دولت اسلامیہ (داعش) سے لاحق خطرات اور خطے میں اس کے ممکنہ فوجی عواقب کے خلاف ہے۔ ثانیاً، داعش ایک ایسا نقطہ ہے جس پر سنی اور شیعہ سوچ یکساں ہے، یعنی یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے عالم اسلام کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خوف بھی ہے کہ اس سے ایران اور سعودی عرب کے مابین اثر پذیری کی جنگ شروع ہو جائے گی جو شیعہ سنی خلیج کی شکل اختیار کر لے گی، لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ دونوں ریاستیں حقیقت پسند ہیں اور انہیں اچھی طرح ادراک ہے کہ داعش کے حوالے سے ایک دوسرے کے دائرہ اثر میں مداخلت کے نتیجے میں عالم اسلام میں ایک نئی مذہبی قیادت کو ابھرنے کا موقع ملے گا، جس کا کرتا دھرتا داعش اور حوثیوں کی طرح نان اسٹیٹ ایکٹرز ہوں گے، جن کی نوعیت اگرچہ قبائلی ہے مگرہ وہ مذہب کی ایک بہت سے مختلف شکل کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا سعودی عرب اور ایران کے مستند سنی اور شیعہ مسالک سے کوئی تعلق نہیں۔
ثالثاً، مجموعی طور پر یہ گروہ کوئی کمتر خطرہ نہیں ، اس لیے کہ اس میں شامل مختلف گروپ ٹی 62 اور ٹی 72 ٹینکوں سے ہووٹزر(Howitzer) گنوں جیسے بھاری فوجی ہتھیار تک استعمال کرنے کے قابل ہیں، وہ اپنی مجموعی آمدنی کا 60 سے 70 فی صد عراق میں تیل اور گیس اپنے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ہاتھ بیچ کر حاصل کرتے ہیں ان حالات میں مغرب کی سربراہی میں پورا فوجی اتحاد مبینہ طور پر اس کے ابھار کے خلاف لڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال ان گروپو ں کی وسعت پذیر صلاحیت کو روکنے میں ناکامی کا پتا دیتی ہے، جس کی وجہ دور خاطرز عمل ہے جو مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی اور عالم اسلام کے ضمن میں اختیار کیا جاتا ہے۔ ایک سطح پر انہیں عراق اور شام کی اعتدال پسند فورسز کے لیے خطرہ گردانا جاتا ہے اور دوسری جانب انہیں بشار الاسد اور روس کا اثر کنٹرول کرنے میں مغرب اور امریکا کا سٹریٹجک پارٹنر سمجھا جاتا ہے۔ لہذا جب تک بین الاقوامی برادری ان دہشت گرد گرپوں کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کرتی، یہ خطے میں عسکری چیلنج بنے رہیں گے۔ اب تو وہ اپنے نظریات، مالی امداد اور سیاسی بنیادیں مختلف متصادم علاقوں اور اپنی اسٹرٹیجک ضرورت کے علاقوں کو برآمد بھی کر رہے ہیں۔

ان میں پہلے افغانستان اور جنوبی ایشیا ہیں، اس کے بعد ایشیائی بحر الکاہل کی باری آئے گی۔ اب تک مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 15000 جنگجوؤں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ ان کی ممکنہ رکنیت اور مقاصد تاحال غیر متعین ہیں لیکن ایک بات یقینی ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے ایک واضح خطرہ ہیں۔ دوسرے، اسلامی فورسز اور ریاستوں کے مابین جوائنٹ انٹیلی جنس شیئرنگ کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے، ان کا انحصار مغرب پر ہے جو ان کا پارٹنر ہے، لہذا وہ اسی کی عینک سے دہشت گردی کو دیکھنے پر مجبور ہیں تیسرے، ان گروپوں کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت اور اس کے ساتھ ساتھ تنہا اپنے زور بازو پر پوری دنیا میں دہشت گردانہ حملے کرنے کی اہلیت بہت بڑا چیلنج ہے ۔عالم اسلام تو یقینی طور پر ان کے حملوں کی زد میں ہے، لہذا آئندہ قیادت کو اس کا خاطر خواہ جوا ب دینا ہو گا۔
فوجی اتحاد کی شکل میں مسلمان ممالک کا قریب آنا ایک قدرتی تقاضا ہے، اس سے خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجنا چاہئیں، اس لیے کہ اگر تقریباً تمام مسلم ریاستوں کا مغرب کو مرکزی حیثیت دے کر انسداد دہشت گردی کے اتحاد میں شامل ہونا قابل تحسین ہے تو پھر داعش کے خلاف ان کے اسلامی فوجی اتحاد میں کیا قباحت ہے؟

اگر ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات ٹھیک ہو سکتے ہیں تو یہ کیوں سوچا جاتا ہے کہ ایران، داعش کے خلاف اتحاد میں شامل نہیں ہو گا۔ آخر ایران اسلامی تنظیم کانفرنس (او آئی سی) کا رکن ہے، اس کے باوجود کہ اس کے بیشتر رکن ممالک سنی ہیں۔ دراصل شیعہ سنی بحث تازہ ترین پیشرفت جہاں سعودی عرب کو کٹر یا سخت گیر سنی ریاست اور ایران کو جنونی شیعہ ریاست کہا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اس لیے کہ دونوں ریاستیں مختلف مسالک کی حامل ہونے کے باوجود عملیت پسند بھی ہیں، وہ اپنے مسلکی رنگ سے بالا ہو کر اتحادوں میں شامل ہونے اور بین الاقوامی نظام کے ساتھ معاملہ بندی کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لیے اگر پاکستان اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے اسے شیعہ اور سنی کا رنگ دینے کی بجائے ایک ریاست اور حقیقی سیاسی صورت حال کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

اگر یہ اتحاد شیعہ مخالف نہیں بلکہ داعش مخالف ہے تو ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی اس میں شمولیت کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے، بالخصوص اس حقیقت کے باوجود کہ تقریباً تیس لاکھ پاکستانی باشندے مشرق وسطیٰ میں مقیم ہیں یا ان وہاں کاروباری آنا جانا لگا رہتا ہے اور اگر اتحاد کا ایجنڈا بھی فطری ہے تو پھر مغرب کو کیوں فکر لاحق ہے؟ موجودہ دور میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے انسداد دہشت گردی کی مہم چلائی اور قومی وبین الاقوامی سطح پر کامیاب ہوا۔ پاکستان کی فوجی اہلیت مشرق وسطیٰ میں ٹریننگ، فوجی صلاحیت میں اضافے اور ممکنہ اسلامی نیٹو تشکیل دینے میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان واحد ملک ہے جس کے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اس لیے وہ شیعہ سنی رنگ کو مدھم کر سکتا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی فوجی مہم کی قیادت کر سکتا ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو متاثر کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف گیم چینجر کردار ادا کرنے کا دم خم بھی رکھتا ہے۔ پاکستان اور ترکی کی دفاعی پیداوار، مصری افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور پاکستان کی قیادت مل کر اسلامی نیٹو کو حقیقی روپ دے سکتے ہیں اور یہ مشرق وسطیٰ میں مغربی بالادستی ولے سیکورٹی نظام کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے کہ وہاں سیکورٹی کے عصبی مرکز کی جگہ اسلامی ممالک کا نیا اتحاد لے لے گا۔

آخری بات یہ کہ پاکستان اور اس خطے کی سیکورٹی کا مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی کے استحکام سے قریبی تعلق ہے جسے کسی بھی صورت میں مغرب کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس لیے کہ ان کا ماضی ظاہر کرتا ہے کہ مغرب نے خطے میں صرف اپنے مفادات کو فوقیت دی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ علاقائی رہنما اور پوری اسلامی دنیا خطے اور عالمی سیکورٹی نظام میں اپنا جائز حق حاصل کرے۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کا فیصلہ دوسرے ممالک نہیں بلکہ اس کے مفادات اور عالمی نظام سے اس کے روابط کی بنیاد پر ہو گا جو وہ خود کرے گا۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز


Read More