Tuesday, September 2, 2014

ریڈ زون میں مظاہرین کی مصروفیات......









دھرنا ۔ اصل ہدف کیا ہے.....


امریکہ، کینیڈا اور اس کے دیگر اتحادیوں نے یہ منصوبہ آج سے تقریباً 5 سال قبل تیار کیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان اور افغانستان میں جہادی فکر کی قیادت دیوبندی اور سلفی مسلک ہی کے لوگ کر رہے ہیں اور القاعدہ یا طالبان کی صورت میں ان دونوں مسلکوں کے حاملین ایک صفحے پر آبھی گئے ہیں تو انہوں نے اس کے جواب میں دو مخالف مسلکوں کو متحرک کرنے ، ا ن کی سوچ کو فروغ دینے اور ان کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسی منصوبے کے تحت قادری صاحب کو دوبارہ میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنایا گیا، اسی کے تحت انہیں پورے یورپ میں گھمایا گیا، پوپ جیسے لوگوں سے ان کی ملاقاتیں کرائی گئیں، ڈنمارک جیسے ممالک میں ان کے ساتھ ٹی وی مکالموں کا اہتمام کرایا گیا۔ اسی منصوبے کے تحت فتنہ خوارج جیسی کتاب لکھی گئی، وہ لاکھوں کی تعداد میں دو زبانوں میں چھاپ کر مفت تقسیم کی گئی (مجھے پانچ کاپیاں دی گئی تھیں) اور اسی لئے اس کی تقریب رونمائی نیو یارک میں ہوئی۔ پھر دو مغربی ممالک کی اینٹیلی جنس نے پاکستان میں سیاسی اور مذہبی رہنمائوں سے رابطے شروع کئے اور ان کو یہ بتایا جاتا رہا کہ وہ علامہ طاہرالقادری کی قیادت میں ایک موثر سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں کہ جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) جیسی جماعتوں کی جگہ لے لے ۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک کی سرپرستی ہو تو پاکستان جیسے بدقسمت ملک میں اس پروجیکٹ کے لئے کارندے بہتات سے مل جاتے ہیں چنانچہ قادری صاحب کینیڈا میں رہے اور یہاں ایک سابق اخبار کے سابق ایڈیٹر ان کی طرف سے اہم شخصیات کے ساتھ رابطے کرتے رہے۔

ائیرفورس کے ایک سابق افسر جو اس وقت دفاعی تجزیہ نگار بن کر مختلف چینلز پر قادری صاحب کی وکالت کرتے رہتے ہیں بھی اس وقت قادری صاحب کی کشتی میں سوار ہو گئے لیکن ان کی آرزو کے پورے ہونے میں ایک رکاوٹ تو اس وقت پیدا ہوئی جب دونوں مسلکوں کی اہم شخصیات اور اہم تنظیموں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کسی منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ پاکستان میں قادری صاحب کے نمائندوں نے ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی (وقت آنے پر میں ان کا نام بھی بتادوں گا) سے رابطہ کیاچنانچہ پاکستان کی عسکری قیادت کو اس منصوبے کا علم ہو گیا۔

 آصف علی زرداری صاحب کے دور میں ان کا وار کامیاب نہ ہو سکا تو اب قادری صاحب کو ایک نئے منصوبے کے تحت میدان میں اتارا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دھرنوں کے لئے ابتدائی میٹنگ لندن میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ غلام مصطفیٰ کھر اور سردار آصف احمد علی جیسے لوگ بھی ان کے دائیں بائیں نظر آتے ہیں ۔ قادری صاحب کے اصل منصوبے کی کچھ خبر تحریک انصاف کی ترجمان شیرین مزاری کو بھی اس وقت ہو گئی تھی جب وہ تحریک انصاف میں نہیں آئی تھیں اور تھوڑی بہت انصاف پسند ہوا کرتی تھیں۔ میں انگریزی متن اس وجہ سے ساتھ نقل کر رہا ہوں تاکہ شیرین مزاری صاحبہ اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے ٹائیگرز یہ نہ کہیں کہ میں نے ترجمہ میں ڈنڈی ماری ہے۔ محترمہ شیرین مزاری نے آج سے ڈیڑھ سال قبل یعنی 14 جنوری 2013ء کو روزنامہ دی نیوز میں شیرین مزاری کا جو آرٹیکل شائع ہوا، اس میں وہ لکھتی ہیں کہ :

At a third level, my misgivings are based on what I tend to call connecting the dots. The timing of Dr Qadri's return; information flowing out from British sources that the UK High Commissioner to Pakistan visited Dr Qadri in Canada two or three times about six months ago; the growing belligerency of drones and Indian troops along the LoC, alongside an unprecedented increase in terrorism, especially in Quetta; the sheer money and organizational structure that suddenly became overt just too many coincidences in terms of timeline. Some said the establishment was behind Dr Qadri, but I am not convinced on that count! However, external powers I suspect have a role, although I have no proof simply an educated assessment of what is happening within Pakistan and in our region.

We know the US seeks a favorable dispensation in Islamabad up to 2014 so that its withdrawal from Afghanistan can be smooth and the post-withdrawal scenario to its liking. A long-term friendly caretaker setup would suit them more than an elected government, especially since they are not sure what will happen in the next elections when there is no NRO and no guarantors! We also know how the UK played a lead role in the whole NRO game, so the same linkage can be taken as a given again. 

Banking on someone they recognize as a liberal religious leader, who has even sought to justify drones before December 23, they feel will allow them to bring the Pakistani nation on board. These are dangerous and false assumptions but it will not be the first time such miscalculations have been made.

ترجمہ : میرے خدشات کی بنیاد اس پر ہے جسے میں ــ، نقطے سے نقطہ ملانا
 کہتی ہوں ۔ طاہر القادری کی واپسی پر برطانوی ذرائع کے حوالے سے جو اطلاعات گردش میں ہیں ان کے مطابق چھ مہینے قبل پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر نے ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ کینیڈا میں دو یا تین مرتبہ ملاقات کی ۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو ڈرون حملوں اور بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی میں اضافہ ، کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشتگردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ اور ایک انتہائی منظم مالی اور تنظیمی ڈھانچے کا اچانک منظر عام پر آ جانا جیسے بہت زیادہ اتفاقات ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا جبکہ میرے خیال میں اس میں بیرونی طاقتوں نے کردار ادا کیا اگرچہ میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن پاکستان اور اس خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر ایک ماہرانہ رائے ضرور ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ امریکہ اسلام آباد میں 2014ء تک اپنے لئے موزوں سوچ کو رکھنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان سے با آسانی انخلاء ہو سکے اور اس کے بعد کی صورتحال بھی اس کی پسند کے مطابق ترتیب پائے۔ جس کیلئے ایک منتخب حکومت کی بجائے دیر پا نگران سیٹ اپ ان کیلئے زیادہ موزوں رہے گا ۔ خاص طور پر وہ اس حوالے سے غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں کہ جب ملک میں این آر او اور گارینٹر موجود نہیں ہوں گے تو آئندہ انتخابات میں کیا ہو گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ این آر او کے سارے کھیل میں برطانیہ نے کیا کردار ادا کیا ۔ اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسی رابطے کو دوبارہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ایک ایسے مذہبی پیشوا پر بھروسہ جو 23 دسمبر سے قبل ڈرون حملوں کے جواز کا فتوی بھی جاری کر چکا ہو، کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا مذہبی رہنماء پاکستانی قوم کو آن بورڈ لانے میں کارآمد ثابت ہو گا۔ یہ غلط اور خطرناک مفروضات ہیں لیکن یہ بھی پہلی بار نہیں ہو رہا کہ ایسے غلط اندازے قائم کئے جا رہے ہیں۔

سلیم صافی
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ 

Monday, September 1, 2014

ڈنڈا بردار کارکنوں کا پی ٹی وی ہیڈ آفس پر قبضہ........










قائداعظم ریذیڈنسی زیارت....Ziarat Residency, Quetta



بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی کے آخری ایام بلوچستان کے پرفضا مقام زیارت میں بسر ہوئے۔یہ حقیقت ہے کہ یہاں چند ہفتے گزار کر حضرت قائد نے زیارت کو شہرت دوام بخشی۔ جس عمارت میں ان کا قیام رہا ہے وہ ’’قائداعظم ریذیڈنسی‘‘ کے نام سے آج بھی اپنے پورے وقار اور تمکنت کے ساتھ ہر خاص و عام کے لیے دعوت نظارہ دے رہی ہے۔

زیارت جانے والے راستے کے اردگرد سیب، چیری اور اخروٹ کے باغات پھیلے ہوئے ہیں۔ زیارت شہر کے آغاز میں باب خیبر کی طرح باب زیارت بنایا گیا ہے۔ یہ بلوچستان کے عام شہروں کی نسبت بھر پور شہر ہے اور دیکھنے میں ایوبیہ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ زیارت، پہلے سبی ضلع میں تھا اب خود زیارت ضلع بن چکا ہے اور سبی اس کا ڈویژن ہے۔ گرمیوں میں سبی ڈویژن کے تمام دفاتر زیارت منتقل ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ سات ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع ایک سرد مقام ہے جبکہ سبی ملک کے گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

زیارت میں جونیپر کے درخت کثیر تعداد میں ہیں۔ قائداعظم ریذیڈنسی کے راستے میں ایک بورڈ آویزاں ہے جس پر لکھا ہے کہ ’’جونیپر کے جنگلات کا شمار دنیا کے قدیم ترین جنگلات میں ہوتا ہے، جونیپر کا درخت سال میں صرف ایک انچ بڑھتا ہے اس کا کاٹنا قانونی جرم ہے۔‘‘
قائداعظم ریذیڈنسی، کو زیارت ریذیڈنسی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کوئٹہ سے 133 کلو میٹر کے فاصلے پر سبی ڈویژن ضلع زیارت میں سطح سمندر سے سات ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر برطانوی عہد میں 1791-92ء کے دوران انتالیس ہزار بارہ روپے کی لاگت سے ہوئی۔ قیام پاکستان سے قبل گورنر جنرل کے ایجنٹ اور بلوچستان کے چیف کمشنر موسم گرما میں یہاں قیام کیا کرتے تھے۔ بابائے قوم سے تعلق کی بناء پر اسے قومی یادگار کا درجہ دے دیا گیا۔ 1975ء کے اینٹی کوئٹی ایکٹ کے حوالے سے یہ عمارت ملک کے محفوظ آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کر دی گئی۔

فروری 1978ء میں اس کا نام ’’قائداعظم ریذیڈنسی‘‘ رکھا گیا۔ قائداعظم ریذیڈنسی کی عمارت دو منزلہ ہے جس کے فرش اور چھجے لکڑی سے بنائے گئے ہیں۔ صنوبر کے جنگلات سے بھری دنیا کی عظیم وادی کا منظر یہاں سے صاف دکھائی دیتا ہے۔ رنگارنگ پھولوں کی کیاریوں سے آراستہ سرسبز و شاداب سبزہ زار، لمبے لمبے چنار اور اخروٹ کے درخت اس کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ ریذیڈنسی کی عمارت نو فٹ چوڑے برآمدے سے شروع ہوتی ہے۔

اس کے بعد تقریباً 14×20 فٹ کی نشست گاہ، اس سائز کا کھانے کا کمرہ، حمام اور سنگھار خانے کے ساتھ دو مستطیل کمرے ہیں۔ جن میں سے ایک کا رقبہ سترہ فٹ گیارہ انچ ضرب تیرہ فٹ دس انچ ہے۔ اس منزل میں باورچی خانہ، نعمت خانہ اور سامان رکھنے کا کمرہ وغیرہ شامل ہے بالائی منزل چار کشادہ کمروں اور نو فٹ چوڑے ایک دالان پر مشتمل ہے۔ ہر کمرے کے ساتھ غسل خانہ ملحق ہے۔

بالائی منزل پر جانے کے لیے درمیانی راستہ پر ایک چوبی زینہ بنایا گیا ہے۔ ریذیڈنسی کے جنوب مشرقی اور جنوب مغربی کناروں پر بھی لکڑی کے جنگلے کے ساتھ ایک ایک زینہ ہے۔ عمارت کی دیواریں ناہموار، کھردرے مربع نما پتھر کے بلاکوں کی ہیں جن کی چنائی سیمنٹ سے ہوئی ہے۔ فرش، چھت، کنارے اور سامان کے دالان اور ڈیوڑھی میں صنوبر کی لکڑی استعمال ہوئی ہے۔ اوپری ڈھلوان چھت لوہے کی نالی دار چادر سے بنائی گئی ہے۔

قدرتی حسن، پرسکون فضاء‘ صحت بخش آب و ہوا اور خوشگوار ماحول کا حامل ہونے کی وجہ سے قائداعظم، زیارت کو بے حد پسند کرتے تھے۔ مسلسل کام اور تھکن کے باعث ان کی صحت ابتر ہوچکی تھی یہی وجہ ہے کہ یکم جولائی 1948ء کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رسم افتتاح کے بعد اپنے علاج اور آرام کی غرض سے کچھ عرصہ کے لیے زیارت میں قیام کا فیصلہ کیا۔ اس طرح زیارت ریذیڈنسی کو بابائے قوم کی آخری رہائش گاہ ہونے کا شرف حاصل ہوا اور یہاں سے کراچی واپسی پر آپ 11 ستمبر 1948ء کو خالق حقیقی سے جا ملے اور یوں زیارت ایک تاریخی نوعیت کا مقام بن گیا۔

ریذیڈنسی کے باہر برآمدہ اور دالان کی لکڑی پر سبز رنگ کیا گیا ہے جبکہ کمروں وغیرہ کے دروازے براؤن ہیں۔ برآمدوں میں سرخ قالین بچھا ہوا ہے۔ بالائی منزل میں بائیں طرف دالان میں تین بڑی الماریاں رکھی ہوئی ہیں اور دائیں طرف دو بڑی الماریاں ہیں۔ ایک طرف گول میز پڑا ہوا ہے۔ سال میں ایک بار فرنیچر کو پالش کی جاتی ہے تاکہ خراب نہ ہو جبکہ چادریں موقع بہ موقع بدلی جاتی ہیں۔

قائداعظم کے آرام کمرے میں ایک سنگل بیڈ اور دو عدد ٹیبل لیمپ رکھے ہوئے ہیں۔ مغربی دیوار کے ساتھ ایک قلعے کی تصویر آویزاں ہے۔ الگ الگ کونوں میں تین میزیں اور کرسیاں پڑی ہیں۔ انگیٹھی پر قائداعظم کی جوانی کی تصویر رکھی ہوئی ہے جبکہ محترمہ فاطمہ جناح کے کمرے میںفرنیچر کی تقریباً یہی ترتیب ہے۔ البتہ انگیٹھی پر دونوں بہن بھائیوں کی تصویر پڑی ہوئی ہے۔
زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کو قومی ورثہ قرار دے دیا گیا ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آئندہ زیارت ریذیڈنسی کو گورنر ہاؤس، سرکٹ ہاؤس یا ریسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

Ziarat Residency, Quetta