Header Ads

Breaking News
recent

موم بتی مافیا کی شہید

موم بتی مافیا نے قندیل بلوچ کوقتل ہونے کے بعد اپنی شہید قرار دیتے ہوئے ایسی ایسی باتیں کہیں کہ اللہ کی پناہ، مجھے یوں لگا کہ وہ معصوم اور مظلوم تھی جبکہ ہم سب بطور معاشرہ ظالم اورمجرم ، جی جی، آپ نے درست کہا کہ وہ جیسی بھی تھی اس کے قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ، میں اس پرآپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں مگر کیا آپ مجھے قائل کرپائیں گے کہ قندیل بلوچ اپنی زندگی میں جو کچھ کرتی رہی، کیا اس کے قتل کے بعد وہ سب کچھ جائز قرار دیا جا سکتا ہے، اسے آئیڈیلائز کر تے ہوئے معاشرے کے کچے ذہنوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ۔ میں اس کے قاتل بھائی کی ہرگز وکالت نہیں کر رہا، اسے یقینی طور پر ایک قتل کے مجرم کی حیثیت سے ہی سزا ملنی چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ میرا موم بتی مافیا قندیل بلوچ کو بہادر، باغی اور جرات مند قرار دیتا ہے لیکن اگر اس کے آس پاس، چاردیواری کے اندر، کوئی لڑکی دوسرے مردوں کے نام اپنے بیڈ روم سے قابل اعتراض حالت میں لیٹ کر ایسی ویڈیوز بنا کے پوسٹ کر رہی ہو جس میں ان کے ساتھ سب کچھ کرنے کی دعوت بھی موجود ہو توو ہ کیا کریں گے جنہیں غیرت کے نام سے گھن آتی ہے، جنہیں اس بے چارے مشرقی معاشرے کی تمام روایات انتہائی بری لگتی ہیں۔

میں نے قندیل بلوچ کی سوشل میڈیا پروفائل دیکھی اور جانا کہ جس طرح ایک صدقہ جاریہ ہوتا ہے اسی طرح کچھ گناہ بھی ’گناہ جاریہ‘ کے زمرے میں آتے ہیں، جو کوئی قندیل بلوچ کے کردار سے متاثر ہو گا اور اس کی راہ پر چلے گا میرے خیال میں اس کے گناہ میں قندیل بلوچ کا حصہ بھی ہو گا، اس نے ایک سیاسی رہنما کو شادی کی پیش کش کرتے اور انڈین ٹی وی چینل کی طرف سے اس کے رئیلٹی شو میں شرکت کی دعوت ملنے پر بار بار لکھا، ’ نو ون کین سٹاپ می‘ ، یعنی اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر قندیل بلوچ ’ بگ باس ‘ میں شرکت کر لیتی تو وہ وینا ملک کے ریکارڈ بھی توڑ دیتی اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتی ، وہ یقینی طورپر اس کی ’ بین ویڈیو‘ سے بھی آگے کی چیز ہوتی ،موم بتی مافیا کی شہید اسی تیز رفتاری کی قائل تھی جس کی موٹر وے پر ممانعت کی گئی ہے اور جگہ جگہ لکھا گیا ہے کہ تیز رفتاری سب کو بھاتی ہے مگر جان اسی میں جاتی ہے۔
بہت ساری خواتین قندیل بلوچ کو صرف اس لئے ’ خراج عقیدت ‘ پیش کر رہی ہیں کیونکہ وہ خود کو معاشرے میں مردانہ بالادستی کے خلاف ’ جہاد‘کی مجاہدہ سمجھتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ جب مردوں کو غیرت کے نام پر قتل نہیں کیا جاتا تو پھر ایک عورت کوانہی افعال کیوں قتل کیا جائے جنہیں مرد اپنی محفلوں میں فخر کے ساتھ چٹخارے لے لے کر بیان کرتے ہیں مگر اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اگرمرد غلط کرتے ہیں تو اسے عورتوں کی غلط کاری کاجواز نہیں بنایا جا سکتا، ہونا تو یہ چاہئے کہ مردوں کی غلط کاریوں کی روک تھام کے لئے تحریک چلائی جائے نہ کہ ان کی بنیاد پر عورتوں کی غلط کاریوں کو بھی جواز دے دیا جائے۔مجھے انتہائی ادب کے ساتھ عرض کرنے دیجئے کہ قندیل بلوچ کا کردار کسی طور بھی عورتوں اور مردوں میں جاری کشمکش کا شاخسانہ نہیں، یہ ایک عورت کی طرف سے دولت اور شہرت کے حصول کا شارٹ کٹ تھا، ہاں، یہ بات درست ہے کہ مردوں میں قندیل بلوچوں کی کمی نہیں، علمائے کرام میں مفتی عبدالقوی نام کے شخص کو آپ اس کی ایک بہترین یا بدترین مثال قرار دے سکتے ہیں۔

ہمارے ایک صحافی اور مصنف دوست نے اپنے قلم کے ذریعے اسی امر کی نشاندہی کی کہ غیرت کے نا م پر مرد کیوں قتل نہیں ہوتے اور پھر اگلے ہی روز قندیل بلوچ کے شہر ڈیرہ غازی خان سے ہی خبر آ گئی کہ اللہ دتہ نام کے ایک شخص کو غیرت کے نام پر پانچ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، ناک کان اور ہونٹ سمیت اس کے مختلف اعضا کاٹ لئے اور اپنے ساتھ لے گئے، اللہ دتہ کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا، بس ایک کمی رہی کہ کچھ لوگوں کے مطابق یہ کام خواتین کا گلابی گینگ کرتا تو انہیں تسلی ہوتی۔ قندیل محض دولت ،شہرت اور کامیابی کی اندھی ہوس میں مبتلا تھی  وہ معاشرے میں اصلاح کے لئے کوئی جہاد نہیں کر رہی تھی کہ اسے سراہا اور اس پر تنقید کرنے والوں کو گالیوں سے نوازا جائے، جواس کی زندگی میں برا فعل تھا وہ اس کی موت کے بعد بھی قابل مذمت ہی رہے گا۔

بہت ساروں نے کہا، اپنی حرکتوں کی قندیل ذمہ دارنہیں، ذمہ دار تو یہ معاشرہ ہے، کچھ نے منٹو کے کسی افسانے کا یہ زریں قول بھی بیان کیا کہ یہ معاشرہ عورت کو ٹانگا چلانے کی اجازت تو نہیں دیتا مگر کوٹھا چلانے کی اجازت دے دیتا ہے اور مجھے ان سے کہنا ہے کہ اس قتل نے ثابت کر دیا ہے یہ گیا گزرا معاشرہ بھی کسی کو کوٹھا چلانے کی اجازت نہیں دیتا ، ہاں، اگر ٹانگا چلانے سے مراد روزگار کا حصول ہے تو میرے معاشرے کی ہزاروں نہیں لاکھوں خواتین محنت مزدور ی کر کے اپنے بزرگوں اور بچوں کے پیٹ کے جہنم کی آگ بجھا رہی ہیں، وہ شہروں میں دفاتر میں کام کرتی ہیں اور دیہات میں کھیتوں میں اپنا پسینہ اپنے مردوں کے ساتھ بہاتی ہیں مگر اپنی عزت کا سودا نہیں کرتیں ، اپنے جسم کی تشہیر نہیں کرتیں اگر آپ ڈیرہ غازی خان کی فوزیہ کو دولت کے حصول کے لئے قندیل بلوچ بننے کو قابل تحسین گردانتے ہیں تومجھے کہنے دیجئے آپ ان تمام محنت کش خواتین کو احمق قرار دیتے ہوئے ان کی توہین کر رہے ہیں جو آپ کی نظر میں ’کامیابی‘ کے لئے فحاشی اور بے حیائی کے اس شارٹ کٹ کو استعمال نہیں کر رہیں، جی ہاں، مجھے آپ کے اس سوال کا بھی اندازہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تو مرنے کے بعد متوفی کی برائیاں نہیں صرف خوبیاں ہی بیان کی جاتی ہیں،

 اس کے گناہوں کی معافی اور اس کی جہنم کی آگ سے نجات کے لئے دعا کی جاتی ہے اور میں اپنی معاشرتی روایات کے بالکل الٹ اس بی بی کے مرنے کے بعد بھی اس کی برائیاں بیان کر رہا ہوں، جہاں میں قندیل بلوچ کی مغفرت کے لئے دعاگو ہوں وہاں یہ دعا بھی پورے خلوص سے کرتا ہوں کہ مجھے بھی میرا رب معاف فرمائے۔ اے موم بتی مافیا! میرا جواب اس خدشے میں چھپا ہوا ہے کہ تم لوگ قندیل بلوچ کو ہماری خواتین، خاص طور پر وہ جوبہت سارے مردوں کی طرح شارٹ کٹ میں دولت اور شہرت کے حصول کے لئے دیوانی ہو رہی ہوتی ہیں، ان کے سامنے ایک آئیڈیل کے طور پر پیش کر رہے ہو۔ میں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تم اس کے قتل کو بنیاد بناتے ہوئے اسے جتنا مرضی مظلوم ، معصوم ، باغی اور انقلابی بنا کے پیش کرتے رہوہمیں اپنے معاشرے میں مزید قندیل بلوچیں کسی طور قابل قبول نہیں ہیں۔ میں تمہارے ساتھ مل کر اس قتل کی مذمت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر اس کے کردار اور افعال کو جائزیت عطا نہیں کر سکتا۔ بہت ساروں نے سوال کیا کہ اس کے بھائی کی غیرت اب کیوں جاگی، اس سے پہلے جاگتی تو وہ قندیل بلوچ ہی نہ بنتی اور میں موم بتی مافیا کی اسی غیرت کو اب جگانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لے۔

قندیل بلوچ جیسی عورتوں کی اخلاق باختہ اوردعوت گناہ دیتی ہوئی ویڈیوز دیکھنے کے بعد انہیں جرات اوربہادری قرار دینا کسی بھی غیرت مند انسان کے لئے ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن چونکہ ہم سب کچھ مختلف کہنا اور اس پر داد لیناچاہتے ہیں لہذا اس کے قتل کی آڑ لیتے ہوئے ہم یہ بھی کر گزرتے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے گھر میں کسی قندیل بلوچ کو برداشت نہیں کرسکتا۔ موم بتی مافیا اگر واقعی اس مقتولہ کو معاشرے کی باغی کے طور پر آئیڈیلائز کرنے میں منافقت نہیں کر رہا ، محض مشرقی او ر مذہبی روایات کی مخالفت میں جنونی نہیں ہو رہا ، د ل کی گہرائیوں سے مقتولہ کے کردار کو سراہتا ہے تو میں اسے دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنی بیٹیوں کے نام قندیل بلوچ رکھنے کی تحریک کا اعلان کر دے کہ موم بتی مافیا کو اپنی شہید رہنما کا لہوکم از کم اس طرح رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے اور اسے سپورٹ کرنے والے ہر گھر میں کم از کم قندیل بلوچ تو ضرور ہونی چاہئے تاکہ معاشرہ ان کی نظر میں عزت او ر غیرت کے فرسودہ تصورات سے جلد از جلد باہر نکل سکے بلکہ اپنے طور پر قرار دی گئی اس مقدس جنگ میں وہ خود بھی پوری طرح شامل ہوں، محض لفاظی ہی نہ کرتے رہ جائیں۔
 وما علینا الاالبلاغ۔

نجم ولی خان

No comments:

Powered by Blogger.