Header Ads

Breaking News
recent

مغوی چپ کیوں سادھ لیتا ہے

کچلاک کوئٹہ سے کوئی پچیس کلومیٹر دور ایک ایسا سنگھم ہے‘ جہاں سے ایک
سڑک سیدھی پشین اور چمن کے راستے افغانستان چلی جاتی ہے جب کہ دوسری سڑک زیارت اور لورالائی کے راستے ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی مقام فورٹ منرو پر پنجاب میں داخل ہوتی ہے۔ یہی سڑک زیارت کے پہاڑی سلسلے سے ذرا پہلے مسلم باغ اور ژوب کی طرف مڑتی ہے جو خیبرپختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلع میں داخل ہوتی ہے۔ اسی لیے کچلاک میں ہوٹلوں‘ چائے خانوں اور دیگر سفری ضروریات کی چیزوں کی بہت سی دکانیں اور ریڑھیاں ہروقت موجود رہتی ہیں۔ یہاں کے ہوٹل تو دن رات کھلے ہوتے ہیں۔

80 کی دہائی میں جب بلوچستان پر امن و امان کا راج تھا تو ہم لوگ رات گئے جب
کوئٹہ شہر سناٹے میں ڈوب چکا ہوتا ‘ کچلاک میں چینک چائے پینے جایا کرتے تھے۔ پورے بلوچستان میں کچلاک کے ہوٹلوں کا ’’روش‘‘ مشہور ہے۔ یہ ایک طرح کا نمکین گوشت ہوتا ہے جسے صرف نمک میں پکایا جاتا ہے۔ یہ وہی ’’روش‘‘ ہے جسے سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر نے کھا کر ساڑھے تین سو روپے بل ادا کیا اور ہوٹل والے سے لاہور فون کرنے کے لیے موبائل مانگا جو اسے نہیں دیا گیا۔

وہ وہاں سے ہوٹل کے باہر چلا گیا۔ جہاں سیکیورٹی اداروں کے افراد نے اسے اٹھا لیا اور پھر  پورے ملک کے ٹیلی ویژن چینلز پر بریکنگ نیوز چلنے لگی۔ اس کی برآمدگی کے دعوے شروع ہو گئے۔ کچلاک سے برآمدگی ایک انتہائی حیران کن خبر تھی۔ اس لیے کہ کچلاک دراصل ایک چھوٹا سا بازار ہے جس میں کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا کسی قسم کا خفیہ ٹھکانہ بنایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس کے ارد گرد مختلف گاؤں ہیں لیکن وہاں بھی رہنے والے ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے اور ایک ہی قوم قبیلے کے افراد ہوتے ہیں۔ برآمدگی کا سہرا سر پر سجانے کی اس کارروائی نے مجھے اپنی نوکری کے بالکل آغاز کا ایک واقعہ یاد کروا دیا۔ اس کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔
وہ زمانہ تھا جب روس افغانستان میں موجود تھا اور افغان مہاجرین پاکستان میں۔ بلوچستان کے ساتھ لگنے والے بارڈر جس میں غزنی اور قندھار وغیرہ شامل ہیں ان پر نجیب اللہ کی جانب سے عصمت اللہ مسلم اچکزئی بارڈر ملیشیا کا جرنیل مقرر تھا۔ چمن کی سرحد کے اس پار اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا تھا جسے وہ ’’قرار گاہ‘‘ کہتا تھا۔ وہاں کئی کنٹینر رکھے ہوئے تھے۔

عصمت اللہ کے لوگ چمن‘ پشین اور گردونواح سے لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کرتے اور انھیں وہاں کنٹینروں میں بند کر کے رکھا جاتا۔ چونکہ نجیب اللہ کے تعلقات بلوچستان کے پشتون قوم پرستوں کے ساتھ گہرے تھے‘ اس لیے لوگ‘ مصیبت کے مارے ان سے رابطہ کرتے اور پھر تاوان کی رقم ادا کر کے اپنے رشتے دار کو واپس لے آتے۔ کچلاک ان دنوں عصمت اللہ مسلم کے ایک دوست کے حوالے سے بہت مشہور ہوا جو مہترزئی قبیلے سے تھا۔ یہی زمانہ تھا جب پشتون علاقے کے علاوہ بلوچ علاقے میں آباد ہندوؤں کے بھی منظم اغوا برائے تاوان کا سلسلہ شروع ہوا۔

سب سے پہلے گردھاری لال بھاٹیہ کو اغوا کیا گیا اور اس زمانے میں نوے لاکھ روپے تاوان وصول کیا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ پورے بلوچستان میں آباد اقلیتوں جن میں ہندو اور پارسی شامل تھے ان کے اغوا کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بلوچ علاقوں میں جتھے قبائل سرداروں کی سرپرستی میں کام کرتے اور وقت آنے پر قوم پرست سیاست کا علم اٹھا لیتے۔ پارسی کراچی ہجرت کر گئے اور ہندو بھارت کے شہر اندور میں جا کر آباد ہو گئے۔ انھی دنوں میری نوکری کا آغاز ہوا تھا اور میں چمن میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے تعینات تھا۔ 1988 کا اپریل‘ دو تاریخ۔ اچانک 
چمن کی سرحدی چوکی پر عصمت اللہ مسلم پاکستان میں داخل ہوا۔

اس زمانے میں بارڈر پر تین سیکیورٹی ایجنسیوں کی چوکیاں تھیں۔ لیویز‘ ایف آئی اے اور ایف سی۔ لیویز نے اسے پہچان لیا اور ایف آئی اے والوں نے اسے اپنی چوکی میں لا کر بٹھایا۔ ایف سی والوں نے اس کے بارے میں اپنے کمانڈنٹ سے رابطہ قائم کیا۔ کمانڈنٹ وہاں پہنچا اور اس نے حالات دیکھتے ہوئے کہا کہ اسے واپس سرحد کے پار بھیج دو۔ اس پر ایف آئی اے والوں نے کہا کہ ہم نے تو سارے ملک میں بتا دیا ہے کہ ہم نے اتنے بڑے اغوا کار کو پکڑ لیا ہے اور ساتھ ہی ہم نے غیر قانونی بارڈر کراس کرنے پر کیس بھی رجسٹرڈ کر لیا ہے۔ کمانڈنٹ کہنے لگا‘ اس کو چھوڑ دو ورنہ حالات خراب ہو جائیں گے۔

اب ایف آئی اے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کہا گیا کیس رجسٹرڈ ہے‘ گرفتاری ڈالی جا چکی ہے۔ اب اسے صرف اسسٹنٹ کمشنر ہی ’’ڈی پورٹ‘‘ کر سکتا ہے۔ یوں مجھے خبر کی گئی۔ اس کے بعد کی کہانی بہت طویل ہے۔ عصمت اللہ مسلم کے ملیشیا کے لوگ آئے‘ انھوں نے پوسٹ کا گھیراؤ کیا اور اپنے جرنیل کو لے کر چلے گئے اور یوں ایف آئی اے کے اہل کاروں نے جو تمغہ اپنے سینے پر سجانا تھا وہ رہ گیا۔

اغوا برائے تاوان ایسا جرم ہے جس میں اکثریت ایسے افراد کی ہوتی ہے جو تاوان دے کر کسی نہ کسی طریقے سے گھر واپس لوٹتے ہیں ۔لیکن متعدد کیس ایسے ہوتے ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اپنے سینوں پر برآمدگی کا تمغہ سجائے پھرتے ہیں۔ یہی کیفیت شہباز تاثیر کے معاملے کی ہے۔ معاملہ اس لیے الجھتا رہا ہے کہ پہلے دن ہی سے ہر کوئی مسئلے کو الجھاتا ہے۔ سچ ایک ایسی نایاب چیز ہے جو ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاں سے غائب ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے بعد میڈیا ہر قسم کی خواہش کی خبر بنا کر بریکنگ نیوز چلا رہا ہوتا ہے۔ 

شام کو تبصرہ نگار بیٹھ کر عمیق تبصرے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کس کس کا ہاتھ ہے۔ پہلے دن سے سب کو علم تھا کہ شہباز تاثیر کو اغوا کرنے والے وہ ’’ایڈونچرز‘‘ قسم کے نوجوان تھے جنھیں لاہور کے راستوں سے زیادہ یہاں کے ماحول کا علم تھا۔ لیکن آپ اس زمانے کے تبصرے اور ٹی وی پروگرام نکال لیں‘ ہر کوئی ایک ہی طرف اشارہ کر رہا تھا اور وہ تھے طالبان۔ اس کے بعد طرح طرح کی چہ مگوئیاں شروع ہوئیں اور وہ بھی میڈیا پر‘ کوئی جائیداد کا شاخسانہ قرار دیتا‘ کوئی ممتاز قادری کے ساتھ تعلق جوڑتا‘ کسی کو طالبان کے گروہوں کے ہاتھ بار بار فروخت کی کہانی بنانا ہوتی۔ یہاں تک کہ اسے ڈرون حملے میں مار بھی دیا گیا۔

ادھر ہمارے سیکیورٹی انجینئرز کا حال یہ ہے کہ ان کی رسائی ہی ان علاقوں میں بہت کم ہے جہاں اس طرح کے لوگ اغوا برائے تاوان کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ اکثر اہل کار قبائلی معاشروں سے نا آشنا ہوتے ہیں اور دوسرا ان کے لیے زبان کا اتنا بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ کئی واسطوں سے وہ بات کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل جدوجہد اور تگ و دو صرف اس مغوی کا خاندان ہی کرتا رہتا ہے‘‘ جو اپنے عزیز کو واپس لانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کا عزیز واپس آ جائے تو وہ خوف سے زبان نہیں کھولتا اور گھر والے بھی کسی مزید بکھیڑے میں پڑنے سے بہتر خیال کرتے ہیں کہ ان کے عزیز کی برآمدگی کا تمغہ کسی کے بھی سینے پر سج جائے‘ وہ لوگ آرام سے رہیں۔اس لیے کہ زبان کھولنے پر یہ تمغہ سجانے والے لوگ اسے کسی بھی خطرے میں مدد کو نہیں آئیں گے۔

قبائلی معاشروں میں ایک ’’خبر‘‘ یا ’’حال‘‘ ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ کوئی بات کبھی چھپی نہیں رہتی۔ قبائلی معاشرے میں اندھا قتل بھی چھپا نہیں رہتا کہ یہ ان کی روایات ہیں کہ چھوٹی سے چھوٹی خبر یا بات کو آگے تک پہنچانا ہے۔ کچلاک کے ارد گرد جو قبائل آباد ہیں اور پشین اور چمن کے ارد گرد کے لوگوں تک جو خبریں پہنچی ہیں اور ان کا ذکر زبان زد عام ہے۔ ان میں ایک یہ کہ چالیس کروڑ تاوان ادا کیا گیا ہے جب کہ پہلے دو ارب روپے مانگا جا رہا تھا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ شہباز تاثیر ان گروپوں کے ہاتھ بیچا گیا تھا جو طالبان کی افغانستان میں موجود قیادت کے مخالف تھے۔

اس لیے طالبان نے ان کا تعاقب جاری رکھا ہوا تھا۔ وہ اس تعاقب کے خوف سے بھاگ رہے تھے۔ ایسے میں شہباز ان کے ہاتھ آیا جسے طالبان چند سو روپے دے کر کچلاک چھوڑ گئے۔ دونوں صورتوں میں تمغہ کسی کے سینے پر نہیں سجتا۔ لیکن صرف ایک تلخ حقیقت ہے جو اغوا برائے تاوان کے ہر کیس کے بعد سامنے آتی ہے۔ مغوی اپنی زبان نہیں کھولتا۔ وزیر داخلہ نے انکوائری کا حکم دیا ہے کہ اسے سچ نہیں بتایا گیا۔ لیکن انکوائری اس بات پر ہونی چاہیے کہ ریاست مغوی کے دل سے خوف ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے کہ ہر مغوی چپ سادھ لیتا ہے‘ کچھ بتاتا تک نہیں۔ یہی خوف اغوا برائے تاوان کرنے والوں کو حوصلہ دیتا ہے۔

اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.