Tuesday, November 25, 2014

ایک حرف نہ لکھنے والا... سقراط......


اس یونانی فلسفی کی تعلیمات نے دنیا بھرکے معاشروں پرگہرے نقوش مرتب کیے ****** کہا جاتا ہے کہ یونان کے فلسفی سقراط ( 399ق م۔469 ق م)نے خودکبھی ایک حرف بھی نہیں لکھا ،لیکن اس کے کہے لفظوں اور تعلیمات نے معاشرہ پر اتنے گہرے نقوش مرتب کیے کہ وہ یونانی ادب کے اہم ترین مشاہیر کی صف میں جگہ پانے کا مستحق ٹھہرا۔ فلسفہ کی تاریخ میں تو ظاہر ہے اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سقراط کا باپ سنگ تراش اور ماں دایہ تھی۔ دونوں مِل کر جو کماتے تھے وہ ان کی گزربسر کے لیے کافی تھا۔ 

سقراط کو نوجوانی میں کبھی فکرِمعاش لاحق نہ ہوئی۔ اس نے متداول فلسفہ میں درک حاصل کیا۔ ابتدا میں اسے طبیعی فلسفہ سے لگائو تھا جو رفتہ رفتہ بالکل سرد پڑ گیا اور اس کے بجائے یہ معلوم کرنے کی چیٹک لگی کہ زندگی بسر کرنے کی وہ روش کون سی ہے جسے انسانوں کے لیے سب سے مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا۔ وہ اپنے نوجوان شاگردوں سے، جن میں بہت سے ایتھنز کے امیرکبیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے، معاوضہ لینا تو درکنار ان کے پیش کیے ہوئے تحائف قبول کرنے سے بھی ہچکچاتا تھا۔ فوجی مہمات سے قطع نظر، سقراط نے کبھی اپنی مرضی سے ایتھنز سے باہر جانے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ اسے یہ علم بھی نہ تھا کہ شہر کے آس پاس کون کون سے قابلِ دید مقامات ہیں۔ 

اس کے پاس جو تھوڑی بہت جائیداد تھی وہ اس کی بھی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال نہ کر سکا۔ بس وہ ایتھنز میں اِدھر اْدھر گھوم پھر کر لوگوں سے، اعلیٰ ادنیٰ کی تخصیص کے بغیر، ان کے عقائد اور اخلاقی تصورات کے بارے میں سوال جواب کرتا رہتا۔ بحث میں اس کے سامنے کسی کی پیش نہ چلتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی ماں کا پیشہ اپنا لیا ہے اور افکار جنانے کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔سقراط کی زندگی کا ایک تابناک پہلو یہ ہے کہ ان صبرآزما دنوں میں جب پیلوپونے سوسی جنگ میں شکست کے بعد ایتھنز والوں پر جھنجھلاہٹ اور جنون طاری تھا اور انھوں نے اخلاقی اور سیاسی پستیوں کو چْھو لیا تھا اس نے ہر بار، جان ہتھیلی پر رکھ کر، حق و انصاف ہی کا ساتھ دیا۔سقراط پر بعض دفعہ جذب کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی اور وہ پہروں اس میں ڈوبا رہتا تھا۔430 ق م میں ایک فوجی مہم کے دوران وہ ایک صبح سے اگلی صبح تک ایک ہی جگہ، بے حس و حرکت، محویت کے عالم میں کھڑا رہا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ کبھی کبھی ایک غیبی آواز اسے بعض کاموں سے باز رہنے کی تاکید کرتی ہے۔

 ڈیلفی کے مشہور ہاتف کدے (معبد) میں ایک بار کسی نے استفسار کیا کہ آیا کوئی آدمی سقراط سے زیادہ دانش مند ہے۔ جواب ملا: کوئی نہیں۔ اس جواب نے سقراط کو حیرت زدہ کردیا۔ اسے یہ تو یقین تھا کہ اپولودیوتا غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتا، لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ خود دانش کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔اس چیستان کو سمجھنے کے لیے اس نے ان اشخاص سے رجوع کیا جو اہلِ دانش کہلاتے تھے اور معاشرہ کے سبھی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے رہنمائی چاہی۔ پتا آخر کو یہ چلا کہ لوگوں کے ذہن پراگندہ خیالی سے اٹے پڑے ہیں۔ انجامِ کار سقراط اس نتیجے پر پہنچا کہ دیوتا اکیلا ہی دانا و بینا ہے اور اس نے سقراط کی فراست پر صاد کرکے صرف یہ جتایا ہے کہ جس دانائی پر انسانوں کو ناز ہے وہ محض ہیچ و پوچ ہے۔ ہاتف نے سقراط کا نام مثال کے طور پر لیا ہے۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ وہی شخص سب سے دانش مند ہے جو سقراط کی طرح اپنی نادانی اور کم علمی کا فہم رکھتا ہو۔399ق م میں سقراط پر فردِجرم عائد کی گئی کہ وہ نوجوانوں کا اخلاق بگاڑتا رہا ہے اور شہر کے دیوتائوں کے بجائے خود ساختہ خدائوں پر ایمان رکھتا ہے۔ 

استغاثہ نے مطالبہ کیا کہ اسے موت کی سزا دی جائے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایتھنز میں جمہوریت کی بحالی کے بعد عام معافی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ اس لیے مخالفین سقراط پر سیاسی نوعیت کے الزام عائد نہ کرسکے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سقراط پر جو الزامات لگائے گئے تھے وہ بالکل پادرہوا نہیں تھے۔ ارستوفانیس نے اپنے ڈراما ’’بدلیاں‘‘ میں سقراط کو ہوا کی پرستش کرتے دکھایا تھا۔ یہ تسلیم کہ ارستوفانیس نے مبالغہ سے کام لیا ہوگا لیکن کوئی بات ہو تبھی بتنگڑ بنتا ہے۔ لوگوں نے یہ فراموش نہیں کیا تھا کہ سقراط کو کسی زمانے میں طبیعی علوم سے شغف تھا اور طبیعی فلسفیوں کو بالعموم دہریہ سمجھا جاتا تھا۔ دو باتوں نے خاص طور پر اسے بہت نقصان پہنچایا۔ ایک تو اس کا سوال جواب کا طریقِ کار جس سے بڑے بڑوں کا پول کھل جاتا تھا۔ لوگوں کو یہ بات نہایت ناگوار گزرتی تھی کہ کوئی شخص کہے تو یہ کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا اور پھر باتوں باتوں میں اْلٹا انھیں کو کْودن ثابت کردے۔

دوسرے سقراط کے شاگردوں اور ہمدردوں کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ انھیں جمہوریت سے کد ہے۔ اس کے بیشتر شاگرد امیرگھرانوں کے چشم و چراغ ہونے کے ناتے اس تصور کو عزیز رکھتے تھے کہ حکومت کرنے کا حق فقط بالائی طبقہ کے چیدہ چیدہ افراد کو ہے۔ عوام کو صرف کان دبا کر کہنا ماننا چاہیے۔ بدقسمتی سے اس کے دو خاص شاگردوں نے بڑی اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا۔ الکی جاولیس نے پیلوپونے سوسی جنگ کے دوران ایتھنز سے غداری کی۔ ایک اور شاگرد رشید کرائٹس، ان تیس قہرمانوں (Tyrants) میں شامل تھا جنھیں اہلِ سپارٹا نے فتح حاصل کرنے کے بعد ایتھنز پر مسلط کردیا تھا۔ ان قہرمانوں نے شہروالوں پر بڑے ظلم ڈھائے۔

یہ سمجھنے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ سقراط کو خود بھی جمہوریت سے کوئی لگائو نہ تھا اور اس کی تعلیمات نے نوجوانوں کا ایک ایسا گروہ پیدا کردیا تھا جو قانون اور آزادی کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ مزیدبرأں یہ کہ سقراط جرح و قدح کے زور سے بنیادی اصولوں کے پرخچے تو اڑادیتا لیکن ایسے کوئی اصول پیش نہ کرتا جو ان کی جگہ لے سکیں۔ یہ طریقِ کار عام لوگوں کو قطعی طور پر تخریبی معلوم ہوتا تھا۔ اپنی صفائی میں سقراط نے عدالت کے رْوبرْو جو کچھ کہا وہ سب سے مربوط شکل میں افلاطون کی زبانی ہم تک پہنچا ہے۔ اس ’’اعتذار‘‘ میں افلاطون نے اپنی طرف سے کچھ بڑھا یا گھٹا دیا ہو تو عجب نہیں۔ سقراط نے عائدکردہ الزامات کی پْرزور تردید کی اور کہا کہ اگر استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے نوجوانوں کے اخلاق کو بگاڑا ہے تو عدالت میں موجود اس کے سابق شاگردوں یا ان شاگردوں کے باپوں اور بھائیوں کو استغاثہ کی طرف سے گواہی دینے کے لیے طلب کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔

 سقراط نے یہ بھی کہا کہ ’’ایتھنز کے لوگو!، میں تمھارا احترام اور تم سے محبت کرتا ہوں لیکن فرماں برداری میں خدا ہی کی کروں گا، تمھاری نہیں۔‘‘خود سقراط نے تو کچھ نہیں لکھا چناں چہ اہم سوال یہ ہے کہ جن معاصرین نے اس کی شخصیت یا افکار کے حوالے سے اظہارِخیال کیا ہے ان پر کس حد تک تکیہ کرنا جائز ہے؟ اس ضمن میں پہلا نام افلاطون کا ہے جسے سقراط کا شاگرد ِرشید ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کا خاصا امکان ہے کہ ابتدائی افلاطونی مکالمے اچھی بھلی تاریخی سچائی کے حامل ہیں۔بہرحال، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ افلاطون نے بھی سقراط کی وفات کے کئی سال بعد لکھنا شروع کیا تھا۔ البتہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تلمذ کے دوران اہم نکات جستہ جستہ قلم بند کرتا رہا ہو۔ لیکن ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ’’مکالمات‘‘ میں سقراط کہاں پر ختم اور افلاطون کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ دعویٰ تو کسینوفون کو بھی یہی ہے کہ وہ سقراط کے بہت قریب تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بعض اہم شواہد کی روشنی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسینوفون کا ’’منادمہ‘‘ افلاطون کے ’’منادمہ‘‘ کے بعد قلم بند کیا گیا تھا اور افلاطونی تصنیف کا سطحی سا چربہ ہے۔کسینوفون نے اپنی تحریروں میں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ سقراط روایتی مذہبی عقائد اور رسوم پر کاربند تھا، خود بھی روایتی انداز میں نیک آدمی تھا اور دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین کرتا تھا۔ فضول دانشورانہ تجسس کے خلاف تھا۔ مختصر یہ کہ کسینوفون نے سقراط کو ایسا شریف اور معقول آدمی بنا کر پیش کیا ہے جس کے ہر قول و فعل سے بورڑوائی کورذوقی کی بْو آتی ہو۔ 

اگر سقراط ایسا ہوتا تو اس پر مقدمہ ہی کیوں چلایا جاتا! اس خیالی سقراط کی ذہنی سطح اور دل چسپیاں بعینہ وہی ہیں جو خود کسینوفون کی ہیں۔ارسطو نے بھی سقراط کا ذکر کیا ہے، لیکن وہ پیدا ہی سقراط کی وفات کے بعد ہوا تھا اور اسے وہی کچھ معلوم ہوگا جو اس کے استاد افلاطون نے بتایا یا اِدھر اْدھر سے سننے میں آیا۔ ارستوفانیس نے بھی اپنے ڈراما ’’بدلیاں‘‘ میں سقراط کا خاکہ اْڑایا تھا۔اس نے سقراط کو اس طرح پیش کیا تھا جیسے وہ خیالی دنیا میں رہنے والا، خطابت پردازی بگھارنے والا، اخلاق سے بیگانہ، ٹھیٹ سو فسطائی ہو۔ دراصل ارستو فانیس نے نئے انداز کی تعلیم کے خلاف محاذ قائم کر رکھا تھا اور سمجھتا تھا کہ سو فسطائی شرفا کی اولاد کو خراب کر رہے ہیں۔ یہ تاثر عوام الناس کے ذہن سے کبھی زائل نہ ہوسکا۔

 سقراط ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ خود اسے کچھ بھی معلوم نہیں اور اگر وہ دوسروں سے زیادہ عقلمند ہے تو صرف اس اعتبار سے کہ اسے اپنے جہل کا شعور ہے اور دوسرے اپنی لاعلمی سے بے خبر ہیں۔ سقراطی طریقِ کار کا بنیادی نکتہ ہم کلام کو اس بات کا قائل کرنا تھا کہ درحقیقت اسے کچھ بھی معلوم نہیں۔جہل کا اعتراف علم کے حصول کی طرف ایک ناگزیر پہلا قدم تھا کیوں کہ وہ شخص علم حاصل کرنے پر آمادہ ہی کیوں ہوگا جو اس وہم میں مبتلا ہو کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔ سقراط لوگوں سے بات چیت کرکے انھیں یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ وہ محض جاہل بلکہ اجہل ہیں۔ اس لیے تعجب ہی کیا جو وہ نامقبول تھا۔ ایتھنز والے غلطی سے اسے سوفسطائیوں کی قبیل کا آدمی سمجھ بیٹھے،لیکن جب سقراط نے لوگوں سے پوچھ گچھ کی تو ان میں سے کوئی بھی ان صفات کی جامع تعریف نہ کرسکا۔ اب اگر کسی شخص کو عقل مندی یا انصاف یا نیکی کا مطلب ہی معلوم نہ ہو تو وہ کس منہ سے کہے گا کہ عقل مندی یا انصاف سے کام لینا چاہیے یا نیکی کرنی چاہیے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ مختلف آدمی ایک ہی لفظ سے مختلف معنی مراد لیتے ہیں تو پھر وہ ایک دوسرے کا مفہوم خاک سمجھیں گے۔ اس طرح تو ذہنی اور اخلاقی افراتفری پھیل جائے گی۔ سقراط کے ذہن میں یہ مسئلہ بالکل صاف تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ملکہ یا مہارت ہی اصل علم ہے یعنی جو کام کرنا ہو اس کی تمام اْونچ نیچ کا پہلے پتا ہونا چاہیے۔ 

سقراط کو پورا یقین تھا کہ اگر یہ نکتہ انسانوں کے پلّے پڑ جائے تو وہ خودبخود صحیح راستہ چْن لیں گے۔ بقول سقراط، خیر کو سمجھنا خیر کو اپنا لینے کے مترادف ہے۔علم ہی تقویٰ ہے بالکل جیسے اس کا الٹ یعنی بے علمی شر ہے۔ ہر انسان فطری طور پر اپنی بھلائی کا خواہاں ہوتا ہے۔ غلط کام اپنے پائوں پر آپ کلہاڑی مارنے کے مانند ہے۔ پس ثابت ہوا کہ انسان غلط کام صرف بے علمی کی وجہ سے کرتا ہے۔   ٭

ماہر القادری

 

کامیابی کیسے ؟.....برین ایڈمز کی کتاب ’’کامیابی کیسے ؟‘‘ سے ماخوذ


آپ کی پیدائش آپ کی آزادی کا زندہ ثبوت ہے۔ ایک انسان آزادانہ رائے دہی کا مالک ہوتا ہے۔ آپ کے پاس اپنی ذات سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا موقع ہے جس کی مدد سے آپ اپنی زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ آپ کا آخری فیصلہ آپ کے ذہن کے عروج کو ظاہر کرتا ہے۔ اب یہ وقت بتائے گا کہ آپ کامیاب ہوں گے یا ناکامی کا سامنا کریں گے۔ کوئی انسان آپ کے لیے کامیابی حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا ہے یہ ایک سست عمل ہوتا ہے جو آپ کو خود کرنا ہے جب آپ دوسروں کی کوششوں اور نظریات کے سہارے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت آپ اپنی شخصی صلاحیتوں کی نفی کرتے ہیں اور آپ کا منزل کو پانے کا یہ انداز ایک سطحی کوشش ہے جس کی بنیادیں کھوکھلی ہوں گی۔

 یہ سچ ہے کہ ہر انسان دوسروں پر رعب جمانے کا خواہشمند ہوتا ہے ہر کوئی سب کا منظورِ نظر بننا چاہتا ہے۔ درحقیقت دوسروں میں نمایاں ہونے سے آپ بہت جلد سب کی نظروں میں اہم بن جاتے ہیں۔ شاید اسی طرح آپ اپنی شخصیت پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ سب کے سامنے اپنی شخصیت کا رعب و دبدبہ کسی طرح قائم کیا جائے اس سلسلے میں ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات پر پورا یقین رکھیں اور اپنی قابلیت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنی راہنمائی کریں ایک بات ذہن میں بٹھا لیجئے کہ صرف آپ کی قوتِ ارادی اور بلند حوصلہ آپ کے دماغ کے صحیح استعمال میں مددگار ثابت ہوں گے۔ 

جس کی بدولت آپ اپنی قسمت کو بدل سکتے ہیں۔ آپ کی کامیابی کی مثال اس کھیتی کی ہے جس کی سنہری فصل کو آپ اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور مداومت عمل سے کاٹ سکتے ہیں۔ آپ کو اپنے شعور اور لاشعور کی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔ ہر انسان ایک صحتمند، خوشحال اور مستحکم زندگی کا خواہشمند ہوتا ہے جس کے لیے اسے صحیح انداز اپنانا ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اپنی غلط سوچ اور دماغی صلاحیتوں کے غلط استعمال کے ذریعے کامیاب ہو جاتے ہیں۔  

آپ کی پیدائش کا مقصد کامیابی کا حصول ہے۔ آپ کی کامیابی کا انحصار آپ کی تخلیقی صلاحیتوں پر ہے۔ کیونکہ آپ کے بولنے کی صلاحیتیں آپ کی خواہشات کی گہرائی اور اس کی بنیادوں کو مستحکم بنانے کے لیے کافی ہیں۔ 

آپ اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب آپ میں ایمان کی طاقت آ جاتی ہے۔ یہ کوئی ایک دن کی بات یا چند لمحوں کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی خوبی ہے جس کا آپ میں ہونا ضروری ہے اس لیے آپ کو ایک کامیاب زندگی کے حصول کے لیے ایمان کی دولت کو پانا ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی جنگیں پختہ ایمان کی بدولت جیتی گئی ہیں۔ 

آپ صحت، خوشی اور کامیابی کا انتظار مت کیجئے۔ آپ ابھی اچھی صحت،خوشیوں اور خوشحالی کو پانے کی خواہش ظاہر کیجئے۔ ہر دن تازہ دم رہیے اور زندگی کو بھرپور انداز میں گزاریں اور ہمیشہ بلند عزائم کے ساتھ اچھے مستقبل کی آرزو کیجئے۔ -4قدرت نے انسانی نظامِ حیات کی تشکیل بہت سوچ سمجھ کر کی ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب زندگی کا انحصار بہترین حکمتِ عملی پر منحصر ہے اسے قسمت کے سہارے چھوڑنا بے وقوفی ہو گی۔ اپنی زندگی کو بہتر منصوبہ بندی کی مدد سے منظم کیجئے اپنے عزائم کو موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق بلند کیجئے۔

 آپ سب سے جدا ہیں۔ کوئی بھی شخص آپ کی طرح نہ تو سوچ سکتا ہے اور نہ آپ کی طرح کوئی کام کر سکتا ہے۔ ہر کام کی تخلیق میں حصہ لیجئے اور دوسروں کی نقل اتارنے کے بجائے ایک رہنماکی حیثیت سے آگے بڑھئے تاکہ سب آپ کی نقل اتاریں۔

 اپنی شخصیت میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیجئے۔ اس کامیاب شخصیت کے بارے میں لکھیے جو آپ بننا چاہتے ہیں۔

  آپ اپنے گھر میں معیاری کتب کی ایک لائبریری بنایئے کتابیں علم کا ذریعہ ہیں اور آپ کو کامیابی کو پانے کے لیے علم حاصل کرنا ہے۔ آپ کو ہر قسم کی معلومات ہونی چاہیے۔ 

برین ایڈمز کی کتاب ’’کامیابی کیسے ؟‘‘ سے ماخوذ ٭

تھر پار کر میں کیا قیامت بپا ہے ؟.....




محروم پاکستان، حکمران اور میڈیا.....


سب سے پہلے گلگت بلتستان سے ایک قاری کے تفصیلی خط کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے ۔ لکھتے ہیں :
محترمِ ! پاکستان کے صف اول کے تمام لکھاریوں کا یہ المیہ ہے کہ انہوں نے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر میرے پیارے علاقہ( گلگت بلتستان) کو نظرانداز کیا ہوا ہے۔ پہلے یہ شکایت ہمیں صرف حکومت پاکستان سے ہوا کرتی تھی مگر اب یہ شکایت سب سے زیادہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے ہے۔ یہ حقیقت جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ سینکڑوں ٹی وی چینلوں میں سے کسی ایک نے بھی گلگت بلتستان میں اپنا دفتر نہیں کھولا اور نہ ہی کوئی نمائندہ رکھاہے۔ اگر کسی ایک یادو چینل نے نمائندہ رکھا بھی ہے تو ان کی رپورٹنگ اور کوریج نہ ہونے کے برابرہے۔ یہی حشر تمام صف اول کے اخباروں کا ہے۔ صرف رپورٹر کی حد تک دو چار لوگ ہیں جن کی بھی دو چار مہینوں میں ایک دو کالمی خبر لگتی ہے اور بس۔صرف ایک اخبارگزشتہ دو سال سے یہاں سے شائع ہوتا ہے۔ آپ کا اخبار یعنی روزنامہ جنگ بھی گزشتہ ستر سال سے اس علاقے کو نظرانداز کرتا آرہا ہے۔ قومی اخبارات میں پورے صوبہ گلگت بلتستان سے ایک بھی نمائندہ لکھاری ہے اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل میں اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے علاقے کا کوئی میزبان /اینکر پرسن ہے۔ جب بھی کوئی صف اول کا کالم نگار پاکستان کے حدود اربعہ کی مثالیں دے کر لوگوں کو سمجھاتا ہے تو وہ گلگت بلتستان نظر انداز کر دیتا ہے۔ آخر کیوں؟

محترم صافی صاحب: گلگت بلتستان کی محرومیوں کے حوالے سے میرے پاس بہت کچھ کہنے کو ہے مگر المیہ یہ ہے کہ آپ جیسے ابلاغی بادشاہوں اور ارباب بست و کشاد اور صاحبان فکر و نظر کے پاس ہمارے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ ہم ہزار قسم کی محرومیوں کا شکار ہیں۔ مذہبی کشیدگی روزکا معمول ہے۔ کرپشن اور اقرباء پروری یہاں کار ثواب سمجھ کر کی جاتی ہے۔ ان تمام مسائل دکھوں اور محرومیوں سے صَرف نظر کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی آئینی صورت حال کے حوالے سے چند بے ربط باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں اور امید ضرور کرتا ہوں مگر یقین نہیں‘ کہ ایک گلگتی کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ آپ کے کالم میں جگہ پالیں گے۔

گلگت بلتستان جو نصف صدی سے زیادہ عرصے میں شمالی علاقہ جات کے نا م سے معروف تھا‘ ایک حساس علاقہ ہے۔یہ خطہ جغرافیائی اور دفاعی و سیاحتی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اور آج کل مذہبی کشیدگی اور قتل وغارت کے اعتبارسے بھی دنیا بھر میں اپنا ’’ منفرد‘‘ مقام رکھتا ہے۔تقسیم ہند کے دوران ریڈکلف اوروائسرے ہندکی بددیانتی کی وجہ سے آزاد کشمیر ‘جموں کشمیرکے ساتھ یہ علاقہ بھی ہنوزمختلف النوع مسائل کا شکار ہے۔ 16مارچ 1946 ء میں جب معاہدہ امرتسرہوا اور برٹش انڈیا(برطانوی ہند)نے ریاست جموں و کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کو75 لاکھشاہی نانک (روپے) کے عوض فروخت کیا تو ریاست جموں و کشمیر میں شمالی علاقہ جات (یعنی گلگت بلتستان ) بھی شامل تھے ۔پاکستان کے زیرانتظام علاقوں میں شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر ہیں۔
انتظامی دشواریوں کی وجہ سے آزادکشمیر کی قیادت نے معاہدہ کراچی (28 اپریل 1949) کے ذریعے گلگت بلتستان کو وفاق کے حوالہ کیا۔ آزاد کشمیر کو 74ء کے ایکٹ کے ذریعے کچھ آئینی صورت دی گئی، اس وقت کی حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیرکی عالمی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیریوں کو یہ حقوق دیے تھے ‘ اس دور میں وہ اس سے خوش تھے جبکہ آج کشمیری قیادت بھی اس میں اصلاحات چاہتی ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان کو مختلف ادوار میں مختلف اصلاحاتی پیکج دیے گئے ۔ جن میں سیلف امپاورمنٹ اینڈ گورننس آرڈر 2009ء کافی مشہور اور آج کل نافذالعمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں ہر اعتبارسے یہ تمام پیکج ناکام ہوچکے ہیں۔ ہمیں ایک ایسےپیکج کی ضرورت ہے جو ہماری محرومیوں کا ازالہ کرسکے اور مجھے میری شناخت دے سکے۔آج تک گلگت بلتستان کے لوگ یہ فیصلہ کرنے سے عاری اور نابلد ہیں کہ آخر وہ کون ہیں؟ ان کی شناخت کیا ہے؟ کیاوہ صرف شناختی کارڈ کی حد تک پاکستانی ہیں یا پھر واقعی پاکستانی؟ اگر واقعی پاکستانی شہری ہیں تو پھر دوسرے پاکستانی شہریوں کی طرح ہمارے ہاں بھی الیکشن کیوں نہیں ہوتے؟

بہر صورت یہ نکتہ سب سے اہم ہے کہ ماضی میں جتنے بھی اصلاحاتی پیکیج دیے گئے ہیں وہ سب چند مخصوص افراد کو نوازنے کے لیے ترتیب دئیے گئے تھے۔ گلگت بلتستان کے غریب عوام کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر یہ پیکج نہیں دیے گئے تھے جس کی وجہ سے یہ تمام پیکج بری طرح ناکام و نامراد ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک ایساپیکج چاہیے کہ جو گلگت بلتستان کے تمام عوام، سیاسی و مذہبی پارٹیوں اور تمام مسالک کے لوگوں کے لیے قابل قبول بھی ہو اور اس کا نفاذ بھی عملی طور پر ممکن ہو تاکہ ہم بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح سر اٹھا کر جی سکیں اور ببانگ دہل یہ کہہ سکیں کہ ہم بھی پہچان اور شناخت رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہماری ان محرومیوں میں پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا بھی برابر کا شریک ہے۔ وہ اگر ہمیں ہمارا حق نہیں دیتے تو آپ حضرات ہماری بات ، آہیں، آرزوئیں، محرومیوں اور دیگر مسائل کو اصحاب اقتدار کی راہ داریوں تک نہیں پہنچاتے۔ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم لوگ بھی برابر کے قصور وار ہیں۔ ہمارے گلگتی حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں میں غرق ہے اور ہم عوام مذہبی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ تو پھر ہم کسی اور کو کیا گلہ کر سکتے ہیں۔
والسلام مع الاکرام: امیرجان حقانی ؔ
لیکچرر: ایف جی ڈگری کالج گلگت ، گلگت بلتستان

یہ صرف ایک جھلک ہے ان محرومیوں کی جن کے اس وقت چند شہری علاقوں کو چھوڑ کر باقی پاکستانی شکار ہیں ۔ حکمران طبقات انصاف سے کام لیتے تو یہ محرومیاں جنم نہ لیتیں لیکن بدقسمتی سے وہ میڈیا جس کا کام محروم علاقوں کی محرومیوں سے حکمرانوں اور خوشحال طبقات یا علاقوں کو آگاہ کرنا تھا‘ بھی اس مرض کا شکار ہوگیا ہے۔گلگت بلتستان والوں کی طرح یہی شکایت میڈیا سے بلوچستان کے لوگوں کو بھی ہے‘ اندرون سندھ کے مظلوموں کو بھی‘ جنوبی پنجاب کے محروموں کو بھی ‘ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے پختونوں کو بھی اور غیور کشمیریوں کو بھی ۔ پاکستانی میڈیا عملاً تین بڑے شہروں کا نمائندہ میڈیا بن گیا ۔ مذکورہ محروم علاقوں میں سوانسانوں کی ہلاکتوں کو وہ کوریج نہیں ملتی جو تین بڑے شہروں میں تین انسانوں کے قتل کو ملتی ہے ۔ 

ان تین شہروں میں ڈبل سواری پر پابندی تو بریکنگ نیوز بن جاتی ہے لیکن محروم پاکستان میں مہینوں مہینوں کے کرفیو کی خبر کو ٹی وی میں جگہ ملتی ہے اور نہ اخبار میں ۔

ان تین شہروں میں پولیس کے ہاتھوں کاروں کا چالان تو خبر بن جاتاہے لیکن محروم پاکستان میں جیٹ طیاروں سے بمباری خبر نہیں بنتی ۔ سب سے زیادہ ظلم یہ ہے کہ ان علاقوں کے بڑے بڑے دانشوروں کو میڈیا کی عدم توجہی کی وجہ سے ان کے علاقوں سے باہر کوئی جانتا تک نہیں لیکن ان تین شہروں میں مقیم سلیم صافی جیسے ادنیٰ طالب علموں کو بھی پاکستان کی نمائندگی کے لئے عالمی فورمز پر بلایا جاتا ہے ۔ اور تو اور اب تو محروم پاکستان میں مقیم سینئر ‘ تجربہ کار اور قربانیاں دینے والے صحافیوں کی صحیح خبروں اور تجزیوں کو تو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن ان تین شہروں کا کم وبیش ہر رپورٹر ‘ ہر موضوع پر بولنے والا سینئر تجزیہ کار بن گیا ہے ۔ان تین شہروں میں کام کرنے والے اینکرز اور کالم نگار لاکھوں میں تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ محروم پاکستان کے ٹی وی رپورٹرز کو اپنے ادارے کی طرف سے تنخواہ تو کیا کیمرہ تک مہیا نہیں کیا جاتا ۔ جس طرح اس ملک کی سیاست کا سرپیر معلوم نہیں‘ اسی طرح اب صحافت بھی بے سمت بن گئی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ محروم پاکستان کب تک انتظار کرتا اور تماشہ دیکھتا رہے گا۔ کیا حکمران طبقات کی طرح میڈیا کو بھی اس وقت کا انتظار ہے کہ ان محروم علاقوں کے محب وطن اور پرامن عوام بندوق برداروں کی طرح بندوق کے زور سے اپنی طرف متوجہ کریں۔

سلیم صافی
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ