Tuesday, October 21, 2014

یہ تو بہرحال ہونا ہی تھا.......


یہ تو بہرحال ہونا ہی تھا اور اگر یہ نہ ہوتا تو بہت پریشانی ہوتی۔
میری ایدھی صاحب سے پہلی ملاقات 2003ء میں کھارا در میں ہوئی‘ میں ان دنوں ’’سیلف میڈ کے نام سے سیلف میڈ‘‘ لوگوں پر ڈاکومنٹری فلمیں بنارہا تھا‘ یہ میری زندگی کے ان 98 ناکام منصوبوں میں سے ایک تھا جن پر میں نے بے تحاشا توانائی‘ وقت اور سرمایہ خرچ کیا‘ میں نے جن کے لیے دن رات ایک کر دیے تھے لیکن یہ اس کے باوجود ناکام ہو گئے اور میں نے جن سے یہ سیکھا‘ آپ پر جب تک اللہ تعالیٰ کا کرم نہ ہو اس وقت تک کھیت‘ پانی‘ بیج اور شاندار موسم کے باوجود آپ کے سٹوں میں دانا پیدا نہیں ہوتا۔

’’سیلف میڈ‘‘ بھی ایک ناکام منصوبہ تھالیکن یہ شروع میں شاندار اسپیڈ سے چل رہا تھا‘ آئیڈیا اچھا تھا‘پرائیویٹ میڈیا کو ابھی صرف ایک سال ہوا تھا‘ ٹیلی ویژن چینلز کو سافٹ ویئر درکار تھے‘ میرے پاس فرصت بھی تھی اور وسائل بھی۔ ٹیم بنائی‘ ملک کے 34ایسے لوگوں کی فہرست تیار کی جنھوں نے انتہائی نامساعد حالات میں آنکھیں کھولیں لیکن یہ شبانہ روز محنت کرتے ہوئے بین الاقوامی شخصیت بن گئے‘ عبدالستار ایدھی اس فہرست میں پہلے نمبر پر تھے‘ یہ آج بھی پہلے نمبر پر ہیں‘ آپ ملک میں نامور لوگوں کی کوئی فہرست بنائیں‘ آپ کے ذہن میں سب سے پہلے عبدالستار ایدھی کا نام آئے گا‘ یہ صرف ساڑھے پانچ فٹ کے 60 کلو وزنی انسان نہیں ہیں‘ یہ پاکستان کے آئفل ٹاؤر ہیں‘ یہ پاکستان کی مدر ٹریسا ہیں‘ دنیا میں جس طرح آئفل ٹاور کے بغیر پیرس اور مدر ٹریسا کے بغیر انڈیا کا تصور ممکن نہیں بالکل اسی طرح پاکستان عبدالستار ایدھی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
ہم لوگوں نے فہرست کے پہلے نام سے کام شروع کیا‘ میں کھارا در گیا‘ ایدھی صاحب سے ملاقات ہوئی‘ایدھی صاحب کے بدن پر سیاہ ملیشیا کے گھسے ہوئے کپڑے تھے‘ سر پر میلی ٹوپی تھی‘ پاؤں میں پلاسٹک کے سلیپرتھے‘ دانت میلے اور ہاتھ کالے تھے اور جسم سے پسینے کی بو آ رہی تھی‘ میں نے گفتگو شروع کی‘ معلوم ہوا ایدھی صاحب نے پوری زندگی مُردوں کے کپڑے اور جوتے پہنے‘ لواحقین مُردوں کی ذاتی اشیاء استعمال نہیں کرتے‘ یہ ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے ہیں‘ بیس سال قبل میٹھا در کا کوئی پٹھان فوت ہوا‘ اس کے گھر سے ملیشیا کے دو تھان نکلے‘ ایدھی صاحب بیس سال سے ان تھانوں کے کپڑے سلوا رہے ہیں‘ ایک جوڑا دو سال نکال جاتا ہے‘ سلیپر بھی مُردوں کے پہنتے ہیں اور ٹوپی بھی ایک نعش کا ورثہ تھی‘لوگ انھیں حاجی صاحب کہتے ہیں‘ ہفتے میں صرف ایک بار نہاتے ہیں‘ حاجی صاحب کا خیال تھا پانی قیمتی سرمایہ ہے۔
اسے نہانے میں ضایع نہیں کرنا چاہیے چنانچہ نہانے کے خلاف ہیں‘ گجرات کاٹھیاوار کے گاؤں بانٹوا میں پیدا ہوئے‘ ماں کی دوسری شادی تھی‘پہلے خاوند سے بھی بچے تھے‘ ماں کو ہمیشہ دکھی اور پریشان دیکھا‘ کراچی آ کر کپڑے کا کاروبار شروع کیا‘ کپڑا خریدنے مارکیٹ گئے‘ وہاں کسی شخص نے کسی شخص کو چاقو مار دیا‘ زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا‘ لوگ تڑپتے شخص کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے‘ وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا‘ نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا‘ سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں‘ دوسروں کو مارنے والے‘ مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے‘ نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا‘ میں مارنے والوں میں شامل ہوں گا اور نہ ہی تماشہ دیکھنے والوں میں‘ میں مدد کرنے والوں میں شامل ہوں گا‘ کپڑے کا کاروبار چھوڑا‘ ایک ایمبولینس خریدی‘ اس پر اپنا نام لکھا‘ نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی‘ وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بھی تھے‘ آفس بوائے بھی‘ ٹیلی فون آپریٹر بھی‘ سویپر بھی اور مالک بھی‘وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے تھے۔

فون کی گھنٹی بجتی‘ یہ ایڈریس لکھتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے‘ زخمیوں اور مریضوں کو اسپتال پہنچاتے‘ سلام کرتے اور واپس آ جاتے‘ ایدھی صاحب نے سینٹر کے سامنے لوہے کا گلا رکھ دیا ‘ لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے‘ یہ سیکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تھے‘ یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد جاتے تھے‘ یہ ایک صبح مسجد پہنچے‘ پتہ چلا کوئی شخص مسجد کی دہلیز پر نوزائیدہ بچہ چھوڑ گیا‘ مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا‘ لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے‘ یہ پتھر اٹھا کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے‘ بچہ لیا اور بچے کی پرورش شروع کر دی‘ میرے کان میں بتایا ’’وہ بچہ آج کل ملک کے ایک بڑے بینک کا اہم افسر ہے‘‘ یہ نعشیں اٹھانے بھی جاتے تھے‘ پتہ چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے‘ یہ وہاں پہنچے‘ دیکھا لواحقین بھی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گئے‘ نعش نکالی‘ گھر لائے‘ غسل دیا‘ کفن پہنایا‘ جنازہ پڑھایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کھود کر نعش دفن کر دی‘ بازار میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکھے‘ پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا اور آوارہ بچوں کو فٹ پاتھوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکھا تو اولڈ پیپل ہوم بنا لیا‘ پاگل خانے بنا لیے‘ چلڈرن ہوم بنالیے‘ دستر خوان بنا لیے اور عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا لیے‘ لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے‘ ان کی مدد کرتے رہے‘ یہ آگے بڑھتے رہے ۔

یہاں تک کہ ایدھی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا‘ یہ ادارہ 2000ء میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا‘ ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنائی تھی‘ عبدالستار ایدھی ملک میں بلاخوف پھرتے تھے‘ یہ وہاں بھی جاتے تھے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھایا فسادات ہو رہے ہوتے تھے‘ پولیس‘ ڈاکو اور متحارب گروپ انھیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیتے تھے‘ ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے‘ یہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں‘ نام کے حاجی اور نام کے مولوی ہیں‘ یہ خدمت کو اپنا مذہب اور انسانیت کو اپنا دین سمجھتے ہیں‘ سیاسی نظام سے مطمئن نہیں ہیں اور یہ لوگوں سے بھی شاکی ہیں‘ یہ ہر لحاظ سے فرشتہ صفت ہیں۔ میں پورا دن ایدھی صاحب کے ساتھ رہا‘ ہم نے اگلے ہفتے شوٹنگ شروع کی‘ تین دن ایدھی صاحب کے ساتھ رہے‘ ان کی تمام اچھائیاں کھل کر سامنے آ گئیں مثلاً ایدھی صاحب نے 2003ء تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالی تھیں‘ انھوں نے 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے تھے‘ انھوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی تھیں اور یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے۔

ہم جب بھی انھیں بازار یا سڑک پر لے کر جاتے تھے‘ لوگ ان کے ہاتھ چومتے تھے‘ عورتیں زیور اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیتی تھیں‘ ہمارے سامنے ایک نوجوان اپنی اکلوتی موٹر سائیکل انھیں دے کر خود وین میں بیٹھ گیا اور ایک دکان دار نے وہ موٹر سائیکل لاکھ روپے میں خرید لی‘ میں نے ایدھی صاحب کے ساتھ چار دن گزارے‘ وہ چار دن میری زندگی کا شاندار ترین وقت تھا‘ میں جب ان سے الگ ہونے لگا تو میں نے جھک کر ان کے پاؤں چھوئے‘ ایدھی صاحب نے مجھے کھینچ لیا‘ گلے لگایا‘ میرا ماتھا چوما اور جھولی پھیلا کر مجھے دعائیں دیں‘ میں آج بھی ان کی دعاؤں کو اپنا اثاثہ سمجھتا ہوں۔

یہ تھے عبدالستار ایدھی مگر ایدھی صاحب کے ساتھ کل 19 اکتوبر 2014ء کو کیا ہوا؟ 8 مسلح ڈاکوصبح10 بجے کھارا در ان کے دفتر داخل ہوئے‘ ایدھی صاحب کے سر پر پستول رکھا‘ ان سے کہا ’’ بڈھے تمہارے کلمہ پڑھنے کا وقت آ گیا‘‘ ایدھی صاحب کے لاکرز توڑے اور 5 کلو سونا اور کروڑوں روپے کی غیر ملکی کرنسی لوٹ کر لے گئے‘ ہمارے ملک میں روزانہ تین درجن بری خبریں جنم لیتی ہیں‘ ہم ان خبروں کو روٹین کی کارروائی سمجھ کر فراموش کر دیتے ہیں لیکن ایدھی صاحب کی خبر نے پورے ملک کو اداس کر دیا‘ ملک کا بچہ بچہ ڈپریشن میں ہے‘ہم سب دل سے سمجھتے ہیں‘ عبدالستار ایدھی کے ساتھ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر یہ بہرحال ہونا ہی تھا اور اگر یہ نہ ہوتا تو پریشانی ہوتی‘ کیوں؟ کیونکہ ہمارا ملک بے عزتی‘ بے آبروئی اور بے وفائی کے وائرس کا شکار ہے‘ جس ملک میں قائداعظم محمد علی جناح فٹ پاتھ‘ قائد ملت لیاقت علی خان اسٹیج اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو پھانسی گھاٹ پر مار دیے جائیں۔

جس میں حکیم سعید جیسے شخص کو گولی مار دی جائے‘ ڈاکٹر قدیر جیسے انسان کو مجرم بنا کر ٹیلی وژن پر پیش کر دیا جائے اور جس میں روز کنٹینروں ‘ اسٹیجز اورٹیلی وژن پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہوں اور جس میں آپ کی جگہ تم‘ تم کی جگہ تو اور تو کی جگہ اوئے نے لے لی ہو اور جس میں الزام قانون اور شک عدالتی فیصلہ بن گیا ہو اور جس میں سیاسی قائدین کا فرمان اللہ کے احکامات سے بڑا ہو چکا ہواور جس میں لوگ اللہ سے کم اور مولوی سے زیادہ ڈرتے ہوں اور جس میں جاوید ہاشمی ہار جاتے ہوں اور عامر ڈوگر جیسے لوگ جیت جاتے ہوں اس ملک میں ایسا بہرحال ہو کر رہتا ہے‘ اس معاشرے میں ایک ایک کر کے سب لوٹ لیے جاتے ہیں‘ دیمک لگی دہلیزیں فرشتے ہوں یا انسان کسی کا بوجھ برداشت نہیں کرتیں اور ہم دیمک زدہ معاشرے کے شہری ہیں‘ ہمارے معاشرے میں ایدھی صاحب کے ساتھ بہرحال یہ ہونا ہی تھا!۔

جاوید چودھری
 بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس 

ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے تعلیم کے حق سے محروم........


پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم الف اعلان نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں جن میں 50 فیصد سے زیادہ کا تعلق پنجاب سے ہے۔
الف اعلان کی تعلیم کے لیے مہم کے سربراہ مشرف زیدی نے ہمارے ساتھی ظہیرالدین بابر سے اپنی تازہ رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں پانچ سے 16 سال عمر کے بچوں میں سے صرف دو کروڑ 70 لاکھ بچے سکول جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سکول جانے والے بچوں میں زیادہ تر ریاستی اداروں میں پڑھ رہے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی تعداد نجی اداروں میں پڑھ رہی ہے اور اس میں وہ بچے بھی شمار کیے گئے ہیں جو مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں۔‘
مشرف زیدی نے سکول نہ جانے والے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔
’ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں اور سکول نہیں جاتے وہ تقربیاً ڈھائی کروڑ بچے ہیں۔‘

ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں اور سکول نہیں جاتے وہ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے ہیں۔ یہ بچے کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔ نہ وہ مدرسے میں ہیں، نہ سرکاری سکول میں اور نہ نجی سکول۔ وہ کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔مشرف زیدی

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بچے کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔ نہ وہ مدرسے میں ہیں، نہ سرکاری سکول میں اور نہ نجی سکول۔ وہ کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔ یہ بچے سکول سے باہر ہیں۔‘
انھوں نے پنجاب میں تعلیم کی صورتِ حال کے بارے میں کہا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے یہاں پالیسی، فنڈز اور توجہ کا فقدان رہا ہے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں۔

مشرف زیدی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’جس ملک میں پانچ سے 16 کے درمیان کے بچے سکول نہ جا رہے ہوں تو آج سے دس سے کے بعد کا سوچیے کہ آج جو دس سال کا بچہ ہو وہ دس سال بعد 20 سال کا ہوگا اور وہ سکول نہ گیا ہو اس کے پاس کوئی تعلیم نہ ہو اس کا مستقبل ہوگا۔

’جو بچے سکول نہ گئے ہوں اور پڑھ لکھ نہ پائے ہوں تو ان کا کیا چانس ہے کہ وہ زندگی میں کسی کے ساتھ مقابلہ کر پائیں گے اور اس ملک کا کیا چانس ہے بین الاقوامی طور پر جس ملک نے اتنے سارے بچوں کو اس طرح پالا ہو جو پڑھ لکھ نہ پائیں؟ 

Friday, October 17, 2014

عالم باعمل ... مو لا نا مفتی محمود.....


مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ علمی حلقے ہوں یا سیاست کی پرخاروادیاں ،درس و تدریس کا میدان ہو یا انتظامی و ملی امور، اتحاد امت کا سٹیج ہو یا ختم نبوت کا گراں قدر محاذ آپ کا نام روز روشن کی طرح عیاں ہے اور تا ابد رہیگا ۔ مفتی محمودصاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور ایسی شخصیت تھے، جو اپنی ذات میں کی انجمنوں اور تحاریک کو سموے ہوے تھی۔ آپ واقعی اسم بامسمیٰ تھے۔ مفتی صاحب بیک وقت ایک محقق عالم دین ،بہترین استاد ، مدبر سیاستدان، بیدار مغزعالم مفتی، حق گوخطیب اور شب زندہ دارعارف باللہ تھے اور یہ القاب صرف فصاحت و بلاغت کی نظیر نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔ 

علم کا یہ عالم تھا کہ بخاری شریف کی مشکل مباحث کو منٹوں میں حل کرنا آپ کا خاصہ تھا،فخرالسادات ،مجاہد ختم نبوت مولانامحمد انورشاہ کشمیری ؒکے مایہ ناز شاگرد حضرت مولانا محمد یوسف بنوری فرماتے ہیں کہ ایک بار مفتی صاحب جامعہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے، اتفاقاً درس بخاری کا پیریڈ تھا ،میں نے حضرت مفتی صاحب سے درخواست کی کہ آج آپ نے بخاری شریف کا درس دینا ہے ۔ مفتی صاحب نے بخاری شریف جا کر کھولی اور یوں حدیث شریف کی تشریح کی اور علمی تقریر فرمائی کہ میں حیران رہ گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا ،جیسے وقت کے ابن حجر عسقلانی تشریف فرما ہیں اور ایسی باتیں مجھے سننے کو ملیں کہ جو اس سے پہلے کبھی نہ سنیں جبکہ یہ بخاری شریف کا ایک مشکل مقام تھااور دلچسپ بات یہ کہ آپ ایک جلسے سے فارغ ہوکر تشریف لائے تھے۔ 

تیاری کا موقع بھی نہ مل سکا۔ بس اس واقعہ نے مفتی صاحب کا علمی مقام جو کہ میری نگاہ میں پہلے کا بلند تھااور بلند کر دیا جوں حضرت مفتی صاحب کی تقریر بخاری میںاضافہ ہوتا جاتا ساتھ ہی مفتی صاحب کا قد کاٹھ بھی علمی میدان میں بلند ہوتاجاتا،درس و تدریس کا یہ عالم تھاکہ بیک وقت موضوع کے متعلق تفسیر و حدیث ،فقہ و لطائف ومعانی،فصاحت و بلاغت ،فلسفہ و کلام سے مثالیں دے کر دلائل کے انبار لگا دیتے۔ مولانا منظور احمد فرماتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب کو ویسے تو تمام علوم پر عبور تھا،مگر حدیث اور فقہ پر بھی گہری نظر تھی ۔

قاسم العلوم ملتان میں انہوں نے تقریبا 25 برس تک بخاری و ترمذی شریف کا درس دیا۔دوران درس پیجیدہ اور مشکل ترین مباحث کو آسان انداز میں پیش فرماتے تھے۔ مدبر سیاستدان ہونے کی یہ حیثیت تھی کہ ملک پاکستان جو خالصتا لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، تو سیکولر ذہنیت کے حاملین نے شروع سے ہی آئین میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کی ،تو علامہ شبیر احمد عثمانی کے بعد جس شخصیت نے آئین ِ پاکستان کو اسلامی آئین کے قالب میں ڈھالنے کا کردارادا کیا، وہ شخصیت مفتی صاحبؒ کی ہی تھی۔ 1973ء کا آئین آپ کی ہی جہد و مساعی کا ثمر ہے جب کہ دیگر اہل علم حضرات آپ کے شانہ بشانہ رہے اوراس آئین نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر چور دروازے کے ذریعے آنے والوں کے سارے راستے بند کردیئے ہیںاور پھر نو ماہ سرحد کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر دنیا کو دکھا دیا کہ ایک عالم دین تم سے بہتر نظام چلانا جانتا ہے اور درویشی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود دال اور ساگ کے ذریعے زندگی گزاری جا رہی ہے۔ حالانکہ چاہتے تو عمدہ قسم کے کھانوں سے دسترخواںسج سکتا تھا ،لیکن آپ کے سامنے عمرثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز کا اسوہ تھا کہ ہزاروں مربع میل کے حکمران ہیں، لیکن عید کے دن اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ کچے پیاز سے روٹی کھائی جارہی ہے۔ 

مفتی محمود صاحب نے بھی بیت المال کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھا بلکہ عوام کا حق سمجھ کر انہی پر لٹایا اور خود ایک پائی تک نہ لی اور فقط تنخواہ پر گزارہ کیا اور پھر وہ تنخواہ بھی آنے والے مہمانوں کی ضیافت پر صرف ہو جاتی اور جب وقت آیا ،تو وزرات کو بھی اصولوں کی خاطر لات ماردی اور بتادیا حقیقی بادشاہ اللہ کے غلام اور بندے دنیوی مناصب اور عہدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔آپ بیدار مغز مفتی تھے۔ مسئلہ پر بیک وقت گرفت کرنا گویا آپ کی خاص پہچان تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع اور دیگر اہل علم حضرات سے فقہی مباحث پر ایسی مدلل و مفصل گفتگو ہوتی کہ بعض حضرات کوتو اپنے فتاویٰ سے رجوع کرنا بھی پڑ جاتاتھا،مناظرہ پر قدرت نے آپ کو ملکہ دیا ہوا تھا۔ عائلی قوانین کے سلسلے میں آپ کی گفتگو پاکستان کی تاریخ کا ایک لازوال حصہ ہے۔ 1947ء میں کذاب اکبر مرزا غلام احمد قادیانی کا وارث مرزا ناصر اسلامی لباس کا لبادہ اوڑھ کر اسمبلی میں آیا، تو اسمبلی کی اکثریت اس سے متاثر ہوگئی، لیکن جب مفتی محمود نے لگاتار گیارہ دن مرزا ناصر سے جرح کی ،تو اس جرح نے مرزا ناصر کو تارے دکھائے، وہیں ممبران اسمبلی کی آنکھیں کھول دیں اوروہ کہنے لگے کہ مفتی صاحب آپ کی وجہ سے ہمارا عقیدہ مضبوط ہوگیا،دیگر علماء کرام کے ساتھ مفتی صاحب کی ہی یہ مناظرانہ جدوجہد تھی کہ مرزائی غیر مسلم قرار پائے اور7 ستمبر1974ء پاکستان کی تاریخ میں وہ تاریخ ساز دن کہلایا جب سچے نبی ﷺ کی ختم نبوت کا پرچم قومی اسمبلی میں بھی لہرایا گیا اور حضور ﷺ کے بعد ہر شحض کو جو دعوی نبوت کرے یا اس جھوٹے مدعی نبوت کی تائید کرے اسکو کافر قرار دیا گیا۔ شب زندہ داری کا یہ عالم تھا کہ سیاست کی پر خارواری اور جاہ و منصب کا رنگ بڑوں بڑوں کو ڈگمگا دیتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ کی زبان سبحان ربی الاعلیٰ کے ترانے سے ہمیشہ معطر رہی ،دن کو ممبران اسمبلی اور دیگر شخصیات کو نماز کی امامت کروائی تو رات کو تہجد کے وقت مصلے پر آنسو بہاکر اپنے رب کو راضی کیا،ایسے عظیم لوگ مائیں کم ہی جنم دیا کرتی ہیں۔ 

چنانچہ اس تقوی و للہیت اور دینی خدمات کا اللہ تعالی نے ثمر یہ دیا کہ علمی مرکز جامعہ بنوریہ میںمسئلہ دین پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے پاس بلالیا، وہ شخصیت جن کی ساری زندگی قال اللہ وقال الرسول میںگزری آخری وقت بھی ان کی زبان پر اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کا مبارک نام ہی تھا۔

حافظ حسین احمد

Mufti Mahmood - Father of Maulana Fazalur Rehman

ایبولاوائرس… خطرناک صورت حال.....


مغربی افریقی ممالک سیرالیون،گنی اور لائبیریا سے پھیلنے والا جان لیوا، خطرناک وائرس ایبولا اب آہستہ آہستہ نہیں بلکہ بڑی تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے دارالحکومتوں میں جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اس پر پوری دنیا میں تشویش ہے۔ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’’عالمی امن کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے مقابلے میں دنیا پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ رواں سال دسمبر تک اس کے ہزاروں نئے واقعات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔مشن کے سربراہ اینتھنی بین بری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’وہ (ایبولا) ہم سے تیز دوڑ رہا ہے اور ریس جیت رہا ہے۔

عالمی ادارے کے نائب سربراہ آئلوارد کاکہنا ہے کہ ایبولا سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ردعمل بگڑتی ہوئی صورت حال کے مطابق نہیں ہے۔ متاثرین میں سے 70فیصد افراد مر رہے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابھی مجموعی طور پر دنیا بھر میں اس سے متاثر افراد کی تعداد 8914 ہے جب کہ کم از کم 4447 افراد اس کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 4024 ہلاکتیں مغربی افریقی ملکوں گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ نائیجیریا، سینیگال، اسپین اور امریکہ میں بھی اس مرض کے کیس درج کیے گئے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں بھی اس وائرس سے لوگ متاثر ہوچکے ہیں ۔ امریکہ نے اپنے 4000 فوجی متاثرہ خطے میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانیہ 750 فوجی اہلکار سیرالیون بھجوا رہا ہے۔ 

ایبولا وائرس آنے سے دنیا بھر میں چاکلیٹ کی سپلائی کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ آئیوری کوسٹ جو دنیا میں کوکا پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس نے لائبیریا اورگِنی کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرلی ہیں۔ دنیا بھر کے چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں تشویش کا شکار ہیں اس ضمن میں ورلڈ کوکا فائونڈیشن اب نیسلے، مارس اور دیگر ممبران سے اس کی کوکا انڈسٹری کے لیے فنڈ اکٹھا کررہی ہے تاکہ ایبولا کے خلاف پہلا قدم اٹھایا جا سکے۔19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’’عالمی امن اور سیکورٹی کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا تھا۔

 صحت سے متعلق امریکی ایجنسی کے مطابق اگر وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات تیز نہیں کیے گئے تو آئندہ سال جنوری تک متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔این آئی بی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر طاہرشمسی کا کہنا ہے کہ وائرس کے پاکستان میں پہنچنے کے امکانات موجود ہیں اور ائیر پورٹ پر افریقہ سے آنے والے مسافروں کی چیکنگ کی جانی چاہئیے اور کسی مسافر کو بخار ہو تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دینی چاہئیے ۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ملک میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ صدر مملکت نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبے ایبولا وائرس کی ادویات وافر مقدار میں اسٹاک کریں اور ہسپتالوں میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وارڈ بھی مخصوص کیا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایبولا وائرس کیا ہے؟ یہ مرض 1976ء میں سب سے پہلے سوڈان میں ظاہر ہوا تھا، اور 2013ء تک اس کے صرف 1716 واقعات سامنے آئے تھے۔ایبولا وائرس کا نام افریقی دریا کانگو سے پڑا ہے جسے فرنچ میں ایبولا کہتے ہیں۔ یہ انسانوں اور جانوروں میں پایا جانے والا ایک ایسا مرض ہے جس کے شکار افراد میں دو سے تین ہفتے تک بخار، گلے میں درد، پٹھوں میں درد اور سردرد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ قے، ڈائریا اور خارش وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردوں کی کارکردگی بھی گھٹ جاتی ہے۔ مرض میں شدت آنے کے بعد جسم کے کسی ایک یا مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور اُس وقت اس کا ایک سے دوسرے فرد یا جانور میں منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ 

درحقیقت اسے دورانِ خون کا بخار بھی کہا جاتا ہے، اور جب خون بہنے کی علامت ظاہر ہوجائے تو مریض کا بچنا لگ بھگ ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ مگر صرف خون نہیں بلکہ پسینے، تھوک اور پیشاب سمیت جسمانی تعلقات وغیرہ سے بھی یہ ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتا ہے، مریض کے زیراستعمال سرنج کا صحت مند شخص پر استعمال اسے بھی ایبولا کا شکار بناسکتا ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ چمگادڑوں اور پھر بندروں اور گوریلوں کے ذریعے یہ افریقہ میں پہلے جانوروں اور اُن سے لوگوں میں پھیلنا شروع ہوا، اور ایبولا کے شکار افراد کی بڑی تعداد ایک ہفتے میں ہی دنیا سے چل بستی ہے۔وہ چیزیں جو ایبولا کا سبب نہیں بنتیں ان میں ہوا، پانی، خوراک، مچھر یا دیگر کیڑے شامل ہیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ مریض کی چھوئی ہوئی اشیاء سے یہ مرض کسی اور میں منتقل ہوسکتا ہے۔ نہ ہی متاثرہ ممالک سے آنے والے طیاروں کے ذریعے یہ کسی اور ملک میں پہنچ سکتا ہے۔ یہ فلو، خسرہ، ٹائیفائیڈ یا ایسے ہی عام امراض کی طرح نہیں ہے۔ اس کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ یہ کسی وبا کی طرح ایک سے دوسرے براعظم تک پھیل جائے۔ تاہم متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد اگر اس کا شکار ہوں تو وہ ضرور کسی ملک میں اس کے پھیلائو کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور اسی خطرے کے ساتھ یہ مرض اب پھیل رہا ہے ‘جس کے لیے دنیا میں تشویش بھی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ 

اگرچہ ابھی تک اس کا کوئی مؤثر علاج دستیاب نہیں، تاہم بیمار افراد کو ہلکا میٹھا یا کھارا پانی پلاکر، یا ایسے ہی سیال مشروبات کے ذریعے کسی حد تک بہتری کی جانب لے جایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تکلیف کم کرنے کے لیے بلڈ پروڈکس، ڈرگ تھراپی، ایمیون تھراپی بھی کی جاتی ہے۔ اب تک اس کی کوئی ویکسین دنیا کی کسی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ دو ویکسین پر کام ہورہا ہے اور وہ تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اب اس ویکسین کی تیاری کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر چند سال کے بعد براعظم افریقہ سے ایک وائرس وبا کی صورت میں کیوں پھلتا ہے اور وہ پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے کہ اس سے بڑا دنیا کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کیا یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے یا بڑی عالمی قوتوں نے افریقہ کے جنگلات کو اپنی تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

ایبولا وائرس کی تیاری میں امریکہ ملوث ہے؟

اخبار ’ڈیلی آبزرور‘ نے بعض دستاویزات اور ثبوتوں کی بنیاد پر ایبولا وائرس کو وجود میں لانے اور اس کے پھیلاؤ کا ذمے دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ’’سمجھوتہ دو سو‘‘ کے کوڈ نیم کے ساتھ براعظم افریقہ میں خفیہ آپریشن کرتے ہوئے مہلک وائرس ایبولا کو وجود میں لانے اور اس کے پھیلاؤ کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔

لائبیریا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر سرل بروڈریک نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ مہلک وائرس ایبولا کو امریکہ کی ایک فوجی اور صنعتی کمپنی 1975ء میں اُس وقت کی جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے تعاون سے وجود میں لائی۔ اس کے بعد سے امریکی وزارت دفاع اس وائرس کو ایک جراثیمی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پروفیسر سرل بروڈریک کے مطابق امریکہ نے 1975ء میں جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی مدد کے ساتھ ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں، کہ اُس وقت جس کا نام زئیر تھا، خفیہ طور پر ایبولا کا پہلا مہلک وائرس تیار کیا۔ اس کے بعد اس مہلک اور خطرناک وائرس کو لیبارٹری میں وجود میں لایا گیا اور اس کی replication کی گئی۔ اور امریکی وزارت جنگ نے براعظم افریقہ کی سیاہ فام آبادی میں کمی کے لیے اس وائرس کو حربے کے طور پر استعمال کیا۔ میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی تحقیقات سے بھی پروفیسر سرل بروڈریک کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ 1976ء میں زئیر کے ایک دریا کے مضافاتی علاقے میں پہلی مرتبہ ایبولا وائرس کا پتا لگایا گیا۔ پروفیسر سرل بروڈریک نے اپنے دعوے کے اثبات کے لیے کتاب ’’حساس علاقہ‘‘ کا حوالہ دیا ہے جسے 1998ء میں تحریر کیا گیا۔ اس کتاب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ امریکہ کی صنعتی، فوجی اور طبی کمپنیوں نے کس طرح امریکہ کے اتحادی بعض افریقی ممالک کے تعاون کے ساتھ امریکہ کی قومی سیکورٹی سے متعلق معلومات کے تحفظ کے لیے خفیہ جراثیمی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ یہ بات مسلّم ہے کہ ’’سمجھوتہ دو سو‘‘ کے کوڈ نیم سے انجام پانے والی خفیہ کارروائی کا مقصد وسیع و عریض براعظم افریقہ کے باشندوں کی آبادی میں کمی اور نسل کشی کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔

٭٭٭ ایبولا…قاتل وائرس کی پاک افغان
سرحد پرموجودگی کی اشاعت

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں 4 اپریل 2001 ء میں ٹم بوچر کے مضمون میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’’ایبولا‘‘ وائرس پاکستان افغان سرحد پر موجود ہے۔ ٹم بوچر نے یہ رپورٹ کوئٹہ سے لکھی تھی۔

ڈاکٹر فریحہ عامر

Ebola Virus in West Africa