Wednesday, December 17, 2014

کرپشن کے خلاف جنگ یا کرپشن میں معاون....ڈاکٹر شاہد حسن



پاکستانی نوجوانوں میں کتب بینی کا کم ہوتا شوق....

پاکستان جیسے ملک میں جہاں کتاب پڑھنے کا کلچر پہلے ہی کم تھا اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے مزید کم ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل لائبریریوں کی جگہ گیمنگ زون اور ہاتھوں میں کتاب کی جگہ موبائل فونز، ٹیبلیٹ، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ تھامے نظر آتی ہے ۔ اگرچہ نجی سطح پر کتب میلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاہم ان میلوں میں بھی نوجوان کتابیں خریدنے سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔ ’’کتاب بہترین دوست ہے‘‘‘ کی پرانی کہاوت کو ٹیکنالوجی کی نئی لہر نے تبدیل کرکے ’ موبائل فون بہترین دوست ‘ میں تبدیل کر دیا ہے، اور وہ نوجوان جو پہلے اپنا وقت کتب بینی میں گزارتے تھے اب وہی وقت جدید آلات اور انٹرنیٹ پر سرفنگ میں ضائع کر رہے ہیں۔

کتب بینی کے رجحان میں کمی کا ایک اہم سبب ہمارا تعلیمی نظام اور تدریسی نظام کی دن بہ دن گرتی ہوئی صورت حال ہے۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سے تعلیم کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس سے کی بدولت کتب بینی کی شرح بھی گرگئی ہے۔ نئی نسل میں کتاب پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے والدین کو بچوں پرخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن افراد کو ان کے والدین نے بچپن میں کتاب پڑھنے کی عادت ڈالی تھی وہ اب تک کتابوں کے رسیا ہیں۔ دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ بات کہنا بالکل غلط ہے کہ کتب بینی کے کلچر میں ٹیکنالوجی کی بدولت کمی واقع ہوئی ہے۔

ایسا ہرگز نہیں ہے بس روایتی طور پر چھپی ہوئی کتاب کی جگہ آپ کے ٹیبلیٹ یا موبائل میں موجود ’ای بک‘ نے لے لی ہے۔ اور اب مسابقت کی اس تیز رفتار دوڑ میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ بازار جاکر اپنا قیمتی وقت اور پیسہ اُس کتاب کو خریدنے پر ضائع کرے جو انٹرنیٹ پر اسے برقی شکل میں مفت اور بہ آسانی دست یاب ہے۔ پاکستان میں کتاب کلچر کے رجحان میں کمی کا سبب عوام خصوصاً نوجوانوں میں کتب بینی کے متعلق شعور کا نہ ہونا اور کتابوں کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ بھی ہے۔
 یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کتابوں کے جو بازار اور دکانیں خریداروں سے بھری رہتی تھی اب اُن پر اکا دُکا گاہک ہی دکھائی دیتے ہیں۔
کتاب کسی بھی معاشرے کو مہذب، تعلیم یافتہ، تحمل مزاج بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور نوجوان نسل میں کتب بینی کی کم ہوتی عادت کے معاشرے پر نہایت غلط اثرات مرتب ہوں گے۔ صدیوں پرانے ختم ہوتے اس کلچر کو ازسرِ نو بحال کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کو کتاب کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرائے، قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے اور نئی لائبریریوں کا قیام عمل میں لائے۔

ترقی یافتہ ممالک نئی نسل کو کتاب کی جانب مائل کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہے ہیں، کچھ مغربی ممالک میں فون بوتھ، عوامی اور تفریحی مقامات پر کتابیں رکھی گئی ہیں، جہاں آنے والے افراد بلامعاوضہ اپنی پسندیدہ کتاب کو پڑ ھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں کتب بینی کے فروغ کے لیے بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔

کتب بینی کے چند فوائد

بہت سے لوگ مطالعے کو محض ایک مشغلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی کئی تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مطالعے کی عادت رکھنے والے افراد میں الزائمر (ایک دماغی بیماری) میں مبتلا ہونے کے امکانات مطالعہ نہ کرنے والے افراد کی نسبت ڈھائی گنا کم ہوتے ہیں۔ ماہر تعلیم  نے اپنے تحقیقی مطالعے میں لکھا ہے کہ باقاعدگی سے کتب بینی کرنے والے افراد نہ صرف روزانہ کوئی نہ کوئی نئی بات سیکھتے ہیں، بل کہ ان کی معلومات اور ذہانت کا معیار بھی دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

محقق کرسٹل رسل اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ مطالعہ آپ کا ذہنی تناؤ ختم کرکے آپ کی پُرسکون فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے۔ اچھی کتاب پڑھنے سے آپ کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ اور سوچنے کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ امریکا کی یونیورسٹی آف بفالو کی تحقیق کے مطابق فکشن بُکس پڑھنے سے دوسروں کی نفسیات کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے ۔ اور آپ بہ آسانی اپنے مخاطب کے احساسات اور جذبات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنا کیوں ضروری ہے؟

٭دن میں 15منٹ کا مطالعہ بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں سالانہ دس لاکھ سے زاید لفظوں کا اضافہ کرسکتا ہے۔

٭آمنے سامنے بیٹھ کر مطالعے کرنے والے بچوں کا آئی کیو لیول دوسرے بچوں کی نسبت 6پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔

٭بنیادی تعلیم حاصل نہ کرنے والے بچوں میں اسکول سے بھاگنے کی شرح مطالعہ کرنے والے بچوں کی نسبت تین سے چار گنا زاید ہوتی ہے۔

٭امریکی محکمۂ تعلیم کے ایک سروے کے مطابق مطالعہ کرنے والے بچوں میں اعتماد، یادداشت اور قائدانہ صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔

مطالعے کی عادت کس طرح ڈالیں

٭وقت متعین کریں: ۔اگر آپ مطالعے کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں تو دن میں کوئی بھی ایک وقت مقرر کریں اور کم از کم دس سے پندرہ منٹ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ آہستہ آہستہ اس دورانیے میں اضافہ کریں ۔

٭کتاب ہمیشہ ساتھ رکھیں: ۔ایک کتاب ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور اگر کہیں آپ کو کسی کا انتظار کرنا پڑے تو اس وقت کو مثبت استعمال کرتے ہوئے مطالعہ شروع کردیں۔

٭ فہرست مرتب کریں: ۔اپنی ان کتابوں کی فہرست مرتب کریں جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اسے چیک کرتے رہیں۔

٭ جگہ منتخب کریں: ۔مطالعے کے لیے گھر کا سب سے آرام دہ گوشہ منتخب کریں ۔ ٹی وی لاؤنج یا کمپیوٹر روم مطالعے کے لیے موزوں تصور نہیں کیے جاتے۔

٭ بچوں کو پڑھائیں: ۔اگر آپ کے بچے ہیں تو انہیں مطالعے کے دوران اپنے ساتھ رکھیں اور کہانیاں سنائیں۔ اس سے بچوں میں پڑھنے کی عادت پختہ ہوتی ہے۔

٭ادبی تقریبات اور لائبریوں کا وزٹ کریں

٭ادبی تقریبات میں شرکت آپ کے مطالعے کو جلا بخشتی ہے۔ اپنے علاقے میں قائم لائبریری کا دورہ کریں اور وہاں آنے والے نئی کتب کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ لائبریری کتابوں کے حصول کا ایک بہترین اور سستا حل ہے۔

سید بابر علی

اب فلسطینی ریاست کا تسلیم کیا جانا لازم ہے....

فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ میں مسلسل پھیلاو کا رجحان ہے۔ فرانس اور سپین کی پارلیمان اس حوالے سے اب تک آواز بلند کرنے والے آخری معتبر فورم ہیں، جنہوں نے اپنی حکومتوں سے سے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ ڈنمارک کے ارکان پارلیمان اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ طے کرنے کے لیے دوریاستی حل تسلیم کیا جائے۔ برطانیہ ، فرانس اور سپین کی پارلیمانوں میں فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ سامنے آچکا ہے۔ یہ رجحان آخر کار سفارتی سطح پر غیر معمولی حد تک پالیسیوں میں تبدیلی کا پیش خیمہ بنے گا۔

حال ہی میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی اٹلی سے تعلق رکھنے والی سربراہ کیتھرائن آشٹن نے پیش گوئی کی ہے کہ ان کی سربراہی کی پانچ سالہ مدت کے دوران ہی فلسطینی ریاست وجود میں آجائے گی۔ اس سے قبل یورپی یونین نے اسرائیل حوالے سے سخت پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ ان میں اس وجہ سے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی شامل ہے، کہ اسرائیل مغربی کنارے میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے سے باز نہیں آرہا ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر اسرائیل کو تنہا کرنے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ایک حقیقی ماحول ہے۔

ماہ اکتوبر میں اسرائیل نے سویڈن سے اپنے سفیر کو اس لیے واپس بلا لیا کہ سویڈن نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل نے ہر اس ملک کے بارے میں جارحانہ انداز جاری رکھا ہوا ہے جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دینے کی بات کی ہے۔ اسرائیل نے آئرلینڈ کےارکان پارلیمنٹ کی طرف سے اس حوالے ووٹ سامنے آنے پر بھی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنی عادت کے مطابق آئر لینڈ کو یہود مخالف بھی قرار دے دیا ہے۔ اس نے اپنا وہی یہود مخالفت کا واویلا کرنے کا استحصالی کارڈ استعمال کیا ہے جو وہ ایک عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اب اسرائیل کی طرف سے ایسا کہنا ایک مذاق محسوس ہوتا ہے ، اس بنیاد پر اب اسرائیل مزید ہمدردیاں حاصل نہیں کر پائے گا۔ بامعنی امن مذاکرات کی ناکامی اور دو ریاستی کوششوں کی ناکامی کے بعد پی ایل او نے بین الاقوامی سطح پر ایک یہودی ریاست کے طور پر اسرائیل کو تنہا کرنے کے لیے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔

پارلیمانی حوالے سے فلسطینی ریاست کے حق میں آنے والے تازہ ترین ووٹ کے بعد فلسطین کے ایک سینئیر حکومتی ذمہ دار کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اقوام متحدہ کی یہودی بستیوں کے بارے میں قرار دادوں کے خلاف کلی طور پر توہین آمیزی پر مبنی ہے۔ غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دو ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان تناو اسرائیلی ہٹ دھرمی کی عکاس ہے۔

اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 135 ارکان کی اکثریت فلسطین اور اسرائیل کے تناظر میں دوریاستی حل کی حمایت کر چکی ہے۔ جبکہ برازیل، ارجنٹینا، میکسیکو سمیت لاطینی امریکا کے زیادہ تر ممالک کی طرف سے بطور خاص فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ آچکے ہیں۔ تاہم امریکی ووٹ نے سلامتی کونسل کو ہمیشہ سے اس معاملے میں بلاک کر رکھا ہے کہ کوئی اس مسئلے کا بامعنی حل نہ نکل آئے۔ امریکا نے ایسی ہر تنظیم کی فنڈنگ روکنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے جو فلسطین کو تسلیم کرنے کی بات کرتی ہو یا فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہو۔ دیر سے ہی سہی ہم سرنگ کے کے کنارے پر بین الاقوامی حمایت کی صورت میں فلسطینی ریاست کے لیے روشنی صاف طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یورپ اور برطانیہ میں یہ احساسات ابھر رہے ہیں کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کا مطالبہ ماننے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کو قید کرنے کے لیے دیوار کھڑی کر دی ہے۔ چھ لاکھ افراد کے لیے بستیوں کی تعمیر، غیر انسانی چیک پوانٹس بنا کر فلسطینیوں کو توہین اور مصائب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کی وجہ سے سب سے زیادہ مصیبت کا شکار فلسطینی خواتین اور بچے ہیں۔ یہ اسرائیل ہی ہے جس کی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا دنیا بھر میں چرچا ہے۔

عرب لیگ اور او آئی سی آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے اپنے موقف کے بارے میں سخت ہیں۔ نومبر 1989 میں عرب لیگ نے پی ایل او کو فلسطینی ریاست کی حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی قرار داد منظور کی تھی۔ تاہم امریکا نے ہمیشہ کی طرح اقوام متحدہ کو دھمکی دے دی کہ اگر اس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرار داد منظور کی تواس کے فنڈز بند کر دیے جائیں گے۔ امریکا نے اقوام متحدہ کو دھمکیاں دینے کے علاوہ یہ کہا کہ عرب لیگ کو اختیار نہیں کہ فلسطین کے حق میں کسی بامعنی قرارداد کے لیے اثر انداز ہو۔ اس کے علی الرغم بہت سے افریقی ، ایشیائی اور مشرقی یورپی ملکوں نے فلسطینی ریاست کو 1988 سے ہی تسلیم کر لیا۔ لیکن جو ممالک اس حوالے سے ہچکچاہٹ میں ہیں انہوں نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ اسرائیلی قبضے کی حمایت کرتے ہیں۔

آج ہر طرف اسرائیلی قبضے کے خلاف آوازیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 135 ارکان نے 30 اکتوبر 2014 کو تسلیم کر لیا ہے۔ جو ملک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے وہ اس کے باوجود پی ایل او کو فلسطینیوں کی نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل ہے جو امریکی یہودیوں کی تنظیموں کی ملی بھگت سے فلسطینیوں کی زمین چوری کر تا ہے، فلسطینیوں کے کھیتوں کو زہریلے مادوں سے آلودہ کرتا ہے اور فلسطینیوں کو شہید کرنے کے لیے امریکی گولیوں کا سہارا لیتا ہے۔ کئی برسوں سے اسرائیل فلسطینی سرزمین کی ڈیموگرافی کے اعتبار سے تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ وہ فلطینیوں کو ان کے مذہبی حقوق سے دیدہ دلیری کے ساتھ محروم کر رہا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں 1967 سے فلسطین سے بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کو ان کا حق واپسی ملنا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یورپ اورپوری دنیا کو کیا کرنا چاہیے ، کیا اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 242 اور 338 کی عملداری دیکھنی چاہیے۔ اسرائیل کو شاہ عبدللہ کی طرف سے 2002 میں پیش کیے گئے امن منصوبے کا جائزہ لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل خطے ہی نہیں پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں نے دنیا بھر میں بہت سے نوجوانوں کو رد عمل کا شکار کر دیا ہے۔ اس لیے وقت ہے کہ ان مظالم کو بند کیا جائے اور امن کو موقع دیا جائے۔

سمر فتانی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...