Site is Related to Pakistan News, Pakistan Politics, Pakistan History and Pakistan Travel.

Breaking

Wednesday, April 26, 2017

جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

ہمارے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار فرماتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی منظر عام پر آنے والے اختلافی فیصلوں پر شور نہیں مچتا۔ سپریم کورٹ پر بداعتمادی کے اظہار کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں شور مچانے والوں کی تعداد دنیا کے باقی ممالک کے شور مچانے والوں سے زیادہ ہے چنانچہ یہاں شور کچھ زیادہ ہی سنائی دیتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس شور مچانے کےعلاوہ کوئی کام نہیں جہاں اور جب بھی موقع ملتا اور موقع نہیں بھی ملتا تو ہم شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ضرورت سے زیادہ شور مچانے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو گی کہ ہم کوئی فیصلہ سننے کے بعد اس فیصلے کو سمجھنے سے پہلے اپنے اندر کے فیصلے سامنے رکھ دیتے ہیں اور دیکھتے ہی ہمارے اندر سے شور نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔

ہماری طرح دوسرے فیصلے کو سننےوالے بھی یہی کرتے ہیں اور ان کا بھی شور نکل جاتا ہے۔ ان تجربوں سے گزرنے کی وجہ سے ہم شور مچانے کے عادی ہو گئے ہیں اور جو شور مچانے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ شور ہنگامے کے اندر سانس لینے کو زندگی کا عمل سمجھتے ہیں۔ شور ہنگامے کی زندگی کے عادی ہونے کی وجہ سے ہمیں امن، سکون، آرام اور عافیت کی گھڑیوں سے بھی کچھ دلچسپی نہیں رہی۔ شاعر نے کہا تھا اور صحیح کہا تھا کہ : 

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکو 

تجس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

نمایاں، اعلیٰ، قابل قدر اور لائق ستائش کارنامے سرانجام دینے والے ہمارے بزرگوں نے یقینی طور پر شور شرابے اور ہنگامے کی زندگیوں سے گریز کیا ہو گا۔ خاموشی، سکون اور سکوت انسان کو حوصلہ اور عزت بھی فراہم کرتا ہے اچھی اچھی باتیں سوچنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

دوسروں کی بہتری اور مدد کے طریقوں پر غور کرنا اور ان طریقوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کرنا ہی زندگی ہے اور خدا وند کریم نے بھی انسانوں کو انسانوں کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کی بہتری کی راہیں تلاش کرنے کے لئے ہی پیدا کیا ہے اور یہ انسانی عمل عبادت کی ذیل میں آتا ہے۔ انسان کو اگر حیوان ناطق کہا جاتا ہے تو یہ بھی ضروری نہیں ہو گا کہ وہ حیوان ناطق اپنے نطق کو آرام، سکون اور خاموشی کا موقع ہی نہ دے۔ قدرت نے انسان کو نطق یا اظہار کی قدرت عطا فرمائی ہے تو یہ قدرت اسے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنے کے لئے ودیعت ہوئی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اظہار بیان کی قدرت اپنا مافی الضمیر چھپانے کے لئے بھی دی گئی ہو مگر خاموشی، سکون، آرام اور امن بھی دنیا کی اعلیٰ ترین نعمتوں میں شمار کئے جاتے ہیں جن سے انسان سب سے زیادہ فائدے اٹھاتا ہے۔ 

منو بھائی 

Post a Comment