Header Ads

Breaking News
recent

برکس سربراہ کانفرنس میں بھارت کی تنہائی : پروفیسر شمیم اختر

دو ہزار سات میں دوستی بس پر ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعہ کے بعد RAW کے حاضر ملازمت کرنل کل بھوشن کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور اس کے انکشافات بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا میں اس کا بڑا چرچہ رہا اور پاکستان کے سفارتکاروں نے امریکہ، یورپ ، مشرق وسطیٰ میں حکومتوں اور رائے عامہ کو باخبر رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن اس کے باوجود امریکی اور یورپی میڈیا نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نہ ہی ان کی حکومتوں نے اسے در خور اعتنا سمجھا۔

یوں مقبوضہ کشمیر 69 سال سے بھارتی درندوں کی شکارگاہ رہا ہے جہاں اسی ہزار تا ایک لاکھ کشمیری ہلاک کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔ 8 جولائی سے برہان نامی نوجوان حریت پسند کے ماورائے عدالت قتل کے بعد تو ساری کشمیری قوم بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی جسے کرفیو لگا کر گھروں میں مقید کرنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن عوام کا سیل رواں تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اسے روکنے کے لیے بھارت کی قابض فوج نے تاک تاک کر مظاہرین پر پیلٹ گن سے گولیاں برسائیں جو ان کی آنکھوں، چہروں اور سینوں کو چھلنی کرتی جا رہی ہیں چنانچہ سو روز میں ایک سو دس افراد شہید، 1133 بنیائی سے محروم، پندرہ ہزار زخمی، آٹھ ہزار گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ دو ہزار مکانات کو توڑ پھوڑ ڈالا گیا اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو کالے قانون Army Special Power Act کے تحت قید کر دیا گیا ہے۔ (جسارت منگل 18 اکتوبر 2016ء)
کشمیریوں کی نسل کشی پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر بند کر دیئے ہیں اور ان کے نمائندوں کو ملک بدر کر دیا ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہائی کمشنر کو تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی نہ ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، امریکی انتظامیہ، اسلامی تنظیم برائے تعاون OIC کو حقائق معلوم کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اپنے نمائندے بھیجنے کی درخواست قبول کی گئی تاہم بھارت کے ہاتھوں ایک کروڑ کشمیری عوام کی نسل کشی دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف، ان کے مشیر سلامتی امور جناب سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک ایک کر کے تمام بیرونی ممالک کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام کی ویڈیو فلمیں دکھائیں خاص کر نواز شریف نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل جبر اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد اور بان کی مون کو کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کی تصاویر دکھائیں تاہم ان کے منہ سے انسانی ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہ پھوٹا۔

بان کی مومن نے تو اپنے خطبے میں کشمیریوں کے قتل عام پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔  'ختم اللہ علی قلوبھم و سمعھم و علی ابصار ھم غشاوۃ' یہ عالمی بے حسی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف خاموش سازش ہے۔ اس میں بھلا نواز شریف یا سرتاج عزیز یا ملیحہ لودھی کا کیا قصور ہے؟ بعض نادان مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے۔ اس کے ثبوت میں یہ دلیل دی جاتی ہے: پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہوتا تو سلامتی کونسل بھارت کی مذمت کرتی اور اسے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری پر مبنی قرار داد پر عمل درآمد کی ہدایت کرتی۔ جواہر لعل نہرو کے سارے دورِ حکومت میں کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کوئی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں انتہائی لائق ، دیانتدار اور وفادار ماہرین امور خارجہ کے مشوروں اور اعانت سے ریاست کے مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا تھے اور خود بھی اس کے ماہر تھے۔

میں نواز شریف کا حامی نہیں ہوں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ (1) انہوں نے پانچ فروری کو قومی سطح پر یوم کشمیر منانے کی روایت ڈالی جو آج تک باقی ہے۔ (2) انہوں (محمد نواز شریف) نے حکومت پاکستان کو مئی 1998ء میں بھارت کے جواب میں تجرباتی جوہری دھماکے سے باز رکھنے کے لیے امریکی صدر کلنٹن کے پانچ بار ٹیلی فون کرنے کے باوجود دھماکہ کیا کیونکہ اس وقت منتخب حکومت اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی تھی جو آج نہیں محسوس ہوتی۔ اس کے ثبوت وزیراعظم ہاؤس میں سلامتی سے متعلق خفیہ اجلاس میں بعض اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے عسکری قیادت پر عائد کردہ الزامات کی ڈان میں متنازع رپورٹ ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عسکری قیادت نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے کیونکہ کور کمانڈروں کے حالیہ اجلاس میں اس پر بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران اس کا ذکر اس بات کا عندیہ ہے کہ عسکری قیادت اس واقعہ کو صرف نظر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس ’’خبر‘‘ کی بنا پر پاکستان مخالف طاقتوں یعنی امریکہ، بھارت اور اشرف غنی جنتا نے بقول چودھری نثار پاکستان کو چارج شیٹ کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت نے برکس سربراہ کانفرنس میں اوڑی کی واردات کی مذمت کرنے اور جیش محمد اور لشکر طیبہ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مسودہ پیش کیا تھا لیکن اسے عوامی جمہوریہ چین نے غیر متعلقہ ثابت کر کے ناکام بنا دیا۔ نہ صرف چین بلکہ دیگر اراکین نے بھی اسے مسترد کر دیا کیونکہ برازیل، روس، جنوبی افریقہ اور عوامی جمہوریہ چین میں سے کوئی بھی ان تنظیموں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تصور کرتا۔ اس سے قبل بھی بھارت اور امریکہ کو سلامتی کونسل میں انہیں دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرانے میں ناکامی ہوئی تھی۔

دراصل برکس کے اغراض و مقاصد وہی ہیں جو ناوابستہ اقوام کے مقاصد ہوا کرتے تھے یعنی عالمی تجارتی اقتصادی نظام میں جنوب (پس ماندہ، ترقی پذیر ممالک) کے مفاد کا تحفظ اور استحصالی اقتصادی نظام کی بجائے عادلانہ نظام کا قیام لیکن اب چونکہ بھارت امریکہ کا عسکری حلیف اور کاروباری شراکت دار بن گیا ہے اس لیے وہ برکس میں امریکہ کے ففتھ کالم کا کام کرے گا اور جس طرح اس نے NAM کو مفلوج کر دیا اسی طرح برکس (BRICS) کو عضو معطل کر دے گا۔ نیز اب ترکی دنیا کی پندرھویں اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے لہٰذا اس (BRICS) میں اس کی شمولیت لازمی ہو گئی ہے کیونکہ ترکی نہ صرف اقتصادی اور تجارتی حیثیت سے مستحکم ہے بلکہ NATO میں ہوتے ہوئے بھی وہ آزاد خارجہ پالیسی کا علمبردار ہے لہٰذا وہ (ترکی) BRICS کی رکنیت کا اہل ہے اور یوں بھی اس تنظیم میں عالم اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے لہٰذا اس میں ترکی کی شمولیت وقت کی فوری ضرورت ہے۔

متنازع کشمیر پر بڑی طاقتوں کی توجہ مرکوز کرانے کے لیے حکومت پاکستان کو ہمت کر کے امریکہ کو بتا دینا ہو گا کہ اگر وہ کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کو بین الاقوامی تحویل میں کرائی گئی رائے شماری پر عمل درآمد پر مجبور نہیں کر سکتا تو پاکستان افغانستان میں مصالحت کے عمل میں قطعاً شریک نہیں ہو گا نہ ہی افغانستان پر قابض امریکی فوج کو اپنی سر زمین سے رسد کی ترسیل کی اجازت دے گا۔ 

پروفیسر شمیم اختر
بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

No comments:

Powered by Blogger.