Monday, April 27, 2015

امریکی ڈرون - نشانہ امریکی اور اٹلی شہری.....

امریکی صدر کو دو لڑائیاں ورثے میں ملیں۔ ایک لڑائی عراق میں جاری تھی۔ جہاں سے امریکی اور اتحادی فوجوں کو واپس بلا لیا گیا تھا لیکن جنگ پھر بھی جاری رہی۔ دوسری لڑائی افغانستان میں جاری تھی جسے صدر اوباما مشکل سے ختم کرنے کے قریب لایا لیکن بسیار کوشش کے باوجود یہ لڑائی ختم نہ ہوسکی۔ ابھی یہی کشمکش جاری تھی کہ کون سی لڑائی جاری ہے اور کون سی ختم، کہاں سے فوجیں واپس آنی ہیں اور کتنی فوجیں باقی رکھنا ہیں کہ یمن میں لڑائی شروع ہوگئی جو اب تک جاری ہے۔ ان لڑائیوں میں امریکی فوج اور سی آئی اے کا سب سے مہلک ہتھیار ’’ڈرون‘‘ رہا۔ 
امریکیوں نے اس سے اتنے گناہگار نہیں مارے جتنے بے گناہ مارے گئے لیکن امریکیوں نے ہمیشہ اس پر فخر کیا کہ اس سے ہم نے وہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو ہمیں روایتی جنگوں اور حملوں سے بھی نہیں مل سکیں۔ اس میں جتنے بھی بے گناہ شہری عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے ان کا نہ تو کبھی تذکرہ کیا گیا اور نہ ہی ان پر شرمندگی کا اظہار کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہری امریکی نہیں تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ’’ڈرون جنگ‘‘ کو امریکہ میں بہت پسند کیا گیا اور ان کے حملوں کے بعد ہلاک ہونے والے دہشت گردوں جو کہ اکا دکا ہوتے تھے خوب تشہیر کی جاتی تھی لیکن ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے شہریوں کے بارے میں خبروں کو ہوا بھی لگنے نہیں دی جاتی تھی۔

امریکی اور مغربی میڈیا اس جرم میں برابر کے شریک رہے ۔ مقامی میڈیا کو ان علاقوں اور خبروں تک بہت کم رسائی رہی اور ان کی اطلاعات صرف حملے کی حد تک رہیں اور ان کا انحصار صرف مغربی میڈیا تک ہی رہا۔ لیکن قانون قدرت نے ایک دن حرکت میں آنا ہوتا ہے اور پچھلے ہفتے وہ منظر عام پر آگیا جس کے بارے میں دنیا کو شکوک و شبہات تھے۔ پچھلے ہفتے کی اطلاعات کچھ اس طرح سے تھیں۔ 15 جنوری 2015ء کو امریکی ڈرون نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں جو کہ ان کی اطلاع کے مطابق القاعدہ کا گڑھ تھا، حملہ کیا۔ اس جگہ پر کافی عرصے سے چار لوگوں کی آمدورفت جاری تھی جسے سیٹلائٹ، ڈرون اور دیگر ذرائع سے دیکھا گیا۔

 ان لوگوں کی گفتگو کو بھی موبائل فونز کی مدد سے سنا گیا۔ ان اطلاعات کی تصدیق کے بعد رپورٹ وائٹ ہاؤس روانہ کی گئی اور اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس جگہ پر ڈرون حملے کی اجازت دیدی۔ چنانچہ حملہ کیا گیا اور حملے کے دوران اس مقام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ حملے کے بعد امریکی رپورٹوں کے مطابق ملبے سے چار کی بجائے چھ لاشیں برآمد ہوئیں جن کی تدفین کر دی گئی جس پر امریکی سخت پریشان رہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق تو اس جگہ پر چار دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن کی کئی ذرائع سے تصدیق ہوئی تھی لیکن یہاں سے چھ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں۔

 جنوری 2015ء سے 23 اپریل 2015ء تک امریکی حکومت کو یا تو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ دو لاشیں کن لوگوں کی تھیں یا پھر امریکی حکومت نے یہ اطلاع بوجوہ چھپائے رکھی۔ میڈیا کے بعض ذرائع کے مطابق امریکی حکومت کو اس کا علم ہی نہیں ہوا کیونکہ ان کی اطلاعات رسانی کا سلسلہ اتنا کمزور ہے کہ ان کے پاس صحیح اطلاعات ہوتی ہی نہیں ہیں اور وہ یہ حملے صرف واقعات کی کڑیاں جوڑ کر کرتے ہیں جن میں بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں لیکن میڈیا کے بعض ذرائع کہتے ہیں کہ امریکی حکومت کو اگرچہ اس سے قبل تو ان دو افراد کے ہلاک ہونے کا علم نہیں تھا لیکن ہلاک ہونے کے بعد شرمندگی کے سبب انہوں نے معاملہ دبائے رکھا۔

 ان دونوں صورتوں میں دوسری صورت زیادہ حقیقت کے قریب ہے کیونکہ چھ لوگوں کی ہلاکت کا علم تو بہت سے ذرائع کے پاس تھا البتہ ان دو لوگوں کی شناخت حملے کے چند روز میں ہو گئی تھی۔ 15 جنوری کے حملے میں ان چار لوگوں کے علاوہ دو لوگ تھے جو ہلاک ہوئے۔ یہ دو لوگ رپورٹ کے مطابق یرغمالی تھے۔ جو القاعدہ کے ارکان نے کئی برس سے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔

ان میں ایک امریکی شہری اور ان وین سٹین تھا جنہیں 2011ء میں اغوا کیا گیا تھا۔ دوسرا مغوی گیوانی لوپورٹو تھا جو کہ اٹلی کا شہری تھا۔ انہیں 2012ء میں اغوا کیا گیا تھا۔ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان مغویوں کے اس جگہ پر موجود ہونے کے شواہد نہیں تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد کافی عرصہ تک معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون لوگ تھے۔ پچھلے ہفتے بدھ کے روز ان کی ہلاکت کی اطلاعات صدر اوباما کو دی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید یہ اطلاعات پہلے سے موجود تھیں لیکن ان کو صیغہ راز میں رکھا گیا اور پچھلے جمعہ کو جب اٹلی کے وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تو اس وقت بھی انہیں ان کے شہری کے ڈرون حملے میں ہلاکت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

 اس کے بعد صدر اوباما نے ان دونوں کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے اس کی مکمل طور پر ذمہ داری قبول کی کہ ’’میں بحیثیت فوج کے کمانڈر انچیف کے اس ناکامی کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوں اور اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے ان کے لواحقین اور شہریوں سے معافی مانگی اور اسے امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی صدر نے بذات خود میڈیا پر آکر ڈرون حملوں کی حقیقت بیان کی۔ جن اطلاعات کی بنیاد پر یہ حملے کئے جاتے رہے ہیں ان میں خرابیوں کا اعتراف کیا اور نہ صرف سی آئی اے بلکہ خود اپنی ناکامی کا بھی اعتراف کیا۔

ڈرون حملوں کے بارے میں پوری دنیا میں ایک عرصے سے یہ چیخ و پکار جاری رہی ہے کہ ان سے بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ امریکہ کے پاس ان حملوں کا کوئی قانونی اور بین الاقوامی جواز نہیں ہے۔ یہ حملے امریکی فوج نہیں بلکہ سی آئی اے کر رہی ہے جو کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اس قرارداد کے بھی خلاف ہے۔ لیکن امریکی صرف اس لئے اس کا جواز پیش کرتے ہیں کہ وہ محفوظ مقامات پر بیٹھ کر یہ حملے کرتے ہیں۔ ڈرون میں کوئی پائلٹ نہیں ہوتا۔ ان میں کسی امریکی شہری کو دوسرے ملک جانے اور لڑائی میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان حملوں میں جتنے لوگ بھی مر جائیں ان کو دہشت گرد گردان کر ان پر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حملوں کے خلاف طویل عرصے سے آواز اٹھا رہی ہیں۔

صرف دنیا کے باقی حصوں سے ہی نہیں بلکہ امریکہ سے بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حملوں کے خلاف آواز اٹھا تی رہی ہیں لیکن 2004ء سے شروع ہونے والے ان حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ان کا دائرہ عراق، افغانستان، پاکستان کے بعد یمن اور صومالیہ تک بھی پھیلا دیا گیا۔ امریکہ میں مقتدر شخصیات ان حملوں کا جواز اس طریقے سے پیش کر تی ہیں ’’ہمیں ان لوگوں کو مار دینا چاہیے جو ہمیں مارنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘ لیکن قانون قدرت دیکھیں کہ جن امریکی اور یورپی شہریوں کو مرنے سے بچانے کے لئے ان حملوں کا آغاز کیا گیا وہ امریکی اور یورپی شہری خود ان حملوں کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔

 ہمیں ان دونوں افراد کے مرنے کا بھی شدید دکھ ہے لیکن افسوس اس امر پر ہے کہ ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ افراد ان میں عورتیں اور بچے شامل تھے لقمہ اجل بنے لیکن ان کی اموات پر کسی نے ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔ کسی نے افسوس تک کا اظہار نہیں کیا ۔ ان کی صحیح تعداد تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ان دو امریکی اور یورپی شہریوں کی موت پر امریکی صدر نے خود میڈیا پر اظہار شرمندگی کیا جب قدرت انصاف کرتی ہے تو اس کی طاقت سب پر بھاری ہوتی ہے

حسن اقبال
"بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات

فیس بک سے فیس بک تک.....


پچھلے کئی سال سے ہم بجلی نہ ہونے کے بارے میں شکایت کرتے آئے ہیں، پاکستان بننے کے بعد آزادی کم اور لوڈشیڈنگ زیادہ ہے، بجلی کی رفتار سے آگے بڑھتی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے کم سے کم جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے بجلی۔ آج بجلی نہیں تو ہم ہر ایک سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔
گھر کے سارے اہم کام جیسے استری، فریج، اے سی، پنکھا، کمپیوٹر سب بجلی جانے سے رک جاتے ہیں، یہی بجلی جانے کے ساتھ فیس بک کو بھی آف لائن کرجاتی ہے، وہ فیس بک جو آج ہماری زندگیوں میں اے سی، فریج یا پھر کسی بھی دوسری بجلی سے چلنے والی چیز سے زیادہ اہم ہے۔
 ایک سروے کے مطابق ایک عام فیس بک یوزر روزانہ کم سے کم پندرہ منٹ فیس بک پر ضرور گزارتا ہے، اب آپ فیس بک پر پندرہ منٹ گزارتے ہوں یا پندرہ گھنٹے یقیناً اس سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کے متعلق آپ کو کئی باتیں معلوم ہوں گی۔

چلیے ہم آپ کو فیس بک کے بارے میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن کے متعلق بیشتر لوگوں کو نہیں پتہ، فیس بک نیلا اور سفید کسی خاص تکنیکی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لیے ہے کہ اسے بنانے والے مارک ذوکر برگ کلر بلائنڈ ہیں اور وہ لال اور ہرا بالکل نہیں دیکھ پاتے جو رنگ انھیں صاف نظر آتا ہے وہ نیلا ہے، اسی لیے بچپن سے ان کی والدہ نے ان کے کمرے کو نیلا اور سفید رکھا تھا، وہ کمرے کا رنگ جو ہمارے ہر کمرے میں کسی نہ کسی کمپیوٹر یا فون اسکرین کے ذریعے موجود ہے۔

اگر آپ فیس بک پر لاگ ان ہیں تو ان کی قواعد و ضوابط کے حساب سے آپ فیس بک کمپنی کو اپنے کمپیوٹر کی ہر ایکٹیوٹی ریکارڈ کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور فیس بک یہ ایکٹیوٹیز ریکارڈ کرتا بھی ہے، یعنی اگر آپ ایک ونڈو پر فیس بک کھولے ہوئے ہیں اور بغیر لاگ آؤٹ کیے گوگل پر کچھ سرچ کرتے ہیں تو اس کے بارے میں فیس بک کو پتہ ہوگا۔
 
 فیس بک پر آپ دنیا کی بیشتر زبانیں سلیکٹ کرسکتے ہیں جس سے فیس بک پر لکھی ہر چیز اس زبان میں آنے لگے گی لیکن شاید آپ کو یہ علم نہیں ہوگا کہ ان زبانوں میں ایک زبان ’’پائیریٹ‘‘ لینگویج بھی ہے، یعنی فیس بک پر ہر چیز ایسی زبان میں لکھی آنے لگے گی جیسے آپ پائیریٹ ہوں۔

فیس بک کا پہلا لوگو جو فیس بک پر لگایا گیا تھا اس میں امریکا کے مشہور اداکار ایل پیچینو کا چہرہ پس منظر میں دیکھا جاسکتا تھا، جسے بائنری نمبر یعنی ون اور زیرو سے ڈرا کیا گیا تھا، کچھ ہی دن میں اس اداکار کا چہرہ ہٹا دیا گیا اور سیدھا سیدھا فیس بک لکھ دیا گیا تاکہ ہر عمر اور طبقے کے لوگ اپنے آپ کو اس ’’لوگو‘‘ سے شناسا سمجھ سکیں۔

یاہو نے فیس بک کو تین ملین ڈالرز کی آفر دی خریدنے کے لیے، اس آفر کو سن کر فیس بک کے مالک مارک نے کہا تھا یہ بہت بڑی رقم ہے میں اتنے پیسوں کا کیا کروں گا، مجھے پتہ نہیں اسی لیے میں اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا اور مجھے یہ بھی علم نہیں کہ اتنا اچھا آئیڈیا دوبارہ سوجھتا بھی یا نہیں، شاید میں پھر سے کوئی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ بنالوں، اب اگر مجھے کوئی دوسری ہی ویب سائٹ بنانی ہے تو میں یہی اپنے پاس کیوں نہ رکھوں جو مجھے پسند بھی ہے، یہ کہہ کر انھوں نے آفر کو رد کردیا جس کے بعد مائیکرو سافٹ نے فیس بک کو دو سو چالیس ملین ڈالرز دیے تھے صرف 1.3 فیصد کمپنی خریدنے کے لیے۔

امریکا میں آج چالیس سے پچاس فیصد جوڑے طلاق لے لیتے ہیں، امریکا میں اس وقت ہر تین میں سے ایک طلاق جو فائل کی جاتی ہے اس کی پٹیشن میں لفظ فیس بک ضرور ہوتا ہے، اکثر فیس بک کو طلاق کے سلسلے میں اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ ثبوت پیش کیا جاسکے کہ فریقین میں سے کسی کا تعلق باہر کسی اور سے بھی تھا یا پھر اکثر لوگوں کے بچوں کے پروفائل کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ یہ بچہ کتنا بگڑا ہوا ہے اور اس بگاڑ کے ذمے دار اس کے والدین ہیں۔

فیس بک کے سب سے اہم یوزرز وہ ہیں جو امریکا میں موجود ہیں، فیس بک پر اشتہارات آتے ہیں اور یوزرز جب ان پر کلک کرتے ہیں تو فیس بک کو ہر ایک کا کمیشن ملتا ہے، اس وقت فیس بک ہر امریکن یوزر سے دن کے اوسطاً چھ ڈالر کما رہا ہے۔
 
اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ فیس بک میں ایک سیٹنگ ہے جس میں کوئی بھی یہ سیٹ کرسکتا ہے کہ اگر اسے کچھ ہوجائے اور وہ اس دنیا میں نہ رہے تو اس کا اکاؤنٹ کون ٹیک اوور کرسکتا ہے یعنی یہ فیس بک کا ’’وصیت نامہ‘‘ ہے جو کسی کے مرجانے کے بعد کسی کو حق دیتا ہے اس کا اکاؤنٹ برتنے کا۔
اس وقت دنیا بھر سے فیس بک پر 1.8 ملین لائیک ہر منٹ آتے ہیں، اگر اس کا ایک پرسنٹ بھی لوگ سچ مچ ایک دوسرے کو لائیک یعنی پسند کرتے تو یہ دنیا بہت بہتر جگہ ہوتی۔

کئی سال کی ریسرچ کے بعد یہ نتیجہ نکلا ہے کہ فیس بک استعمال کرنے والے ہر تین میں سے ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو فیس بک پر دوسروں کی تصویریں دیکھ کرامپریس اور ڈاؤن محسوس کرتا ہے، اسے لگتا ہے کہ دوسروں کی زندگی میں بہت کچھ ہورہا ہے اور اس کی زندگی بورنگ اور بے رنگ ہے، اگر آپ کو بھی فیس بک دیکھ کر کبھی ایسا محسوس ہوا ہے تو فکر نہ کریں، آپ اکیلے نہیں

وجاہت علی عباسی

Sunday, April 26, 2015

نیپال، ہندوستان میں زلزلہ...








خوش رہنے میں پاکستان آگے.....

کہاجاتا ہے کہ پاکستانی، ہندوستان کی معاشی ترقی سے حسد کرتے ہیں اور دہشت گردی اور اقتصادی معاملات میں اپنی پوزیشن کو کوستے رہتے ہیں، تاہم سچ جو بھی ہو ایک بات تو طے کہ پاکستانی، ہندوستانیوں کے معاملے میں خوش زیادہ رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے گلوبل پروجیکٹ 'پائیدار ترقی کے حل کے نیٹ ورک' (ایس ڈی ایس این) کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی عوام اپنے حریفوں پاکستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کم خوش رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سخاوت ایک ایسی چیز ہے جس میں پاکستانی اپنے پڑوسیوں سے کہیں آگے ہیں اور اس کا ثبوت پاکستانی دکاندار اُس وقت بخوبی دیتے ہیں جب ہندوستانی کسی کرکٹ میچ کو دیکھنے یا پھر کسی مقدس مقام کی زیارت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔

ورلڈ ہیپینس رپورٹ (عالمی رپورٹ برائے خوشی) 2015 کے مطابق خوش رہنے میں 158 ممالک میں سے انڈیا کا نمبر 117 واں ہے۔
جبکہ اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 81 واں اور بنگلہ دیش کا 109 نواں نمبر ہے۔

حتیٰ کہ یوکرین (111)، فلسطین (108) اور عراق (112) بھی خوش رہنے میں ہندوستان سے آگے ہیں۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق 2013 میں انڈیا اس فہرست میں 111ویں نمبر پر تھا، جو اب 6 درجے نیچے گر چکا ہے۔

جبکہ سوئٹرز لینڈ کو دنیا کا سب سے خوش باش ملک قرار دیا گیا ہے۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...