Saturday, February 13, 2016

کوہاٹ کے بعد پشاور میں بھی ویلنٹائن ڈے کی مخالفت

پشاور میں ضلعی حکومت نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی کے لیے قرارداد منظور کر لی ہے جبکہ ضلع کوہاٹ کے ناظم پہلے ہی شہر میں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔

ضلع کونسل ہال میں منعقد ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی رکن خالد وقاص چمکنی کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ’ایک مخصوص طبقہ ویلنٹائن ڈے کے نام پر یہاں تہذیب اور اقدار کو پامال کر کے بے حیائی اور بے شرمی پھیلانا چاہتا ہے،‘ اس لیے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگائی جائے۔
یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر دی گئی ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ اس قرار داد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور  

Friday, February 12, 2016

یہ ویلنٹائن ڈے اور ہماری تہذیب

ہمارے جو پیارے اور دوست بیرونی ممالک میں رہائش پذیر ہیں، وہ بہت غصے میں ہیں اور فیس بُک پر اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں، ہمارے بہت ہی اچھے دوست ہمراز احسن تو برہم ہیں کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کی اطلاع تو یہ ہے کہ ایسا لاہور میں بھی ہوا ہے، حالانکہ اسلام آباد کے سوا کسی اور شہر کے حوالے سے ایسی کوئی خبر تاحال نہیں۔

 احسن کا خیال ہے کہ یہ ایک سماجی رسم ہے اور اگر سال میں ایک دن ایسا ہو کہ عزیز و اقارب اور دوست ایک دوسرے کو پیار اور محبت سے تحفہ دے دیں تو اس سے معاشرے میں اخلاق اور محبت ہی تو بڑھے گی اور تعلقات بھی خوشگوار ہوں گے۔ اس کا مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں، دوسری طرف ہمارے دین دار بھائی ہیں جو اسے سرا سر خلاف دین اور اخلاق سے دور جانتے اور ناراض ہو رہے ہیں، ان کے مطابق یہ ایک یہودی کو غلط حرکت پر خراج تحسین پیش کرنے کا دن اور اس کے علاوہ نوجوان بگاڑ کی طرف جاتے ہیں۔

اگر دونوں موقف ہی سنے جائیں ، پڑھے جائیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے سامنے انتہاپر ہیں، ہمیں اس سے غرض نہیں، اور نہ ہی ہم اتنے بڑے فاضل اور عالم ہیں کہ اس سب کا تاریخی پس منظر تلاش کرتے پھریں اور نہ ہی ہم فتویٰ گر ہیں کہ ایک دم سے کفر تک چلے جائیں تاہم سماج اور معاشرے کے حوالے سے تو بات کی جا سکتی ہے۔
 ہمارے’’مغربی پاکستانی‘‘ دوست جہاں رہتے ہیں، وہاں کی تہذیب اور ہماری مشرقی تہذیب اور رہن سہن میں فرق واضح ہے جو ان کو بھی معلوم ہے، ہم اس جھگڑے میں بھی نہیں پڑتے ہم تو سیدھا سادا سوال خود سے کر لیتے ہیں کہ کیا یہ دن یہاں منایا جاتا تھا، اور ہم لاہوریوں کے لئے ایسے ہی تہوار رہ گئے ہیں، ہمارے اپنے تہوار کیا ہوئے؟ لاہور کے بارے میں کہا جاتا تھا ’’سات دن اورآٹھ میلے‘‘۔

اب اس پر مزید بات کرنے سے پہلے بعض جدید سہولتوں کی قباحتوں(اچھائیاں اپنی جگہ) کا ذکر ہو جائے، آئی ٹی کے مفید استعمال کا مسئلہ اپنی جگہ ہے، لیکن ہمارے یہاں اسے جس برے انداز سے استعمال کیا جا رہا ہے وہ والدین اور شہریوں کے لئے وبالِ جان بنا ہوا ہے، پہلی بات تو یہ کہ نوجوان نسل اسے معلومات کی بجائے اچھی اور بری تفریح کے لئے استعمال کر رہی ہے، پھر یہ سماجی برائی بھی بن چکا۔

 اب فیس بٍک وغیرہ ہی دیکھ لیں تو غیر شائستہ، غیر مہذب اور غلیظ نوعیت کی گفتگو سے توہین تک جاری ہے، شرمناک ویڈیو لوڈ کر دی جاتی ہیں، پھر یہ ذریعہ بلیک میلنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے، جبکہ دہشت گردی اور جرائم پیشہ لوگ فراڈ اور جرم کے لئے سہارا لیتے ہیں۔

اب ذرا اصل مسئلے کی بات کر لیں، کل (اتوار) 14فروری اور یہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ہے جسے یہاں خلوص، محبت اور پیار کا اظہار قرار دے کر شروع کر دیا گیا۔ یہ معلوم نہیں کہ یہاں شروع کرنے والا کون تھا اور کب، کس طریقے سے آغاز ہوا۔ بہرحال اسے خلوص کا ذریعہ بنا کر پیش کیا گیا، جیسے مدر ڈے اور فادر ڈے بھی مغرب کی درآمد ہیں،یہاں بھی رواج پا گئے کہ ان میں کوئی برائی نہیں پائی جاتی۔ 

تاہم یہ جو اظہار خلوص کا دن کہا جا رہا ہے یہ تو اظہارِ محبت، بلکہ اظہارِ عشق کا ذریعہ بن گیا، ہمارے مشرقی ادب میں پھول پیش کرنے کا جو مطلب ہے وہ ہمارے، ’’مغربی پاکستانی دوست‘‘ خوب جانتے ہیں کہ وہ خود بھی ادیب ہیں، اور اگر یہ دو محبت والے دِلوں کے لئے تبادلہ اظہار ہی کا ذریعہ ہے تو پھر یہ کس سماج کا ہے، تاہم یہاں تو اب  بنا لیا گیا اور گلاب کے پھول اور گلاب کی کلیاں یہاں نوجوان نسل کی طرف سے بچیوں کو پریشان کرنے کا ذریعہ ہیں۔

 آج کل کی نوجوان نسل کیا خوب ہے کہ اپنے گھر میں بھی گلاب لاتے، والد، والدہ اور بہنوں کو خلوص کا تحفہ دیتے ہیں تو پھر کسی ’’اور‘‘ کو چھیڑنے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں۔ یوں یہاں جو تم پیزار بھی ہو جاتی ہے اور اس طرح ایک نئی تہذیب بھی بننے لگی ہے، اس لئے ٹھنڈے دل سے غور کر کے بتا دیجئے کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔

جہاں تک اسلام آباد میں پابندی کا سوال ہے تو اس کا مذہب سے نہیں،تہذیب اور امن و امان سے تعلق ہے کہ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے، وہاں غیر ملکیوں کی معتدبہ تعداد ہے، ان میں سے اکثریت یہ دن مناتی ہے، لیکن یہ سب وہ اپنے دائرہ کار کے اندر کرتے ہیں، عام پبلک مقامات پر نہیں، لیکن ہمارے’’دیسی صاحب‘‘ اور ان کی نسل کوچہ و بازار کو بازیچہ اطفال بنا لیتے ہیں، اس سے تنازعات ہوتے اور جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں، جو یقیناًحالات حاضرہ میں امن و امان کے حوالے سے کوئی اچھی بات نہیں، غیر ملکی اپنے رواج کے طور پر اپنے دفاتر یا رہائش گاہوں پر یہ سب کریں گے، سڑکوں پر ہلا گلا نہیں ہو گا توکوئی خطرناک صورت بھی پیدا نہیں ہو گی۔

ہم نے اس کے سماجی اور اخلاقی پہلو پر بات کی، اب ذرا ان حضرات سے بھی ایک سوال ہے جو ایسی رسوم کو قبیح جان کر دینی حوالے سے کفر بنا لیتے ہیں اور آج اقتدار کے سنگھاسن پر بھی براجمان ہیں، کیا یہ حضرات بتا سکیں گے کہ ہمارے مُلک میں ہماری اپنی تہذیب، روایت اور معاشرت کے مطابق ہماری نوجوان نسل کو جو تفریح حاصل تھی وہ اب کہاں ہے؟ وہ میلے ٹھیلے کیا ہوئے، جہاں بندر کا تماشہ اور مداری کھیل دکھاتے، کھانے پینے کے سٹال اور کھلونوں کی دکانیں ہوتیں، یہاں مختلف کھیل (کبڈی اور کُشتی) کھیلے جاتے۔ 

یوں نوجوانوں کو تفریح کے مواقع ملتے تھے، پھر باغات اور کھیل کے میدان بھی بہت تھے، جو اب قبضہ گروپوں کی مہربانی سے نا پیدا ہو گئے، سب سے بڑا قبضہ گروپ تو خود حکومت ہے، جو ترقیاتی کاموں کے نام پر عوامی مقامات کو شامل منصوبہ کر لیتے ہیں، لیکن متبادل انتظام نہیں کیا جاتا، نئی نئی ہاؤسنگ کالونیاں بنیں، تفریح اور کھیل کی گنجائش نہیں رکھی گئی، حتیٰ کہ قبرستان تک کی جگہ مختص نہیں کی جاتی، بلکہ ایسے بھی ماہرین ہیں جو رہائشی کالونیوں میں کھیل کے میدان اور پارکوں کی جگہ مختص کرتے ہیں اور جب یہ رہائشی سکیم چل نکلتی ہے تو یہ پلاٹ بنا کر بیچ کھاتے ہیں، تمام پہلوؤں پر غور لازم ہے، ایسی جدید ’’نام نہاد تفریحات‘‘ کو روکنا ہے تو اپنے سماجی پہلوؤں کے حوالے سے نوجوانوں کو مکمل تفریح عنایت فرما دیں، اللہ بھلا کرے گا، اپنے ’’مغربی پاکستانی‘‘دوستوں سے بہت معذرت کہ کسی کا دِل نہ دکھے۔

چوہدری خادم  حسین

اپنے عہد کا باغی سائنسدان … کوپر نیکس

صدیوں تک انسان یہی سمجھتا چلا آیا تھا کہ زمین ہی کائنات کا مرکز ہے اور سورج چاند ستارے سبھی زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ سب سے پہلے کوپرنیکس نے اس خیال کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ سورج کے گرد گھومتی ہے جبکہ دوسرے سیارے بھی زمین کی طرح سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ نکولس کوپرنیکس 1473ء میں پولینڈ میں پیدا ہوئے۔

 ان کے والدین تاجر تھے جن کا مذہب سے گہرا تعلق تھا۔ اس زمانے میں سائنس پر کلیسا کا اثر تھا اور کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کو مذہبی تصورات سے روگردانی سمجھا جاتا تھا۔ ان حالات میں آزادانہ ذہن کے ساتھ سائنسی مسائل پر سوچنا آسان نہیں تھا مگر کوپرنیکس اسی سمت میں روانہ ہو گئے۔ انہیں سورج، زمین اور چاند ستاروں کی حقیقت جاننے کا شوق تھا۔

اس زمانے میں دوربین نہیں تھی، اس لیے کوپرنیکس نے ریاضیاتی قوانین کے سہارے تحقیق شروع کر دی۔ اس زمانے میں مشہور مصری ماہرفلکیات و ریاضی بطلیموس کے تیار کردہ نظام فلکیات پر یقین کیا جاتا تھا۔ کوپرنیکس کو بطلیموس کے نظریات میں بہت سی خامیاں دکھائی دیں۔ انہوں نے قرار دیا کہ ستاروں کے مقامات کی تبدیلی، رات، دن اور موسموں کی وضاحت زمین کی گردش سے ہی ہوتی ہے۔ کوپرنیکس نے تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ زمین سیاروں کے گروہ میں ایک سیارہ ہے۔ 

ان سیاروں کا مرکز سورج ہے اور سبھی سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ زمین اپنے محور پر ایک دن میں ایک چکر لگاتی ہے اور سورج کے گرد اس کا ایک چکر بارہ ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ کوپرنیکس نے اپنی تمام زندگی اسی تحقیق میں صرف کر دی۔ وہ اپنے خیالات تحریری صورت میں جمع کرتے رہے جنہیں وہ اپنے قریبی اور سمجھ دار دوستوں پر ہی ظاہر کرتے تھے۔عمر کے آخری حصے میں کوپرنیکس اپنے نظریات کی صداقت کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے۔ 

بااعتماد دوستوں کے اصرار پر انہوں نے اپنے خیالات کتابی صورت میں شائع کروا دیے۔جب کتاب شائع ہوئی تو کوپرنیکس بستر مرگ پر تھے۔ یہ اس دور میں دھماکا خیز کتاب ثابت ہوئی جس کے مندرجات اس قدر حیران کن تھے کہ بہت سے لوگوں نے کوپرنیکس کو پاگل قرار دے دیا۔ 1543ء میں کوپرنیکس انتقال کر گئے۔ ان کی تحقیق نے سائنس دانوں کو غوروفکر پر مجبور کیا اور بہت جلد انسان نے بطلیموس کے مقابلے میں کوپرنیکس کی صداقت تسلیم کر لی۔ 

 

Thursday, February 11, 2016

ورلڈ ٹی 20، پاکستان کے میچ کہاں ہوں گے؟

آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کے شیڈیول کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 19 مارچ کو کھیلا جائے گا
آئی سی سی ورلڈ ٹی20 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرکت کا فیصلہ ابھی نہیں ہو سکا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی خدشات کے سبب پاکستانی ٹیم بھارت نہ جا سکی تو ممکن ہے کہ اس کے میچز کسی تیسرے ملک میں ہوں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ بھارت میں پاکستانیوں کے بارے میں پائے جانے والے سخت جذبات کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ورلڈ ٹی20 میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کو حکومت پاکستان کی اجازت سے مشروط کر رکھا ہے۔
شہریارخان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے حالیہ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم سکیورٹی خدشات کے سبب بھارت نہیں جاتی تو پھر یہ تجویز پیش کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے میچ کسی نیوٹرل مقام پر کرائے جا سکتے ہیں۔ یہ مقام متحدہ عرب امارات یا سری لنکا ہو سکتا ہے۔

شہریار خان نے کہا کہ وہ اس قسم کی ہر تجویز کا خیرمقدم کریں گے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے ایونٹ میں حصہ لینا چاہتا ہے، تاہم ٹیم کی شرکت کا انحصار حکومت کی اجازت پر ہو گا اور حکومت ہی آئی سی سی کو بتائے گی کہ خدشات کیا ہیں۔
 چیئرمین پی سی بی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت میں پاکستان کے سکیورٹی خدشات عمومی نہیں ہیں بلکہ اس کا براہ راست ہدف پاکستان ہے اور انھوں نے تمام خدشات سے آئی سی سی کے اجلاس کے شرکا کو مطلع کر دیا ہے۔
شہریارخان نے کہا کہ ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کرکٹ سے مختلف ہے کیونکہ کرکٹ دوسرے کھیلوں سے بہت بڑا کھیل ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کے لیے پاکستانی سکواڈ کے اعلان میں تاخیر کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اعلان کر دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید سلیکٹر پی ایس ایل کے مزید ایک دو میچوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے انھوں نے آئی سی سی سے مہلت مانگی ہے، لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، صرف ایک دو میچوں کی وجہ سے سکواڈ میں ردوبدل نہیں کرنا چاہیے اور سکواڈ کی حتمی فہرست ان تک پہنچ چکی ہے جس کا فوراً اعلان کر دینا چاہیے۔

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی