Header Ads

Breaking News
recent

گولیوں اور دھماکوں کے درمیان کشمیری مائیں کیا سوچتی ہیں؟

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ دس ماہ سے حالات انتہائی نازک ہیں جہاں
مظاہرے، سنگ باری، فائرنگ اور عام لوگوں کی ہلاکتیں اب معمول کی بات ہے۔
انڈیا کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کشمیری نوجوان ایک جانب ہاتھ میں پتھر لیے کھڑے ہیں تو دوسری طرف انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں میں بندوقیں ہیں۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے اور خبریں بنتی رہتی ہیں۔ لیکن ان حالات میں کشمیر کی مائیں کیا سوچتی ہیں؟ اور اپنے بچوں کو وہ کس طرح کا مشورہ دیتی ہیں؟
کشمیر کی کچھ ماؤں سے اسی تعلق سے بات چیت کی اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی۔

سری نگر میں رہنے والی 40 سالہ فرزانہ ممتاز پیشے سے ایک صحافی ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بچہ غلط راستے پر چلے۔ فرزانہ کہتی ہیں: 'کشمیر میں ہر دن، کہیں نہ کہیں کوئی زخمی ہوتا ہے۔ کہیں کوئی نہ کوئی مارا جاتا ہے۔ اب یہ عام بات ہو گئی ہے۔ ان حالات میں ایک ماں بہت پریشان رہتی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے: ’میں بھی ایک ماں ہوں اور چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا سکول اور کالج صحیح سلامت آئے اور جائے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ یہاں بچے جب کام پر یا پھر سکول جاتے ہیں تو دن بھر ایک ماں کو پریشان ہونا پڑتا ہے کہ اس کا بچہ محفوظ واپس آ جائے۔ ایسے ماحول میں بہت سی مائیں تو ذہنی مریض بن گئی ہیں۔ ان کا خوف ان پر حاوی ہو گیا ہے۔' فرزانہ کہتی ہیں کہ اگر مظاہروں کی ضرورت ہے تو وہ ہونے چاہیں لیکن تشدد آمیز احتجاج سے گریز کرنا چاہیے۔ 
حمیدہ نعیم کشمیر یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔ کشمیر میں آئے دن ہونے والے مظاہروں کے درمیان اپنے بچوں کی حفاظت کے تعلق سے حمیدہ نعیم فکر مند رہتی ہیں اور اس کے لیے کشمیر میں وہ فوج کے اجتماع کو پریشانی کا بڑا سبب مانتی ہیں۔ حمیدہ کہتی ہیں کہ ’کشمیر کی ہر ماں کی زندگی فوج کی بھیڑ نے تار تار کر کے رکھ دی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: 'کشمیر کے حالات نے سینکڑوں بچوں کو گذشتہ سال اندھا بنا دیا۔ میں نہیں مان سکتی کہ کسی ماں نے اپنے بچوں کو سڑکوں پر فوج کے سامنے جانے کو کہا ہو گا۔' حمیدہ فوج کے رویے پر بھی سوال اٹھاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’نوجوانوں کو روکنا اس وقت زیادہ مشکل ہوتا ہے جب انھیں کسی واقعے کے بعد اشتعال دلایا گیا ہو۔‘

سری نگر کے بیمنا علاقے میں رہنے والی 58 سالہ دلشاده سرکاری ملازم اور تین بچوں کی ماں ہیں۔ دلشاده کہتی ہیں: 'بچہ اپنے والدین کے باغ کا پھول ہوتا ہے۔ کوئی ماں باپ نہیں چاہتا کہ یہ پھول مرجھا جائے۔ ماں باپ کے لیے تو یہی بچہ ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے۔ لیکن جب حالات خراب ہو جاتے ہیں تو ان بچوں کو یہ برداشت نہیں ہوتا۔‘ ان کے مطابق: ’ماں تو انھیں تشدد سے روکتی ہے لیکن بچے اپنے جذبات میں ہوتے ہیں۔ سکول سے آتے جاتے پتہ نہیں چل پاتا کہ وہ کہاں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔' سری نگر کے ہی کرن نگر میں رہنے والی 65 سال سنتوش موٹو کشمیری پنڈت ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بچوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر بچہ پڑھنے یا کام کرنے کے لیے گھر سے نکلا ہے، تو اسے اپنے کام پر ہی توجہ دینا چاہیے اور گھر واپس آنا چاہیے۔
'بچے ایسا کرنے لگیں تو ماؤں کی فکر بھی تھوڑی کم ہو جائے۔ ورنہ تو ہر ماں کے دماغ میں برے خیال ہی آتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر خواتین اسی فکر و خیال میں جی رہی ہیں، اور پھر بچہ ہندو ہو، مسلمان کا یا پھر سکھ کا، بچہ تو بچہ ہی ہے۔'
پانچ بچوں کی ماں 60 سال کی پروينہ آہنگر، جو طویل وقت سے کشمیر میں انسانی حقوق کی کارکن کے طور پرکام کر رہی ہیں، آن لائن میڈیا کو بھی اس بڑھتی مشکل کا ذمہ دار مانتی ہیں۔

پروينہ کہتی ہیں: 'آج بچے سب کچھ آن لائن تلاش کر رہے ہیں۔ ہر قسم کی ویڈیو وہاں مہیا ہوتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح انڈیا نے ہم پر ظلم کیا۔ پھر وہ اپنا دل بناتے ہیں اور کئی بار خاندان والوں کی بھی نہیں سنتے۔‘ ’عالم یہ ہے کہ کشمیر میں اب لڑکیوں نے بھی پتھر اٹھا لیے ہیں۔ فوج ان پر شیلنگ کرتی ہے اور جواب میں نوجوان پتھر پھینکتے ہیں۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، تب تک کوئی ماں چین سے نہیں بیٹھ سکتی۔' پروينہ کا الزام ہے کہ ان کے 27 سالہ بیٹے کو ایک برس قبل فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور آج تک اسے واپس نہیں کیا گیا۔
کچھ ایسا ہی الزام ہے ضلع بڈگام میں رہنے والی رهتی بیگم کا۔ وہ 59 سال کی ہیں اور سات بچوں کی ماں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سچائی کا ساتھ دے سکتے ہیں. ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک کشمیر کی ہر ماں کا بیٹا واپس نہیں آ جاتا۔‘ 

ماجد جہانگير
بی بی سی، سرینگر

No comments:

Powered by Blogger.