Header Ads

Breaking News
recent

خیبر ایجنسی

خیبر ایجنسی لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اس کا رقبہ
کوئی 995 مربع میل ہے، اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ اس لیے اسے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ یا ’’فاٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر، وفاق کے نمائندے اور صدر پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر ان علاقوں کے انتظامی سربراہ ہیں۔ اسکی اکثریت آفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم شنواری، ملاگوری اور شلمانی بھی اس علاقے کے باشندے ہیں۔ ان حریت پسندوں نے پورے سو برس تک فرنگی حکمرانوں کے خلاف جہاد جاری رکھا یہاں تک کہ غیر ملکی سامراجیوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ خیبر ایجنسی کی اصل اہمیت درہ خیبر ہی کے باعث ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں وسط ایشیاء سے آنے والے حملہ آور اسی درہ سے گزرکر ہندوستان پہنچتے رہے۔

یہ درہ کیا ہے؟ اونچی نیچی پہاڑیوں کے مابین پیچ وخم کھاتی ہوئی ایک گھاٹی ہے۔ اصل درہ جمرود کچھ آگے شادی گھیاڑ کے مقام سے شروع ہو کر پاک افغان سرحد پر واقع مقام طورخم تک پہنچتا ہے جو کوئی 33 میل لمبا ہے جمرود کے مقام پر اس درہ کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے شاہراہ پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ بنایا گیا ہے جسے ’’باب خیبر‘‘ کہتے ہیں یہ دروازہ جون 1963ء میں بنا۔ باب خیبر پر مختلف تختیاں نصب ہیں جن پر اس درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام درج ہیں۔ ’’باب خیبر‘‘ کے پاس ہی جرگہ ہال ہے جہاں قبائلی نمائندوں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ جمرود میں ایک اونچے مقام پر مٹیالے رنگ کا قلعہ ہے جس کی شکل و صورت ایک بحری جہاز کی طرح ہے۔ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے 1836ء میں درہ خیبر کی حفاظت کے لیے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا۔

لیکن اس کے دوسرے ہی سال مسلمانوں نے ایک معرکہ میں ہری سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان دنوں یہاں عسکری اداروں کے جوان مقیم ہیں جو پاکستانی سرحدوں کے جیالے پاسبان ہیں قدم کے قصبہ سے لنڈی کوتل کی طرف بڑھیں تو چڑھائی شروع ہوجاتی ہے سڑک کے دونوں جانب ہزار ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں ہیں۔ علی مسجد تک پہنچتے پہنچتے سڑک سکڑ کر صرف پندرہ فٹ رہ جاتی ہے۔اس مسجد کے پاس ایک اونچی جگہ شاہ گئی کا قلعہ ہے۔ یہاں پانی کے چشمے بھی ہیں۔ لنڈی کوتل اس سڑک پر بلند ترین مقام ہے۔ یہاں سے پھر اترائی شروع ہو جاتی ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.