Header Ads

Breaking News
recent

پا ک چین دوستی کا لازوال سفر

پاکستان اور چین کے مابین لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 65 برسوں سے جاری
ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ 1951 میں پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا اس سے پاکستان اور چین کے مابین نئے باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو دونوں ملکوں کے رہنماوں اور عوام کی سطح پر مضبوط تر ہوتے چلے گئے دنیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالاتر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کیلئے ایک مثال ہے پاکستان نے تائیوان، تبت و دیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کیلئے کھلے دل کے ساتھ پاکستان کی حمایت کی اور مخلصانہ خود غرضی سے پاک مالی معاونت کے ذریعے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے حصول اور استحکام کے لیے پاکستان کی مدد کی۔

اِس سے قبل کہ پاکستان کے چین کے ساتھ حالیہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے بہتر ہوگا کہ سفارتی تعلقات کے قیام سے اُن منصوبوں کا ذکر کیا جائے جو چین نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے شروع کیے۔ اِن منصوبوں میں پہلا منصوبہ ہیوی مکینیکل کمپلیس ٹیکسلا کا قیام ہے جس نے پاکستان کی معاشی ترقی میں بے مثال کردار ادا کیا۔ پاکستان میں جتنی صنعتی ترقی ہوئی یا ہو رہی ہے وہ مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کی ہی مرہون منت ہے۔ قراقرم ہائی وے کا ذکر کیا جائے تو یہ شاہراہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کا ایک اہم سنگ میل قرار دی جاسکتی ہے۔ قراقرم ہائی وے جسے دنیا کا آٹھواں بڑا عجوبہ بھی کہا جاتا ہے نے نہ صرف دونوں ملکوں کی تجارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گلگت بلتستان کی ترقی میں بھی اِس شاہراہ کا اہم کر دار ہے۔ پاکستان کو توانائی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے بھی چین کی کوششوں اور سرمایہ کاری سے انحرا ف نہیں کیا جاسکتا۔
گلگت، بلتستان اور کشمیر میں انرجی سیکٹر میں بہت سے منصوبے شروع کے گئے ہیں۔ چین نیوکلئیر پاور سیکٹر میں بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ 330 میگاواٹ کا چشمہ پاور پلانٹ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے جبکہ چشمہ کے مقام پر ہی چین کی مدد سے دو ا یسے ہی پاور پلانٹ چشمہ4, اور5پر بھی کام جارہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ 2017 میں مکمل ہو جائے گا یہ دونوں منصوبے نیشنل پاور گرڈ میں کئی سو میگاواٹ کا اضافہ کریں گے جِس سے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد ملے گی ۔ چین اور پاکستان کے مابین تجارت کو بھی توسیع دی جارہی ہے۔ چین پاکستانی مصنوعات کا پانچواں بڑا درآمد کنندہ ہے اس کے علاوہ چین کی مختلف کمپنیاں تیل وگیس ، آئی ٹی انجینئرنگ مائنز سیکٹر اورہاوسنگ و مواصلات کے شعبہ میں بھی 300 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

پاکستان اور چین کے تعلقات ہر نشیب وفراز سے بالاتر مستحکم سے مستحکم تر ہوتے جارہے ہیں یہ دوستی صرف دونوں ممالک کی حکومتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے سے گہری محبت اور پیار رکھتے ہیں۔ قدرتی آفات میں بھی دونوں ممالک نے دل کھول کر ایک دوسرے کی مدد کی ہے ۔ پاکستان اور چین کی یہ دوستی نہ ختم ہونے والی دوستی ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف نے اسی دوستی کے ناطے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اپنے غیر ملکی دورہ کیلئے جس ملک کا انتخاب کیا وہ چین ہی تھا ۔ اس دورہ کے دوران پاکستان سے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا جن کے نتائج آج چین پاکستان اقتصادی راہداری کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔

پانچ جولائی 2013کو چین اور پاکستان نے 46ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی منظوری دی ۔ اس منصوبہ کے تحت بحیرۂ عرب پر واقع پاکستان کی گوادر بندر گاہ کو چین کے شہر کا شغر سے ملانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ 24دسمبر 2013کو چین نے کراچی میں 1100میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دو ایٹمی ری ایکٹر ز لگانے کا وعدہ کیا جن پر لاگت کا تخمینہ ساڑھے چھ بلین ڈالر ہے اور یہ فنڈز چین فراہم کرے گا ۔ 2014میں چین کے وزیراعظم نے پاکستان میں توانائی ، بنیادی ڈھانچہ اور گوادر بندرگاہ کی توسیع کے لیے 31.5بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جبکہ ابتدائی طور پر پندرہ سے بیس بلین ڈالر کے منصوبوں جن میں لاہور کراچی موٹروے ، گوادر بندر گاہ کی توسیع اور توانائی کے بڑے منصوبے جن میں گڈانی اورر تھر کول فیلڈ کے نزدیک توانائی کے چھ منصوبے لگانے کی ابتدا کی گئی ۔ اسی دوران صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے چین کا پہلا سرکاری دورہ بھی کیا ۔ جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 9سے 11اپریل تک باؤ فورم برائے ایشیاء میں شرکت کی ۔صدر پاکستان نے دوبارہ چین کا دورہ کیا اور سیسا (CICA)کا نفرنس 2014 میں شر کت کی ۔

22 مئی 2014 کو حکومت پاکستان اور چین کے مابین لاہور میں 27.1کلومیٹر لمبے لاہور میٹرو ٹرین پروجیکٹ جس پر لاگت کا تخمینہ 1.27بلین ڈالرہے کے معا ہدے پر دستخط ہوئے نو مبر 2014میں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چین کا ایک اور دورہ کیا اس دورہ کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت 19معاہدوں پرد ستخط ہوئے جس کے تحت چین پاکستان میں مختلف منصوبوں پر 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ۔20اپریل 2015کو چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا چین کے صدر کا نو سال بعد پاکستان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ۔ اس دورے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت 51 یادواشتوں پر دستخط ہوے ۔اقتصادی تعلقات کے علاوہ چین نے ہر بُرے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا 2005میں چین میں زلزلہ اور 2008میں پاکستان میں زلزلہ کے وقت دونوں ملکوں نے وسائل سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی ۔ چین نے 2008کے زلزلہ میں پاکستان کیلئے 6.2ملین ڈالر کی امداد فراہم کی جبکہ ڈیڑ ھ لاکھ کے قریب کمبل 3380خیمے و دیگر سامان فراہم کیا گیا جس کی مجموعی مالیت 20.5ملین ڈالر ہے اسی طرح چین میں مئی 2008میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے خیمے، کمبل اور جان بچانے والی ادویات بھیجیں اسی طرح 2010کے سیلاب میں نقصانات کے ازالہ کیلئے چین نے پاکستان کو 250ملین ڈالر کی امداددی یہ کسی بھی ملک کی طرف سے پہلی مرتبہ اتنی بڑی امداد تھی ۔

چین نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبہ میں بھی بہت تعاون کیا ۔ چین نے نہ صرف پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا بلکہ دفاعی طور پر پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کے اندر بھی اسلحہ کی تیاری کیلئے اسلحہ ساز فیکٹریوں کے قیام میں معاونت کی جن میں پاکستان ایرونائیکل کمپلیکس ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز،پاکستان نیوی کے دفاعی منصوبے اور میزائل فیکٹریاں بھی چین کے تعاون سے کام کر رہی ہیں ۔

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں جے ایف 17تھنڈر فائٹر طیاروں کی تیاری بھی پاک چین دوستی کی ایک زندہ مثال ہے یہ طیارے برآمد بھی کیے جاسکیں گے ۔ قطر اور سری لنکا نے اِن طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا ہے اس طرح پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما سکے گا ۔ 1965اور1971کی جنگوں میں چین نے بھر پور طریقے سے پاکستان کی اخلاقی ،سفارتی اور مالی امداد کی ۔ چین نے نہ صرف کشمیر پر پاکستان کے بھر پور موقف کی حمایت کی بلکہ بھارت کے کشمیر پرظالمانہ قبضہ کی مخالفت اور مذمت کی ہے ۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے منصوبے ہیں جو پاکستان اورچین کے اشتراک سے جاری ہیں اس کے علاوہ بے شمارایسے منصوبے ہیں جو یا تو چین کی مدد سے مکمل ہو چکے ہیں یا زیر تکمیل ہیں۔

چین اور پاکستان نہ صرف ہمسایہ ملک ہیں بلکہ ان کی مضبوط دوستی کی لمبی تاریخ ہے عالمی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بہت کم ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی کی طرح کوئی اور مثال مل سکے۔ ہمیں پاک چین تعلقا ت کی 65ویں سالگرہ مناتے ہوئے اِن دوستی کے رشتوں کو اور مضبوط بنانا ہے اور دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے دلوں میں پائی جانے والی یہ دوستی اور محبت مضبوط تو ہو سکتی ہے اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔

ارشد بشیر

No comments:

Powered by Blogger.