Header Ads

Breaking News
recent

ایدھی کی عیادت مت کرو

88 برس کی عمر میں عبدالستار ایدھی کے گردے تبدیل نہیں ہو سکتے لہذا انھیں ہفتے میں دو سے تین بار گردوں کی صفائی کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔اس وقت انھیں عیادت سے زیادہ سکون کی ضرورت ہے۔ عام آدمی کا تو ایدھی پر فخر کرنا بنتا ہے لیکن جب ریاست، اسٹیبلشمنٹی کارندے اور شہرت کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے والے سیاسی و غیر سیاسی گدھ ایدھی کی خدمات سراہنے لگیں تو دکھ اور بڑھ جاتا ہے۔ ایسے خواتین و حضرات یہ سوچنے سے مکمل عاری ہیں کہ حساس معاشروں کو ایدھی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو ریاستیں اپنے شہریوں کو انسان سمجھتی ہیں وہاں ایدھی پیدا نہیں ہوتے۔ ایدھی ایک مجسم دکھ ہے جو اجتماعی بے حسی کی چھت تلے زندہ ہے۔ سب کہہ رہے ہیں کہ ایدھی انسانی خدمت کے مینار سے پھوٹنے والی روشنی ہے۔ مگر یہ کیسی روشنی ہے کہ جس جس پے پڑ رہی ہے اس کا ننگ اور عیاں کر رہی ہے۔
ایدھی کیسا رول ماڈل ہے جو 60 برس کی ماڈلنگ کے باوجود ریاست کو یہ نہ سمجھا پایا کہ ریاست دراصل بنیادی انسانی ضروریات کی باوقار تکمیل کے لئے ہی تشکیل دی جاتی ہے۔ ریاست دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا نہیں بلکہ ایک ہاتھ سے دینے اور دوسرے سے لینے کا نام ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس 2000 ایمبولینسز ہیں۔ سب کو فکر ہے کہ ایدھی کو نوبل پرائز مل جائے، سب چاہتے ہیں کوئی عمارت، سڑک، یادگار یا تمغہ ہی اس کے نام سے متعارف ہو جائے۔ مگر کوئی نہیں چاہتا کہ انسانی دکھوں کی ریلے ریس میں تنہا دوڑنے والے ایدھی کے ہاتھوں سے مشعل لے کر ساتھ ساتھ دوڑنے لگے۔

اگر ریاست واقعی ایدھی کے فلسفے اور کام کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں سنجیدہ ہوتی تو ایدھی کی 2000 ایمبولینسوں میں ریاست کم ازکم دو ہزار مزید ایمبولینسیں جوڑ چکی ہوتی۔ ایدھی کے پاس اگر ایک ایئر ایمبولینس تھی تو ذاتی جہازوں میں سفر کرنے اور مفت سفر کروانے والا کوئی بھی مال پیٹ اب تک کم ازکم چار ایمبولینسیں بطور کفارہ اڑا رہا ہوتا۔ ایدھی نے جانوروں کا ایک اسپتال قائم کیا تو اس کی تقلید میں اب تک کوئی صوبائی حکومت چار ہسپتال بنا چکی ہوتی۔ ایدھی نے لاوارث نوزائیدہ بچوں کو ڈالنے کے لئے اگر دس پنگھوڑوں کا انتظام کر رکھا ہے تو اس روایت کے احترام میں چار شہروں میں ہی ایسے چار مراکز ہوتے کہ جن کا کام ہی لاوارث نوزائیدگان کو پال پوس کر بڑا کرنا ہوتا۔

ہاں متعدد دینی و سیاسی چھوٹی بڑی فلاحی تنظیمیں بہت سے علاقوں میں بہت کچھ کر رہی ہیں۔ بیسیوں صاحبِ دل خاموشی سے انسانی خدمت کر رہے ہیں۔ سلام ہے ان سب کو۔ مگر یہ سب مل کے بھی ریاستی ڈھانچے کا متبادل نہیں بن سکتے۔
پر ضرورت بھی کیا ہے اس کھکیڑ میں پڑنے کی؟ جب ایدھی کی انسانیت نوازی کی شان میں ایک قصیدہ کہہ کر، اس کے صاحبِ فراش ڈھانچے کے ساتھ ایک سیلفی کھنچوا کر، اس کی لاغر گردن میں ایک لش پش ہار ڈال کر، اور جو خود ہزاروں مریضوں کا علاج کر چکا ہے اس کو بیرونِ ملک علاج کی پیش کش کر کے اور اسے قومی اثاثہ بتا کر اپنی نیک دلی و انسان دوستی کا سستا ٹکاؤ بریکنگ نیوز ثبوت دیا جا سکتا ہو۔

مردہ پرست تو ہم پہلے بھی تھے مگر اب تو اتنے مردہ پرست ہو چکے ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ جیتے جاگتے انسان کا مزار بنا کر چڑھاوا چڑھا دیں۔ ایسے حالات میں ایدھی صاحب کو تو خیر کیا ضرورت ہوگی، جتنی ضرورت ان کی عیادت کرنے والوں کو اپنی عیادت کرانے کی ہے۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.