Header Ads

Breaking News
recent

کوس مینار

جہانگیر بادشاہ نے 1619ء میں آگرہ اور لاہور کے درمیان ہرکوس پر ایک مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہر تین کوس کے فاصلے پر مسافروں کی سہولت کے لیے کنوئیں بھی کھدوائے۔ انہیں کوس مینار بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ مینار لاہور سے واہگہ جاتے ہوئے دائیں سمت باٹا پور سے پہلے کھیتوں میں موجود ہیں۔ یہ عمودی اور چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔ ایک مینار جو کہ جسامت میں ان میناروں سے بہت بڑا ہے ریلوے شیڈ کے پاس سے ایک سڑک سیدھی ریلوے پھاٹک سے گزرتی ہوئی سیدھی گڑھی شاہو کی طرف
جاتی ہے۔ 

یہ مینار ریلوے لائن کے پاس موجود ہے۔ اگر بڑے کوس مینار کو دوسرے کوس مینار سے ملایا جائے تو مقبرہ علی مردان خان، گلابی باغ، باغ مہابت خان، بیگم پورہ، انگوری باغ اور شالامار باغ سب ایک طرف رہ جاتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کوس مینار جسامت میں بہت بڑا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا چوک ہو گا اوریہاں سے سڑک مڑ کر ان سے عمارات کے درمیان میں سے گزری ہو گی۔

شیخ نوید اسلم



No comments:

Powered by Blogger.