Saturday, August 30, 2014

غزہ جنگ میں اسرائیل ناکام، حماس فاتح......رابرٹ فسک




اگرچہ یہ کوئی زبردست کامیابی نہیں مگر پھر بھی غزہ میں فلسطینی جشن منا رہے ہیں، منگل کی رات جب غزہ کی فضاﺅں پر پر آتش بازی کا مظاہرہ ہورہا تھا تو عالمی میڈیا کے بیشتر صحافی اپنے سروں کو ہلا رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ 2100 سے زائد ہلاکتوں جن میں سترہ سو کے قریب عام شہری تھی، اور ایک لاکھ زخمیوں کے باوجود یہ اتنے خوش کیوں ہیں؟ کیا قتل عام روکنے پر؟ یا امن پر؟

نہیں، درحقیقت حماس برا، خوفناک ، دہشت گرد حماس جس سے "ہم" (مغرب، ٹونی بلیئر، اسرائیل، امریکہ اور تمام قابل احترام مرد و خواتین) سے بات نہیں کرتے، فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
اسرائیل کہتا تھا کہ اسے غیرمسلح ہونا ہوگا، مگر وہ غیر مسلح نہیں ہوئی، اسرائیل کا کہنا تھا کہ اسے جڑ سے مٹا دیں گے، مگر ان کا خاتمہ نظر نہیں آرہا۔
اسرائیل دعویٰ کرتا تھا کہ تمام سرنگوں کو تباہ کردیا جائے گا مگر ایسا بھی نہیں ہوا۔

تمام راکٹوں کو قبضے میں لینا ہوگا مگر ایسا بھی نہیں ہوسکا، تو 65 اسرائیلی فوجی مارے گئے مگر کس لیے؟ پس منظر میں خاموشی سے حماس (اور اسلامک جہاد) کی سیاسی قیادت جو اسرائیل، امریکہ اور مصر کو پسند نہیں، نے قاہرہ میں " امن" مذاکرات میں حصة لیا۔

اسرائیل میں کوئی جشن نہیں مانایا جارہا ہے، بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت جو ایک بار پھر فتح کے دعوے کرتے ہوئے جنگ کے میدان میں کودی اور اس کا اختتام دوبارہ جنگ بندی کے ساتھ کیا، جیسا 2009 اور 2012 کی غزہ جنگوں کے دوران کیا۔

کہا جاسکتا ہے کہ میدان میں اسرائیلی فاتح رہے، کیونکہ تمام جانوں کا ضیاع، عمارتوں اور انفراسٹرکچر کی تباہی اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ فلسطینی جنگ کے میدان میں " غالب" رہے، مگرحکمت عملی کے میدان میں فلسطینی میدان مارنے میں کامیاب رہے۔

وہ ابھی بھی غزہ میں ہیں، حماس تاحال غزہ میں ہے اور فلسطینی اتھارٹی اور حماس کی اتحادی حکومت بھی حقیقت نظر آتی ہے۔
متعدد بار یہ کہا گیا کہ اسرائیلی ریاست کے بانیوں کو ایک مسئلے کا سامنا ہے، ایک سرزمین جسے فلسطین کہا جاتا ہے، وہ اس مسئلے کے سااتھ سرد مزاجی، سختی اور موثر طریقے سے نمٹتے رہے ہیں، مگر اب اب نا کا مسئلہ فلسطینی بن چک ہیں، ان کی سرزمین تو اسرائیل کے قبضے میں جاچکی ہے، جبکہ باقی ماندہ علاقوں کو اسرائیلی کالونیاں ہڑپ کرنے والی ہیں، مگر فلسطینی اتنی آسانی سے ہار ماننے کے لیے تیار نہیں، اور انہیں بڑی تعداد میں قتل کرنا خاص طور پر عالمی ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے زیادہ بدنامی اور " یہودی مخالف" جذبات کا سبب بن رہا ہے۔
اسرائیلی ترجمان تو اپنے اقدامات کا موزانہ خونریز دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فضائی حملوں سے کررہے ہیں، ان پروپگینڈہ حملوں کو 21 ویں صدی میں ہضم کرنا بہت مشکل ہے، مگر دنیا دیگر معاملات پر بھی اپنی ناخوشی کا اظہار کررہی ہے۔

مثال کے طور پر حماس کے ترجمان اسرائیل اور صہیونیت پرستی کی تباہی کے دعویٰ کرتے ہیں ان کی مبالغہ آرائی بھی اسرائیلی بہانوں کی طرح سمجھ سے بالاتر ہیں، ان کے بقول"درحقیقت دنیا نے جو عظیم ترین کامیابی دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ حماس نے اسرائیل کے خلاف کسی عرب فوج سے زیادہ حاصل کیا ہے  ۔

درحقیقت حزب اللہ اٹھارہ سال کی گوریلا جنگ کے بعد پوری اسرائیلی فوج کو لبنان سے باہر نکالنے میں کامیاب رہی، جس میں دونوں اطراف کی اتنی ہلاکتیں ہوئیں جس کا حماس تصور بھی نہیں کرسکتی۔

ہم بہت جلدی حماس کے قاتل اسکواڈ کو بھول گئے، جس نے غزہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم اکیس " جاسوسوں" کو موت کی سزا سنائی۔
میں نے نوٹس کیا ہے کہ انہوں نے فلسطینی ہلاکتوں کی تفصیلی فہرست جاری نہیں کی ہے اور میں حیران ہوں کہ ایسا کیوں نہیں ہوا، کیا وہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلیوں سے بھی زیادہ غیرانسانی سلوک کرتے ہیں؟ ہاں یقیناً ایسا ہوتا ہے، اس ہفتے جب آئی ایس آئی ایس اپنی موت کی سزاﺅں سے دنیا کا منہ چڑھا رہی ہے، حماس نے دکھایا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔

حماس کے تین اہم فوجی لیڈرز اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد ہم اور کیا توقع کرسکتے تھے؟ مگر دلچسپ چیز یہ ہے کہ کسی عدالتی سماعت اور انسانی حقوق کا خیال رکھے بغیر اس " انصاف" پر ایک بھی فلسطینی احتجاج نظر نہیں آیا۔
ایسا ہی کوئی احتجاج 2008-09 میں سترہ "جاسوسوں" کی سزا پر بھی نہیں ہوا جنھیں آج ہم بھول چکے ہیں، جبکہ 2012 میں چھ " جاسوس" کے ساتھ ایسا ہوا۔
اور جب "فوجی" ہلاکتوں کی بات ہوتی ہے تو پانچ سو کے قریب حماس کے کارکن مارے گئے ہیں، جبکہ 2008-09 میں یہ تعداد دو سو تھی، مگر اس جنگ میں صرف چھ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ موجودہ جنگ میں یہ دس گنا زیادہ اسرائیلی مارے گئے ہیں، باالفاظ دیگر حماس اور میرے خیال میں اسلامک جہاد نے سیکھا ہے کہ کس طرح لڑا جاتا ہے۔

حزب اللہ مشرق وسطیی کی سب سے موثر گوریلا فوج ہے اور وہ بھی اس کا 
  نوٹس لے رہی ہے، اور ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ غزہ سے برسائے جانے والے راکٹ اسرائیل بھر میں سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہیں، "آئرن ڈوم" کے باوجود پہلے سدورت خطرے کی زد میں آیا، اور اب ہم نے دیکھا کہ بن گوریان ائرپورٹ سے پروازیں منسوخ کی گئیں۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں محمود عباس اس معاہدے پر مصریوں اور امریکیوں کے سامنے عاجزی سے شکرگزاری کا احساس کررہے ہیں، مگر نئی "مشترکہ" فلسطینی حکومت میں حماس محمود عباس کو بتانے والی ہے کہ وہ کتنی"حمایت" حاصل کرسکتے تھے۔

مصر کے محصور اخوان المسلمون سے دوری اور حماس کو سائیڈلائن کرکے اسرائیلیوں اور امریکیوں کے لیے قاہرہ امن معاہدے کو حماس نے تنازعے کے دوران فوری طور پر مسترد کردیا تھا، جس نے مصر کے صدر فیلڈ مارشل السیسی کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیا کہ حماس امن معاہدے کے لیے اہم عرب فریق ہیں۔

اور اس وقت حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مصر لیبیا میں اسلام پسندوں پر بمباری کررہا ہے جبکہ امریکہ عراق کے بعد شام میں آئی ایس آئی ایس پر بمباری کی تیاراں کررہا ہے، مگر غزہ میں اسلام پسند جیتنے میں کامیاب رہے، مگر یقیناً یہ کامیابی ہمیشہ کے لیے نہیں۔

Friday, August 29, 2014

How Can I Deal With My Anger?


 دنیا میں کسی فرد کے مزاج کو بدترین بنانے کے لیے وجوہات کی کمی نہیں، تعلقات میں دراڑ، مالی پریشانیاں اور طبی مسائل وغیرہ آپ کی ذہنی حالت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس طرح کے عناصر پر آپ کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ چھوٹی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپ کی زندگی بدل کر آپ کو مستقل غصے کا شکار بنادیتی ہیں، تو اگر آپ کا موڈ بھی ہمیشہ خراب ہی رہتا ہے تو دیکھے کیا یہ وجوہات تو آپ کی اس حالت کا ذمہ دار نہیں؟

آپ مناسب مقدار میں سبزیاں اور پھل استعمال نہیں کررہے
ٹھیک ہے کہ سبزیاں اور پھل اچھی صحت کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس خوراک کے آپ کی ذہنی حالت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ 
واروک یونیورسٹی کی برطانیہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق جو ولگ روزانہ 80 گرام پھل یا سبزیاں استعمال کرتے ہیں وہ ذہنی طور پر زیادہ خوش باش اور صحت مند ہوتے ہیں، یعنی خوش رہنے کے ساتھ ساتھ وہ مایوسی اور ذہنی امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔

آج آپ سورج کی روشنی دیکھنے سے محروم رہے
کیا آپ کا پورا دن گھر یا دفتر کی چاردیواری میں گزر جاتا ہے؟ اگر ہاں تو اس کا نتیجہ بدمزاجی کی شکل میں ہی نکلے گا۔ 
متحدہ عرب امارات کی زید یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی سے دور رہنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن وغیرہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ہر وقت غصے، خراب مزاج اور مایوسی کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے بچنے کا آسان کچھ دیر کے لیے دن میں باہر چہل قدمی ہے۔

آپ پیاس محسوس کررہے ہیں
اگر آپ کام یا آرام کرنے کے دوران پیاس محسوس کررہے ہیں اور پانی پینے سے گریز کررہے ہیں تو آپ تھکاوٹ، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور بدمزاجی کا شکار ہوجائیں گے، یہ دعویٰ جرنل آف نیوٹریشن کی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا۔

بہت زیادہ کام کرنا
بہت زیادہ کام کرنے کی عادت نہ صرف جسمانی حالت ابتر کرتی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات ذہنی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جو لوگ ہفتے میں پچاس گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں ان کی جسمانی صحت خراب ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی حالت بھی متاثر ہوتی ہے، ایسے لوگ جلد غصے میں بھی آجاتے ہیں جو درحقیقت ان کے اندر موجود ڈپریشن کو باہر نکالنے کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔

آپ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں
آج کل کے نوجوان تو فیس بک کے دیوانے ہیں مگر آپ سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر جتنا زیادہ وقت گزاریں گے اتنا ہی آپ کا مزاج خراب ہوگا۔
ایسا دعویٰ آسٹریا کی انزبرک یونیورسٹی کی گزشتہ دنوں آنے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا۔ تحقیق کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک پر بہت زیادہ دیر رہنے سے وقت کے ضیاع کا احساس ہوتا ہے اور جب کسی کو لگتا ہے کہ وہ کوئی خاص کام کرنے کی بجائے اپنی زندگی ضائع کررہا ہے تو اس خیال کے بعد موڈ اچھا رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کمر جھکائے رکھنا
بچپن میں تمام والدین ہی اپنے بچوں پر چلاتے نظر آتے ہیں کہ کمر سیدھی رکھ کر چلا یا بیٹھا کروں مگر اب سائنس نے بھی اسے ذہنی صحت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق آپ کے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کے انداز میں تبدیلی یا اسے سیدھا کرنے سے آپ کا مزاج خوشگوار ہوتا ہے اور آپ جسم میں ایک نئی توانائی محسوس کرتے ہیں۔

مسکراہٹ یا ہنسی سے دوری
ہنسنی یاداشت اور ذہنی تناﺅ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو بہتر بناتا ہے۔
لوما لنڈا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق چہرے پر ایک مسکراہٹ تمام تناﺅ کو دھو دے دیتی ہے، بلکہ جبری یا کسی کو دکھانے کے لیے مسکرانا بھی تناﺅ کو کم کرکے مثبت جذبات کو بڑھا دیتا ہے۔

نیند کی کمی
ٹھیک ہے کہ یہ کوئی راز نہیں کہ نیند سے بوجھل ذہن پرکشش شخصیات کو بھی احمق بنادیتا ہے، مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتا ہے مناسب نیند نہ لینا تناﺅ بڑھانے اور تنک مزاجی یا خراب مزاج کا سبب بن جاتا ہے۔
ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق صرف ایک ہفتہ بھی بہت کم سونا اداسی، غصے اور ذہنی تھکاوٹ کو بڑھا دیتا ہے۔

قدرتی ماحول سے دوری
سرسبز مقامات پر گھومنا ذہنی کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔
مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شہروں میں جو لوگ سرسبز مقامات یا باغات میں جاتے ہیں وہ خوشگوار مزاج اور بہتر ذہنی صحت تے ہیں، اور ان مقامات سے دوری ڈپریشن، غصے اور ایسے ہی دیگر ذہنی مسائل کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

How Can I Deal With My Anger?

Wednesday, August 27, 2014

مقبرہ مہابت خان.......TOMB OF MAHABAT KHAN

 

گلابی باغ سے شالا مار جاتے ہوئے تھوڑی دور دائیں ہاتھ ایک پٹرول پمپ کے نیچے گنجان آبادی کے درمیان مہابت خان کا مقبرہ ہے کسی زمانے میں یہ مقبرہ ایک وسیع و عریض باغ کے وسط میں واقع تھا جو کہ باغ مہابت خان کہلاتا تھا۔ مہابت خان کا اصلی نام زمانہ بیگ تھا وہ کابل کا باشندہ تھا اس نے نوعمری میں ہی شاہی ملازمت اختیار کرلی اور ترقی کرتے کرتے ہفت ہزاروی بن گیا۔ مہابت خان کا شمار عہد جہانگیر کے نامور جرنیلوں میں ہوتا ہے مہابت خان نے جہانگیر کے عہد حکومت میں سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا اس نے نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان وزیراعظم کی چالوں سے تنگ آ کر جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی 1621ء میں جب جہانگیر نے کشمیر جاتے ہوئے دریائے جہلم عبور کیا تو مہابت خان نے جو موقع کی تاک میں تھا اپنے جان نثار سپاہیوں کی مدد سے جہانگیر کو حراست میں لے لیا۔

 نور جہاں اور آصف خاں ابھی فوج کے ساتھ دریا کے دوسرے پار ہی تھے کہ انہیں اس واقع کی اطلاع ملی۔ نور جہاں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا اور چند ہی روز میں ایسی چال چلی کہ مہابت خاں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ جہانگیرو نور جہاں کو رہا کرکے خود دکن کی طرف بھاگ گیا اور وہاں شہزاد خرم سے مل گیا۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد ہی جہانگیر کا انتقال ہوگیا۔ آصف خاں کی تدبیر سے نور جہاں اور اس سیاسی مہرے شہزادہ شہریار کو شکست ہوئی اس طرح شاہ جہاں کی تخت نشینی کے لیے میدان صاف ہوگیا شاہ جہاں نے تخت نشینی کے بعد مہابت خاں کی عزت افزائی کی۔ مہابت خان نے اپنی زندگی میں ہی لاہور میں شالا مار باغ کے قریب ایک باغ لگایا اور اس میں اپنا مقبرہ تعمیر کروایا۔

 مہابت خان نے 1635ء میں وفات پائی اور اپنی وصیت کے مطابق اپنے تعمیر کردہ مقبرے میں دفن ہوا۔ باغ تباہ و برباد ہوگیا گزشتہ صدی کے نصف آخر میں ایک پارسی سوداگر نے نو سو روپے کے عوض اسے خرید لیا اور وہ مزار کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد باغ سے احاطے میں مکانات بننے لگے دیکھتے ہی دیکھتے یہ مزار آبادی میں گھر کر رہ گیا اس مزار و مقبرے کے چار محرابی دروازے ہیں ان پر محرابی چھت ہے مزار پر اب بھی پرانی مصوری کہیں کہیں سے نظر آ جاتی ہے۔

 (شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘ سے ماخوذ)

TOMB OF MAHABAT KHAN