Header Ads

Breaking News
recent

گلگت

گلگت جو ریشم کی سرزمین مشہور ہے، دلکش نظاروں کی وجہ سے بے نظیر ہے، یہاں کے قبائلی لوگ نہایت ملنسار، گرم جوش اور بھرپور میزبان ہیں۔ یہ فوجی اعتبار سے اہم خطہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ آب رسانی اور کئی ایک پہاڑوں کے درمیان ہے اور اپنی دلکشی انفرادیت پیدا کیے ہوئے ہے۔ گلگت شہر چونکہ چائنہ کے قریب ہے۔ اس وجہ سے چائنہ کی مصنوعات کا یہ مرکز بھی ہے، جہاں خرید وفروخت ہوتی ہے۔ چائنہ کا مشہور زمانہ ریشم اور مصالحہ جات گلگت کے شہر میں دستیاب ہوتے ہیں۔ یہاں کے بازاروں میں ہر وقت گہما گہمی رہتی ہے۔ منگول، تاجک، چینی اور افغانی لوگ یہاں بازاروں اور گلیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ تھوڑے بہت وسطی ایشیا کے لوگ بھی موجو دہیں۔ یہ تمام روایتی لباس پہنتے ہیں۔ گلگت ہی ایک شہر ہے، جہاں ابھی تک پرانے روایتی انداز میں پولو کھیلی جاتی ہے۔

تیسری صدی سے گیارہویں صدی تک گلگت بلور کے بدھا بادشاہت کا حصہ تھا۔ بدھ مجسموں کی کندہ کاری اس تمام خطے میں ابھی تک دیکھی جا سکتی ہے، جس طرح مشہور ’’کارتھا بدھا‘‘ کی کندی کاری موجود ہے۔ آٹھویں صدی کے اوائل میں تین بڑی طاقتیں چائنہ، عرب اور تبت اس خطہ کی طرف مائل ہوئے۔ بہت ساری لڑائیوں کے بعد آخر یہ خطہ سات بادشاہتوں، جن میں پانچ مختلف زبانیں بولی جاتی تھیں میں بٹ گیا۔ تیرہویں صدی میں مارکوپولو نے اس علاقے کو شوروغل کی بادشاہت کا علاقہ کہہ دیا تھا، یہاں پہنچنے والے شائقین اسلام آباد سے پندرہ گھنٹے کی قراقرم شاہراہ پر مسافت طے کرنے کے بعد پہنچتے ہیں۔ شاہراہ قراقرم بھی دنیا کی آٹھویں عجوبہ میں شامل ہو چکی ہے جو کہ پرانی شاہراہ ریشم کی افسانوی کہانیوں کی یاد دلاتی ہے۔ اس کے علاوہ صرف ایک گھنٹہ کی ہوائی پرواز سے اس دلکش خوصورت علاقہ میں پہنچا جا سکتا ہے۔ 

(شیخ نوید اسلم کی تصنیف ’’پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ سے مقتبس) -  

No comments:

Powered by Blogger.