Thursday, September 3, 2015

مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی سے ایک کروڑ 37 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی نے ایک کروڑ 30 لاکھ بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے ’ایجوکیشن انڈر فائر‘ یا تعلیم پر حملہ‘ کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ شام، عراق، یمن اور لیبیا میں تقریباً نو ہزار سکول اس قابل نہیں رہے کہ وہاں درس و تدریس کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔
یونیسف نے اپنی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں سکولوں اور اساتذہ پر ہونے والے حملوں کے اعداد و شمار بھی اکٹھے کیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے میں یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر پیٹر سالاما نے کہا کہ ’پورے خطے میں بچوں پر لڑائی کے تباہ کن اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
’بظاہر سکولوں کی عمارتوں ہی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ یہ اثرات سکول جانے کی عمر والے بچوں کی پوری نسل میں محسوس کیے جا سکتے ہیں کیونکہ اُن کی اچھے مستقبل کی امیدوں کو ٹھیس پہنچی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام، عراق، یمن، لیبیا اور سوڈان میں ایک کروڑ 37 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے اور یہ تعداد سکول جانے والی عمر والے بچوں کی مجموعی تعداد کا 40 فیصد ہے۔ اقوام متحدہ کا خدشہ ہے کہ حالیہ کچھ ماہ میں یہ تعداد بڑھ کر 50 فیصد ہو جائے گی۔
یونیسف کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 کے دوران شام، عراق، لیبیا، فلسطین، سوڈان اور یمن میں 214 سکولوں پر حملے کیے گئے۔
مارچ 2011 سے شام میں ہر چار میں سے ایک سکول بند پڑا ہے اور تقریباً 20 لاکھ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’طالب علموں، اساتذہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا اغوا اور قتل اس خطے میں معمول کی بات ہے۔
’ہزاروں اساتذہ نے خوف کی وجہ سے ملازمت ترک کر دی ہے اور بچوں کو اکثر اپنے خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کی عدم فراہمی کی وجہ سے بچے کم عمری میں جنگجو بن رہے ہیں۔
یونیسف کے علاقائی سربراہ نے کہا کہ خطے میں تعلیم کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے یونیسف کو رواں سال اضافی 30 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔

زرداری اور الطاف کا دور ختم ہوا

آصف زرداری اپنے ’’وفاداروں‘‘ کی گرفتاری کو’’ انتقامی سیاست‘‘ سے منسوب کررہے ہیں حالانکہ ان سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ سیاسی حاکم کی ڈور ’’ڈوری والی سرکار‘‘ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جا رہاہے تو بلبلا اٹھے؟ حاکم وقت کو اپنی پڑی ہے وہ حریف کے خلاف انتقامی کارروائی کیوں کر کرے گا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں فرینڈلی اپوزیشن اور رومانس کی دنیا گواہ ہے۔ سب کے کھاتے کھل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھا جس میں تمام سیاستدانوں کو ایک جیل میں بند دکھایا اور لکھا گیا تھا ’’یہ ہے پاکستان کو بچانے کا واحد طریقہ‘‘ ہم نے غور سے تمام چہرے دیکھے مگر ان میں ایک بھی صحافی، بیوروکریٹ اورکاروباری آئیکون دکھائی نہیں دیا۔

 سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کا پروپیگنڈا روایتی ہو چکا ہے جبکہ کرپٹ بیوروکریٹس اور صحافیوں کے احتساب کے بغیر ملک صاف نہیں ہو سکتا۔ رپورٹروں، کالم نگاروں، اینکروں کے سامنے تمام ادارے پانی بھرتے ہیں۔ کاروباری آئیکون کی کرپشن کو خیراتی دیگوں اور مساجد کی تعمیر سے ’’پاک‘‘ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاستدانوں کے علاوہ بھی بہت سے مگر مچھ ہیں جنہوں نے اس ملک کو لہو لہان کر رکھا ہے۔ 

حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیئے پپٹ کردار بوقت ضرورت ’’دھرنا‘‘ دیتے ہیں۔ نواز شریف اور زرداری میں کبھی سیاسی مفاہمت ہوا کرتی تھی مگر اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سیاست میں کوئی کسی کا بھائی اور دوست نہیں ہوتا۔ بھٹو کو رات کی تاریکی میں پھانسی دے دی گئی اور جیالے خود سوزی کے سوا کچھ نہ کر سکے 
بے نظیر کو بھرے میلے میں گولی مار دی گئی، جیالے کھڑے منہ تکتے رہ گئے۔ زرداری کے پاس تو جیالے بھی نہیں، مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے، ٹولے کے سردار کی سیاست اب ختم ہوئی۔ کراچی صاف ہو رہا ہے، الطاف حسین بھی ماضی ہونے جا رہا ہے۔ عوام کے لئے سیانے کہہ گئے ہیں کہ ’’عقل بادام کھانے سے نہیں، دھوکہ کھانے سے آتی ہے‘‘۔ امید ہے عوام کو عقل آ گئی ہو گی البتہ عقل جب ماؤف ہو جائے تو بندہ زرداری اور الطاف حسین کی طرح اپنی ہی فوج کے خلاف اول فول بکنے لگتا ہے۔

 زرداری کا دور بھی یاد ہے جب آٹا لینے کے لئے چھ گھنٹے لمبی قطار میں لگے ایک شخص کو غصہ آ گیا اور بولا ’میں صدر کو گولی مار دوں گا، یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور دوبارہ قطار میں لگ گیا۔ کسی نے پوچھا ’کیوں کیا ہوا؟ مار دیا حکمرانوں کو؟ اس نے مایوسی سے جواب دیا ’نہیں یار وہاں تو اس سے بھی لمبی قطار لگی ہوئی ہے‘۔ آصف زرداری نے کہا تھا کہ ’’ہم نے شہیدوں کے خون پر حکومت بنائی ہے‘‘۔ بھٹو زندہ ہے‘ نعرہ کی حد تک ٹھیک ہے جبکہ بھٹو حقیقت میں زندہ ہوتے تو نہ زرداری ان کے داماد ہوتے اور نہ پارٹی کا یہ حال ہوتا۔ 

زرداری نے یہ بھی کہا ’’گڑھی خدا بخش پیپلز پارٹی کا کربلا ہے‘‘۔ یہ کیسی کربلا ہے جس کا یزید بھٹو کی بیٹی کو بھی ختم کر گیا مگر آج تک گمنام ہے؟ دنیا کا کوئی دوسرا مقام، مقام کربلا ہے اور نہ ہی کوئی شہید کربلا کے شہیدوں کی خاک کو چھو سکتا ہے۔ جمہوریت پیغمبری نہیں اور نہ سیاستدان معصوم ہیں کہ ان کی شان میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے۔ چوری اور کمزوری کو جب لفاظی کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی جائے تو وہ بے نقاب ہو نے لگتی ہے۔ زرداری اور الطاف خدا کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ اندھے گھوڑے جب اندھا دھند دوڑے چلے جاتے ہیں تو منہ کے بل گر تے ہیں۔ زرداری صاحب نے بہت بلنڈرز کئے مگر فوج اورسیاسی اتحادیوں نے ساتھ دیااور پانچ سال پورے کروائے۔

 الطاف حسین اور آصف علی زرداری نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ کبھی فوج کے حق میں بیان دیتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں، رازداروں کو مروا دیتے ہیں اور کبھی اپنی ہی زبان کاٹ لیتے ہیں، بوریاں سلواتے ہیں اور کبھی قبریں کھدواتے ہیں۔ فوج کا ڈنڈا نہ ہو تو یہ لوگ کب کا ملک بیچ چکے ہوتے۔ زرداری نے پانچ سال جنرل پرویز کیانی کے طفیل گزارے۔ میاں نواز شریف، سابق جنرل پرویز کیانی اور آصف زرداری کے سیاسی تعلقات مفاد پرستی پر قائم تھے جس کی وجہ سے زرداری پانچ سال پورے کر سکے۔

 وہ مت بھولیں کہ ان کا پانچ سالہ دور پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور کرپٹ ترین دور حکومت تھا۔ انہیں پانچ سال کرسی پر بٹھائے رکھنے والے فرینڈلی اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف اور فرینڈلی جرنیل پرویز کیانی تھے۔ ملک کچھ بہتری کی جانب گامزن ہونے لگا تو الطاف حسین اور آصف زرداری نے فوج مخالف خطابات شروع کر دیے۔ زرداری صاحب کو سب علم ہے کہ نواز حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں، حکومت تو اپنی باری کا سوچ کر پریشان ہے۔ 

کرپٹ اور غداران جس پارٹی میں بھی موجود ہیں، عنقریب پکڑے جائیں گے۔ جب تک پاکستان کے نمک حراموں کوکیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، اس ملک کو دہشت گردی اور کرپشن سے نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ کراچی کی روشنیوں کی بحالی کے بعد بلوچستان اور پنجاب میں امن بحال کرنا ناگزیر ہے جبکہ خیبر پختونخواہ کو ماڈل بنانے کی ذمہ داری عمران خان کو سونپ دی گئی ہے۔

طیبہ ضیاءچیمہ  


چین سے بھرپورمعاشی فائدہ اٹھانے کی ضرورت

پاکستان اور چین کے درمیان جس قدر گہری اور پرخلوص دوستی ہے اسکی دنیا میں شاید ہی کوئی مثال ہو۔ دونوں دوست ممالک نے اس دوستی کو اس بلند ترین مقام تک پہنچانے کیلئے ہمیشہ بڑی محبت اور خلوص کا مظاہرہ کیا ہے۔ چین پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے بے شمار منصوبوں میں تعاون کررہا ہے جس کی سب سے بڑی حالیہ مثال پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات 1949ءمیں چین کی آزادی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہوگئے جو آج کوہ ہمالیہ سے بھی زیادہ بلند اور مضبوط ہوچکے ہیں۔ کوئی بھی موقع ہوپاکستان اور چین نے ایک دوسرے کے موقف کی بھرپور حمایت کی اور کھل کر ساتھ دیا ہے۔

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع پیدا ہوا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑی ہوئیں۔ اُس وقت چین عالمی سطح پر تنہا کھڑا تھا لیکن پاکستان نے چین کا بھرپور ساتھ دیا جس کی وجہ سے پاک چین دوستانہ تعلقات زیادہ تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہوئے۔ اسی طرح 1965ءمیں جب بھارت نے کشمیر تنازع پر پاکستان کیخلاف جنگ چھیڑی تو چین پاکستان کے ساتھ آن کھڑا ہوا اور دونوں ممالک کی دوستی ایک مثالی دوستی میں تبدیل ہوگئی۔
ہمارے دوست ملک چین نے ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو نبھایا ہے۔ دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود چین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیلئے مدد کی۔ اسکے علاوہ ٹینک سازی اور طیارہ سازی سمیت اسلحہ سازی کی صنعت کو مستحکم کیا جس کی وجہ سے آج پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوچکا ہے۔ البتہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشی میدان میں ہم چین سے اُتنا زیادہ فائدہ نہیں اٹھاپائے جتنا اٹھاسکتے تھے۔
 
چین بھی پاکستان جیسا ملک تھا اور اُسکے معاشی مسائل بھی تقریباً ویسے ہی تھے جیسے کہ پاکستان کے لیکن اسکے بعد سے آج تک چین نے اس قدر تیزی سے ترقی کی ہے کہ ساری دنیا حیران و پریشان ہے۔ 1.37ارب آبادی والے چین کا جی ڈی پی 11.21ٹریلین ڈالر، برآمدات 2.343 ٹریلین ڈالر جبکہ ا مپورٹ 1.96ٹریلن ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ امریکہ سے لیکر افریقہ تک ہر جگہ مارکیٹیں چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں ۔

البتہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اور فوجی قیادت نے چین کے ساتھ تعلقات کو اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل کررکھا ہے جو کرنا بھی چاہیے کیونکہ چین پاکستان کی اقتصادی و معاشی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری کا جو معاہدہ طے پایا ہے وہ ان شاءاللہ ترقی و خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گا۔ چین سے بھرپور معاشی فائدہ اٹھانے کیلئے ہمارے اداروں کو بڑا اہم کردار نبھانا چاہیے جو کہ فی الحال نظر نہیں آرہا۔ مثال کے طور پر کچھ ہفتے قبل چین کے شہر ارمچی میں ہونےوالی نمائش یورایشیا میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ 

اس نمائش کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے سپانسر کیا تھا، ہینڈی کرافٹ، ماربل، جیولری، فرنیچر اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی تیس پاکستانی کمپنیوں نے اس میں سٹال لگائے لیکن وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں کیونکہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال خریداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسکی بنیادی وجہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے منصوبہ بندی کا فقدان تھاجبکہ اتھارٹی نے اس اہم ایونٹ کی تشہیر بھی نہیں کی۔

عموماً یہ ہوتا ہے کہ سٹال کی قیمت کا پچاس فیصد ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان دیتی ہے جبکہ بقیہ پچاس فیصد سٹال ہولڈر برداشت کرتا ہے۔ اس سال سٹال کی قیمت ایک لاکھ بتاکر پچاس ہزار روپے سٹال ہولڈرز سے لیے گئے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سٹال کی قیمت ہی پچاس ہزار روپے تھی۔

جب قومی ادارے تاجروں کے ساتھ یہ سلوک کریں تو چین کی مارکیٹ سے فائدہ کیسے اٹھایا جاسکتا ہے البتہ پاکستانی سفارتخانے نے بڑے اچھے تعاون کا مظاہرہ کیا، پاکستانی کمرشل قونصلر ڈاکٹر ارفع اقبال بیجنگ خود آئیں اور پاکستانی تاجروں کی حوصلہ افزائی کی۔ وہاں میری چائنہ کونسل فار پرموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ کے وینکی لین سے بڑے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی جس کے دوران دوطرفہ تجارتی امور اور پاک چین اکنامک کاریڈور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔ صرف وینکی لین ہی نہیں بلکہ جتنے بھی چینی تاجروں سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے پاکستان کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے دوطرفہ تجارت بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

 یہ بہت ضروری ہے کہ برآمدات کے حوالے سے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان جیسا اہم قومی ادارہ تاجروں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار نہ کرے بلکہ انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرے تاکہ یہ تاجر پاکستان کی بیرونی تجارت کو فروغ دینے اور ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ چین دنیا کی بہت بڑی معاشی قوت ہے اور خوش قسمتی سے نہ صرف ہمارا ہمسایہ بلکہ بہترین دوست اور پاکستان سے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اگر ہم چین کی دوستی اور طاقت سے فائدہ نہ اٹھاسکے تو ہم بہت ہی بدقسمت ہونگے۔

  سید محمود غزنوی


Wednesday, September 2, 2015

آئس لینڈ کے باشندوں کی شامی پناہ گزینوں کو اپنے گھروں میں رکھنے کی پیشکش

 ایک جانب یورپ کے کئی ممالک افریقا اور ایشیا سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو اپنی سرزمین میں رکھنے کے لئے تیار نہیں وہیں یورپی ملک آئس لینڈ کے ہزاروں خاندانوں نے شامی پناہ گزینوں کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے ہیں۔

آئس لینڈ کی حکومت کی جانب سے ہر سال 50 غیر قانونی تارکین کو پناہ دیئے جانے کے بیان کے بعد آئس لینڈ کے ایک ادیب برائنڈس جارگندوتی نے ایک فیس بک پیج تیار کیا ہے جس میں شام سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کی اپیل کی گئی ہے، فیس بک پیج پر ہزاروں افراد نے غیر قانونی تارکین کو غذا، رہائش، کپڑوں اور تعلیم فراہم کرنے کے وعدے کئے ہیں۔
فیس بک پیج پر ایک خاتون نے لکھا کہ وہ اپنے چھ سالہ بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں اور ایک ضرورت مند بچے کو گود لینے پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گھر میں خوراک، کپڑے اور رہائش کا کمرہ موجود ہے اور وہ ہوائی جہاز کے سفر کا ٹکٹ دینے پر بھی تیار ہیں اور بچے کو آئس لینڈ کے معاشرے سے آگاہ کرنے کے لیے اسے ملکی زبان بھی سکھائیں گی۔

یہ عوامی ردِ عمل شام میں انسانی بحران کے بعد دیکھنے میں آیا ہے اور اس کے بعد ملک کے وزیرِ اعظم سگمندور ڈیوڈ نے اس معاملے پر وزرا کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور مزید شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم نے ملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ بین الاقوامی سیاست میں ہم ہرممکن مدد کو تیار ہیں اور یہ معاملہ اس وقت سرِفہرست ہے۔
شام میں گزشتہ چار سال سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں اور 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس سال شام سے فرار ہوکر بذریعہ کشتی ہزاروں افراد نے یورپ جانے کے لیے سمندر کا پُرخطر راستہ اختیار کیا جس میں اب تک بچوں اور خواتین سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔