Header Ads

Breaking News
recent

کوٹ رادھا کشن

ضلع قصور کا قصبہ اور تحصیل۔ کراچی لاہور ریلوے لائن پر لاہور سے 56 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 1976ء میں اسے ضلع قصور میں شامل کیا گیا۔ اسے قدیم وقتوں میں را دھا کشن نے اپنے نام پر آباد کیا تھا جس کے متعلق یہ بھی روایت ہے کہ وہ کنگن کی بہن تھی جس نے کنگن پور بسایا تھا۔ اسے رائے ونڈ اور چھانگا مانگا کے درمیان اہم تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ گُڑ، شکر، توریہ، کپاس اور گندم کی بڑی منڈی ہے۔ ایک درجن سے ز ائد کپاس بیلنے کے کارخانے ہیں۔ ہربل میڈیسن تیار کرنے کے چند یونٹ بھی کام کر رہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر اے، ون یونانی لیبارٹری زیادہ مشہور ہے۔ دیسی ادویات سازی کے دیگر اداروں میں احمد برادرز ، ایم اے یونانی اور ہدایت سنگ یونانی لیبارٹری وغیرہ شامل ہیں۔

اس کاروبار میں یہاں کی مغل برادری زیادہ تر پیش پیش ہے جبکہ شیخ برادری دوکانداری میں آگے ہے۔ یہاں طالبات کا کالج، طلباء کا ہائیر سیکنڈری اور متعدد سرکاری و غیر سرکاری سکولز، ہسپتال ، دفتر یونین کونسل تھانہ اور ڈاکخانہ وغیرہ موجود ہیں۔ پرانی منڈی، لالہ زار کالونی، جاوید نگر، عمر آباد، فیصل ٹائون، اشرفیہ ٹائون، لالہ پاک ہائوسنگ سکیم وغیرہ یہاں کی رہائشی بستیاں جبکہ بائی پاس، شجاع مارکیٹ، شیر گڑھ بازار، ساندہ بازار، ریل بازار اور غلہ منڈی وغیرہ اہم تجارتی مراکز ہیں۔ انگریزی عہد میں یہاں ریلوے لائن بچھی اور ریلوے اسٹیشن قائم ہوا تو علاقے کی اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملا۔ چنانچہ یہاں غلہ منڈی بھی قائم ہو گئی۔ یوں رفتہ رفتہ اس کی آبادی بڑھتی چلی گئی۔ قیام پاکستان سے قبل یہاں ہندو اور سکھ زیادہ تعداد میں آباد تھے۔ 1947ء میں تمام سکھ اور ہندو نقل مکانی کر کے بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ بھارت سے آئے ہوئے مسلمان مہاجرین آکر آباد ہوئے۔

انور زاہد، دین محمد پردیسی اور شفیق سلیمی شعری ادب کے حوالے سے کوٹ رادھا کشن کی پہچان ہیں۔ انور زاہد 1951ء میں پیدا ہوئے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے پنجابی اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔ ’’بھلادے زخم‘‘ اور ’’پیاس‘‘ آپ کے شعری مجموعے ہیں‘‘ . دین محمد پردیسی 1923ء میں پیدا ہوئے۔ پنجابی منظوم قِصّے لکھے۔ غریب دا حال، شانِ رمضان اور سفر نامہ حج آپ کی پنجابی شعری تصانیف ہیں۔ وہ نعت، سہ حرفی اور نظم کے شاعر ہیں۔ شفیق سلیمی 1944ء میں ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کوٹ رادھا کشن میں آبسے۔ ابو ظہبی میں درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ’’تمازت‘‘ آپ کا شعری مجموعہ ہے جو شائع ہوا۔ یہاں کے محمد دین ساگر نے شعر و شاعری کے حوالے سے قریباً 80 کتب منتخب کیں۔ اس کے علاوہ پہلا چراغ اور لمحے، مجموعہ کلام بھی شائع کئے۔ اس کے علاوہ تصوف کے حوالے سے کافی کام کیا۔ 

(اسد سلیم شیخ کی کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

No comments:

Powered by Blogger.