Header Ads

Breaking News
recent

ایک اور جیوڈیشل کمیشن ۔۔ وزیر اعظم اور کیا کر سکتے تھے؟

پانامہ لیکس پر کافی شور تھا۔ چوبیس گھنٹے سے دنیا بھر میں ایک طوفان ہے۔ کئی ممالک میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ ایک دو ممالک میں پارلیمنٹ بھی تحلیل کر دی گئی ہیں۔ اس لئے ایسا کیسے ممکن تھا کہ ہمارے ملک میں کچھ نہ ہو تا۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پاس بھی جیوڈیشل کمیشن بنانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ وہ بھی عالمی رد عمل اور قومی رد عمل کے تناظر میں ایک بند گلی میں پہنچ چکے تھے۔ اس لئے جیوڈیشل کمیشن ہی واحد راستہ تھا۔

جس حد تک قومی سیاست کا تعلق ہے تو اپوزیشن اس جیوڈیشل کمیشن کو مسترد کر دے گی۔ یہ اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے کہ ریٹائرڈ جج کو کیوں اس کا سربراہ بنا یا جا رہا ہے۔ حاضر سروس جج کو بنا یا جا نا چاہئے۔ کچھ اپوزیشن رہنما یہ کہیں گے کہ جب تک وزیر اعظم میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں۔ کوئی بھی جیوڈیشل کمیشن آزادانہ تحقیقات نہیں کر سکتا۔ لہذا ایک مرتبہ پھر استعفیٰ کی رٹ شروع ہو جائے گی۔ کچھ دوست یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ معاملہ فوج کو دے دینا چاہئے۔ فوج ہی اس کی تحقیقات کرے۔ فوجی عدالت میں ہی مقدمہ چلے یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ سابق چیف جسٹس (ر) افتخار چودھری نے اس معاملہ میں پہلے ہی اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ اور اس طرح شاید وہ اب اس کمیشن کے سربراہ نہیں ہو سکتے۔ ورنہ اپوزیشن شور مچا دیتی کہ افتخار چودھری کو سربراہ بنا یا جا رہا ہے۔ بہر حال افتخار چودھری نے جو کہا ہے وہ کسی حد تک قانونی دائرہ میں درست بھی ہے۔ لیکن شاید ان کا موقف سیاسی طور پر قبو ل نہ ہو۔ شاید اس معاملہ میں قانون اور سیاست کا اختلاف ہی اصل تنازعہ کی وجہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ آج میاں نواز شریف کے بچوں پر بیرون ملک کاروبار کرنے کے حوالے سے تنقید کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ بارہ اکتوبر کو جب فوج نے میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ تو ان کے بچوں کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا۔ حسین نواز کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ حسن نواز کو کیوں لندن میں محصور کر دیا گیا۔ کیوں ایسا ماحول بنا دیا گیا تھا کہ اگر حسن نواز بھی ملک میں واپس آجائے تو اسے بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ فوج جب تختہ الٹتی ہے تو سیاستدانوں کے بچوں کو بھی کیوں پکڑ لیتی ہے۔ کیوں جب جمہوریت کا تختہ الٹا جا تا ہے تو سیاستدانوں کو ملک سے باہر جانے پر مجبور کیا جا تا ہے۔ کیا کوئی آج اسٹبلشمنٹ سے سوال کر سکتا ہے کہ کس قانون کے تحت میاں نواز شریف کے گھر کو اولڈ ہوم بنا دیا گیا تھا۔

پاکستان کے سیاسی حالات کا مضبوط جمہوری ممالک کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ان ممالک میں سیاستدانوں کو یہ خطرہ ہو تا ہے کہ ان کے جرائم کی سزا ان کی اولاد کو بھی بھگتنا ہو گی۔ جب جمہوریت کا بستر گول ہو گا۔ ان کی اولاد بھی پابند سلاسل ہو جائے گی۔ صرف میاں نواز شریف ہی نہیں بھٹو کی اولاد کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو پہلے جیل میں رکھا گیا۔ پھر ملک سے باہر جانے پر مجبور کیا گیا۔ بھٹو کے بیٹوں کے لئے بھی ملک واپسی مشکل کر دی گئی۔ آجکل سابق صدر آصف زرادری ملک سے باہر ہیں۔ ان کی واپسی میں بھی وہی عوامل رکاوٹ ہیں۔ جو پہلے میاں نواز شریف کی واپسی میں رکاوٹ تھے۔

بلاول اگر ملک میں واپس بھی آئے ہیں تو غیر ملکی ہی ہیں۔ ابھی بھی وہ اپنی مٹی سے اٹوٹ رشتہ نہیں بنا سکے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی ملک سے باہر ہی جانا پڑا۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان کے لئے تو اسٹبلشمنٹ نے خود ملک سے باہر جانے کے راستہ کا انتخاب کیا۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم شوکت عزیز بھی ملک واپس نہیں آسکتے۔ خیر وہ تو پہلے بھی ملک میں نہیں رہتے تھے۔ اسی طرح کئی ریٹارئرڈ جرنیل اور بیورو کریٹ بھی اپنے اپنے حصہ کا مزا لوٹنے کے بعد ملک کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ وہ بھی ملک سے ہی سرمایہ باہر لیکر جاتے ہیں۔

آجکل اس ضمن میں عمران خان نے بہت شور مچایا ہوا تھا۔ ان کے نزدیک پانامہ لیکس کرپشن کے ثبوت ہیں۔ اس لئے اب میاں نواز شریف کے پا س حکومت کرنے کا کائی جواز نہیں ہے۔ لیکن کوئی عمران خان سے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ خان صاحب آپ کے بچے پاکستان میں کیوں نہیں رہتے۔ وہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کیوں نہیں حاصل کر رہے۔ ان کا پاکستان کی مٹی سے کوئی رشتہ کیوں نہیں ہے۔ وہ پاکستان کے شہری کیوں نہیں ہیں۔ ان کو اردو کیوں نہیں آتی۔ وہ نہ تو ہماری زبان سمجھتے ہیں۔ نہ ہی انہیں ہمارے کلچر اور ثقافت کی سمجھ ہے۔ وہ کل کو باہر کاروبار بھی کریں گے۔

اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی دولت ہمارے ملک میں رہے۔ تو ہمیں اپنے ملک کو محفوظ بنانا ہو گا۔ ہمیں اپنے لوگوں کو ایسا قانونی تحفظ دینا ہو گا کہ کوئی یہاں خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے۔ کوئی بھی حکومت چاہے وہ جمہوری ہو یا غیر جمہوریاتنی طاقتور نہ ہو کہ کسی سے اس کی دولت چھین سکے۔ کاروبار اتنا شفاف ہو کہ حکومتیں اس پر اثر نہ رکھ سکتی ہوں۔ کسی بھی حکومت کو منشا یا ملک ریاض رکھنے کی ضرورت نہ ہو۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہو گا۔ دولت مند اپنی دولت کو محفوظ کرنے کے چکر میں آف شور کمپنیاں بناتے رہیں گے۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی اولاد یں ملک سے باہر کاروبار کریں گی۔

تا ہم اس ساری بحث میں ایک دلیل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو ممالک محفوظ ہیں وہاں کے حکمرانوں نے بھی آف شور کمپنیاں بنائی ہیں۔ اس کا کیا جواز ہے۔ لیکن شاید دولت کے حوالہ سے وہ ممالک بھی محفوط نہیں ہیں۔وہاں ٹیکس چوری ممکن نہیں۔ کا لا دھن رکھنا ممکن نہیں۔ پاکستان میں تو ٹیکس چوری بھی آسان ہے۔ کا لادھن رکھنا بھی آسان ہے۔ عدلیہ بھی کمزور ہے کسی کو کوئی سزا نہیں دیتی۔ اس لئے پکڑے جانے کے بعد بچ جانا بھی آسان ہے۔ نیب بھی پلی بارگین کر لیتی ہے۔ پھر بھی پاکستان دولت کے حوالہ سے کیوں غیر محفوظ ہے۔ شاید جیوڈیشل کمیشن اس کا جواب بھی ڈھونڈ لے۔ جہاں تک جیوڈیشل کمیشن سے آنے والے فیصلے کا تعلق ہے تو مجھے اس حوالہ سے کسی بڑے فیصلے کی کوئی امید نہیں۔ اگر میاں نواز شریف نے جیوڈیشل کمیشن بنا یا ہے تو سوچ سمجھ کر ہی بنا یا ہو گا ۔ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اس لئے شاید اپوزیشن بھی کمیشن کا بائیکاٹ ہی کر دے۔

مزمل سہروردی

No comments:

Powered by Blogger.