Header Ads

Breaking News
recent

پکڑ سکو تو پکڑ لو : Catch me if you can

ممکن ہے اکیسویں صدی یکم جنوری دو ہزار سے شروع ہوئی ہو۔ مگر میری نسل
کے لیے بیسویں صدی جمعہ چار جون دو ہزار سولہ کو محمد علی پر مکمل ہوئی۔اب ساٹھ کے عشرے میں پیدا ہو کر ستر کے عشرے میں ہوش سنبھالنے والا کوئی ایسا بچہ دیکھنے کی خواہش ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ محمد علی کی باکسنگ کے قصے دیکھے یا سنے بغیر بڑا ہو گیا۔ کوئی ایسا ملے تو مجھ سے ضرور ملوائیے گا۔ میں سونی لسٹن کا نام اس لیے نہیں جانتا کہ وہ عالمی چیمپئن تھا بلکہ اس لیے یاد ہے کہ محمد علی نے اسے ہرایا تھا۔ مجھے فلائیڈ پیٹرسن ، ہنری کوپر ، جیری کویری ، جوفریزر ، جوبگنر ، کین نارٹن ، جارج فورمین ، لیون سپنکس اس لیے تھوڑی یاد ہیں کہ وہ عظیم باکسر تھے بلکہ یوں لاشعور کی ہارڈ ڈسک میں موجود ہیں کہ محمد علی کے مقابل انھیں باکسنگ رنگ میں دیکھا تھا۔

ہاں محمد علی جوفریزر ، کین نارٹن ، لیون سپنکس سے ایک ایک بار ہارنے کے بعد جیتا۔ انیس سو اسی اور اکیاسی میں لیری ہومز اور ٹریور بیربیک سے لگاتار ہارنے کے بعد عظیم ترین علی نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ لیکن کیا کسی کو محمد علی کی یہ ناکامیاں اور آخری دو فیصلہ کن شکستیں یاد ہیں ؟ باکسرز کے نام تو شائد بہت سوں کو یاد رہ جائیں مگر کسی باکسر کے مینیجر کا نام کیسے کروڑوں لوگوں کے حافظے کا حصہ بن جاتا ہے ؟ مگر جو علی کو جاننے کا دعویٰ کرے اور اس کے مینیجر ڈان کنگ کو نہ جانے ؟
 کیسے ممکن ہے ؟ تیس اکتوبر انیس سو چوہتر صبح چار بجے پاکستان میں ہر اس جگہ جہاں پی ٹی وی دیکھنا ممکن ہے وہاں محلے کے جن جن گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود ہیں ان گھروں کے دروازے کھلے ہیں، صحن میں چٹائی بچھی ہے۔ جو بھی بچہ ، بڑا ، محلے کی عورت اور مرد چاہِے آئے اور بلیک اینڈ وائٹ اسکرین پر ٹکٹکی باندھ لے۔ بار بار اناؤنسر بتا رہا ہے کہ ’’ اب سے کچھ دیر بعد ہم آپ کو کنشاسا لے جائیں گے جہاں اس صدی کی سب سے بڑی باکسنگ فائٹ میں جارج فورمین اور محمد علی آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ خصوصی نشریات آپ تک مصنوعی سیارے کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہیں ‘‘۔ 

ایسا رت جگا پاکستانی دو بار کیا کرتے تھے۔ یا تو قومی ہاکی ٹیم کسی دور دراز ٹائم زون میں اولمپکس یا ورلڈ کپ میچ کھیل رہی ہو یا محمد علی کی فائٹ ہو رہی ہو۔ اگر محمد علی صرف باکسر ہوتا تو سوائے باکسنگ پرستاروں کے کس کو یاد رہتا۔اگر وہ میرا ہیرو اس لیے تھا کہ اس نے سن چونسٹھ میں عالمی چیمپئن سونی لسٹن کو پہلی بار ہرا کے گزشتہ روز ہی اسلام قبول کر لیا تو مسلمان ہونے والے دوسرے عالمی چیمپئن مائک ٹائی سن کا نام سن کے میرا خون جوش کیوں نہیں مارتا۔ شائد علی نسل در نسل اس لیے یاد ہے کہ وہ کوئی ایک شے نہیں انسانی شکل میں پورا انعامی پیکیج تھا۔
سن ساٹھ کے عشرے کی دنیا میں بلیک پاور کے دو استعارے تھے۔ افریقہ میں نیلسن منڈیلا اور امریکا میں مارٹن لوتھر کنگ۔ دونوں جنات کے سائے میں سے محمد علی نام کا ایک بڑبولا لونڈا بھی کہیں سے آن دھمکا۔ جب اس لونڈے نے جنگِ ویتنام کے لیے جبری بھرتی کا قانون ماننے سے انکار کرتے ہوئے چیختے ہوئے کہا ، ’’ وہ مجھ سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں وردی پہن کر گھر سے دس ہزار میل پرے جا کے ویتنام کے سانولے لوگوں پر بم گراؤں اور گولیاں برساؤں ، جب کہ یہاں لوئزویل کے کالوں سے کتوں جیسا سلوک روا ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔‘‘

امریکی دائیں بازو نے اس گستاخ کالے چھوکرے پر جیسے ہی غداری کا لیبل لگایا اور حکومت نے اس کا باکسنگ لائسنس دس برس کے لیے منسوخ کیا اور کچھ عرصے جیل میں بھی ڈالا تو محمد علی سامراجی جنگ کے خلاف سن ساٹھ کے نوجوان کے لیے بغاوت و مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔ حالانکہ ابھی وہ محمد علی دور دور نہیں جو باکسنگ رنگ میں جو فریزر اور کین نارٹن کو خاک چٹوائے گا اور جارج فورمین کو ہرا کر بیسویں صدی کا سب سے بڑا کھلاڑی بن جائے گا۔ مگر امریکی سپریم کورٹ نے اس لڑکے کی اندرونی آواز کو سنا اور ساڑھے تین برس بعد ہی باکسنگ لائسنس واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ آپ نے زندگی میں کتنے بڑ بولے دیکھے جو اپنے منہ سے کہیں کہ وہ عظیم ترین ہیں اور دنیا کہے ہاں تم عظیم ترین ہو۔ باکسر چھوڑ کتنے ایسے کھلاڑی یاد ہیں جو اپنے بارے میں شاعری بھی خود ہی کرتے ہوں اور اس کونے سے دنیا کے دوسرے کونے تک ہر لڑکا اور لڑکی ان کا ہم آواز بھی ہو جائے اور ان کے چہرے میں خود کو تمتماتا دیکھے۔میری نسل کو آج تک ’’ کیچ میں اف یو کین ‘‘ حفظ ہے۔

’’ وہ تتلی کی طرح لہراتا ہے اور مکھی سا ڈنک مارتا ہے ، محمد ، دی بلیک سپر مین ، جو حریف کو للکارتا ہے ، میں علی ہوں ، پکڑ سکو تو پکڑ لو‘‘۔ ویسے تو علی نے باکسنگ بارہ برس کی عمر میں ہی شروع کردی تھی تاکہ اس چور کی دھنائی کرسکے جو اس کی سائیکل لے کے چمپت ہوگیا تھا۔ لیکن علی نے سن ساٹھ کے روم اولمپکس میں لائٹ ویٹ گولڈ میڈل جیتنے کے بعد پروفیشنل مقابلوں سمیت اکیس برس رنگ میں گذارے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پینتیس برس ناموری و گمنامی کے درمیان پارکنسن ڈزیز سے مکے بازی کرتے صرف کیے۔ کھیل ہو کہ پرفارمنگ آرٹ ، دونوں کا تعلق شو بزنس سے ہے۔ شوبزنس کا اصول ہے رات گئی بات گئی ، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ، تم روٹھے ہم چھوٹے۔ مگر محمد علی پر شو بزنس کی زندگی والا کلئیہ بھی تو لاگو نہیں ہو پا رہا۔ آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ اپنے وقت کا بڑا کرکٹر ، اپنے وقت کا بہترین سینٹر فارورڈ ، اپنے وقت کا بڑااداکار  اپنے وقت کی بہترین گلوکارہ ، اپنے وقت کا بہترین کامیڈین فلاں فلاں۔ کبھی کسی کو کہتے سنا کہ اپنے دور کا بہترین شاعر غالب ، اپنے زمانے کا بہترین باکسر محمد علی ؟

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.