Friday, October 24, 2014

نوبل انعام اور پاکستان معاشرے کی تحقیر......


آج کل پاکستان اور دنیا (بشمول مسلم دنیا)کے سارے ذرائع ابلاغ خصوصاً مغربی کارپوریٹ میڈیا ملالہ کی تعریفوں اور اسلامیان کی جہالت اور طالبان کی درندگی کے بارے میں ایک طوفان اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ گوروں کی جدید سامراجی پالیسیوں کا ایک جزو ہے تاکہ باور کرایا جاسکے کہ ایشیائی اور افریقی اقوام کتنی جاہل اور درندہ صفت ہیں اور ان کو عقل و شعور اور تہذیب و تمدن سکھانے کے لیے گورے آقائوں کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نوبل انعام کمیٹی کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کن مسکینوں، جاہلوں، قدامت پرستوں اور ناشکروں کو یہ انعام پکڑا دیا کہ جو ایک اچھی بات کو محسوس تک نہیں کرسکتے۔

تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ایک کم عمر پاکستانی لڑکی کو نوبل انعام ملنے کی مغربی دنیا اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں تشہیر میں یہ فرق ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ واہ واہ کے طوفان کے ساتھ پاکستانی معاشرے کی بھرپور مذمت اور تحقیر لیے ہوئے ہیں۔

اس تحقیر کی وجہ پاکستان کا یہ ’’جرم‘‘ ہے کہ اِس کے عوام نے اس اعزاز کو پانے کے بعد جشن منانے کے لیے گلیوں میں کوئی رقص نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ذرائع ابلاغ کے دوش بدوش خوشی سے دیوانے ہوئے۔ پاکستانی عوام کی ’’بدتہذیبی‘‘ کی حد تو اُن کی یہ جسارت ہے کہ وہ ایوارڈ دینے والوں سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ ملالہ نے ایسا کیا کام کردیا جو اس کو یہ انعام دیا گیا ہے؟ اور صرف یہی نہیں بلکہ الٹا یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ اس انعام کے پیچھے آپ (مغربی سامراج) کے کیا مقاصد اورکیا سازشیں کارفرما ہیں؟ اِن پاکستانی ’’بدتہذیب‘‘ عوام نے اُن تمام بے ہودہ الزامات کو رد کردیا جو وہ اس انعام یافتہ نوجوان لڑکی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین ِ اسلام اور اُس کے شعائر کے خلاف لگوا رہے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک جلی شہ سرخی کہہ رہی ہے: ’’نوبل انعام جیتنے والی ملالہ پاکستان میں تنہا تنہا رہنے والے اجنبی لوگوں کے حلقے کی ایک رکن بن گئی‘‘۔

کم و بیش 75 سال کی شب و روز کی محنت سے جدید ذرائع ابلاغ مسلم دنیا میں اسلام اور سنتِ محمدیہؐ سے ملنے والے شعائر کے خلاف جس زہرافشانی اور برین واشنگ کا اہتمام کررہے ہیں اور اس کے نتیجے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو انہوں نے اب تک کتنا خراب کرلیا ہے؟ اس سوال کا جواب واشنگٹن پوسٹ کی اس ایک سرخی میں پوشیدہ ہے! ایک بے چاری کو خراب کیا ہے لیکن نہ معلوم وہ بھی کب غلام احمد پرویز یا غلام جیلانی برق اور اس قبیل کے بہت سارے لوگوں کی طرح واپس اپنے دائرے میں آجائے۔

اس دور میں سب روٹی کھاتے ہیں جیسے پہلے کھاتے تھے، کوئی گھاس نہیں کھاتا… غیروں کو بے وقوف بنانا مشکل ہوتا ہے تو اپنوں کو بھی بنانا آسان نہیں ہوتا! تھوڑے لوگوں کو کچھ دیر اور بہت لوگوں کو تھوڑے وقت بے وقوف بنایا جاسکتا ہے، مگر سارے انسانوں کو ہمیشہ کے لیے اُلّو نہیں بنایا جاسکتا! سادہ سا ایک سوال ہے جس کا جواب دنیا کا ہر انسان جانتا ہے مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی… وہ سوال یہ ہے کہ ملالہ نے انعام کسی مقابلے میں جیتا ہے یا اُس کو شعوری طور پر مقاصد کے تحت نوازا گیا ہے؟ اس کا جواب تو ملالہ اور اُس کے دوربیں چالاک و عیار ابّاجان کو بھی معلوم ہے۔

آپ ایک مقابلے کی میراتھن دوڑ میں مطلوبہ منزل تک سب سے پہلے پہنچ کر جیتتے ہیں، ہزاروں لاکھوں لوگ آپ کو براہِ راست اور ٹی وی اسکرین پر جیتتے ہوئے دیکھتے ہیں، کوئی آپ پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ نے ججوں کو رشوت دی ہے، یا غذائی اور فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے ججوں سے سازباز کرکے کچھ مطلوبہ غذائی فارمولے (diet products) جو آپ استعمال کرتے ہیں اُن کی تشہیر کے لیے آپ کو جتا دیا ہے! اگر کوئی ایسا کہے گا تو دنیا اُسے پاگل کہے گی۔ آج کیوں سب کو یہ یقین ہے کہ نوبل پرائز ملالہ پر نوازش ہے انعام نہیں؟ نوازش بھی کیا، ایک سیاسی فیصلہ ہے ایسے بددیانت ججوں کے ہاتھوں جو ایک سیاسی حکمتِ عملی کے تحت کام کرتے ہیں اور جس کی اُنہیں مزدوری ملتی ہے، اور وہ حکمت عملی صرف یہ ہے کہ مغربی سامراج ایشیا اور افریقہ پر غالب رہے، کہیں مسلم دنیا جاگ کر غاصبوں سے دنیا کی زمامِ کار نہ چھین لے!

ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر نوبل کمیٹی کا اعلامیہ سیاسی عزائم سے اتنا لت پت ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا بھی جان لے کہ یہ انعام امن کی جدوجہد میں کسی کارنامے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کچھ سیاسی توقعات پر عنایت کیا جارہا ہے۔ اعلامیہ ملاحظہ فرمائیں:

’’نوبل کمیٹی محسوس کرتی ہے کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان، ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی کے لیے یہ مشترکہ انعام تعلیم کے فروغ اور انتہا پسندی کی بیخ کنی کی جدوجہد کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔‘‘

صاف ظاہر ہے کہ اگر کوئی آپ کے سیاسی مقاصد سے متفق نہ ہو تو وہ اِن مقاصد کے حصول کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کی حمایت کیوں کرے گا؟ وہ اس انعام کے ملنے پر کیوں خوش ہوگا؟ جس طرح میراتھن ریس (دوڑ) میں جیتنے والے کو سب مل کر سراہتے ہیں، اس طرح اس نوازشِ بے جا کو پاکستان میں نہیں سراہا جاسکتا۔ آخر مغربی ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کو بیان کردہ یہ معمولی سی حقیقت کیوں سمجھ میں نہیں آتی؟ وہ کیوں پاکستانیوں سے اس نوبل پرائز کے ملنے پر خوشیاں نہ منانے پر ناراض ہیں؟ پاکستان میں نوبل پرائز اس سے پہلے بھی کسی کو ملا؟ سارے پاکستانی اہلِ علم طبعی علوم میں اُس عبقری اور ماہرانہ کام کے معترف ہیں، سارے عوام فزکس کے اتنے ماہر نہیں کہ اُس اعلیٰ علمی کام کا معمولی سا بھی ادراک کرسکیں۔ پاکستان کا پورا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے، اور اس ملک کے عوام کی واضح ترین اکثریت کو جمہوریت سے زیادہ پاکستان، اور پاکستان سے زیادہ اسلام عزیز ہے۔ یہ بات پاکستان میں دھڑکنے والے ہر دل پر نقش ہے، اس کا کیا کریں؟ یہ زندہ حقیقت اسلام کا مذاق اڑانے والی ملالہ کو اُس کی اس کار کردگی پر نوبل پرائز ملنے سے پاکستانیوں کو افسردہ کرتی ہے۔

ہماری قوم میں سے جن بے وقوفوں نے ملالہ کے اس ایوارڈ پر خوشی محسوس کی وہ مغربی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر خود اعتمادی کھو چکے ہیں۔ وہ تو بھکاریوں کی مانند ہر چیز پر جھپٹ سکتے ہیں اور اس طرز عمل کے لیے معذور ہیں۔ انہوں نے احساسِ کمتری کا بدترین مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس جھوٹ کا اقرار کررہے ہیں جس کے خود انکاری ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انعام کسی مقابلے میں شامل ہوکر محنت سے جیتنے کی بنا پر ملا ہے، یا وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اچھی چیز پرکسی بدنیتی کا شبہ کرنا بری بات ہے۔ ہم اِن جنت الحمقاء کے باسیوں کے تینوں اشکالات (Confusions) کا تجزیہ کرتے ہیں۔
یہ حضرات بھی انکاری ہیں کہ ملالہ کی کتاب خود اُس کی لکھی ہوئی ہے! ہر ذی عقل جانتا ہے کہ اُس کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی لغویات کو پاکستان میں کوئی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، کوئی اس کا دفاع کرنے پر آمادہ نہیں ہے، پاکستانی عوام نے اس کتاب کو خریدنے کے لیے کتابوں کی دکانوں پر دھکم پیل تو کجا، پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہ کسی اور کے ہاتھ سے لکھا گیا غیروں کا ایجنڈا ہے۔ پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس پر ملنے والے نوبل انعام پر پاکستانی خوشیاں منائیں۔ کیا ہماری عقلوں کا جنازہ نکل گیا ہے!

یہ خیال کہ ایک مسلمان لڑکی کو یہ ایوارڈ اس کی خوبیوں کی بنا پر ہی دیا جاسکتا ہے، کیسی بچکانہ اور دور از فہم بات ہے۔
اُن کی دلیل کہ ہر اچھی چیز کسی اچھی نیت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتی ہے، انتہائی احمقانہ ہے۔ ہمارے دشمن دنیا میں تمام جال… خواہ وہ نظریاتی ہوں، سیاسی یا معاشی… ہمیں پھانسنے کے لیے بدنیتی ہی سے لگاتے ہیں، ہماری کسی خیر خواہی میں وہ کچھ نہیں کرتے۔

تعلیم تو ایک عمدہ اور اعلیٰ چیز ہے تاہم اہم بات یہ ہے کہ کس چیز کی تعلیم؟ ملالہ کا معاملہ بالکل صاف ہے۔ اُس کے نام سے جوکچھ چَھپا ہے اُس کے مطابق وہ ایمانیات کے معاملے میں کسی تعلیم کو جائز نہیں سمجھتی، اُس کو اسلامیات بالکل پسند نہیں ہے، تعلیم کے لیے اُسے دینی مدارس پر سخت اعتراض ہے، وہ اُن بے گناہ لڑکیوں سے نفرت کرتی ہے جو لال مسجد سے ملحق لڑکیوں کے اسکول میں فاسفورس بموں کا نشانہ بنیں، گویا وہ اسی قابل تھیں! یہ ہے تعلیم کا وہ ایجنڈا جس کے پرچار پر تعلیم کے لیے اسے نوبل انعام دیا گیا ہے۔

تعلیم سے ہٹ کر ملالہ کے اُن تمام ایشوز پر بیانات ہیں جن سے آج پاکستان دوچار ہے، یا جن میں مغرب پاکستان اور امتِ مسلمہ کو ملوث کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً توہینِ رسالت کا قانون، سلمان رشدی کے خلاف مظاہرے، تعزیری ضابطوں کی اسلامائزیشن (شرعی بنانے کا عمل)، حدود آرڈی ننس وغیرہ وغیرہ… اور ان تمام معاملات میں اُس کے منہ سے بس طوطے کی طرح وہی کچھ نکلتا ہے جو اس کے اتالیقوں نے سکھایا ہے۔ ہرذی عقل یہ بات جانتا ہے کہ سوات کے اسکول سے یہاں پہنچانے تک اور نوبل انعام دلانے تک کے سارے ڈرامے کا کل خاکہ (Script) بہت عیار اور چالاک لوگوں نے لکھا اور نوبل کمیٹی کے ایوارڈ دہندگان کی ان خاکہ نویسوں سے کامل ہم آہنگی تھی۔

اس سارے واضح معاملے کے باوجود اگر مغربی پریس اور اُس کے دانش ور حیرانی اور پریشانی سے سراپا سوال بن جاتے ہیں کہ آخر اتنی بڑی کامیابی پرپاکستانی لوگ خوش کیوں نہیں ہوتے؟ تو انہیں اپنی عقلوں پر ماتم کے ساتھ ساتھ اپنی حیرانی اور پریشانی سے تھوڑا سا باہرنکلنا چاہیے، کہ ہمارے پاکستان اور باقی مسلم دنیا میں بھی اور ہمارے ہم مذہب (جنہیں مسلم کہتے ہوئے شرم آتی ہے) سیکولرپنڈت اور اُن کے ہم خیال بوجھ بجھکڑ بھی بستے ہیں۔
دیوانگی کے ساتھ نوبل انعام پر مرے جانا بجائے خود مغرب سے مرعوبیت کا مظہر اور غلامانہ ذہنیت کی باقیات میں سے ہے۔ کیا کسی ذی ہوش کی عقل میں آنے والی بات ہے کہ تعلیم کی عَلم بردار تو ملالہ ہے اور طالبان علم کے دشمن ہیں! کیا انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ سب بکواس مغرب کی پروپیگنڈا مشینوں کی پیداوار ہے! ملالہ تعلیم کی کون سی چیمپئن یا ہیرو ہے! پاکستان میں لاکھوں لوگ ساری زندگی غریبوں اور امیروں کو تعلیم دیتے دیتے قناعت کے ساتھ روکھی سوکھی کھا کر اپنی قبروں میں پہنچ گئے، کسی نے اُن کو پوچھا تک نہیں۔ ملالہ نے کتنے اسکول بنائے؟ کتنے بچے پڑھائے؟ پاکستان کی کتنی یونی ورسٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دینا سکھائی؟ فلسفہ تعلیم پر وہ کون سی تھیوری پیش کی جس نے اس ملک کی قسمت بدل دی؟ اُس نادان نے تو بس ایک کام کیا کہ اپنے آپ کو ملک و ملت کے دشمنوں کے حوالے کردیا کہ وہ جو کچھ سکھاتے پڑھاتے جائیں وہی وہ اپنے حلق سے اگلتی جائے۔ نوبل پرائز دراصل اس بات کا سرٹیفکیٹ ہے کہ وہ حصولِ تربیت میں صاحبِ کمال نکلی۔

اُس بے ہودہ کتاب کو جس پر اس کا نام بطور مصنف لکھ دیا گیا ہے، پڑھنے کے بعد جو نرم ترین بات کہی جا سکتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ وہ بچی ہے اور بچے معصوم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اُسے ہماری تہذیب کی دشمن طاقتوں نے استعمال کیا۔ ہمارا یہ ادعا ہمیں اُس کے لیے دعائیں کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اغوا کنندگان دہشت گردوں کے چنگل سے نکل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں واپس آجائے!

ملت کی بیٹیاں تو پہلے بھی بہت اغوائے شیطانی کا شکار ہوئیں مگر یہ ایک ایسی بیٹی ہے جسے اُس کے برضا و رغبت اغوا ہونے پر نوبل پرائز ملا ہے۔ آئیے اُمت کی اِس بیٹی کے اغوا کا ماتم کریں… اور ماتم کریں اُس جشن کا بھی جو ہمارے بعض حلقوں میں اس اغوا پر ہورہا ہے!!! (ماتم بہ معنی اظہارِ افسوس ہے، سینہ کوبی مراد نہیں)

تسنیم احمد

Thursday, October 23, 2014

دھرنوں کے بعد کیا ہوگا؟....


طاہرالقادری نے سیاست کے سمندرمیں’’ریاست‘‘کا پتھر کیا پھینکا‘‘جواربھاٹے نے سیاسی ایوانوں میں ہلچل ہی مچا دی تھی۔علامہ صاحب 67دن تک شاہراہ دستور پر انقلاب کی صدائیں بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔آنے والے دنوں میں سردی کی شدت اور محرم الحرام کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے بدھ کی رات بالآخر علامہ قادری نے دھرناختم کرنے کااعلان کرہی دیا۔قادری صاحب!دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرنے اتنی جلدی میں لاہور سے تشریف لائے کہ اپنی واپسی سے عمران خان تک کو بھی مطلع نہیں کیا۔آج دو ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد شاہراہ دستور،کابینہ ڈویژن اورپاک سیکریٹریٹ سمیت ریاست کی نشانی سمجھی جانے والی تمام سرکاری عمارتیں ایک بار پھر آزاد دکھائی دے رہی ہیں۔علامہ طاہر القادری اور ان کے رفقاء نے خد اخدا کرکے شاہراہ دستور کی جان تو چھوڑ دی مگر کچھ نئی اقدار ضرور متعارف کرا گئے ہیں۔اگر علامہ طاہر القادری برابری اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو وہ بالکل درست ہے مگر ان کا طریقہ ٹھیک نہیں تھا۔

اختیارات کی آپس میں بند ر بانٹ ہی حکومتوں کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے۔اگر قادری دو ماہ تک برابری کے حوالے سے امریکہ اور یورپی ممالک کی مثال دیتے رہے تواس پر کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔
قارئین کو شاید یہ پڑھ کر حیرت ہو کہ پاکستان کے 280آرٹیکلز کے مقابلے میں امریکہ کا آئین صرف 7آرٹیکلز پر مشتمل ہے۔مگر اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کہ ان بڑوں نے جنہوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز (liberty,equality,Fraternity) کے مشہور و بلند بانگ نعرے سے کیا انہوں نے امریکہ کے آئین میں سب سے زیادہ جگہ انسانی حقوق کو دی۔امریکہ کا آئین لکھنے کے لئے اس وقت کے بڑوں میں جن میں جینوسن ،میڈائسن اور واشنگٹن جیسے گوہر نایاب مل بیٹھے اور آئین کے خدوخال وضع کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کیں ۔نتیجہ ً1787میں دنیا کا بہترین آئین وجود میں آیا ۔امریکی معاشرہ جس پر اگر آج ساری دنیا رشک کرتی ہے۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس معاشرے میں انسانی حقوق کو تحفظ حاصل ہے۔مساوات و برابری ہے،انسان کی قدر ہے اور وہ تمام اصول جو پیغمبر آخر الزماںﷺ نے اپنی امت کو دئیے ،امریکہ اور اس جیسے معاشرے اس کی زندہ تعبیر ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم نے آزادی حاصل کی ،اسلام کے نام پر الگ ملک بھی حاصل کرلیا ،اس دین کے نام پر جس کی نہ صرف تعلیمات بلکہ عبادات میں بھی برابری ،مساوات اور انسانی حقوق کا درس ہے۔

علامہ طاہر القادری کے غیر جمہوری مطالبات کی فہرست طویل مگر حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے کہ جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ملک کی و قوم کی بہتری کے لئے انہیں تسلیم کرے۔طاہر القادری کے شاہراہ دستور سے جانے کے بعد عمران خان کا دھرنا اب صرف علامتی ہی رہ جائے گامگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت معاملات کی سنجیدگی سے رو گردانی شروع کردے۔محرم الحرام کا ایک ماہ حکومت کے پاس سنہری موقعہ ہوگا کہ وہ اپنی خامیوں کا تدارک کرکے بہتری کی جانب پیشرفت کرے۔ علامہ طاہر القادری اور عمران خان سے ہٹ کر اب تو سندھ سے بھی تبدیلوں کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ بلاول بھٹو کی ایک غلطی نے اپنی ہی حکومت کے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کردیاہے اور سندھ کے سیاسی بحران کا نقصان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کو بھی ہوا ہے۔

آصف زرداری اب تک سیاسی بساط پر شطرنج کے سب سے کامیاب کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔گزشتہ دور اقتدار میں ان کی سب چالیں کامیاب ہوئیں۔اقتدار کے آخری ایام میں اسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹر طاہر القادری کی صورت میں’’تُرپ‘‘کا جو پتہ پھینکا ،اس کا توڑبھی انہوں نے اس خوبصورتی سے نکالا کہ سب حیران رہ گئے۔اور پھر اصلاحات کے علمبرداروں کو چکمہ دیکر بروقت الیکشن کرانے میں بھی کامیاب ہو گئے مگر حال ہی میں ان کے بیٹے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر ایسی تقریرکی کہ پوری ملکی سیاست پرلرزہ طاری ہو گیا۔ حتی کہ نوجوان خون نے سندھ میں اپنی اتحادی ایم کیو ایم کو بھی نہ بخشا۔میری اطلاعات کے مطابق بلاول اورآصف زرداری صاحب کے درمیان اب بھی کچھ معاملات پر شدید اختلافات ہیں۔

بلاول کے اسٹاف افسر حشام ریاض شیخ انہیں اردو سکھاتے اور آج کل سیاسی تربیت دے رہے ہیں۔ حتی کہ بلاول جلسوں میں تقاریر بھی حشام ریاض کی مشاورت سے کرتے ہیں۔سانحہ کارساز کی ساتویں برسی کے موقع پر کی گئی تقریر بھی انہی صاحب نے تیار کی تھی اور اس کی حتمی منظور ی آصف زرداری سے نہیں لی گئی تھی۔اس لئے پی پی پی کے لئے بلاول کی تقریر کے بعد مسائل پیدا ہوئے۔بلاول بھٹو قابل نوجوان سیاست دان ہیں۔سب سے بڑھ کر بینظیر بھٹو کے جانشین ہیں۔جن سے آج بھی عوام کی جذباتی و نظریاتی وابستگی ہے مگر بلاول کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جب بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی تو وہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں ڈاکٹر مبشر،مصطفی کھر جیسے افراد کو مشاورت کے لئے ترجیح دیتی تھیںاور ان کے تجربے سے سیکھتی تھیں۔بلاول کو بھی چاہئے کہ اپنی والدہ کے سیاسی نقش قدم پر چلے۔بلاول کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ پی پی پی میں ایک مرتبہ پھر روح پھونک سکتے ہیں۔اپنی سیاسی زندگی کے پہلے بڑے جلسے میں ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور اپنی خالہ صنم بھٹو کے ساتھ ان کی اسٹیج پر آمد نے یہ تو واضح پیغام دے دیا کہ بلاول ہی بھٹو خاندان کی نئے روح رواں ہیں۔ضنم بھٹو اب اس دنیا میںذوالفقار علی بھٹو کی واحد وارث ہیںاور قارئین کی اکثریت آگاہ ہوگی کہ صنم بھٹو نے کبھی سیاسی جلسوں میں شرکت نہیں کی۔

کراچی کے جلسے میں بلاول کے ساتھ ان کی آمد پی پی پی کے جیالوں کے لئے واضح پیغام تھا۔مگر ان سب حقائق سے ہٹ کر بلاول کو تدبر کا مظاہر کرنا چاہئے نہ کہ کوئی غیر سنجیدہ قدم اٹھاکر وہ اپنے لئے مشکلات پیدا کریں۔سندھ حکومت سے ایم کیو ایم کی علیحدگی کے بعد مستقبل قریب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مشکل پیش آئے گی۔پیپلز پارٹی کے ارباب اختیار کی پوری کوشش ہوگی کہ ایم کیو ایم سے تعلقات بحال کئے جائیںکیونکہ زرداری کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ سندھ میں اپنے لئے ایک اور مخالف کھڑا کرلیں۔
ان حالات میں وفاقی حکومت کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے آپ کو مزید مسائل میں الجھانے کے بجائے ان کا حل تلاش کرے۔انقلاب کی آس لگائے اسلام آباد آنے والے آج اپنے گھروں کو تو لوٹ گئے ہیں مگر سونامی خان مٹھی بھر افراد کے ساتھ اب بھی ڈی چوک پر براجمان ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور حالیہ سیاسی بحرانوں سے چھٹکارا نصیب ہو تو بلاتاخیر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت سے حلقہ بندیاں تشکیل دے کر غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کرانے کا فوری اعلان کریں۔عوام کی اکثریت اب کسی ایک فرد کے پاس طاقت کو برداشت نہیں کر تی اور آپ اب تک یہ نہیں سمجھ پارہے۔بہتر ہوگا کہ اختیارات کو جتنا ہوسکتا ہے تقسیم کریں وگرنہ ملک کے ہر کونے سے آنے والی مڈٹرم الیکشن کی صدا زور پکڑ جائے گی اور پھر کوئی اسے روک نہیں پائے گا۔

حذیفہ رحمان
بشکریہ روزنامہ "جنگ

Japanese trekkers climbs the rock-covered Baltoro glacier in the Karakoram

A group of Japanese trekkers climbs the rock-covered Baltoro glacier in the Karakoram mountain range in Pakistan.

The Baltoro glacier in the Karakoram mountain range in Pakistan

Trekkers and porters hike down the Baltoro glacier in the Karakoram mountain range in Pakistan.