Thursday, July 24, 2014

SAUDI-PAK TIES SCALE NEW HEIGHTS

SAUDI-PAK TIES SCALE NEW HEIGHTS: Custodian of the Two Holy Mosques King Abdullah receives Pakistan's Prime Minister Nawaz Sharif in Jeddah

Tuesday, July 22, 2014

Dr. Ruth Pfau - Pakistan's 'mother Teresa



یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔
پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔
سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔
پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔
یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی‘ زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘یہ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی‘ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی‘انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا‘ کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔
چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا‘ انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا‘یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی‘ یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا‘ اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی‘ ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔
یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘ان ہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا‘ ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘ یہ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی‘ جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔ وہ پاکستان میںجزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔
یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔ ان کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا‘ پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا‘ یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔
حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی‘ اسے ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ’’ڈیزرو‘‘ کرتی ہے‘ جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے‘ جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔
ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ھے۔۔
ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے ۔ ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون‘ اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے‘ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔

Wednesday, July 16, 2014

کیا یہ توہین مذہب نہیں؟......


رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ جاری ہے، یکم رمضان سے ہی ہماری میڈیا اسکرینوں پر یلغار سی نظر آ رہی ہے، افطاری کی کھجور سے لیکر سحری کے دہی تک سب کچھ اسکرینوں پر ہی بک رہا ہے، بیچارے ریڑھی والے منہ تک رہے ہیں کہ بھئی ہم کہاں جائیں. جناب آپ لوگ بھی تکّا لگائیں، ورنہ ایسے ہی گھر کو جائیں، دیکھا نہیں اسکرینوں پر تکّے لگاۓ جا رہیں ہیں.

پاکستانی اشرافیہ فوٹو سیشن کے چکر میں سب بھول بھال جاتی ہے کہ اخلاقیات، احترام، شرم و حیا بھی کوئی چیز ہے، متاثرین میں امداد بانٹنی ہو یا طالب علموں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم فوٹو سیشن تو بنتا ہے نا!

ہم اپنے سیاستدانوں کو پتا نہیں کیا کیا کہتے پھرتے ہیں، ایسے فوٹو سیشنز کو لیکر باتوں کا ایسا بتنگڑ بناتے ہیں کہ لیپ ٹاپ یا دی ہوئی امداد بھی شرمانے لگتی ہے، پتا نہیں کہاں کہاں سے نکال نکال کے ایسے جملے کسے جاتے ہیں کہ ایسی صورتحال تو انڈیا پاکستان کے کرکٹ میچ میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی.

حضور، اب جب یہی کام ہماری اسکرینوں پر بیٹھے "گوالیے" کر رہے ہیں تو زبان کو تالے کیوں لگ گئے؟ اب آپ کی لغت کہاں گم ہو گئی؟ اشاروں میں بات کیوں کر رہے ہو؟ نواز شریف، زرداری کا نام تو بڑے فخر سے لیتے ہو اب کیا ہوا، سکتہ کیوں طاری ہو گیا؟

ملک کو لوٹ لیا، ملک کو کھا گئے، عوام کا ستیاناس کر دیا، ملکی معیشیت تباہ کر دی، ایجنٹ، غدار کے بلند و بانگ نعرے لگانے والو اب کہاں سو گئے تم لوگ؟ جب مذھب کو لوٹا جا رہا ہے، دین کو بیچا جا رہا ہے، رمضان کی حرمت کو رسوا کیا جا رہا ہے، عوام کو شکوک و شبہات میں ڈالا جا رہا ہے، فرقوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، قران پاک جیسی بابرکت کتاب کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، اب آپ کی زبان پر چھالے کیوں پڑ گئے ہیں؟

عقل و فہم گیا اور گوالے آ گئے، کیوں نہیں بتایا جا رہا کہ ریٹنگ کی بھوک مذہب کو بھی نگلنے کے لیے تیار ہے، یا یہاں بھی منافقت کرو گے کہ جناب 'صدقہ جاریہ' ہے.

میک اپ سے لدے ہوۓ اب عوام کو شریعت بتا رہے ہیں، ذرا یہ تو بتاؤ کہ دین کی تبلیغ کے لئے میک اپ کی ضرورت کیوں آن پڑی، دلیلیں ایسی ایسی کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ کیا مثال ہے. ایک صاحب افطاری کے وقت عقل کو 'کھسرا' (خواجہ سرا) ہونے کی دلیل دے رہے تھے اور فرما رہے کہ جب عقل 'کھسرا' ہوتی ہے تو گناہ ہوتا ہے! کم سے کم میں تو اس دلیل کو بےتکا اور کم عقلی سمجھوں گا!

نام دین کا کام پیٹ کا، بھلا یہ کیسی تبلیغ ہے کہ درود پاک چل رہا ہو اور اچانک دھڑام سے شربت کا اشتہار چلنا شروع ہو جاۓ، ملک میں لاتعداد 'فتویٰ فیکٹریاں' ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہو آپ آسانی سے فتویٰ حاصل کر سکتے ہیں، جیو پر مارننگ شو میں ایک قوالی پر توہین کا فتویٰ صادر کرنے والے اب کہاں گم ہو گئے؟

کیا دکھائی نہیں دے رہا کس طرح اسکرین پر میک اپ سے لدھے ھوۓ گوالیے دین کی توہین کر رہے ہیں؟ درود پاک کو کاٹ کر شربت کا اشتہار توہین مذہب نہیں؟

جناب دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ خیرات ایسے کرو کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے، یہاں کیا ہو رہا ہے خیرات کے نام پر، محض دکھاوا!

کرتے بیچنے والے اب دین کو بیچنے میں مصروف ہیں، جس طرح کرتے بیچتے ہوئے ایمانداری، سچائی اور قیمت پر گاہک سے غیر اخلاقی مکالمہ کیا جاتا ہے اسی طرح اب یہ لوگ دین کو بیچتے ہوئے اخلاقیات، احترام، رواداری کو بالاۓ طاق رکھ چکے ہیں، ڈسکو قسم کے گوالئے عوام کے جذبات کو ابھارنے کے لئے ہر قسم کی ڈگڈگی بجانے کو تیار ہیں، اپنی اس کوشش کے لئے قران و حدیث کی حرمت کو بھی رسوا کیا جا رہا ہے، کیا دکان داری چمکانے کے لئے دین کا استعمال توہین مذہب نہیں؟

کون بتاۓ گا، کون سنے گا، کس کی ذمّہ داری ہے کہ دین کو بیچنے اور اس کا ناجائز استعمال ہونے سے روکے؟ دین کی حرمت کو بچانا کس کی ذمّہ داری ہے؟ حکومتی نمائندگی کے لئے تو آئین کا آرٹیکل 62,63 موجود ہے، ان گوالیوں کے لئے سرحدوں کا تعین کون کرے گا!
جعلی ڈگری والے بھائی صاحب عجیب و غریب ڈرامے کر رہے ہیں، مفتی صاحبان کو بلا کر اور سوالات کے جوابات کے حصول کے نام پر پتا نہیں کیا کیا کر رہے ہیں، سیدھی سی بات ہے، دومختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے سے کیسے متفق ہوں گے حضور!؟ اس سے پہلے بھی ان حضرت کے 7 ستمبر 2008 کے پروگرام کے بعد ایک فرقے کے دو افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ اس دفعہ پتا نہیں ان کی یہ نئی خرافات کیا رنگ لائی گی.

ایک مسلمان دوسرے پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے ایسے ماحول میں اس کو طول دینا فرقہ واریت کی آگ کو مزید بھڑکانا، جلتی پر تیل چھڑکنے جیسا نہیں ہو گا؟ مگر انہیں کیا، لوگ مرتے ہیں تو مریں، کٹتے ہیں تو کٹیں، لڑتے ہیں تو لڑیں، ان کا دھندا تو ترقی کر رہا ہے نا، بس تو پھر کیا!

یہ لوگ تو موچی اور درزی سے بھی گئے گزرے ہیں وہ تو گانٹھنے کا کام اچھائی کے لئے کرتے ہیں یعنی دھندے میں بھی سلیقہ، جبکہ یہ لوگ دھندے میں بھی بی ایمانی. ذرا یو ٹیوب پر ان حضرت کی ویڈیو ملاحضہ فرما لیں سب سمجھ میں آ جاۓ گا. لڑکیوں کے ہاسٹل میں چھپنے والے کی حقیقت آپ سے چند بٹن کی دوری پر ہے. دیویاں اور دیوتا بنانے سے قبل ذرا انگلیوں کو حرکت دے کر دیکھ لیں.

بھوک کا مارا بچّھ تو سیٹی کی آواز پر بھی چپ کر جاتا ہے بھلے دودھ کی بوتل گھنٹے بعد ملے، بھوک و افلاس اور بیروزگاری کے ہتھے چڑھی ہوئی عوام کے لئے لگایا جانا والا آپ کا تماشا بھی توجہ کیوں کر حاصل نہ کرے.
ہم قدیم روم کے بادشاہوں کو ظالم و وحشی لکھتے ہیں کیوں کہ وہ گلیڈی ایٹر کا کھیل کرواتے تھے، عوام اس کو دیکھ کر بھوک بھول جاتی تھی، لیکن آپ تو ان سے بھی نمبر لے گے! آپ نے تو اپنے دھندے کی خاطر دین کو ہی صابن، تیل، ٹوتھ پيسٹ کے ساتھ بیچنا شروع کردیا!! کہاں ہیں غیرت والے!!؟؟

اور کہاں ہے پیمرا؟ ویسے تو ذرا ذرا سی بات پر 'نوٹس' لے لیا جاتا ہے، اب کیوں سانپ سونگھ گیا؟ زیادہ سے زیادہ منافعے کے لئے ان 'فار پرافٹ' تفریحی اور نیوز چینلوں پر مذہب کے اس بےشرمی سے استحصال کا نوٹس کیوں نہیں لیا جا رہا آخر؟

حالیہ چند مہینوں میں تو خاص طور پر یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب تک تفریحی ٹی وی چینلوں پر مذہبی پروگرامنگ ہوگی، اس کا فائدہ اٹھا کر شر پسند عناصر اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ فائدوں کے لئے بات کا بتنگڑ بنا کر ہماری 'جذباتی' عوام کے جذبات مشتعل کرتے رہیں گے. جیسا کہ جیو، اے آر وائی اور سما کے ساتھ ہوا.
پاکستانی قانون بھی عجیب قسم کی چیز ہے، یہاں فوج و قومی سلامتی کے معاملات پر تو چینل بند ہو جاتا ہے لیکن دین کو دھندے کے لئے استعمال کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں. پیمرا کو چاہیے کہ تمام نیوز و انٹرٹینمنٹ چینلز پر دھندے کی غرض سے کیے جانے والے مذہبی پروگرامز پر مکمّل پابندی عائد کرے، کیوں کہ موجودہ پروگرامز سے دین کو سمجھنے اور سیکھنے کے بجاۓ انتشار پھیل رہا ہے.
دین کمائی کے لئے نہیں بنا! براۓ خدا ان فار-پرافٹ 'تفریحی چینلوں' پر مذہب کا کاروبار بند کروائیں! دین کی بات کرنی ہے تو اس کے لئے مخصوص نان-پرافٹ چینلز ہونے چاہئیں، جہاں کسی قسم کی اشتہار بازی کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے.

ساتھ ساتھ، ایڈورٹائیزرز پر بھی سخت پابندی ہونی چاہیے کہ اپنی پروڈکٹس بیچنے کے لئے بناۓ جانے والے اشتہاروں میں مذہبی علامتوں اور استعاروں سے قطعی گریز کریں.

اسرائیلی فوجی فلسطینیوں پر کیے جانیوالے مظالم پر بول پڑے.......


ایک گروپ بریکنگ دی سائلنس نے دس برسوں کی محنت کے بعد فلسطینی علاقوں میں تعینات رہنے والے اسرائیلی فوجیوں کے اعترافات کو پیش کیا ہے۔
تل ابیب کے ہابیما اسکوائر میں بریکنگ دی سائلنس نے ساڑھے تین سو سابق اسرائیلی فوجیوں کے مظالم پر مبنی اعترافات کو پیش کیا۔
اس گروپ نے ایک دہائی کے دوران ان ساڑھے نو سو اعتراف ناموں کو جمع کیا جس میں اسرائیلی فوجیوں کی تاریخ اور تنازعے و قبضے پر ناقدانہ تجزیہ بھی شامل تھا۔
اس رپورٹ میں فلسطینیوں کے ساتھ چیک پوسٹوں پر کئے جانے والے تذلیل آمیز رویے، فائرنگ اور حملوں کے سینکڑوں واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔
اس گروپ کے بانیوں میں سے ایک یہودہ شاﺅل نے بتایا کہ ہم اپنے دس سال کی محنت کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ یہ عام نہیں بلکہ غیرمعمولی کام ہے۔
اس اجلاس کے دوران ایک شخص ہاتھ سے لکھے سائن بورڈ دکھانے لگا جس میں اس گروپ کو غدار قرار دیا گیا تھا جس پر یہودہ شاﺅل نے کہا کہ میں فوج کے ساتھ ہوں میں اس کے مخالف نہیں بلکہ میں قبضے کی مخالفت کرتا ہوں۔

اسرائیلی فوجیوں کی کہانیاں ان کے زبان میں
نامعلوم سرجنٹ جو غزہ پٹی میں 2009ءکے آپریشن کاسٹ لیڈ میں موجود رہا
ہمیں کہا گیا تھا کہ معلوم نہیں کب تک ہمیں یہاں رہنا پڑے گا اس لئے علاقے کو جس حد تک ہوسکے تباہ کردیا جائے۔ اس منظم تباہی کی دو وجوہات بنائی گئیں ایک آپریشنل کہ گھروں میں مشتبہ افراد دھماکہ خیز مواد، ٹنلز اور ہر قسم کے تار وغیرہ چھپا کر رکھتے ہیں اس لئے گھروں کو تباہ کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ چاہے گھر مشتبہ نہ بھی ہو تو بھی ہمیں اس گھر کو تباہ کردینا چاہئے۔
سرجنٹ طال ویسر، 2006-09ءتک نابلس
آٹھ گھنٹے تک روڈ بلاک پر روزانہ کھڑا رہنا ہر ایک کو کبھی ختم نہ ہونے والے تناﺅ کا شکار بنادیتا ہے، ہر شخص مسلسل چیختا چلاتا اور نروس رہتا ہے، اور جیسے ہی کوئی فلسطینی راستے پر نظر آتا اور دیر تک روکے جانے پر ذرا سا بھی احتجاج کرتا تو جو چیز سب سے پہلے کی جاتی وہ اسے جورا (ایک چھوٹی سی جیل) میں کسی کپڑے کی طرح پھینک دینا تھا۔ یہ اس کی ہمارے کام میں مداخلت کی سب سے چھوٹی سزا تھی۔
اس جگہ کام کرنے کا دباﺅ اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ ہم لوگ فلسطینیوں کو بند کرکے بھول جاتے تھے اور ایسا کئی روز تک ہوتا ہے، مگر کئی بار صرف چند گھنٹوں بعد ہی کسی کو اچانک یاد آجاتا کہ ایک شخص اندر قید ہے جسے باہر لایا جاتا اور پھر اس کی چیکنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔

نامعلوم سرجنٹ، نابلس 2014ء
غصہ اور ردعمل اس گاﺅں میں ہمیشہ چلنے والا سلسلہ ہے، ایک دم اچانک بہت شور ہوتا، پتھر اٹھائے جاتے اور ہم پر برسا دیئے جاتے اور پھر آپ انہیں گرفتار کرتے اور کہتے وہ پتھر مار رہے تھے۔
گاڑیاں گاﺅں کے اندر تو چل سکتی مگر بیرئیرز لگا کر انہیں باہر جانے سے روک دیا جاتا، ان بیرئیرز کو دہشتگردوں کو روکنے کے لیے فوج نے لگائے تھے اور یہ ایریا بی کی بات ہے جو فلسطینی سویلین کنٹرول کے اندر ہے، مگر فوج وہاں روز جاتی اور کسی بھی فلسطینی کو مشتبہ سمجھ کر پکڑ لاتی، چاہے وہ بچہ ہی کیوں نہ ہوتا۔

سرجنٹ انویر گویرایو، 2004-07 نابلس
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں سرجنٹ تھا اور تربیت ختم ہوئی تھی تو اس وقت ہمیں ترقی کا جو پیمانہ بتایا گیا وہ کافی خوفناک تھا۔ کئی بار تو مجھے لگتا تھا کہ اگر کوئی کامیاب ہونا چاہتا ہے تو لاشیں ہمارے کمانڈر کے پاس لے جائے کیونکہ گرفتاریوں کے لیے وقت نہیں۔ کمانڈر کہتا تھا کہ گرفتاریوں میں برسوں ضائع ہوچکے ہیں اب میرے پاس صرف مردہ دہشتگرد آنے چاہئیں۔ تو بس ہم ہر رات مختلف علاقوں میں چھاپے مارتے فائرنگ کرتے اور ایسا ماحول پیدا کرتے جیسے ہم پر جوابی فائرنگ ہوئی ہے اور ہر طرح کے افراد کو گرفتار کرلیتے۔یہ ایسی صورتحال تھی جس میں آپ بس دوربین سے دیکھتے رہتے تاکہ کسی کے نظر آنے پر اسے قتل کرسکیں کیونکہ یہی ہمارا کام قرار دیا گیا تھا۔

نامعلوم سرجنٹ کفیر، برج طول کریم 2008ء
وہاں ایسی چیک پوسٹ تھی جو تین حصوں میں تقسیم تھی، یعنی ایک یہودی بستی کے لیے چیک پوسٹ، اور پھر اسرائیلی علاقے کی پوسٹ درمیان میں تھی جبکہ وہاں ایک فلسطینی گاﺅں بھی تھا جسکی وجہ سے چیک پوسٹ تین حصوں یں تقسیم کی گئی تھی۔ اوربریگیڈ کمانڈر کا حکم تھا کہ یہودی افراد کو چیک پوائنٹ پر دس منٹ تک انتطار کرنا ہوگا اور ان کے لیے خصوصی لین بنائی جائے۔اس کے مقابلے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی عرب کو دیگر دو لینز میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔

گل ہلیل، 2001-03ءہیبرون
ہیبرون میں میرے پہلے اور دوسرے روز کمانڈر نے مجھے کباش اور یہودی بستی میں پیدل گشت کا کہا، مجھے یہ دلچسپ لگا اور تیار ہوگئی۔ مگر پہلے ہی روز مجھے یہ کام بہت برا لگا کیونکہ میرے ایک کمانڈر نے راستے میں ایک بزرگ فلسطینی شخص کو خوامخواہ پکڑ کر مارنا شروع کردیا، اور میں نے حیرت سے دیگر افراد سے پوچھا کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہورہا ہے کیا وہ کوئی خطرہ ہے؟ دہشتگرد ہے؟ یا اس کے پاس کچھ ملا ہے؟ تو جواب ملا ایسا کچھ نہیں مگر سب کچھ ٹھیک ہے، جس پر میں نے اپنے کمانڈر سے بات کی اور پوچھا کہ آپ کیا کررہے ہیں؟ تو اس نے کہا کہ ہل چپ ہوجاﺅ۔
اس چیز نے مجھے خوفزدہ کردیا، میں اس کے ردعمل اور صورتحال سے ڈر گئی تھی مگر میں چپ رہی کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں کیا کرسکتی ہوں جب میرا کمانڈر ہی مجھے چپ رہنے کا کہہ رہا ہے، اس فلسطینی کا قصور بس یہ تھا کہ غلطی سے وہ اس راستے سے گزر رہا تھا۔

نامعلوم سرجنٹ، 2010ء ہیبرون
ہیبرون کے یہودی آباد کار مسلسل عرب آبادی کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں، خاص طور پر ایک عرب قریب سے گزرتا تو اسے مختلف بددعاﺅں کا سامنا کرنا پڑتا، شہداءاسٹریٹ میں جہاں اکثر عرب بھی چلتے پھرتے نظر آتے میں ایک بار مجھے بھیجا گیا اور ہم نے وہاں تین یہودی بچوں کو ایک بزرگ عرب خاتون کو مارتے دیکھا، یہودی آبادکاروں کا ایک اور شخص بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور چیخنے لگا کہ تم مرجاﺅں، انھوں نے اس خاتون پر پتھراﺅ بھی کیا۔ میرا خیال تھا کہ پولیس کو بلایا جانا چاہئے تھا مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔

سارجنٹ نادو بیگل مین، 2007-10ءہیبرون
کباش میں گشت کے دوران ہم اکثر انٹیلی جنس نہ ہونے کے باوجود گھروں میں گھس جاتے، وہاں دیکھتے کہ اندر کون ہے اور وہ کیا کرتا ہے، ہم یہ ہتھیار یا دیگر چیزوں کی تلاش میں نہیں کرتا، بلکہ اس مقصد فلسطینیوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ ہم ہروقت ان کے سروں پر موجود ہیں۔ہم لوگ گھر کے اندر ہر جگہ جاتے، کمانڈر کاغذ کا ایک ٹکڑا اٹھا کر اس کا ایسا نقشہ بنا دیتا کہ جبکہ میرے پاس کیمرہ ہوتا اور تمام افراد کو دیوار کے ساتھ کھڑا کرکے ان کی تصویر لینا میری ذمہ داری تھی، یہ تصاویر لینا ایک خوفناک تجربہ ہی تھا کیونکہ رات کو تین بجے لوگوں کو زبردستی اٹھا کر تصویریں لینا ان کی تذلیل ہے بلکہ میرے پاس تو وضاحت کے لیے الفاظ ہی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تصاویر کو لینے کے لیے میرے پاس مہینوں کوئی آتا ہی نہیں تھا بلکہ یہ تو کسی کھیل کی طرح لگتا تھا۔

نامعلوم سرجنٹ، 2002ءنابلس
ہم نے ایک وسطی گھر پر قبضہ کیا اور وہاں اپنی پوزیشنز بناکر شارپ شوٹرز نے وہاں سے کچھ دور واقع چھت پر موجود ایک شخص کی شناخت کی جو ہم سے پچاس سے ستر میٹر دور تھا اور مسلح بھی نہیں تھا۔ اس وقت رات کے دو بجے تھے، اور ایک شخص چھت پر ٹہل رہا تھا، میں نے کمپنی کمانڈر کو اطلاع دی اور اس نے ہمیں اسے مارگرانے کی ہدایت کردی حالانکہ وہ شخص مسلح بھی نہیں تھا۔ میرے دوست نے فائر کرکے اسے مارا دیا، کیا آپ نے کبھی امریکہ میں سزائے موت کے مقدمات دیکھے ہیں، جس کے لیے ہزاروں اپیلیں اور دیگر کارروائی ہوتی ہے اور اس معاملے کو بہت سنجیدہ لیا جاتا ہے، مگر ہماری کمپنی کمانڈر نے بس ریڈیو پر ہی رپورٹ سن کر ایک شخص کو مارنے کا حکم دیدیا۔

بشکریہ دی گارڈین