Tuesday, February 21, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

پاکستان میں نیم فوجی فورسز کہاں کہاں تعینات ہیں؟

پاکستان میں پنجاب رینجرز ویسے تو صوبے کے بعض ضلعوں کے علاوہ ملک
کے دیگر علاقوں میں بھی اندرونی سلامتی سے متعلق فرائض انجام دے رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس نیم فوجی دستے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں قیامِ امن کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان رینجرز کو ملک کا سب سے بڑا نیم فوجی دستہ تصور کیا جاتا ہے جس کے قیام کا مقصد ملک کی مشرقی سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ پاکستان کے دو صوبوں سندھ اور پنجاب کی سرحد انڈیا کے ساتھ ملتی ہے اس لیے ان دو صوبوں میں پاکستان رینجرز کے صدر دفاتر بنائے گئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں 'سندھ رینجرز' کئی دہائیوں سے سرحدوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی قیام امن کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ پنجاب رینجرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات مطابق سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ پنجاب ریجنرز بوقت ضرورت ملک کے اندر قیام امن کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے۔ ضرورت کے مطابق قلیل مدت کی تعیناتی کے علاوہ ملک کے بعض علاقوں میں پنجاب رینجرز قیام امن کے لیے مستقل بنیادوں پر بھی تعینات ہیں جن میں گلگت بلتستان، اسلام آباد، تربیلا، راجن پور کے علاوہ صوبہ سندھ کا ضلع کشمور بھی شامل ہے۔ رینجرز کی صوبائی سطح پر سربراہی میجر جنرل رینک کا فوجی افسر کرتا ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتا ہے۔
رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک بلوچستان میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے جب کہ دوسرا حصہ خیبر پختونخوا اور وفاقی کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں تعینات ہے۔ رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کی قیادت بھی صوبے کی سطح پر میجر جنرل کے رینک کا فوجی افسر کرتا ہے اور وہ اصولی طور پر وزارت داخلہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں صوبوں میں جاری شورش اور شدت پسندی کے باعث فرنٹئیر کور کے اختیارات رینجرز کے مقابلے میں بہت مختلف اور زیادہ ہیں جن پر بعض سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی جانب سے گاہے بگاہے تنقید بھی سامنے آتی رہتی ہے۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری
ملک کے چاروں صوبوں میں ان بڑے نیم فوجی دستوں کے علاوہ بعض دیگر نیم فوجی دستے بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں قیام امن کے لیے پولیس کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری ان میں نمایاں ہے۔ یہ فورس بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اہم مقامات، خاص طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے اس فورس کے اہلکار ملک بھر میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس فورس کو باقاعدہ طور پر وفاقی نیم فوجی دستہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی سربراہی پولیس افسر کرتا ہے جسے وفاقی وزارت داخلہ براہ راست تعینات کرتی ہے۔

لیویز
یہ نیم فوجی دستہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں کے مختلف اضلاع میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ ان دستوں کی قیادت تو پاکستان کی بری فوج کے افسر کرتے ہیں لیکن ان میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں کو قائم کرنے کا مقصد ان افراد کا اپنے علاقوں کے بارے میں معلومات کو استعمال کرنا بھی بتایا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں میں چترال سکاؤٹس، خیبر رائفلز، سوات لیویز، کرم ملیشیا، ٹوچی سکاؤٹس، ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس، ژوب ملیشیا اور گلگت سکاؤٹس شامل ہیں۔

دیگر نیم فوجی دستے
ملکی بندرگاہوں، سمندری حدود اور ہوائی اڈوں کی حفاظت کے لیے چھوٹے چھوٹے نیم خود مختار نیم فوجی دستے بھی بنائے گئے ہیں جن کا مینڈیٹ مخصوص علاقوں یا تنصیبات کی حفاظت تک ہی محدود ہوتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوص فورسز
گذشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے خود مختار حفاظتی دستے بھی تیار کیے ہیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات جاری نہیں کی جاتیں۔ ان میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی خصوص فورس، پولیس اور دیگر انٹیلیجن ایجنسیوں کے اپنے نیم فوجی دستے شامل ہیں۔ ان تمام نیم فوجی دستوں کی تعداد کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاہم بعض اندازوں کے مطابق ان تمام فورسز کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

امریکی سیاح خاتون کے لیے پاکستان خوبصورت ترین ملک

دنیا کے تیز ترین سفر کا عالمی ریکارڈ بنانے والی 27 سالہ امریکی خاتون
کیسینڈرا ڈیپکول نے 18 ماہ کے عرصے میں دنیا بھر کے 196 ممالک کا سفر طے کیا۔ کیسینڈرا ڈیپکول نے ان تمام ممالک جہاں کا انہوں نے دورہ کیا، میں سے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست ٹیلی گراف ٹریول کو دی ، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔ کیسینڈرا ڈیپکول کی فہرست میں پاکستان 5 ویں نمبر پر موجود ہے۔ امریکی خاتون نے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس حوالے سے انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ بھی کی: 

انہوں نے لکھا ' پاکستان میں اب تک ہونے والی میزبانی خاص طور پر کراچی میں شاندار رہی، پاکستان آنے کے دوران گلف ائیر میںمیری نشست کو مفت بزنس کلاس میں اپ گریڈ کیا گیا، جبکہ آئی بی ایم میں طالبعلموں، میئر کراچی وسم اختر سے ملاقاتیں کیں اور پودا لگایا، میرا پاکستان میں وقت اب شروع ہوا ہے جو کہ اس سفر کے تعلیمی اور ثقافتی تجربے کے چند زبردست تجربات میں سے ایک ہے، کسی کتاب کو اس کے رنگ یا کسی ملک کو میڈیا سے جج نہ کریں، پاکستان کے لیے بہت زیادہ محبت'۔

The hospitality I've received so far in #Pakistan and specifically #Karachi has been astounding! From being offered a random, free upgrade to business class on @gulfair to being graced with the amazing hospitality of the crew and entering the cockpit and meeting the Pilot (the Captain knew about my Expedition before I even told him!), speaking to the students at the Institute of Business Administration, meeting the Mayor of Karachi, Mr. Wasim Akhtar, for the planting of the Cedrus Deodara tree (the National Tree of Pakistan) 🌲, coming back to my beautiful (sponsored) hotel and seeing my story and Mission on the front page of Traveller International, and finally, meeting with @rotaryinternational tonight! So incredibly humbling. Also, just comes to show (for those who think I'm not seeing anything in the countries I visit and that 2-5 days isn't enough) that it's all about time management and maximizing every moment of your time to make the most with what you have. But same applies to everything else in life, doesn't it? My time here in Pakistan has just begun and has been one of the many wonderfully educational and culturally enriching experiences on #Expedition196. Don't judge a book by its color or a country by the media. Much love ❤️🇵🇰 #peacethroughtourism • • • ✨Snapchat @ cassiedepecol To view all videos from today including the tree planting and meeting with the Mayor, head to Facebook.com/expedition196 ✨
A post shared by Cassie De Pecol | Official (@expedition_196) on Dec 13, 2016 at 4:34am PST

کیسینڈرا ڈیپکول کے مطابق ہر کسی کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے، جسے یہاں 
کی ثقافت اور کھانے کا لطف اٹھایا جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں پاکستان کا ویزا حاصل کرنے میں 4 ماہ کا انتظار کرنا پڑا لیکن انہیں اس بات کی کوئی مایوسی نہیں، کیوں کہ پاکستان میں گزارا ہوا ان کا وقت ان کے سفر کا سب سے یادگار تجربہ رہا۔

Today is a monumental day for #expedition196... why? Because after 4 months my Pakistani visa is finally approved and ready for pick up!!!! WOOHOO!!!! So eager to go!!! ❤️😁🌎 • • • #regram photo by @fictionography #pakistan
A post shared by Cassie De Pecol | Official (@expedition_196) on Nov 18, 2016 at 8:24am PST

کیسینڈرا ڈیپکول کی جانب سے ریلیز کی گئی فہرست میں عمان، منگولیا، پیرو کے نام بھی شامل ہیں.

Read More

Sunday, February 19, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

افغانستان کی تباہی، بڑی طاقتوں کا کارنامہ

افغانستان کا امن و سکون گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے درہم برہم چلا آرہا ہے۔ دسمبر 1979ء میں سابقہ سوویت یونین نے اس سرزمین پر فوج کشی کر کے وہاں قابض ہونے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے۔ اس وقت یہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی دفاعی طاقت تھی، اس لئے افغانستان کے پسپا ہونے کے خدشے سے امریکی حکومت نے افغانستان کی دفاعی مدد کرنے کی حکمت عملی اپنانے کو ترجیح دی۔ پاکستان کو بھی روس کی فوجی یلغار سے اپنی دفاعی حیثیت کو خطرات محسوس ہوئے۔ یوں پاکستان حکومت نے افغانستان کے لوگوں کی مدد کا فیصلہ کیا۔ بیرونی فوجی حملوں سے پاکستان کی علاقائی سلامتی کے دفاع کے لئے میدان عمل میں آ کر برسر پیکار ہونا، بلاشبہ بہت ضروری تھا۔ سوویت یونین کی طرف سے افعانستان پر مسلط جنگ کا مقابلہ، افغانستان کے جفا کش اور جواں ہمت لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیوں سے کیا۔

اس دوران، امریکی مالی اور دفاعی امداد بھی اہل افغانستان کے لئے کافی کار آمد اور موثر ثابت ہوتی رہی۔ پاکستان کے طول و عرض میں گاہے گاہے بہت تباہ کن دھماکے اور خودکش حملے، وقوع پذیر ہوتے رہے۔ جن میں ہزاروں بے قصور افراد، خواتین اور بچے جان بحق ہوتے رہے۔ امریکی حکومت افغانستان میں سوویت یونین سے برسر پیکار لوگوں کو باقاعدگی سے دفاعی امداد فراہم کرتی رہی۔ ان حالات میں تقریباً دس سال بعد، سوویت یونین کی ایک لاکھ سے زائد افواج سخت مزاحمت کے مقابلے میں اپنی جارحانہ اور ظالمانہ جنگی پالیسی جاری نہ رکھ سکیں، کیونکہ ان حملہ آور افواج کو اپنی کامیابی کا کوئی یقینی امکان نظر نہ آرہا تھا۔ اس طرح سوویت یونین کی مخدوش و مفلوج معاشی حالت جنگ جاری رکھنے سے قاصر ہو گئی۔ نتیجتاً سوویت یونین اپنی شکستہ حال اور بچی کھچی افواج واپس اپنے علاقوں میں لے جانے پرمجبور ہو گیا اور سوویت یونین میں شامل ریاستوں نے یکے بعد دیگرے محض چند ماہ کے عرصے میں اس بڑے اتحاد سے علیحدگی کے اعلانات کر کے آزادی اختیار کرلی۔
اس کے بعد امریکہ بہادر نے اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر دیگر اتحادی ممالک کی مسلح افواج کے ساتھ حملہ کر دیا اور ملک کے چپے چپے پر شب و روز بمباری اور گولہ باری کی، جو بعض علاقوں پر آج کل بھی جاری ہے۔ سابقہ مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے جان و مال کو نقصان سے دو چار کرنے کے لئے ہر ممکن حربے اختیار کئے۔ اس عرصے میں افغانستان میں لاکھوں بے قصور لوگ اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہونے کے علاوہ اپنی بے شمار قیمتی املاک کی تباہی سے دو چار ہو گئے ہیں۔ دیگر لاتعداد افراد بے گھر، زخمی اور اپاہج ہو گئے ہیں۔ جن کا ذرائع ابلاغ میں ذکر بہت کم پڑھنے اور سننے میں آیا ہے۔ یہ ہے امریکہ بہادر کا اصل کارنامہ۔۔۔ ایک غریب اور دور دراز خطہ ارض پر واقع ملک افغانستان کے عوام کے ساتھ، جو اب بھی بے سروسامانی کے حالات کے باوجود، امریکہ کی بڑی قوت کے مقابلے میں، جو انمردی سے نبرد آزما ہیں۔

مقبول احمد قریشی ایڈوکیٹ

Read More

Saturday, February 18, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

سانحہ سیہون شریف : قیمتی جانوں کے ضیاع پر ملک سوگوار

سندھ کے صوفی بزرگ درگاہ لعل شہباز قلندر کے سیہون میں موجود مزار پر عقیدت مند اور زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی، ایسے میں  دہشت گردی نے ان میں سے کئی افراد کے گھر اُجاڑ دیئے۔ سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش دھماکا ہوا، جس میں 80 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکا اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا، اس کے موقع پر لوگوں کی کثیر تعداد وہاں موجود ہوتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں مردوں اور خواتین کے ساتھ 7 بچے بھی شامل تھے۔









Read More