Saturday, February 21, 2015

تھرکوئلہ کے بجلی کے منصوبے۔ محفوظ پاکستان کے ضامن....


یہ درست ہے کہ سندھ حکومت کی انتظامی نا اہلی کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ حال ہی میں ذوالفقار مرز اکے الزامات کی بوچھاڑ نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا یا ہے۔ ذوالفقار مرزا پہلے آدمی نہیں ہیں جنہوں نے سندھ حکومت کی کرپشن اور نا اہلی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سندھ حکومت کو کون کون سے بڑے سرمایہ کار و کاروباری حضرات اپنی جیب میں لیکر گھومتے ہیں ۔یہ داستانیں بھی زبان زد عام ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی حال ہی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی میٹنگز میں سندھ حکومت کی انتظامی نا اہلی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
 
وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اسی حوالے سے میڈیاء میں شدید تنقید کا نشانہ رہتے ہیں۔ تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے اختلافات بھی سندھ حکومت کی کارکردگی کے حوالہ سے ہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلاول کہہ رہے ہیں کہ تجارت بند کر کے عوامی سیاست کی جائے۔ سندھ حکومت کی کارکردگی بہتر کی جائے۔ لیکن فی الحال ان کی بات سنی نہیں جا رہی ۔ اسی لئے وہ خود ساختہ جلاء وطنی گزار رہے ہیں۔ اور وطن واپس نہیں آرہے۔ تھر کے حوالہ سے روزانہ میڈیاء میں آنے والی خبریں بھی پیپلز پارٹی سندھ کے انداز حکومت کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود تھر حکومت سندھ کے چہرہ کا بیک وقت بد نماء داغ بھی ہے اور ماتھے کا جھومر بھی ہے۔ قحط۔ پانی کی کمی۔ تھر کی پہچان ہے۔ روزانہ تھر میں نوزائیدہ بچوں کی خواراک کی کمی کی وجہ سے موت کی خبریں۔ ہمیں یہ باور کرواتی ہیں کہ تھر میں موت کا ننگا ناچ جاری ہے اور سندھ حکومت کی بے حسی بھی عروج پر ہے۔ صحت کی سہولیات کی کمی۔ بنیادی ضروریات زندگی تھر میں نا یاب ہیں۔ گو کہ تھر میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لئے بڑے پراجیکٹس بنائے جا رہے ہیں ۔ لیکن اس ضمن میں جس قدر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے وہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ 

اور بچوں کی موت کی خبروں پر بے پرواہی سندھ میں پیپلز پارٹی کے انداز حکومت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ تھر ہی پاکستان کی امید ۔ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے تو لگتا ہے کہ جھوٹ ہے۔ لیکن ایسا ہی ہے۔ تھر میں موجود کوئلہ کے ذخائر پاکستان کی قسمت بدلنے کی بنیاد بن رہے ہیں۔ تھر میں موجودہ کوئلہ کے ذخائر سے بجلی کے دو بڑے منصوبے بھی بنیادی مراحل سے عملی مراحل میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ جو پاکستان میں نہ صرف توانائی بحران کو ختم کرنے میں مدد دیں گے بلکہ سستی توانائی کے حصول میں بھی اہم پیش رفت ہونگے۔ مقامی کوئلہ سے بجلی بنانے سے نہ صرف زر مبادلہ کی بچت ہو گی بلکہ اس سے ملک میں انرجی سیکیورٹی میں بھی اضافہ ہو گا۔

یہ کریڈت سندھ حکومت کو ضرور دیا جا سکتا ہے کہ اس نے تھر کوئلہ سے بجلی بنانے کے منصوبوں کو سیاست کی نذر نہیں ہو نے دیا۔ بلکہ سندھ حکومت اور مرکزی حکومت نے اس ضمن میں بے مثال ہم آہنگی کا ثبوت دیا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم میاں نوازشریف نے مشترکہ طور پر تھر میں کوئلہ نکالنے کے منصوبوں کا افتتاح کیا۔ جس کے بعد چین نے بھی تھر کوئلہ کے انرجی منصوبوں کو ترجیحی منصوبوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ پہلے مرحلہ میں تھر میں بجلی بنانے کے دو پلانٹ لگانے کے لئے چین سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس حوالہ سے کچھ حلقے یہ سازش کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ دو کی بجائے ایک پلانٹ لگا یا جائے ۔ 

لیکن بات سمجھنے کی ہے کہ دو پلانٹ ہی تھر کوئلہ سے بجلی بنانے کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ ایک پلانٹ بیرونی قوتوں کی سازش کا نشانہ بھی بن سکتا ہے۔ حال ہی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو بریف کیس پکڑے سرمایہ کار اقتدار کے ایوانوں کے چکر لگاتے نظر آئے کہ تھر کے مقامی کوئلہ کے ایک منصوبہ کو ختم کر کے امپورٹڈ کوئلہ کا ایک منصوبہ لگا لیا جائے۔ انہوں نے یہ دلیل دینی شروع کر دی کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے سے امپورٹڈ کوئلہ کی قیمت بھی کم ہوگئی ہے ۔ 

لیکن کوئی ان سے یہ پوچھنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ جائیں گی تو امپورٹڈ کوئلہ سے بجلی بھی مہنگی ہو جائے گی۔ جبکہ مقامی کوئلہ پاکستان میں انرجی سیکیورٹی کی بنیاد ہو گا۔ تا ہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت کہ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے اور اس نے بھی پاکستان میں انرجی بحران اور اس کے حل کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں تھر کوئلہ سے بجلی منصوبوں کو پاکستان کے محفوظ مستقبل کے لئے نہایت اہم قرار دیا ہے۔

تھر کوئلہ سے بجلی منصوبوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ جیسے کہ اس سے قبل کا لا باغ ڈیم سمیت دیگر بڑے منصوبوں پر ہوئی ہیں۔ منصوبہ کو متنازعہ بنانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ دو میں سے ایک منصوبہ کو ڈراپ کر کے امپورٹڈ کو ئلہ سے ایک منصوبہ لگانے کی سازش بھی ہو رہی ہے۔ لیکن تھر میں بجلی کے دو منصوبے ہی پاکستان میں انرجی سیکیورٹی کے ضامن ہیں۔

 اس ضمن میں ابھی تک سندھ اور مرکزی قدم ہم آہنگ ہیں جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ لیکن اس پر ثابت قدم رہنے کی کوشش ہے۔ ہمارے اپنے کوئلہ سے بننے والی بجلی پاکستان کو آئندہ کئی سال تک انرجی سیکیورٹی فراہم کرے گی۔ ان منصوبوں کے خلاف سازش کو پاکستان کے خلاف ساز ش سمجھا جائے۔ ہمیں یہ باور کروانا ہو گا کہ تھر کے ان بجلی منصوبوں کے مخالف پاکستان کے دوست نہیں ہیں۔

مزمل سہر وردی

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی...



فروری کو رحیم یار خان پیپلزپارٹی کے رابطہ کار چودھری جاوید اقبال وڑائچ کے مکان پر اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید احمد شاہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے قومی مفاد کے حصول میں ناکام ہو گئی ہے لہٰذا اس میں تبدیلی لانے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس منعقد کی جانی چاہیے۔ 16 فروری کے انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے صفحہ اول پر دو کالمی سرخی میں شاہ صاحب کا بیان بڑے نمایاں طور پر شائع کیا گیا تھا لہٰذا قارئین کو تجسس ہوا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیونکر ناکام ہوئی لیکن خبر کا پورا متن پڑھنے کے بعد صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ پی پی کے رہنما کا خاص ہدف بیچارے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی تھے جن کی تقرری پر موصوف کو شدید اعتراض ہے ان کا کہنا ہے کہ آخر کل وقتی وزیر خارجہ کا تقرر کیوں نہیں کیاجاتا؟ 

شاہ صاحب حزب اختلاف کے رہنما ضرور ہیں اس لیے انہیں ہر ملکی اور غیر ملکی مسئلہ پر اظہار خیال کا حق پہنچتا ہے لیکن اتنے ذمہ دار شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ ذاتیات اور پارٹی بندی سے بلند ہو کر داخلی و خارجہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی جائے ، ان کے بیان سے کسی طرح یہ مترشح نہیں ہوتا کہ آخر خارجہ پالیسی میں کیا سقم ہے جس کا ازالہ ضروری ہے نیز یہ کہ نواز حکومت کی خارجہ پالیسی زرداری کی خارجہ پالیسی سے کتنی مختلف ہے، اس ضمن میں شاہ صاحب کا بیان مایوس کن ہے۔
یہ کہنا کہ موجودہ کابینہ میں کل وقتی وزیر خارجہ کا قیام لازمی ہے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیا بھٹو حکومت میں کوئی کل وقتی وزیر خارجہ تھا؟ البتہ ایک متنازع سرکاری اہلکار عزیز احمد کو وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنا دیا گیا تھا جبکہ خارجہ پالیسی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو وضع کرتے تھے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی جانبدارانہ پالیسی میں توازن پیدا کر کے اسے بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ کیا۔ یاد رہے کہ انہوں نے مشرقی یورپ کی اس وقت کی کمیونسٹ حکومتوں اور ویتنام سے پاکستان کے سیاسی و سفارتی تعلقات استوار کیے ساتھ ہی 1974ء میں اسلامی ممالک کی کانفرنس منعقد کر کے کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق خود اختیاری کی بحالی کو علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

اگر برصغیر کی سطح پر دیکھا جائے تو بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے اپنے دورِ اقتدار میں کوئی وزیر خارجہ نہیں مقرر کیا بلکہ یہ قلمدان خود اپنے پاس رکھا۔ ایسی کئی مثالیں دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ شاہ صاحب کو سرتاج عزیز اور طارق فاطمی پر کیا اعتراض ہے؟

سرتاج عزیز انتہائی لائق اور منجھے ہوئے ٹیکنو کریٹ ہیں۔ اسی طرح طارق فاطمی صاحب پاکستان کی خارجہ ملازمت Foreign Service کے سند یافتہ اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جن کی علاقائی اور عالمی امور پر گہری نظر ہے اور شاہ صاحب وزیراعظم نواز شریف کو کیا سمجھتے ہیں ان میں کس چیز کی کمی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ سے لے کر تین بار وزارت عظمیٰ پر مامور رہ چکے ہیں اور اسلامی ممالک میں ان کی بڑی ساکھ ہے جبکہ وہ کاروباری دنیا میں بھی معزز مقام رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب بتائیں کہ زرداری، گیلانی، اشرف ٹولے نے خارجہ پالیسی میں کیا تیر مارا تھا؟ 

ان کے امور خارجہ کے کارناموں میں سلالہ چوکی پر تعینات پاکستان کے فوجیوں پر امریکہ کا قاتلانہ حملہ، کارگل فوجی اکادمی کے نزدیک بلال ٹاؤن میں واقع اسامہ بن لادن کی مبینہ رہائش گاہ پر امریکی فضائی حملے اور زرداری کی امریکہ کو مبارکباد، افواج پاکستان کو ملک کی سیاست میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے امریکی فوج کی مبینہ کارروائی اور بیرون ملک بینکوں میں پاکستان کی لوٹی اور چرائی ہوئی دولت کے خفیہ کھاتوں کا تحفظ۔ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے تابع کرنے جیسے اقدامات وغیرہ جیسے شرمناک سکینڈل شامل ہیں۔

شاہ صاحب کو امور خارجہ کا ذرا کم ہی ادراک معلوم ہوتا ہے جبھی تو بے تکی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین جغرافیائی محل وقوع ، تاریخی پس منظر ، اقتصادی اور دفاعی ضروریات جیسے عوامل اور زمینی حقائق کرتے ہیں اور یہ روز روز نہیں بدلتے البتہ فروعی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اگر ملک کی داخلی پالیسی استحکام، امن و امان، اقتصادی خود کفالت پر مبنی ہو تو وہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 ویسے اقتصادی خود کفالت کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ ترقی کے ثمرات ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوں جبکہ عوام دانے دانے کو ترس رہے ہوں۔ اگر ملک کی 70 فیصد آبادی زراعت پیشہ ہے تو کسانوں میں زرعی اراضی کی منصفانہ تقسیم لازمی ہے ورنہ ملک میں غربت اور جرائم ڈیرے ڈال دیں گے۔ اسی طرح اگر بنیادی صنعت پر ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری ہے تو منافع خوری، زخیرہ اندوزی، اشیائے صرف کی مصنوعی قلت و گرانی جیسی سماجی برائیاں عام ہو جائیں گی۔ مثال کے طور پر ملک میں گنے کی وافر کاشت ہوتی ہے لیکن مل مالکان کاشتکار کو حکومت کی متعین کردہ گنے کی قیمت بھی ادا نہیں کرتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر چینی بنانے والے کارخانے سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی ملکیت ہیں جو گھوم پھر کر برسراقتدار ہو جاتے ہیں جبکہ منافع خور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے کھلے عام منافع خوری کرتے ہیں جنہیں رشوت خور افسران کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کی قلت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ویسے تو یہ ملک کا اندرونی مسئلہ ہے لیکن ملک کی آبادی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے خوراک درآمد کرنی پڑتی ہے۔ جس کے باعث ملک دوسرے ملک کا دستنگر ہو جاتا ہے۔

اسی طرح جب مالی میزان خسارے کا شکار ہو جاتا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے IMF سے قرض لینا پڑتا ہے اور بڑی طاقتیں مقروض ریاست پر کڑی شرائط عائد کرتی ہیں جس سے اس کا اقتدار اعلیٰ مجروح ہوتا ہے۔ پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ ہر حکومت خود کفالت کی بجائے بیرونی قرضہ جات پر انحصار کرتی رہی ہے بالخصوص پی پی اور مسلم لیگ کی منتخب حکومتیں۔ کیا خورشید احمد شاہ یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کی حکومت نے اپنے دوبارہ برسر اقتدار آنے پر ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟ جہاں تک نواز شریف کی حکومت کا تعلق ہے تو انہوں نے قرض اتارنے اور ملک کو سنوارنے کا نعرہ تو لگایا یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنے عزم پر ثابت قدم نہیں رہے۔

اگر نواز حکومت کی کوتاہیوں کے ساتھ ان کے مثبت اور تعمیری اقدام کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہو گی۔ نواز حکومت نے فوج کے سربراہ کے ساتھ مل کر اندرون ملک برپا دہشت گردی کے انسداد کے لیے لائحہ عمل نہ صرف تیار کیا بلکہ اس کو عملی جامہ پہنایا۔جس دن اوباما بھارت میں نریندر مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہے تھے اسی دن پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف چین کی عسکری اور سیاسی قیادت سے تعلقات میں وسعت پیدا کر رہے تھے جس کا اظہار عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اور اس سے دفاعی، تزویراتی ، سیاسی اور اقتصادی روابط سے ہوتا ہے۔

 افغانستان میں بھارت اور امریکہ کے تسلط کے خلاف عوامی جمہوریہ چین نے افغانستان میں طالبان اور اشرف غنی جنتا میں مفاہمت کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں جبکہ اس عمل میں پاکستان کی شرکت کو ناگزیر قرار دیا۔ چین نے افغانستان میں تانبے کی نکاسی اور آب پاشی اور پن بجلی کے منصوبے میں امداد کی پیشکش کر کے بھارت کی اجارہ داری کو چیلنج کر دیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اوباما کو صاف کہہ دیا کہ پاکستان کو سلامتی کونسل میں بھارت کی رکنیت ہرگز قابل قبول نہ ہو گی جس پر اوباما نے نواز شریف سے ملاقات کی درخواست کی۔ اب جلد ہی چین کی شراکت اور امداد سے کاشغر اور گوادر شاہراہ کے علاوہ ریلوے ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے۔

اس کے برعکس زرداری ٹولے نے پاکستان میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی آمد کے موقع پر یادداشت اور مفاہمت کو معاہدوں کی شکل نہ دے کر روسی صدر کو اپنا دورہ مبینہ طور پر منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اگر خورشید احمد شاہ نواز حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انہیں باقاعدہ اپنی تجاویز پیش کرنی چاہیے۔

پروفیسر شمیم اختر
"بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات

Wednesday, February 18, 2015

’’ظالم‘‘ میڈیا سے وزیراعظم کے شکوے.....


سوال جواب کے سلسلے سمیت وزیراعظم نواز شریف کے سی پی این ای میٹنگ میں خطاب کے جلوے اسی میڈیا کے ذریعے پوری قوم نے براہ راست دیکھے جس میڈیا کے ساتھ وہ عدم تعاون کا شکوہ کر رہے تھے۔ یہ میڈیا بھی کتنا ظالم ہے کہ جس کی لاٹھی، گولی، گیس کھاتا ہے اس کی دشنام طرازیوں سمیت ایک ایک لفظ عوام کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے، جس کے انقلابی اور تحریکی جلوسوں میں دھکے کھاتا بے عزت ہوتا ہے اس کی ہر بات بھی عوام تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور جس کی گھنٹوں پر محیط دھاڑوں سے خود کو بھی غیر محفوظ سمجھتا ہے اس کی ترنگ والی ہر ’’ادا‘‘ کی قوم کو جھلک دکھانا بھی اپنے فرائض منصبی کی مجبوری بنا لیتا ہے۔ جس میڈیا پر ان کا قہر ٹوٹتا ہے وہی میڈیا سیاسی بازار میں ان کے گھٹیا، خام اور غیر معیاری مال کے بھی بڑے دام لگانے اور وصول کرنے میں معاون بنتا ہے۔

جناب! آپ کو میڈیا سے تعاون حاصل کرنے کی بھلا ضرورت ہی کہاں پڑتی ہے کہ رطب اللسانوں کے غول کے غول آپ کے قدم ناپتے آپ کی کوتاہیوں کو بھی اچھا بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ جب آپ کی اس ’’ذرہ بکتر‘‘ میں آپ کی ناکردنیوں کے جواز میں بھی بھونڈی دلیلوں کے ہتھیار استعمال کر کے قوم کو سب اچھا پر قائل کرنے کا جبر کیا جا رہا ہو تو آپ کی ناک کا بال بنا میڈیا ہی آپ کو لبھا سکتا ہے۔ مگر کیمرے کی آنکھ بڑی ظالم ہے جو اس سب اچھا میں موجود کیڑے نکال نکال کر قوم کو اسی طرح ان کی جھلک دکھاتی رہتی ہے جیسے رجوعہ کی زمین کے اندر سے اُگلنے والے لوہے اور تانبے کی شکل میں قدرتی خزانے کا کریڈٹ لینے کا آپ کو موقع مل رہا ہوتا ہے۔ 

اگر فی الواقع گورننس مثالی ہو جس میں بلا امتیاز ہر شہری کی داد فریاد اور رسائی کے لئے دروازے کھلے ہوں، روزگار سمیت لوگوں کا ہر کام بغیر قائداعظم کے پہیے لگائے خالص میرٹ پر ازخود ہو رہا ہو اور امن و خوشحالی کا راج ہو تو نہ عوام پاگل ہیں کہ وہ اپنے مخلص حکمرانوں کا خواہ مخواہ سیاپا کرنے سڑکوں پر نکل آئیں اور نہ میڈیا کو کسی کتے نے کاٹا ہے کہ وہ قصرِ سلطانی (سلطانیٔ جمہور) کے بے کار لتے لینا اپنے فرائض منصبی کا حصہ بنا لے۔ اگر جمہوری سلطانوں نے سلطانیٔ جمہور کو اپنے لئے ثواب اور جمہور کے لئے عذاب بنا دیا ہو تو دل کے پھپھولے پھولنے کے لئے میڈیا کے سوا جمہور کے پاس اور کون سا سہارا رہ جاتا ہے۔

ریاست یقیناً زمین کے ایک ٹکڑے پر قائم ہوتی ہے مگر زمین کے اس ٹکڑے پر آئین اور قانون کے تابع گورننس قائم کر کے اور اسے مستحکم بنا کر ہی اس ریاست کو مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری ارضِ وطن تو مملکت خداداد ہے جسے بانیان پاکستان قائد و اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو انگریز اور ہندو کے استحصالی نظام سے نجات دلانے کے لئے ہی تشکیل دیا تھا جس کا بنیادی مقصد جدید فلاحی اسلامی معاشرے کی فراہمی تھی جس میں ریاست (مملکت) اپنے شہریوں کو بلاامتیاز ضروریات زندگی کی ہر چیز فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ 

اس میں شہریوں کو روٹی روزگار اور جان و مال کے تحفظ کی ریاست کی جانب سے ضمانت فراہم کی جاتی ہے۔ ہمارے آئین میں شامل بنیادی حقوق کی شقیں اس کی ہی متقاضی ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں کے حکمران اشرافیہ طبقات نے ریاست پاکستان کے شہریوں کو آج تک یہ ضمانت فراہم ہی نہیں ہونے دی جس کے باعث یہاں فلاحی ریاست کا تصور تو پنپ ہی نہیں پایا جبکہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کی آزادی نے آج ہمیں وہ دن دکھا دیا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو اپنی جان کے تحفظ کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

 فرقہ بندیوں میں بٹی یہ مذہبی آزادی ہماری ریاست کو شرفِ انسانیت کے تقاضوں سے بھی کہیں دور بھٹکا لے گئی ہے۔ بہرحال مجھے وزیراعظم کے ارشادات کی روشنی میں آج صرف فلاحی ریاست کے تصور پر بات کرنی ہے کیونکہ ریاست (مملکت) نے اپنے شہریوں کو روزگار، علاج معالجہ کی سہولتوں، یکساں معیاری تعلیم، توانائی کے حصول اور اچھی آب و ہَوا والے ماحول سے مسلسل محروم رکھ کر اس معاشرے کو جتنا غیر متوازن بنایا ہے اس سے بطور ریاست اس معاشرے کی بقاء معجزات میں شمار ہو چکی ہے۔ اگر ریاست کے وسائل پر صرف حکمران طبقات قابض نہ ہوں اور تمام شہریوں کو بلاتفریق و امتیاز روٹی روزگار، علاج معالجہ اور تعلیم کی سہولتیں بغیر کسی ردوکد کے فراہم ہو رہی ہوں تو اس کے نتیجہ میں خوشی خوشحالی سے مزین ہونے والا معاشرہ ہی فلاحی ریاست بنتا ہے جو بانیان پاکستان قائد و اقبال کا خواب تھا۔

 اگر یہ خواب ریاست پاکستان کے شہریوں (پسے کچلے مقہور عوام الناس) کے لئے شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا جس کے نتیجہ میں قبیح اور گھنائونے جرائم سمیت بے شمار سماجی معاشرتی برائیوں اور بیماریوں نے جنم لیا ہے تو اس کے ذمہ دار وہی حکمران اشرافیہ طبقات ہیں جو اس مملکت کی گورننس کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے فلاحی ریاست کے تصور سے دور بھگا لے جاتے رہے ہیں۔

اگر ریاست خود اپنے شہریوں کی روزگار، تعلیم، صحت کی ضروریات قطعی میرٹ پر پوری کر رہی ہو تو پھر کسی شہری کو اپنی روزمرہ زندگی کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے لئے کسی کا دستِ نگر کیوں ہونا پڑے۔ یہاں تو حصول تعلیم کے بعد حکمران طبقات نے اس ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونہار بچوں بچیوں کے لئے میرٹ پر روزگار کا حصول بھی ناممکنات میں شامل کر دیا ہے تو اس مملکت خداداد کے مقہور عوام الناس کیا اسی طرح ایڑیاں رگڑتے زندہ درگور ہوتے اپنے تنفس کا سلسلہ برقرار رکھنے کی خاطر نان جویں کے چند ٹکڑوں کے حصول کے جتن میں اپنی عزت آبرو اور شرافت کا سودا کرنے پر مجبور ہوتے رہیں۔

جناب! عوام کے لئے جہنم بنایا گیا ایسا معاشرہ اپنی بقا کا جواز کھو دیتا ہے۔ آپ میڈیا سے اپنے قومی ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے دو سال تک حکومت کا رطب اللسان بننے کا تقاضہ کر رہے ہیں تو یہ تقاضہ درحقیقت مسائل کے دلدل میں دھنسے ایڑیاں رگڑتے عوام کی آہوں، کراہوں کی جانب کیمرے کی آنکھ بند رکھنے اور قلم کی کاٹ میں ڈنڈی مارنے کا ہے۔ آپ دو سال کے لئے نہ سہی، چلیں ایک ماہ کے لئے ہی سب اچھا سُنانے والے اپنے رطب اللسانوں سے بے نیاز ہو کر اپنے عوام کی صفوں میں جا کر اپنی آنکھوں سے ان کے معمولات زندگی کا مشاہدہ کر لیں اور اس ملک کی دھرتی پر موجود قدرت کے تمام وسائل اور قیمتی ذخائر ان راندۂ درگاہ عوام کی بہتر زندگی کے لئے وقف کر دیں،

 آپ کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے جتن کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، یہی سارے عوام آپ کے رطب اللسان ہوں گے اور میڈیا بھی آپ کا دم بھرتا نظر آئے گا۔ آپ سلطانیٔ جمہور کے حقیقی قالب میں ڈھل جائیے، جمہور آپ کی سلطانی کو کبھی گزند تک نہیں پہنچنے دے گی ورنہ میڈیا تو وہ ظالم آئینہ ہے جو مجبور عوام کی بے بسی کی جھلک من و عن دکھاتا ہے تو حکمران طبقات کی عیاشیوں کے پھیلائے گئے گند کی سڑاند بھی اس آئینے میں تعفن چھوڑتی ہی نظر آئے گی۔ آپ اس آئینے کو لپیٹنے کی بجائے اپنا پھیلایا گند صاف کر لیں۔ سب اچھا خود بخود ہی ہو جائے گا۔

سعید آسی

داعش کی سفاکیت



Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...