Header Ads

Breaking News
recent

چھٹی جماعت کے طالب علم نے ایوان صدر کو چیلنج کر دیا

اسلام آباد میں چھٹی جماعت کے طالب علم نے مبینہ طور پر یوم قائد کی تقریر چوری کرنے پر ایوان صدر کو چیلنج کر دیا۔ اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز ایف ٹین تھری کے چھٹی کلاس کے 11 سالہ طالب علم سبیل حیدر نے اپنے وکیل خاور امیر بخاری کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ انہوں نے 23 مارچ 2016 کو ایوان صدر میں تقریر کی، جس کے بعد یوم قائد پر ’پاکستان کا مستقبل‘کے عنوان پر بھی انہیں تقریر کے لیے کہا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تقریر کا اسکرپٹ خود لکھ کر ایوان صدر منظوری کے لیے بھجوایا۔ 

ایوان صدر کے سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری نے ان کے اسکرپٹ کو پاس کر دیا، جس کے بعد سبیل ریہرسل کے لیے ایوان صدر گئے، 21 دسمبر کو فل ڈے ریہرسل پر بھی انہوں نے تقریر کی۔ بعد ازاں جب 22 دسمبر کو وہ ریکارڈنگ کے لیے ایوان صدر پہنچے تو ایوان صدر کی ایڈیشنل سیکریٹری شائستہ سہیل نے انہیں یہ کہتے ہوئے تقریر کرنے سے روک دیا سیکریٹری صاحب کا حکم ہے کہ یومِ قائد پر عائشہ اشتیاق تقریر کرے گی۔ سبیل حیدر نے اپنی درخواست میں کہا کہ جب انہوں نے اس لڑکی کی تقریر سنی تو وہ ان کا ہی چُرایا ہوا اسکرپٹ تھا۔
درخواست گزار بچے کے وکیل خاور امیر بخاری نے عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ 11 سالہ بچے نے خود تقریر کا اسکرپٹ تیار کیا، جو اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو دے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی کے سیکشن 3 اور کاپی رائٹس آرڈیننس 1967 کے تحت جو مواد کسی نے اپنی ذاتی محنت سے تیار کیا ہو، اسے کوئی دوسرا شخص اس کی مرضی کے بغیر ڈیلیور نہیں کرسکتا، اور عدالت کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی، غیر منصفانہ اقدام کو روکے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ یوم قائد کی چُرائی ہوئی تقریر کو نشر ہونے سے روکا جائے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ درخواست میں ایوان صدر کے سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری، ڈائریکٹر کالجز، پی ٹی وی، پیمرا اور عائشہ اشتیاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

طاہر نصیر

No comments:

Powered by Blogger.