Wednesday, May 25, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

بس ڈرائیور کا پاکستانی بیٹا لندن کا میئر

 برطانوی لیبر پارٹی کے پاکستانی نژاد رکن صادق خان لندن کے میئر بن گئے۔ غیرسرکاری حلقوں نے انتخابات کے نتائج سے قبل ہی اس استحقاقی جیت کا ذکر کر دیا تھا۔ بس ڈرائیور کا بیٹا یورپ کے اس اہم ترین دارالحکومت کا میئر بن گیا جو ایک طویل سامراجی اور تہذیبی تاریخ رکھتا ہے۔ تاہم صادق خان اپنی شناخت، مذہب یا پاکستانی نژاد ہونے کی بنیاد پر نہیں جیتا بلکہ ایک ایسے برطانوی ہونے کی بنیاد پر کامیاب ہوا جس کی اپنی اور کسی بھی دوسرے برطانوی کی ہم وطنی میں کوئی فرق نہیں۔ وہ ریاست، ہم وطنی اور ذاتی اہلیت کے حقیقی معنی کے ضمن میں جیت کا مستحق ٹھہرا۔
تقریبا دو دہائیوں سے یورپ اپنے افکار اور نظریات کے ذریعے ریاست کے معنی کی پختہ سالی میں مصروف عمل ہے۔ ہم وطنی کے تحت "سماجی معاہدے" کو زیربحث لا کر اس آئندہ معنی کو واضح کیا گیا۔ وہ معنی یہ ہے کہ انسان اپنی وابستگی کے مقام کی یا اپنی پیدائش کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاتا بلکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ صادق خان کی جیت ان ہزاروں افراد اور پناہ گزینوں کے سامنے ایک کامیاب اور شاندار نمونہ پیش کرتی ہے جو اچھی زندگی گزارنے کے واسطے یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ جیت اس بات کا پیغام ہے کہ یہ ممالک مضبوط اداروں اور نظام کے پابند ہیں اور یہ کہ اپنی مستقبل کی شناخت میں ضم ہو جانے سے آپ کے لیے اس ملک کے اصل باشندوں کے مساوی مواقع یقینی ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ قوانین، نظام اور ثقافت کی پاسداری کے ذریعے حاصل ہونے والے میل ملاپ، شناخت کی سمجھ بوجھ اور ہم وطنیت کے اثبات کا نتیجہ ہے۔

صادق خان، بس ڈارئیور کا بیٹا، مسلمان، پاکستان سے ہجرت کرنے والا، یہ تمام عوامل اسے انگریزوں کا مقابلہ کرنے اور اہل وطن کے ووٹوں کے ذریعے اس منصب تک پہنچنے سے نہ روک سکے۔ یہ ریاست سے تعلق، ہم وطنی کو یقینی بنانے اور میل ملاپ اور گھل مل جانے کی سادہ سی مثال ہے۔

بشکریہ روزنامہ "عکاظ "

ترکی الدخیل
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

Read More

Tuesday, May 24, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

پاناما لیکس اور عالمی تغیر وتبدل : پروفیسر خورشید احمد

تین اپریل 2016ء کو ایک ایسی خبر نے پوری دنیا میں ایک ہیجان برپا کر دیا، جس کے بارے میں کسی کو کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا اور جو قدرت کا ناگہانی تازیانہ بن کر نازل ہوئی۔ جرمنی کے ایک اخبار نے ’پاناما لیکس‘ (Panama Leaks) کے نام سے عالمی سطح پر کالے دھن کے کاروبار، اس کی وسعت اور ستم کاریوں کے بارے میں ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کا راز فاش کیا۔ اس خبر نے دنیا کے گوشے گوشے میں، مالیاتی اور سیاسی میدانوں میں زلزلے کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ 2 لاکھ 24 ہزار نمایشی کمپنیاں ہیں اور کم از کم 32 ٹریلین ڈالر (32 کھرب ڈالر) کا سرمایہ 30 ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے جو دنیا کی کُل سالانہ دولت کا ایک تہائی ہے۔ جو نمایشی کمپنیاں ہر طرح کے ٹیکس اور ریاستی نگرانی کے نظام سے بالا ہو کر اپنا کھیل کھیل رہی ہیں، انہیں پاناما میں قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ حیرت انگیز طور پر 146 عالمی لیڈر اس کالے کھیل میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث ہیں، اور مزید سیکڑوں چہروں سے پردہ اُٹھنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

’آف شورکمپنی‘ کا لفظ جو ایک محدود حلقے ہی میں پہچانا اور بولا جاتا تھا، اب زبانِ زد عام وخاص ہے۔ ٹیکس سے بچاؤ کی پناہ گاہیں (Tax Havens) جو سرمایہ داروں، بڑی بڑی کارپوریشنوں اور بنکوں کی کمین گاہیں بن گئی تھیں، اب وہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں، تاجروں، صنعت کاروں، حتیٰ کہ ججوں اور خیراتی اداروں کو بھی کالے دھن کے تاجروں اور پجاریوں کی صف میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس انکشافی آندھی سے ابھی تو ڈیڑھ سو کے قریب عالمی شخصیات کے چہروں سے پردہ اُٹھا ہے۔ یہ صرف پہلی قسط ہے، جسے سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے پہاڑ کا محض چھوٹا سا حصہ کہا جا رہا ہے۔ بس بارش کے چند پہلے قطرے۔ موسلادھار بارش کی پیش گوئیاں تو ۹مئی سے بعد کے زمانے سے منسوب کی جا رہی ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
آئس لینڈ کے وزیراعظم، یوکرین کے صدر، اسپین کے وزیر صنعت و حرفت، FIFA (’فیفا‘ فٹ بال کی بین الاقوامی اتھارٹی) کے سربراہ اور نصف درجن اربابِ اقتدار مستعفی ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور اپنے سارے حسابات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کے باوجود، ان کا قد کاٹھ کم ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ وہ مالیات کی نگرانی کے نظام اور خصوصیت سے کارپوریشنوں اور آف شور کمپنیوں کے کردار میں بنیادی تبدیلیوں کے باب میں فوری اقدام کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ان کے علاوہ ڈیوڈ کیمرون کے وزیرخزانہ، پارلیمنٹ میں لیڈرآف دی اپوزیشن اور متعدد اہم شخصیات نے اپنی آمدنی، ٹیکس ادایگی کی تفصیلات اور ذاتی مالی صورتِ حال، تحریری شکل میں، رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کردی ہے۔ اس طرح انھوں نے بجا طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جواب دہی سے بالاتر نہیں سمجھ رہے۔ یہاں پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جمہوریت کی جو بھی خوبیاں اور خامیاں ہوں، ان میں سب سے اہم چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہوتی ہے۔ سر آئیور جنگز کی کتاب Cabinet Government (کیمبرج یونی ورسٹی پریس،1959ء) علمِ سیاسیات میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: جمہوریت میں اصل چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہے۔ اگر اس پر حرف آ جائے تو پھر حکمرانی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمارے دستور میں بھی ایک دفعہ سیاسی قیادت کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اپنے دستور کا یہ حصہ یاد رکھنے کی فرصت ہی نہیں!

یورپ کے پانچ ممالک اور دنیا کے 30 سے زیادہ ممالک کے نظامِ احتساب و اصلاح میں تبدیلیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور کالے دھن کو قابو میں کرنے کی بات اب سر فہرست آ گئی ہے۔ ایک طرف احتساب کا عمل ہے، جو حرکت میں آرہا ہے، تو دوسری طرف کالے دھن کا پورا تصور، ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز (Tax Haven) کا وجود، اس سلسلے کے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوچ بچار اور مالی معاملات میں شفافیت (transparency) کی ضرورت کو وقت کے اہم ترین مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں افراد اور اداروں سے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ دنیا کے پورے مالی دروبست اور ٹیکس کے نظام پر بنیادی نظرثانی کی ضرورت کو اُجاگر کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ ایک شر سے بہت سے خیر کے رُونما ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، حتیٰ کہ امریکا جس کی نصف درجن ریاستیں ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز کا درجہ رکھتی ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے ان 30 ممالک میں، جو ٹیکس چوری کی پناہ گاہ ہیں اور تیسرے نمبر پر ہے (یعنی پاناما سے بھی اُوپر ہے) اس کے صدر بارک اوباما کو کہنا پڑا ہے کہ:
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عالمی سطح پر ٹیکس کی ادائیگی سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اسے اس لیے قانونی نہیں بنانا چاہیے کہ محض ٹیکسوں کی ادایگی سے بچنے کے لیے رقوم کی منتقلی (transactions) میں مصروف ہوا جائے، جب کہ اس پر زور دیا جانا چاہیے کہ اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہرشخص ٹیکس کے سلسلے میں اپنا مناسب حصہ ادا کرے۔ (دی گارڈین، 5؍اپریل 2016ء)

امریکی اٹارنی براے مین ہیٹن، مسٹر پریٹ بھرارے نے امریکا کی ان تمام کمپنیوں، جن کا نام موجودہ فہرست میں آیا ہے اور جن کی تعداد 200 ہے ، ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان 200کمپنیوں کے بارے میں باقاعدہ تفتیش اور تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ’’امریکا کی کوئی کمپنی اس فہرست میں شامل نہیں‘‘، یہ درست بات نہیں ہے)۔ (دیکھیے: دی انڈی پنڈنٹ، لندن،20؍اپریل 2016ء)

بلاشبہ پاکستان کی بڑی سیاسی قیادت، کاروباری شخصیات، حتیٰ کہ ایک سابق اور ایک موجودہ جج تک آف شور کمپنیوں کے اس انکشاف کی زد میں ہیں اور یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ پورے مسئلے کو اس کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور وہ راستہ اختیار کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایک طرف کالے دھن کا کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں پر ریاست کی اور عالمی احتسابی نظام کی بھرپور گرفت ہوسکے، تو دوسری طرف ظلم اور استحصال کے اس نظام کا ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر قلع قمع کیا جاسکے، جس کی وجہ سے کرپشن، معاشی دہشت گردی اور لوٹ مار کی لعنت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مفادپرستی، نفع اندوزی، دولت کی شرم ناک عدم مساوات (obscene inequalities) اور انسانوں کے بڑے طبقے کی محرومیاں زندگی کی تلخ حقیقت بن گئی ہیں۔

اگر یہ کھیل قانون کی کھلی کھلی خلاف ورزی کر کے انجام دیا جائے، تو اسے ’فرارِمحاصل‘ یا فرارِ ٹیکس (Tax Evasion) کہتے ہیں اور اگر اس حوالے سے قانون کے کسی سقم سے راستہ نکالا جائے تو اسے ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax Avoidance) کہتے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دونوں ہی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نیز آمدنی اور اس کے اصل ذرائع کو مخفی (secret) رکھا جاتا ہے، اور حسابات اور مالی معاملات کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ اصل نفع راز بھی رہے اور ٹیکس کی مشینری کی گرفت میں بھی نہ آئے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ کھلے کھلے دھوکے کا ایک ’خوش نما‘ نام ہے اور ہاتھ کی صفائی کی جادوگری ہے۔ قانون کو ہوشیاری سے توڑا جائے یا قانون کو بھونڈے طریقے سے توڑا جائے، اخلاقی طور پر دونوں قبیح فعل ہیں اور اپنی روح کے اعتبار سے جرائم ہیں۔ اس لیے قانون کے باب میں کہا جاتا ہے کہ اس کی پاس داری لفظی اور معنوی اعتبار سے (in letter and spirit) کی جانی چاہیے۔

آج پاکستان میں ملکی سطح پر نگاہ ڈالیں یا عالمی سطح پر نظر دوڑائیں تو ہرطرف تبدیلی کی لہریں موج زن نظر آ رہی ہیں۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پرانا نظام دم توڑ رہا ہے اور زمانہ نئے نظام کو دعوت دے رہا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا قانون ہے کہ بہتر تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب افراد اور اقوام ایسے تاریخی لمحات کے موقعے پر خاموش تماشائی نہیں بنتے، بلکہ حق و انصاف کے حصول اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے صحیح خطوط پر مؤثر اور قرار واقعی جدوجہد کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، اور بدی کو نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔

اس وقت پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا ممکنہ تبدیلی کے ایک ایسے ہی تاریخی لمحے کے موڑ پر کھڑی ہے۔ کیا ہم تاریخ کی پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہیں؟

 پروفیسر خورشید احمد
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

افغانستان میں نیا گیم پلان

ملا منصور کی موت کی خبر پر پوری دنیا یقین کر رہی ہے، اب تو امریکی صدر
نے بھی کہہ دیا ہے، پاکستان ابھی تحقیق کر رہا ہے۔ ایک دوست نے مجھے فون کر کے بہت غصہ کیا کہ اس میں تحقیق کرنے والی کونسی بات ہے، مر گیا تو مر گیا۔ جب امریکی کہہ رہے ہیں تو مان لیں۔ میں نے کہا کہ ابھی طالبان نے نہیں مانا، شائد اس لئے پاکستان انتظار کر رہا ہے کہ طالبان پہلے اعلان کر دیں کہ واقعی ملااختر منصور مر گیا،تو میرے دوست نے کہا طالبان کا تو اس ضمن میں ٹریک ریکارڈ زبردست ہے۔ انہوں نے تو دو سال تک ملا عمر کی موت تسلیم نہیں کی تھی اور ایک مرے ہوئے امیر کے ساتھ ہی دو سال تک نہ صرف لڑائی چلائی بلکہ امن عمل کو بھی بہت آگے بڑھا دیا۔ ان کے لئے اب بھی کیا مشکل ہے کہ اگر وہ کچھ دن خاموش رہیں اور ابہام کو باقی رکھیں۔

ویسے تو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ملا اختر منصور کو ڈرون حملہ سے نشانہ بنانے کی بنیادی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ افغان امن عمل کے مخالف تھے، اس لئے ان کو نشانہ بنا یا گیا۔ لیکن اس ضمن میں واحد سوال یہ ہے کہ یہ بات تو تسلیم کی جا رہی ہے کہ ملا عمر کی موت کی خبر کو ملا اختر منصور نے ہی دو سال تک پوشیدہ رکھا، اور دراصل ملا اختر منصور دو سال تک اپنے احکامات کو ملا عمر کے احکامات ظاہر کر کے افغان طالبان کو چلا تا رہا۔ اسی دوران پاکستان کے علاقہ مری میں جو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوئے تب بھی ملا عمر تو انتقال کر چکے تھے، اور ملا اختر منصور ہی دراصل ان مذاکرات کو گرین سگنل دے رہا تھا، تا ہم جب مذاکرات کامیاب ہو تے نظر آئے تو سی آئی اے نے ملا عمر کے انتقال کی خبر بریک کر دی اور اس طرح امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
کہا جاتا ہے کہ ملا اختر منصور ملا عمر کے انتقال کی خبر کے باہر آنے کے خلاف تھے کیونکہ اس سے طالبان میں انتشار پیدا ہوا اور وہ اس پر سی آئی اے سے نا لاں بھی تھے کہ سی آئی اے نے طالبان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد سے امریکہ اور ملا منصور کے تعلقات کشیدہ تھے، یہی کشیدہ تعلقات دراصل افغان امن عمل کی بحالی میں رکاوٹ تھے۔ امریکہ ملا منصور کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بحال کرنے میں نا کام رہا، لیکن یہ کہنا کہ ملا منصور امن عمل کی راہ میں رکاوٹ تھے درست نہیں کیونکہ ملا منصور اور طالبان کا موقف تھا کہ سی آئی اے خود امن عمل کی مخالف ہے ۔ جس کا ثبوت ملا عمر کی موت کی خبر کو غلط موقع پر بریک کرنا ہے۔

ملا اختر منصور اور سی آئی اے کے درمیان یہی سرد جنگ گلبدین حکمت یار کی افغان امن عمل میں انٹری کا باعث بنی ورنہ یہ وہی گلبدین حکمت یار تھے جن کو امریکہ نے پہلے پاکستان سے نکلوایا اور وہ ایران میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے او ر بعد میں امریکہ نے گلبدین کو ایران سے بھی نکلوایا۔

1998 میں تہران میں گلبدین حکمت یار سے ملا اور میں نے ان کا ایک طویل انٹرویو کیا۔ میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کا رقعہ لیکر گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ مجھ سے ملے۔ وہ طالبان کے سخت خلاف تھے، ان کے طرز حکومت کو غیر اسلامی اور افغانستان کے لئے زہر قاتل سمجھتے تھے۔ وہ ملا عمر کو کسی بھی طرح امیر المومنین ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ پاکستان کے سخت مخالف ہو چکے تھے کہ پاکستان نے ان کو رد کر کے طالبان کو افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد دی ہے۔ مجھے ان سے تب ملکر اندازہ ہو اکہ وہ پاکستان کے سخت مخالف ہو چکے تھے۔ ان کے خیال میں پاکستان نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، وہ سمجھتے تھے کہ ضیاء الحق کی موت دراصل افغانستان کے لئے زہر قاتل تھی۔

آج ملا ختر منصور کو ڈرون حملہ میں ہلاک کر کے گلبدین حکمت یار کو امن عمل میں شامل کرنا دراصل پاکستان کی افغانستان میں عملداری کو ختم کرنے کی ایک اور سازش ہے۔ یہ طالبان میں سے پاکستان کی حمائت ختم کرنے کی سازش ہے اور طالبان میں سے ایک ایسے دھڑے کو آگے لانے کی سازش ہے جو پاکستان مخالف ہو، اسی لئے پاکستان کوئی بھی رد عمل دینے میں محتاط ہے۔ گلبدین اب پاکستان نہیں ایران کے حامی ہیں، ان کو جب سے پاکستان نے نکالا ہے وہ ایران کے در پر ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت ایران میں ہیں، انہوں نے افغان ایران بھارت ٹریڈ معاہدہ بھی کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران بھارت افغانستان میں ایک ہیں اور پاکستان دوسری طرف ہے، ایران شروع سے طالبان کے خلاف رہا ہے، اسی لئے اس نے گلبدین کو پناہ بھی دی تھی۔ اب جب ایران کی امریکہ سے صلح ہو گئی ہے تو گلبدین بھی امریکہ کوقا بل قبول ہو گیا ہے۔

امریکہ مسلسل پاکستان سے ناراضگی کے سگنل دے رہا ہے، پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایف سولہ روک دئے گئے، امداد روک دی گئی،۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ غیر ضروری اہم کر دیا گیا۔ سب کو نظر آرہا تھا کہ امریکہ ناراض ہے، اب ملا اختر منصور کو ماردیا گیا ہے، یہ سب سی آئی اے کا آئی ایس آئی کو پیغام ہے اور یہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی ہی لڑائی ہے اور ان دونوں نے ہی اس کو حل کرنا ہے، کیونکہ ملا اختر منصور کو آئی ایس آئی کا حمائتی کہا جاتا تھا اور اس کی وجہ سے پاکستان کی طالبان پر گرفت تھی۔ نئے امیر کے آنے تک ابہام رہے گا اور شائد آئی ایس آئی اس وقت نئے امیر کے عمل میں مصروف ہے، اسی لئے سب کچھ جامد نظر آرہا ہے۔

مزمل سہروردی

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

پا ک چین دوستی کا لازوال سفر

پاکستان اور چین کے مابین لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 65 برسوں سے جاری
ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ 1951 میں پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا اس سے پاکستان اور چین کے مابین نئے باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو دونوں ملکوں کے رہنماوں اور عوام کی سطح پر مضبوط تر ہوتے چلے گئے دنیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالاتر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کیلئے ایک مثال ہے پاکستان نے تائیوان، تبت و دیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کیلئے کھلے دل کے ساتھ پاکستان کی حمایت کی اور مخلصانہ خود غرضی سے پاک مالی معاونت کے ذریعے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے حصول اور استحکام کے لیے پاکستان کی مدد کی۔

اِس سے قبل کہ پاکستان کے چین کے ساتھ حالیہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے بہتر ہوگا کہ سفارتی تعلقات کے قیام سے اُن منصوبوں کا ذکر کیا جائے جو چین نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے شروع کیے۔ اِن منصوبوں میں پہلا منصوبہ ہیوی مکینیکل کمپلیس ٹیکسلا کا قیام ہے جس نے پاکستان کی معاشی ترقی میں بے مثال کردار ادا کیا۔ پاکستان میں جتنی صنعتی ترقی ہوئی یا ہو رہی ہے وہ مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کی ہی مرہون منت ہے۔ قراقرم ہائی وے کا ذکر کیا جائے تو یہ شاہراہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کا ایک اہم سنگ میل قرار دی جاسکتی ہے۔ قراقرم ہائی وے جسے دنیا کا آٹھواں بڑا عجوبہ بھی کہا جاتا ہے نے نہ صرف دونوں ملکوں کی تجارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گلگت بلتستان کی ترقی میں بھی اِس شاہراہ کا اہم کر دار ہے۔ پاکستان کو توانائی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے بھی چین کی کوششوں اور سرمایہ کاری سے انحرا ف نہیں کیا جاسکتا۔
گلگت، بلتستان اور کشمیر میں انرجی سیکٹر میں بہت سے منصوبے شروع کے گئے ہیں۔ چین نیوکلئیر پاور سیکٹر میں بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ 330 میگاواٹ کا چشمہ پاور پلانٹ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے جبکہ چشمہ کے مقام پر ہی چین کی مدد سے دو ا یسے ہی پاور پلانٹ چشمہ4, اور5پر بھی کام جارہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ 2017 میں مکمل ہو جائے گا یہ دونوں منصوبے نیشنل پاور گرڈ میں کئی سو میگاواٹ کا اضافہ کریں گے جِس سے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد ملے گی ۔ چین اور پاکستان کے مابین تجارت کو بھی توسیع دی جارہی ہے۔ چین پاکستانی مصنوعات کا پانچواں بڑا درآمد کنندہ ہے اس کے علاوہ چین کی مختلف کمپنیاں تیل وگیس ، آئی ٹی انجینئرنگ مائنز سیکٹر اورہاوسنگ و مواصلات کے شعبہ میں بھی 300 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

پاکستان اور چین کے تعلقات ہر نشیب وفراز سے بالاتر مستحکم سے مستحکم تر ہوتے جارہے ہیں یہ دوستی صرف دونوں ممالک کی حکومتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے سے گہری محبت اور پیار رکھتے ہیں۔ قدرتی آفات میں بھی دونوں ممالک نے دل کھول کر ایک دوسرے کی مدد کی ہے ۔ پاکستان اور چین کی یہ دوستی نہ ختم ہونے والی دوستی ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف نے اسی دوستی کے ناطے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اپنے غیر ملکی دورہ کیلئے جس ملک کا انتخاب کیا وہ چین ہی تھا ۔ اس دورہ کے دوران پاکستان سے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا جن کے نتائج آج چین پاکستان اقتصادی راہداری کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔

پانچ جولائی 2013کو چین اور پاکستان نے 46ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی منظوری دی ۔ اس منصوبہ کے تحت بحیرۂ عرب پر واقع پاکستان کی گوادر بندر گاہ کو چین کے شہر کا شغر سے ملانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ 24دسمبر 2013کو چین نے کراچی میں 1100میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دو ایٹمی ری ایکٹر ز لگانے کا وعدہ کیا جن پر لاگت کا تخمینہ ساڑھے چھ بلین ڈالر ہے اور یہ فنڈز چین فراہم کرے گا ۔ 2014میں چین کے وزیراعظم نے پاکستان میں توانائی ، بنیادی ڈھانچہ اور گوادر بندرگاہ کی توسیع کے لیے 31.5بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جبکہ ابتدائی طور پر پندرہ سے بیس بلین ڈالر کے منصوبوں جن میں لاہور کراچی موٹروے ، گوادر بندر گاہ کی توسیع اور توانائی کے بڑے منصوبے جن میں گڈانی اورر تھر کول فیلڈ کے نزدیک توانائی کے چھ منصوبے لگانے کی ابتدا کی گئی ۔ اسی دوران صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے چین کا پہلا سرکاری دورہ بھی کیا ۔ جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 9سے 11اپریل تک باؤ فورم برائے ایشیاء میں شرکت کی ۔صدر پاکستان نے دوبارہ چین کا دورہ کیا اور سیسا (CICA)کا نفرنس 2014 میں شر کت کی ۔

22 مئی 2014 کو حکومت پاکستان اور چین کے مابین لاہور میں 27.1کلومیٹر لمبے لاہور میٹرو ٹرین پروجیکٹ جس پر لاگت کا تخمینہ 1.27بلین ڈالرہے کے معا ہدے پر دستخط ہوئے نو مبر 2014میں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چین کا ایک اور دورہ کیا اس دورہ کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت 19معاہدوں پرد ستخط ہوئے جس کے تحت چین پاکستان میں مختلف منصوبوں پر 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ۔20اپریل 2015کو چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا چین کے صدر کا نو سال بعد پاکستان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ۔ اس دورے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت 51 یادواشتوں پر دستخط ہوے ۔اقتصادی تعلقات کے علاوہ چین نے ہر بُرے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا 2005میں چین میں زلزلہ اور 2008میں پاکستان میں زلزلہ کے وقت دونوں ملکوں نے وسائل سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی ۔ چین نے 2008کے زلزلہ میں پاکستان کیلئے 6.2ملین ڈالر کی امداد فراہم کی جبکہ ڈیڑ ھ لاکھ کے قریب کمبل 3380خیمے و دیگر سامان فراہم کیا گیا جس کی مجموعی مالیت 20.5ملین ڈالر ہے اسی طرح چین میں مئی 2008میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے خیمے، کمبل اور جان بچانے والی ادویات بھیجیں اسی طرح 2010کے سیلاب میں نقصانات کے ازالہ کیلئے چین نے پاکستان کو 250ملین ڈالر کی امداددی یہ کسی بھی ملک کی طرف سے پہلی مرتبہ اتنی بڑی امداد تھی ۔

چین نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبہ میں بھی بہت تعاون کیا ۔ چین نے نہ صرف پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا بلکہ دفاعی طور پر پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کے اندر بھی اسلحہ کی تیاری کیلئے اسلحہ ساز فیکٹریوں کے قیام میں معاونت کی جن میں پاکستان ایرونائیکل کمپلیکس ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز،پاکستان نیوی کے دفاعی منصوبے اور میزائل فیکٹریاں بھی چین کے تعاون سے کام کر رہی ہیں ۔

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں جے ایف 17تھنڈر فائٹر طیاروں کی تیاری بھی پاک چین دوستی کی ایک زندہ مثال ہے یہ طیارے برآمد بھی کیے جاسکیں گے ۔ قطر اور سری لنکا نے اِن طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا ہے اس طرح پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما سکے گا ۔ 1965اور1971کی جنگوں میں چین نے بھر پور طریقے سے پاکستان کی اخلاقی ،سفارتی اور مالی امداد کی ۔ چین نے نہ صرف کشمیر پر پاکستان کے بھر پور موقف کی حمایت کی بلکہ بھارت کے کشمیر پرظالمانہ قبضہ کی مخالفت اور مذمت کی ہے ۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے منصوبے ہیں جو پاکستان اورچین کے اشتراک سے جاری ہیں اس کے علاوہ بے شمارایسے منصوبے ہیں جو یا تو چین کی مدد سے مکمل ہو چکے ہیں یا زیر تکمیل ہیں۔

چین اور پاکستان نہ صرف ہمسایہ ملک ہیں بلکہ ان کی مضبوط دوستی کی لمبی تاریخ ہے عالمی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بہت کم ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی کی طرح کوئی اور مثال مل سکے۔ ہمیں پاک چین تعلقا ت کی 65ویں سالگرہ مناتے ہوئے اِن دوستی کے رشتوں کو اور مضبوط بنانا ہے اور دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے دلوں میں پائی جانے والی یہ دوستی اور محبت مضبوط تو ہو سکتی ہے اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔

ارشد بشیر

Read More