Header Ads

Breaking News
recent

برطانوی ریفرنڈم اور یورپی یونین

یورپی یونین کے معاملے پر بر طانیہ میں ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتا ئج سامنے آچکے ہیں۔ حتمی نتا ئج کے مطابق 51.9%برطانوی ووٹروں نے یورپی یونین چھوڑنے، جبکہ 48.1%نے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے لئے ووٹ دئیے۔ یوں برطانوی عوام کی اکثریت نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے پر پوری دنیا میں یورپی یونین کے مستقبل کے حوالے سے سوالات کھڑے کئے جا رہے ہیں۔ ان نتا ئج کے بعد بنیا دی سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب یورپی یونین کا بحران ختم ہوجا ئے گا؟ اس انتہائی اہم سوال کے جواب کے لئے ہمیں یورپی یونین کی بنیا دی ساخت کو سمجھنا پڑے گا۔

دنیا کے کئی خطے اور مما لک تا ر یخی، تہذ یبی، معا شی اور جغر ا فیا ئی اور سب سے بڑھ کر فطری اعتبا ر سے ایک وحدت ہیں ،مگر محض سیا سی اور سر حدی تقسیم سے یہ خطے الگ الگ ریا ستوں پر مشتمل ہیں جیسے عرب مما لک اور خاص طور پر خلیجی مما لک جو تاریخی، تہذ یبی، اور جغرافیا ئی اعتبارسے ایک وحدت ہیں مگر اس خطے کو کئی ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسی طرح 
شما لی اور جنو بی کوریا ، افر یقہ اور لا طینی امر یکہ کے کئی مما لک کی غیر فطری تقسیم اس امر کی مثا لیں ہیں۔ جب کہ دوسر ی طرف کئی خطوں کو تا ر یخی، تہذ یبی، سیاسی اعتبا رسے جدا ہونے کے با وجود ایک معا شی ، سیا سی اور تہذیبی وحد ت کے طور پر پیش کر نے کی کو شش کی جا تی ہے۔اس وقت یو رپی یو نین اس امر کی سب سے بڑی مثال ہے۔
جب 7فر وری 1992 کو Maastricht Treaty (یو ر پی یو نین کا معا ہدہ) کر کے یو رپ کے 27 ممالک پر مشتمل یورپی یو نین کی بنیا د رکھی گئی تو یو رپ کے کئی دانشو روں اور تجز یہ نگا روں کی جا نب سے یہ دعوے کئے گئے کہ 
یورپی یو نین ایک فطر ی بلا ک ہو گا ۔ ایسا تا ثر دینے کی کو شش کی گئی کہ یورپ میں سیا سی ،معا شی اور تہذ یبی اعتبا ر سے خا صی مما ثلت ہے۔ اس لئے یہ بلاک مستقبل میں بھی قا ئم رہے گا،مگر یہ دعویٰ کر نے والے بھول گئے کہ 
یورپ قطعی طور پر ایک معا شی اور سیا سی وحدت نہیں، بلکہ یورپی یونین کے اندر معاشی اور سیا سی تر قی کی تقسیم اسی قدر گہری ہے جس قدر تر قی یا فتہ یو رپی مما لک کی ایشا ئی ممالک سے۔

ایک طرف جنو بی یورپ (پر تگال، یونان، سپین،اٹلی) اور دوسری طرف شما لی 
یورپی مما لک ( جر منی، ہالینڈ، فرا نس،اسکینڈے نیوین ممالک) ہیں۔ یہ تقسیم محض ثقا فتی نہیں، بلکہ سیا سی اور معا شی بھی ہے۔ در اصل یہ تقسیم ’’کلا ئنٹل ازم ‘‘اور ’’نان کلا ئنٹل ازم ‘‘کی ہے۔ آج سیاسیات کے جدید ما ہر ین جمہو ری 
ممالک میں سیا سی شعور کا اندازہ لگا نے کے لئے کلا ئنٹل ازم اور نان کلا ئنٹل ازم کے پیما نے کو ہی استعما ل کر رہے ہیں۔ کلا ئنٹل ازم سے مراد کیا ہے؟ اور یہ کیسے یو رپی یونین کے اتحا د پر اثر انداز ہورہی ہے؟۔ایسے جمہوری مما لک جہاں پر سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کے لئے ریا ستی اداروں اور وسا ئل کو استعمال میں لا کر اپنے وو ٹروں یا حامیوں کو نوازتی ہیں۔ اس نوازنے میں سرکاری اداروں میں اپنے حا میوں میں نوکر یوں کی تقسیم،حا میوں کو قا نون سے تحفظ فرا ہم کرنے سے لے کر پیسوں اور دیگر مرا عا ت شا مل ہو تی ہیں۔ ان ممالک کے وو ٹرز اپنی حکو متوں یا سیا سی جما عتوں سے کسی دیر پا پروگرام کی بجا ئے فور ی مرا عا ت کے طا لب ہو تے ہیں ۔ ۔ جیسے نوکریاں، پیسے، پانی  سیور یج، نلکے اور تھا نے کچہر یوں میں سیا سی حما یت کے حصول کے مفادات وغیرہ۔ واضح رہے کہ ایسی ریا ستوں میں جہا ں کلائنٹل ازم کی بنیا د پر جمہو ری نظا م چل رہے ہیں۔

ان ممالک میں ریاستی وسا ئل کے دم پر اپنے حا میو ں کو نوازنا قطعی طور پر کرپشن کے زمر ے میں نہیں آتا، بلکہ یہ سب کچھ قا نون کے تحت ہوتا ہے۔ کلائنٹل ازم کے حامل ممالک ایسے ہیں کہ جہا ں ریاست یا مستقل ریاستی اداروں کے باقاعد ہ طور پر منظم ہو نے سے پہلے ہی جمہوری نظام آ جاتا ہے اور سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی حمایت کے حصول کے لئے ووٹروں کو بغیر کسی جواب دہی کے نوازنا پڑتا ہے۔ بھارت، پاکستان، میکسیکو، بنگلہ دیش، سری لنکا، برازیل،تھائی لینڈ ،کینیا ، نا ئجیریا وغیرہ کلا ئنٹل ازم کی حا مل ریاستیں تصور کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف جن مما لک میں ریاست کے مستقل اداروں ( بیورو کریسی) کے منظم ہو نے کے بعد صحیح معنوں میں جمہوریت آئی، ان ممالک میں سیاسی جماعتوں نے اپنے حامی طبقوں یا گروپس کو نوازا تو ضرور، مگر ریاستی اداروں کو مکمل طور پر اپنے حامیوں کے لئے استعمال کر نے میں کامیاب نہ ہو سکیں،کیو نکہ مضبوط ریاستی ڈھانچے نے سیا سی جما عتوں کو اس امر کی اجازت نہ دی۔

یہی وجہ ہے کہ جرمنی، بر طانیہ، ہالینڈ ، فرانس اور اسکیڈ ے نیوین مما لک میں کلاسیکل معنوں میں کلا ئنٹل ازم قا ئم نہ ہو سکا(جمہو ریت آنے کے بعد)۔ اب اگر اسی تناظر میں یورپی یونین کے مسئلے پر حالیہ بر طانوی ریفرنڈم کو دیکھا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ اس مسئلے کی جڑیں بھی کلائنٹل ازم اور نا ن کلائنٹل ازم میں ہی مو جود ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقادا اس لئے کیا گیا تھا ، تاکہ اپنی جما عت ’’قدامت پرست پارٹی ‘‘میں موجود یورپین یونین کے مخالف راہنماؤں اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت’’ یوکے انڈی پینڈنس پا رٹی‘‘ کی سیا ست کو کمزور کیا جا ئے۔

ریمین ( یورپین یونین میں رہنے ) کے بڑے حامیوں میں ڈیوڈ کیمرون اور لیبر پارٹی کے راہنما جیریمی کورن شامل تھے۔ اب ریفرنڈم کے نتا ئج کے بعد وزیر اعظم کیمرون نے اکتوبرمیں مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ جبکہ یوکے انڈی پینڈنس پارٹی کے راہنما نائجل فاریج اور قدامت پرست پارٹی کے اہم راہنما بورس جانسن لیو(چھوڑنے) کے حامیوں کی قیادت کر رہے تھے ۔ اس وقت برطانیہ کے اکثر سما جی اور معاشی مسائل کا شکار ایسے ایمگرنٹس کو ٹھہرایا جا رہا ہے جو یورپی یو نین کی آڑ میں غریب یورپی ممالک سے آکر برطا نیہ میں آباد ہو جا تے ہیں اور برطانوی معیشت پر بوجھ بنتے ہیں۔ یہی وہ بنیا دی مسئلہ تھا جس کو بنیاد بنا کر قدامت پسند پارٹی کے چند راہنماوں اور ’’یوکے انڈی پینڈنس پارٹی‘‘ نے یو رپی یونین چھوڑنے کی مہم چلائی تھی، جبکہ بڑامعاشی مسئلہ یہی تھا کہ کیا برطانوی سرما یہ داروں کا مفاد ایک واحد یورپی منڈی میں پو را ہو سکتا ہے یا پھر لیو(چھوڑنے) کے حامیوں کے مطابق بر طانوی سرما یہ داروں کا مفاد یورپین یونین سے نکل کر چین، بھارت، عرب اور دولت مشترکہ کی منڈیوں میں ہے؟ 

ریمین ( یورپین یونین میں رہنے ) مہم کے حامیوں کا موقف تھا کہ یوپین یونین میں رہنے سے نیٹو کا عسکری اتحاد بھی مضبوط رہے گا، جبکہ یو رپین یو نین کو چھوڑنے والوں کا مو قف تھا کہ برطانیہ کو اس لئے بھی یورپین یونین کی رکنیت چھوڑ دینی چاہیے، کیونکہ اگر جرمنی نے یورپین یونین کے لئے ’’یورپی فوج‘‘ تشکیل دے دی تو اس سے جرمنی نہ صرف پورے یورپ پر چھا جا ئے گا، بلکہ یورپین یونین محض جرمنی کے مفادات کو پورا کرنے والا ایک ادارہ بن کر رہ جا ئے گا۔

یورپین یونین کے حوالے سے ہو نے والے ریفرنڈم نے برطانیہ میں کس قدر سیاسی کشیدگی پیدا کی اس کا ایک اندازہ ہمیں لیبر پارٹی کی 41 سالہ برطانوی خاتون رکن پارلیمنٹ ’’جو کاکس‘‘ کے قتل سے ہوتا ہے۔ ’’جو کاکس‘‘ نہ صرف یو رپین یو نین کی پر زور حما یتی تھیں، بلکہ یورپ کے غریب ممالک کے ساتھ ساتھ شامی مہاجرین کو بھی بر طانیہ میں پنا ہ دینے کی حما یت کرتی تھیں۔ ریفرنڈم سے چند دن قبل 16جون کو ’’جو کاکس‘‘ کو انتہا ئی بے دردی سے قتل کرنے والا شخص ٹامی مائرہے جو بر طانوی قوم پرستی پر فاشسٹ نظریات رکھتا تھا۔ اس نے جو کاکس کو حملے کا نشانہ بنا تے ہو ئے با ر با ر "Britain First"یعنی سب سے پہلے بر طانیہ کے نعرے لگا ئے۔ یہ نعرے لیو(چھوڑنے) کے حامیوں کی مہم کا ایک اہم نعرہ تھا۔ یوں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپی یونین کے معاملے پر برطانیہ میں سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ برطانیہ کے عام انتخابات کے دوران بھی اس کی حدت اتنی زیا دہ نہیں ہوتی۔

یو رپ کے امیر ممالک جیسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی اب غریب یورپی ممالک کے لئے مز ید قربانیاں دینے کے لئے تیار نہیں ۔ یورپی یو نین کے حکمرا ن یو رپی یو نین کو قا ئم رکھنے کی بھر پو ر کوشش کر رہے ہیں ،مگر بحران ہے کہ قا بو میں ہی نہیں آرہا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یو رپی یو نین کی تشکیل اپنی ہئیت میں ہی ایک غیر فطری اتحا د تھا، جہا ں کلا ئنٹل ازم اور نا ن کلائنٹل ازم کی حامل ریا ستوں کو ایک ہی لڑی میں پرونے کی کو شش کی گئی۔ کلا ئنٹل ازم اور نان کلا نئٹل ازم کی یہ تقسیم اس قدر گہری ہے کہ مستقبل قر یب میں اس تقسیم کا ختم ہو ناممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ 

عمر جاوید

No comments:

Powered by Blogger.