Header Ads

Breaking News
recent

سمندر ی پانی کی سطح میں اضافہ خطرناک ہو سکتا ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندری پانی کی سطح میں معمولی اضافہ بھی
خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے ۔ سمندر کی سطح میں یہ معمولی مگر ناگریز اضافہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں سیلابوں میں اضافہ کر دے گا جس سے ساحلی علاقوں سے ملحقہ بڑے شہر خطر ے میں پڑ جائیں گے۔ تحقیق میں سمندر کی بڑی لہروں اور طوفانوں کو مدنظر رکھا گیا ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح کے باعث زیادہ شدید ہو سکتے ہیں اور ساحلی علاقوں پر غالب آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے نچلے علاقے متاثر ہوں گے اور یہ افریقہ سے لے کر جنوبی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا تک ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ برازیل اور آئیوری کوسٹ کے بڑے شہر وں کو ہے۔ اس کے علاوہ ان میں بحرا لکاہل کے چھوٹے جزیرے شامل ہیں۔

ایک عشرے کے دوران خدشہ ہے کہ خطرات کے شکار مقامات کی تعداد دو گنا ہو جائے گی۔ اس تحقیق میں نمایاں حصہ لینے والی شکاگو کی ایلی نوئس یونیورسٹی کی لوسی لیمبل نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پانی کی سطح کا انتہائی بلند ہونا ناگزیر ہے۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور یہ اضافہ 4 ملی میٹر سالانہ تک ہو سکتا ہے، کیونکہ قطبین کی برف پگھل رہی ہے اور سمندر کا پانی گرم ہو رہا ہے ۔ چونکہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کوعمل جاری ہے اس لیے برف پگھلنے اور سمندری سطح بلند ہونے کا عمل کئی سالوں تک جاری رہے گا۔ سمندر کی سطح میں اضافہ سے طوفانوں میں اضافہ ہو جائے گا اور ساحلی علاقے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔

یہ تحقیقی رپورٹ جس جریدے میں شائع ہوئی ہے اس کا نام سائنٹیفک رپورٹس ہے۔ یہ پہلی رپورٹ ہے جس نے ان عوامل کا تجزیہ کیا ہے۔ بحرِاوقیانوس سے ملحقہ شہروں میں سمندر کی سطح میں 2.5 سینٹی میٹر اضافے سے پانی زیادہ شدت کے ساتھ وہاں کا رخ کر سکتا ہے جبکہ پانچ سے دس سینٹی میٹر اضافے کا مطلب ہے کہ منقطہ حارہ کے ساحلی علاقوں میں سمندری طوفانوں میں دوگنا اضافہ ہو جائے گا۔ 20 سینٹی میٹر اضافے کا مطلب ہے کہ تمام ساحلوں پر اس کا خطرہ دو گنا ہو جائے۔ خیال رہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی ساحل سمندر کے قریب واقع ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سمندر کی سطح میں اضافے کی رفتار پر مختلف پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی 2013 میں رپورٹ کے مطابق سال 2021 تک یہ اضافہ 30 اور 100 سینٹی میٹر کے درمیان ہو گا۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ قطبین کی برف کے پگھلنے کا خدشہ اس سے بہت زیادہ ہے جتنا کہ سمجھا جا رہا تھا ۔ اس لیے سمندروں کی سطح بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے ۔ اور صدی کے خاتمے تک یہ 200 سے 300 سینٹی میٹر تک بھی ہو سکتی ہے ۔ دو دہائیوں کے درمیان پانچ سے دس سینٹی میٹر تک سمندر کی سطح میں اضافے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں سان فرانسسکو، بھارت میں ممبئی، ویت نام میں ہوچی منہہ اور آئیوری کوسٹ میں ابید جان میں سمندری سیلابوں کا خطرہ دوگنا ہوجائے گا۔ اس رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سمندر کی سطح میں چھوٹی تبدیلیاں بھی کتنے خطر ناک نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔ پرفیسر تھامس واہل کا کہنا ہے کہ ان حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی اور ایسا کرنا حماقت ہو گی۔ لیکن ایک اور بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ابھی اوربھی کئی تجزیے باقی ہیں اور ہمیں بہرحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے ۔ اس سے پہلے جو تحقیق کی گئی اس کے مطابق 2050 تک سمندری طوفانوں سے کئی کھرب ڈالر سالانہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

No comments:

Powered by Blogger.