Header Ads

Breaking News
recent

جنگ آزادی ہند 1857 تاریخ کے آئینے میں

10 مئی کو برصغیر میں جنگ آزادی 1857ء کا آغاز ہوا، اس دن میرٹھ کی رجمنٹ
کے سپاہیوں نے چربی والے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ کارتوسوں میں سوراور گائے کی چربی شامل کی جاتی تھی جو مسلمان اور ہندو فوجیوں دونوں کے لئے قابل قبول نہ تھی۔ کارتوسوں کے استعمال سے انکار اور بغاوت کے جرم میں ان سپاہیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی دیگر سپاہیوں میں بھی اشتعال پھیل گیا اور وہ آزادی کا پرچم لے کر دہلی پہنچ گئے جہاں بہادر شاہ ظفر برائے نام شہنشاہ ہند تھا۔ اصل حکم ایسٹ انڈیا کمپنی کا چلتا تھا۔ دہلی پہنچ کر سپاہیوں نے مقامی لوگوں کو ساتھ ملا کر بہادر شاہ ظفرکی شہنشاہیت کا اعلان کر دیا۔ 
ملتان میں فوج کی پلٹن نمبر 62، 69 نے بھی آزادی کا اعلان کر دیا ۔ جنرل بخت خان بھی اپنے ساتھیوں کے ہمرا ہ دہلی پہنچ گیا ۔ بخت خان ایسٹ انڈیا کمپنی میں صوبیدا ر کے عہدے پر رہ چکا تھا اور اسے اینگلو افغان جنگ اور بنگال آرٹیلری کا بھی چالیس سالہ تجربہ تھا۔ ادھر لکھنئو کے والی واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد ان کی بیگم حضرت محل میدان میں نکل آئیں۔ زمیندار طبقہ پہلے ہی لگان سے پریشان تھا اور عام لوگ واجد علی شاہ کی بحالی چاہتے تھے، اس طرح لکھنئو بھی جنگ آزادی میں شامل ہو گیا۔ اودھ اور بریلی کو تو ویسے ہی مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔ دہلی ، گوالیار، پشاور ، مردان ، حیدر آباد، سکھر ، شکار پور ، جیک آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں لوگ باہر نکل آئے جس پر انگریزوں کو تشویش لاحق ہوئی۔ جھانسی کی رانی ، حضرت محل، جنرل بخت خان، تانتیا ٹوپے، کنور سنگھ، فیروز شاہ، خان بہادر خان، نانا صاحب ، مولوی حمد اللہ سمیت بہت سے ایسے گمشدہ آزادی کے متوالے تھے جنہوں نے خلوص دل سے اس جدوجہد کا ساتھ دیا اورآزادی کی خاطر جان قربان کر دی۔

اس تحریک آزادی میں ہندومسلم، سکھ سب ایک تھے۔ گورنر جنرل کے نام کورٹ آف ڈائرکٹرس کی خفیہ کمیٹی کے خط کے مطابق ’’جنگ اودھ کے عوامی رنگ اختیار کرنے کی وجہ بادشاہ کی معزولی اور لگان ہے۔ لگان نے زمینداروں کی بڑی تعداد کو ان کی زمینوں سے محروم کر دیا ہے‘‘۔ دوسری طرف برطانوی مورخ میکلوڈ ڈانس کے مطابق ’’ اودھ کی جدوجہد کو جنگ آزادی قرار دیا جا سکتا ہے ‘‘۔ مرکزی یا قابل ذکر رہنما شامل نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریک کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ چونکہ یہ تحریک منظم نہیں تھی اور پیسے کی کمی کے ساتھ جدید سامان جنگ کی بھی کمی تھی، تلواروں کا مقابلہ بندوقوں سے تھا مختلف والیان ریاست اور صاحب جائیداد لوگوں کی غداری کی وجہ سے جنگ آزادی کو کامیابی نہ مل سکی۔ 

والیان ریاست سمجھتے تھے کہ مستقبل انگریزوں کا ہے، اس جدوجہد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اس لئے اپنی شان و شوکت اور جان کو دائو پر کیوں لگائیں۔ وہ اس میں شامل ہونے کی بجائے انگریزوں کے وظیفہ خوار بن گئے۔ سر جان لارنس کہتا ہے کہ اگر آزادی کے متوالوں کے ساتھ بڑے رہنما بھی کھڑے ہو جاتے تو ان کی نجات کی کوئی امید نہ تھی۔ چارلس بال کا کہنا تھا کہ ’’اگر بنگال آزادی کے متوالوں کے پاس زمینی رائفل ہوتی تو دہلی اب بھی مغلوں کی ملکیت ہوتا‘‘۔ انگریزوں نے پہلے دہلی کو آزادی پسند متوالوں سے آزاد کرانے کا منصوبہ بنایا، وہ جانتے تھے کہ جب تک بہادر شاہ ظفر دارالحکومت میں موجود ہیں یہ تحریک دبائی نہیں جا سکتی ۔ اس لئے انگریز فوج نے سارا زور پہلے دہلی کو آزاد کرنے میں لگایا۔

لال قلعہ کا محاصرہ کرتے ہی اپنے جاسوسوں اور غداروں کی مدد سے اس پر قبضہ کر لیا۔ جنرل بخت خان وہاں سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لکھنو پہنچا تا کہ آزادی کے متوالوں کی مدد کر سکے لیکن تحریک منظم نہ ہونے کی وجہ سے حضرت محل اور جنرل بخت خان کو شکست ہوئی ۔ جضرت محل کو کھٹمنڈو جلاوطن کردیا گیا جب کہ بخت خان چھپتا چھپاتا سوات پہنچا جہاں دیر میں روپوش رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔ دہلی کی جدوجہد میں ایک خاتون کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا لیکن اس کا نام آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا، بس لوگ بہادری سے لڑنے کی وجہ سے اسے ’’سبز پوش‘‘ کے نام سے یاد رکھتے ہیں کیونکہ وہ سبز لباس پہن کر انگریزوں سے لڑتی رہی۔ انگریز مورخین نے اسے ہندوستان کی ’’جون آف آرک ‘‘کا نام دیا۔

انقلا ب فرانس میں اس کا کردار یادگار رہا۔ سبز پوش خاتون کو انگریز فوج نے گرفتاری کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن خاتون ہونے کے ناطے سزا کوعمر قید میں بدل دیا گیا ۔ وہ جیل ہی میں چل بسی یا کیا ہوا ، کسی کو کوئی خبر نہیں۔ جھانسی کی رانی کو بھی انگریزوں نے غداروں کے ذریعے گھیر کر شکست دیدی، اس طرح گوالیار میں تحریک کو دبا دیا گیا۔ ٹیپو سلطان کی 1799 ء میں شہادت کے بعد برصغیر پر انگریزوں کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلا وطن کردیا گیا اور شہنشاہ ہند کا خطاب بھی ختم کر دیا گیا ۔ اس طرح انگریزوں نے مجاہدین آزادی کو اپنے ہتھکنڈوں سے الگ الگ شکست دے کر تحریک کو دبا دیا ۔

طیب رضا عابدی

No comments:

Powered by Blogger.