Monday, July 6, 2015

People visit the beach, during a hot summer's day in Karachi

People visit the beach, during a hot summer's day in Karachi, Pakistan.

پکا قلعہ: مضبوط ماضی، خستہ حال

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعے کی باقیات موجود ہیں۔ کبھی اس کی شان و شوکت کے چرچے ہر جگہ ہوا کرتے تھے۔آج اس شان و شوکت کا صرف کچھ حصہ ہی باقی بچا ہے۔ ہاں ایک دیو ہیکل دروازہ اب بھی موجود ہے، اور اپنی خستہ حالی کی دہائی دیتا نظر آتا ہے۔ پکے قلعے کی کہانی ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں موجود ہیں۔ قلعے کی باقیات اب بھی اس کے شاندار ماضی سے لے کر اس کی موجودہ حالت ِزار کی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ خدا آباد میں مسلسل آنے والے سیلابوں نے سندھ کے حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو کو تنگ کر کے رکھ دیا تھا۔

بالآخر 1760ء کی دہائی کے اختتام میں انہوں نے خدا آباد کو خدا حافظ کہنے، اور اپنا دارالحکومت کسی نئے دیار میں بسانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے نیا دارالحکومت گنج یا گنجو نامی ایک پہاڑی پر قائم ماہی گیروں کے ایک قدیم گاؤں کے کھنڈرات پر بسانے کا ارادہ کیا۔ مقامی زبان میں گنجو کے معانی بنجر کے ہیں۔ یہ قدیم گاؤں جسے کبھی نیرون یا نیرون کوٹ بھی کہا جاتا تھا، کی تاریخ موریہ عہد (185-322 قبل مسیح) جتنی پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہاڑی پر قائم اس قلعے کی تعمیر دیوان گدومل کی زیر نگرانی ہوئی تھی، جو کہ ایک قابل درباری تھے۔ اس کام کے لیے انہیں میاں غلام شاہ کلہوڑو کی جانب سے دو کشتیاں بھر کر سرمایہ دیا گیا تھا۔ وہ اس کی تعمیر کے دوران یہیں مقیم رہے، جو کہ 1768ء میں مکمل ہوئی۔ 
اس عظیم الشان قلعے کی تعمیر میں پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اسے سندھی میں پکو قلعو اور اُردو میں پکا قلعہ کہا جاتا ہے۔یہ قلعہ میاں غلام شاہ کلہوڑو کا پایہ تخت تھا ،جہاں سے وہ اپنے نئے دارالحکومت حیدرآباد کا ارتقا دیکھ سکتے تھے۔ صرف کچھ سالوں بعد 1771-72ء میں ان کی اچانک وفات کے بعد کلہوڑا دور کی تنزلی کا آغاز ہوا۔ بلوچ سرداروں کے قتل، اور علاقے میں عدم اعتماد کی فضا پھیلنے کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک بلوچ قبیلے تالپور اور کلہوڑوں کے بیچ 1782ء میں ہالانی کی جنگ لڑی گئی۔ تالپوروں کی قیادت میر فتح علی خان تالپور نے کی تھی، اور ان ہی کی قیادت میں کلہوڑو دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا۔جنگِ ہالانی کے بعد تالپوروں نے دارالحکومت واپس خداآباد منتقل کیا، لیکن میر فتح علی خان تالپور کے دور حکومت میں ہی دریائے سندھ کے تبدیل ہوتے ہوئے بہاؤ کی وجہ سے دارالحکومت واپس حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ 

ان ہی کے دورِ حکومت میں قلعے نے شان و شوکت کی بلندیاں دیکھیں۔ نئی عمارتیں تعمیر کرائی گئیں، پرانی عمارتوں کی مرمت کی گئی۔ میر حرم، جو کہ اب بھی موجود ہے، میر فتح کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آنے والے تالپور حکمرانوں نے بھی قلعے میں کئی عمارتوں اور دیگر اسٹرکچرز کا اضافہ کیا۔ 1848 ء میں شائع ہونے والی کتابScenes in a Soldier's Life میں مصنف جے ایچ ڈبلیو ہال قلعے کی منظرکشی ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’قلعے کی دیواریں اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ہیں اور بے حد موٹی ہیں۔ یہ تقریباً آدھے اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے، اور اس میں 1800ء کے قریب رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے زیادہ تر سندھ کے امرا کے محلات ہیں۔ اس کے اندر ایک بلند و بالا مینار بھی ہے، جس میں اوپر تک پہنچنے کے لیے 76 زینے ہیں
جہاں پر فارسی ساخت کی 84 پاؤنڈ والی چار توپیں موجود ہیں‘‘۔مدراس کے گھڑ سوار دستے کے ایڈورڈ آرچر لینگلے اپنی کتابNarrative of a Residence at the Court of Meer Ali Mooradمیں لکھتے ہیں ’’قلعہ اور فصیل کافی بلند ہیں، یہاں سے پورے شہر پر نظر رکھی جاسکتی ہے، جبکہ دریا سے یہاں کا نظارہ بالکل کسی تصویر کی مانند خوب صورت ہے‘‘۔ لینگلے نے جس دریا کا ذکر کیا ہے وہ دریائے سندھ ہے جو کسی زمانے میں شہر میں سے ہو کر بہتا تھا۔تاریخوں میں ملتا ہے کہ یہ قلعہ کبھی باغات، بڑے محلات، درباروں اور دیگر خوبصورت تعمیرات سے بھرا ہوا تھا۔ 33 ایکڑ پر قائم یہ قلعہ کسی عجوبے سے کم نہیں تھا، لیکن اس کی تنزلی کا دور 1843ء میں شروع ہوا، جب چارلس نیپیئر کی سربراہی میں برطانوی فوج اور میر تالپوروں کے درمیان جنگ ہوئی۔ 

جنگ میں برطانیہ کو فتح بھی حاصل ہوئی، اور سندھ کی حکمرانی بھی۔ جنگ کے دوران قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ برطانوی فوج اس معاملے میں کافی بے رحم تھی اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ زیادہ تر عمارتیں منہدم کردی جائیں، جو عمارتیں باقی بچ گئیں، وہ برطانوی افسران کے لیے آفسوں کا کام دینے لگیں۔ گیٹ کے قریب کا حصہ بعد میں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ قلعے میں قائم میناروں کو بھی گرا دیا گیا تاکہ بعد میں ہونے والی کسی بغاوت میں ان کا استعمال نہ کیا جاسکے۔1947ء میں تقسیم کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث حکام نے قلعے کو عارضی طور پر کیمپ میں تبدیل کردیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عارضی کیمپ ایک بے ہنگم قصبے جیسی اپنی موجودہ حالت اختیار کرتا گیا۔ 

لوگوں کی جانب سے قلعے پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات بھی مسائل میں سے ایک ہیں۔ حکومت کی جانب سے 90 کی دہائی میں کی جانے والی کوششوں کے باوجود لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں، حالانکہ اس میں رہنا اب کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں ہے۔ نکاسی آب کا کوئی مناسب انتظام بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ روز بروز خستہ حالی کی جانب مائل ہے۔ قلعہ اصل میں بیضوی شکل کا تھا اور اب اس کا بہت کم حصہ ہی اپنی اصل حالت میں برقرار ہے۔ اس کا مغربی دروازہ شاہی بازار کی جانب کھلتا ہے، لیکن اب انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ تھوڑا سا چلیں اور بائیں جانب مڑیں، تو کچھ قدم اور چلنے کے بعد میر حرم ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک بڑی عمارت ہے جو کبھی تالپوروں کے زیر استعمال ہوا کرتی تھی اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

 دیوار کے اوپر نقش و نگار بنائے گئے تھے جو ماہ و سال کی سختیوں کی وجہ سے تقریباً مٹ چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ میوزیم سے وقت کے ساتھ ساتھ کئی نوادرات چوری ہوچکے ہیں، جبکہ محکمہ آثارِ قدیمہ کا یہاں موجود کیش بھی چرا لیا گیا ہے۔ میر حرم کے سامنے ایک آفس بلڈنگ ہے، جو کہ اب حکومت کے زیرِ استعمال ہے۔ میر حرم کے ساتھ ہی بائیں جانب لکڑی کا ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اس پورے دروازے پر لوہے کی سیخیں جڑی ہوئی ہیں۔ قلعے کی باقی رہ جانے والی تعمیرات میں سے ایک ایسی چیز بھی ہے، جس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ 

یہ قلعے کی مشرقی جانب کچھ تنگ گلیوں میں سے گزرنے کے بعد سامنے ایک دروازہ موجود ہے، اور اس کے سامنے کچھ زینے ہیں۔ یہاں پر ایک نمایاں قبر موجود ہے اور کچھ سرنگیں بھی ہیں۔ایک مقامی شخص نے مجھے بتایا کہ نشے کے عادی افراد کی جانب سے سرنگوں کے استعمال کے بعد ان کو لوگوں نے سیل کردیا ہے۔ سرنگیں کہاں جاتی ہیں؟ اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔اس کے بائیں جانب خیمے نماں اسٹرکچر ہے جو کہ کبھی شاہی اصطبل ہوا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

 اب یہ انتہائی خراب حالت میں ہے اور اب اس میں موجود کچرے کے ڈھیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا استعمال کچرہ کنڈی کے طور پر کیا جارہا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک تاریخی عمارت اس حالت کو جاپہنچی ہے۔ اس کی دیواریں آہستہ آہستہ گر رہی ہیں جبکہ لوگ اس کے اندر اور اس کی دیواروں کے سائے تلے اب بھی رہائش پذیر ہیں۔ کاش میں اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید ہوسکتا،جو تباہ ہوچکا ہے اسے تو واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن جو ہے اسے بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ورنہ ایک اور قدیم ورثہ صفحہ ہستی سے مٹ کر صرف کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گا۔
  
ذیشان احمد

جوڈیشل کمیشن کی انتالیس سماعتیں



Sunday, July 5, 2015

کچی آبادیوں کے مکانات موت کا جال بن جاتے ہیں

  فریدہ بی بی آٹھ بچوں کی ماں ہیں اور نارتھ کراچی کی ایک کچی آبادی میں ایک کمرے کے مکان میں رہتی ہیں۔
پچھلے ہفتے ان کے سُسر 70 سالہ یوسف علی شدید گرمی کی وجہ سے دم توڑ گئے۔
’پہلے انہیں بخار چڑھا، ٹنکی میں پانی گرم تھا۔انہوں نے گرم پانی سے ہی نہا لیا اور اوپر جا کے سوگئے، پھر بچوں نے جا کے دیکھا تو وہ اپنی حالت میں ہی نہیں تھے۔
فریدہ نے بتایا کہ ان کے سُسر کو ہسپتال میں داخل کیا گیا مگر اگلے دن انہوں نے دم توڑ دیا۔

کراچی میں حکام کے مطابق پچھلے دنوں شدید گرمی کے باعث ساڑھے 12 سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور اب تک یہ سوال کیا جا رہا کہ چند دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں انسانی اموات کیسے ہوگئیں؟
جہاں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور صحت کی نامناسب سہولیات کو اموات میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا جا رہا ہے وہیں صحت کے حکام اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا ایک سبب کراچی کی بہت بڑی آبادی کا طرز رہائش بھی ہے۔
فریدہ کے شوہر سلیم بے روزگار ہیں اور وہ دوسروں کے گھروں پر کام کاج کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔ جس بستی میں رہتی ہیں وہ چونکہ غیرقانونی طور پر آباد ہوئی ہے اس لیے وہاں نہ بجلی ہے نہ پانی۔ ایسے میں شدت کی گرمی نے قیامت ڈھا دی۔

’بجلی بالکل بھی نہیں ہوتی ہے یہاں اور گرمی اتنی ہوتی ہے کہ یہ دیکھو ہم سارا دن بچوں کو ننگا رکھتے ہیں۔ باہر بھی لال بیگ گھوم رہے ہوتے ہیں، گٹروں کی بدبو آتی ہے۔ نہ باہر سکون ہے نہ گھر میں سکون ہے۔ ساری رات ایسے ٹہل ٹہل کے گزارتے ہیں کبھی روڈ پہ جاتے ہیں کہ یہاں سے ہوا لگے تو کبھی میدان میں جاتے ہیں کہ وہاں سے ہوا لگے۔‘
حکومت سندھ کے مطابق 21 سے 30 جون کے درمیان شدید گرمی سے متاثرہ 65 ہزار سے زیادہ لوگ کراچی کے ہسپتالوں میں لائے گئے جن میں سے 1250 سے زیادہ ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں واقع جناح ہسپتال پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔ جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی نگراں ڈاکٹر سیمیں جمالی نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں میں گرمی سے متاثرہ پونے چار سو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 40 فیصد سے زیادہ لوگ مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے مگر بیشتر افراد میں ایک چیز یکساں تھی۔

’ان میں زیادہ تر ایسے لوگ تھے جو بڑی عمر کے تھے جنہیں مختلف عارضے لاحق تھے اور یہ زیادہ تر کم آمدنی والے لوگ تھے جو چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے، گنجان آباد تنگ علاقوں میں رہنے والے لوگ۔ یہ ایسے لوگ نہیں تھے کہ جو بڑی بڑی عمارتوں یا کھلے علاقوں میں رہتے ہوں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کراچی کی نصف آبادی، لگ بھگ ایک کروڑ لوگ، بغیر منصوبہ بندی کے بننے والی تنگ گلیوں اور چھوٹے چھوٹے مکانوں پر مشتمل بستیوں میں رہتی ہے۔

کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے آرکٹکچر اینڈ پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نعمان احمد کہتے ہیں کہ شہر میں کچی آبادیاں تو نئی بات نہیں مگر آبادی کے مسلسل دباؤ نے ان بستیوں میں ایک نئے رجحان کو جنم دیا ہے۔
’شروع میں جب یہ آبادیاں قائم ہوئی تھیں تو ان میں ایک گراؤنڈ سٹوری مکانات تھے لیکن جیسے جیسے آبادی کا دباؤ بڑھا تو پھر انہی مکانات پر کئی کئی منزلہ عمارتیں بنیں۔

انہوں نے بتایا کہ 45 سے 60 مربع گز کی جگہ پر کئی کئی منزلہ عمارتیں بن گئی ہیں جن میں ہر منزل پر ایک کمرہ اور اس کے ساتھ باتھ روم اور کچن ہوتا ہے۔
’اور اس میں اوسطاً آٹھ سے بارہ لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں اور ان عمارتوں کی تعمیر میں چونکہ کسی بھی قسم کے تعمیراتی معیار اور ضابطوں کا خیال نہیں رکھا جاتا لہذٰا اس کے جو اندرونی رہائشی حالات ہوتے ہیں وہ بہت ہی ناگفتہ بہ ہوتے ہیں۔ شدید گرمی میں جب نہ ہوا ہو نہ بجلی تو یہ مکانات موت کے جال بن جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر نعمان احمد نے کہا کہ شہر کی آبادی میں اضافہ زیادہ تر کم آمدنی والے طبقات میں ہو رہا ہے اس لیے موسم کی شدت یا دوسری قدرتی آفات سے ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے پرانی اور نئی کچی آبادیوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

’اور نئی آبادیاں جو بن رہی ہیں جو شہر کے مضافاتی علاقوں میں ہیں وہاں پر بھی اب یہ مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بات کا اندازہ لگائیں کہ کم آمدنی والے طبقات کی رہائشی ضروریات کو ہم بہتر انداز میں کیسے پورا کر سکتے ہیں اور کیسے ان کے لیے ایسی سہولتیں پیدا کر سکتے ہیں جس سے ان کے رہنے کا ماحول سازگار ہو سکے۔

گرمی پر تو کسی کا زور نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا سینکڑوں افراد کی موت کے بعد حکومت نے یہ سوچنا شروع کیا ہے کہ کراچی کے غریب علاقوں کو بنیادی سہولتوں اور شہر میں نئی بستیوں کی تعمیر کو منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی