Header Ads

Breaking News
recent

پاناما کیس کے مقدمے کا فیصلہ

پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے جس میں پاناما لیکس کے معاملے پر ابتدائی مقدمہ سننے والے پانچوں جج صاحبان شامل تھے آئین پاکستان کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر درخواستوں پر اپنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 2013 میں دائر کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ایف زیڈ ای نامی کمپنی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کر کے صادق اور امین نہیں رہے۔  

عدالت نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن فوری طور پر بطور پارلیمان سے ان کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکشن جاری کرے۔ عدالت نے نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ چھ ہفتے کے اندر نواز شریف اور ان کے بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی مہیا مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرے اور چھ ماہ میں ان پر کارروائی مکمل کی جائے۔عدالت نے نواز شریف اور حسن اور حسین نواز کے خلاف چار جبکہ مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے چیدہ نکات درج ذیل ہیں :
قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ فیصلے کی تاریخ اٹھائیس جولائی 2017 سے چھ ہفتے کے اندر جے آئی ٹی، فیڈرل انویسٹیگشن اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی بنیاد نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرئے۔ نیب نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف عدالتی کارروائی میں شیخ سعید، موسی غنی، جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل کرے۔ نیب ان افراد کے خلاف سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے اگر ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔ احتساب عدالت نیب کے جانب سے ریفرنس فائل کیے جانے کی تاریخ کے چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز کا فیصلہ کرے۔

اگر مدعا علیہان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات جھوٹی، جعلی اور من گھڑت ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
نواز شریف نے یو اے ای میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنےاثاثوں کو دو ہزار تیرہ میں اپنے کاعذات نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اب عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن 99 کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے لہذا وہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 اور آرٹیکل 62 (اے) کی روشی میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور نااہل ہیں۔

الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا فوری نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ صدر مملکت ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کے ایک جج کو اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کے تعینات کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم لیگ کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں اور وفاقی کابینہ تحلیل ہو گئی ہے۔


No comments:

Powered by Blogger.