Header Ads

Breaking News
recent

فتح پور

ضلع وہاڑی اور تحصیل میلسی کا یہ قصبہ دریائے ستلج کے کنارے میلسی کے جنوب مشرق کی طرف ۱۳کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں ستلج دریا کے اس علاقے پر جوئیہ خاندان کی حکومت تھی اور فتح پور اس کا صدر مقام تھا، جسے فتح خاں جوئیہ نے آباد کیا تھا۔ اسی کے نام پر اس کا نام فتح پور مشہورہوا۔ مغلو ں کے عہد میں اسے ایک پرگنہ کی حیثیت حاصل تھی۔ یہاں فتح خاں کا تعمیر کردہ ایک قلعہ بھی تھا جو رفتہ رفتہ اپنا نام و نشان اور آثار کھو بیٹھا۔ یہاں شاہی زمانے کی بنی ہوئی عیدگاہ، کئی غیرآباد مساجد اور عمارتیں اپنے ماضی کی داستان سناتی نظرآتی ہیں۔ یہاں موجود کئی کھنڈر اپنے ماضی کو سینے سے لگا کر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
تاریخی مسجد فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ یہاں کے زیادہ گھر چھوٹی اینٹ کے بنے ہوئے ہیں۔ گلیاں تنگ اور ٹیڑھی ہیں۔ اس کے بانی فتح خاں جوئیہ کا مزار بھی یہاں موجود ہے۔ یہ مقبرہ چھوٹی اینٹ کا بنا ہوا ہے۔ اس کی تعمیر میں نقش و نگار والی اینٹیں استعمال ہوئی ہیں اور یہ گنبد نما ہے۔ مقبرے کے احاطے میں دو قبریں اور بھی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فتح خاں جوئیہ کے دو بھائیوں محمد خاں جوئیہ اور علی محمد جوئیہ کی ہیں۔ احاطے کے باہر دیگر قبریں بھی ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ مقبرہ شکستہ ہوتا جارہا ہے۔ یہاں کھجور کے درخت عام ہیں۔ لوگ کھجی کاوان، صفاں اور مُصلے بناتے ہیں۔ طلبا و طالبات کے لئے سکول اور صحت کی سہولتیں موجود ہیں۔

اسد سلیم شیخ
 (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)
 

No comments:

Powered by Blogger.