Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان : 33 لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں

وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت  نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک میں تینتیس لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری مشقت کرنے والے بچوں میں سے ستر فیصد صرف تین شعبوں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق انیس فیصد صنعتی شعبہ اور گیارہ فیصد سیلز کے شعبے میں جبری مشقت کرتے ہیں۔ 

آمنہ بھٹی گذشتہ پچاس برس سے گیلی مٹی کو اینٹوں میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان کے بقول ان کے والدین نے اینٹوں کے بھٹے کے مالک سے کچھ رقم ادھار لی تھی اور وہی بوجھ اتارتے اتارتے انہیں نصف صدی گزر چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صرف دس برس کی تھیں جب انہیں جبری مشقت کی اس بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا۔ ان پر ڈھائی لاکھ روپے کا قرضہ تھا اور ابھی تک وہ صرف ایک لاکھ روپے واپس کر پائی ہیں۔ بارہ برس قبل ان کے شوہر بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آجر سے مزید رقم ادھار لے لی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آمنہ بھٹی شاید زندگی بھر قرضے کے اس بوجھ سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گی۔
آمنہ بھٹی نے بتایا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں اور ہم زندگی بھر غریب ہی رہیں گے۔ جب انسان اس راستے پر چل نکلے، تو مرنے کے بعد ہی اسے اس سے چھٹکارا نصیب ہوتا ہے۔ پاکستان میں صرف اینٹوں کے بھٹوں پرکام کرنے والے افراد کا ہی یہ حال نہیں بلکہ زرعی زمینوں پر اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے والے کارکن بھی اپنے آجروں سے لیے جانے والے ادھار کو اتارتے اتارتے زندگی ہی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر ایسے واقعات منظر عام پر آتے رہے ہیں، جن میں والدین اپنا قرضہ اپنی اولاد کے سپرد کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو جبری مشقت کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہتا ہے، لیکن ادھار ہمیشہ اپنی جگہ واجب الادا رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھٹہ مزدوروں کو ایک دن میں ساڑھے تین سو روپے تک ادا کیے جاتے ہیں۔

ان مزدوروں کو اکثر انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنا پڑتی ہے اور انہیں زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔پاکستان میں جبری مشقت کے شکار افراد کی اصل تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ، تاہم مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں کھیتی باڑی، قالین بافی، اینٹوں کے بھٹوں اور اسی طرح کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ایسے مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جو اپنے آجرین سے رقم ادھار لینے کے بعد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے پاکستانی شہریوں کی زندگی میں استحصال کے تسلسل کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور قرض لی گئی، رقوم کی مکمل ادائیگی کا عملاًکوئی امکان نہیں ہوتا ہے۔

عدنان اسحاق

No comments:

Powered by Blogger.