Header Ads

Breaking News
recent

جی ٹی روڈ کی سیاسی اہمیت : سیاست اب بھی جی ٹی روڈ ہی کی چلتی ہے

پاکستان میں حصول اقتدار کی جنگ ہو یا مارچ ، کسی بڑے مطالبے کے لیے براستہ جی ٹی روڈ ہی ہوتا ہے، تاریخی جی ٹی روڈ کی وجہ شہرت اس کی سیاسی اہمیت بنی۔ شیر شاہ سوری دور میں تعمیر ہونےوالی کابل سے کلکتہ 25 سو کلو میٹر طویل جرنیلی سڑک انگریز دور میں گرینڈ ٹرنک روڈ کے نام سے مشہور ہوئی۔ مخالفین چاہے کسی جماعت کی تضحیک کے لئے اسے جی ٹی روڈ پارٹی کا نام دیں، حکومت میں اکثر جی ٹی روڈ سے جیتنے والی جماعتیں ہی آتی رہیں۔
مارچ احتجاجی ہوں یا سیاسی جی ٹی روڈ ملکی تاریخ کے اہم ادوار کی گواہ ہے۔ملک میں جدید موٹرویز بن گئیں لیکن سیاست اب بھی جی ٹی روڈ ہی کی چلتی ہے۔
پاکستان کے سیاسی افق پر جی ٹی روڈ ہمیشہ سے ہی کسی کیلئے شام غم تو کسی کیلئے صبح نو بن کے ابھرتی رہی۔

اس مصروف اور اہم ترین شاہرہ کےسنگ آباد راولپنڈی، چکوال، جہلم، گجرات، گجرانوالہ، لاہور جیسے بڑے اور اہم اضلاع اور ان سے منسلک سیکڑوں چھوٹے بڑے دیہات سے جب بھی مخلوق خدا اپنے گھروں، محلوں، دوکانوں، کھیتوں، کھلیانوں اور چوپالوں سے نکل کر چوکوں اور چوراہوں پر آئی تو کسی کی بقا اور کسی کی قضا کا سندیسہ لائی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا موٹر وے سے لاہور جانے کا ارادہ ترک کر کے جی ٹی روڈ اور اس سے جڑے اپنے مضبوط حلقوں کے دو کروڑ انسانوں کے بیچ سے گزرنے اور انہیں حال دل بتانے کی لگن ملکی تاریخ کے صفحہ سیاست پر اب اک نئے انداز سے جلوہ گر ہونے جا رہی ہے۔

جی ٹی روڈ سے منسلک قومی اسمبلی کے 35 میں سے 32 حلقے ن لیگ کے پاس ہیں۔ یہاں کے چند لاکھ پارٹی کارکن بھی اپنے قائد کے استقبال کے لئے نکلتے ہیں تو یہ سفرملکی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔
 

No comments:

Powered by Blogger.