Header Ads

Breaking News
recent

بےگھر افراد کے لیے 'دیوار مہربانی'

 فروری دنیا میں کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پچھلے 68 سالوں کی طرح اب کی بار بھی اس دن کی مناسبت سے ٹی وی چینلز اور لاوڈ اسپیکرز پر بڑے زور وشور سے ظلم کی داستانیں بیان کی گئیں۔ اُس دن میں دوست کے ساتھ ایک ادبی میلے میں شرکت کیلئے گھر سے نکلا تو راستے میں جگہ جگہ بینرز آویزاں تھے۔

 دیواریں بھی رنگ رنگ کے نعروں سے بھری ہوئیں تھیں۔ کہیں مظلوم کشمیریوں کی ہمت کو سلام کہا گیا تھا تو کہیں ان کے ساتھ ہونے کا وعدہ کیا گیا تھا، اور میں نعروں کو پڑھ پڑھ کر سوچ رہا تھا کہ مظلوم کشمیریوں نے جن پاکستانیوں سے امیدیں وابسطہ کی ہوئی ہیں، وہ خود کتنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

دہشت گردی، بدامنی، باہمی اختلافات، غربت، کرپشن وغیرہ، میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ کیا مسلمان ان حالات سے نکل سکتے ہیں؟ ایسا کیا طریقہ ہے جو انہیں اپنانا چائیے؟ اور اسی سوچ میں آگے بڑھتے ہوئے ہمیں اس وقت رکنا پڑا جب ایک دیوار پر لکھا ہوا عجیب سا فقرہ نظر آیا، ’’دیوارِ مہربانی‘‘۔ ہم نے دیوارِ چین کا نام تو سنا تھا، دیوارِ برلن کا نام بھی سنا تھا لیکن دیوارِ مہربانی؟ 
یہ کون سی دیوار ہوسکتی ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آیا تو دیوار کے پاس کھڑے دو، تین لڑکوں کے پاس جا کر پوچھا کہ یہ اس دیوار پر کیا لکھا ہے؟ بڑے ادب سے سلام کلام کے بعد انہوں نے تفصیل کچھ یوں بیان کی کہ بھائی آپ تو جانتے ہیں ہمارے ملک میں بہت زیادہ غربت ہے، بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس پہننے کیلئے گرم کپڑے نہیں، جب کہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن پر اللہ نے نعمتوں کی فراوانی عطا کی ہے۔ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ کپڑے اور استعمال کی دیگر اشیا ہوتی ہیں۔

بے شک ان میں بہت سے افراد ہمدردی اور رحم کا جذبہ بھی رکھتے ہیں اس لئے وہ غریبوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، اس طرح کے حالات ہمارے پڑوسی ملک ایران میں بھی ہیں۔ وہاں کے کچھ لوگوں نے ہمدردی کا جذبہ لیکر ایک دیوار پر ہینگرز لگا کر اپنی ضروریات سے زائد اضافی کپڑے اور اشیاء ان کے ساتھ لٹکا دیئے تاکہ جن غریب لوگوں کو ان ضرورت ہے وہ یہاں سے لے جاکر اپنے استمعال میں لاسکیں۔ اس دیوار کا نام انہوں نے دیوارِ مہربانی رکھ دیا۔ ہمدردی کا وہ جذبہ لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ نہ صرف ایران کے تمام شہروں میں دیوارِ مہربانی قائم ہوگئی بلکہ پشاور میں بھی ایسی دیواریں بنا دی گئیں تو ہم نے بھی اسی جذبے کے تحت اس دیوار کو دیوارِ مہربانی قرار دے دیا ہے۔

پہلے مجھے یہ بات کچھ عجیب معلوم ہوئی، دیوار پر کپڑے لٹکانے سے کیا ہوسکتا ہے؟ کیا اس طرح غریبوں کی ساری ضروریات پوری ہوسکتی ہیں؟ کیا اتنا کرنے سے غریبوں کا حق ادا کیا جاسکتا ہے؟ اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی حالت زار اور کچھ دیر پہلے ذہن میں اٹھنے والے سوالات یاد آگئے، مجھے وہ چھوٹے چھوٹے اقدامات  بہت بڑے لگنے لگے، کیوںکہ اس طرح دنیا کو بہت بڑا پیغام مل سکتا ہے۔ اس سے غربت تو ختم نہیں ہوگی لیکن ایک اچھی سوچ جنم لے سکتی ہے، سوچ کا بدل جانا حقیقی انقلاب ہے، جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ 

اس سے ہم دنیا کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم انسان دوست اور امن پسند ہیں، یہ بہت اچھی شروعات ہیں۔ ان جوانوں کی سوچ کی پذیرائی لازمی ہے اور اگر ہم سب اس میں اپنا حصہ ڈالیں تو ہمدردی کی یہ دیواریں مل کر ایک بہت بڑی زنجیر کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ ایران سے پشاور اور پشاور سے لاہور، یہ زنجیر پوری دنیا تک بھی پھیل سکتی ہے، بلکہ اِس کو ہر صورت پھیلانا چاہیئے۔

کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد ہم وہاں سے چل دئیے۔ مجھے سارے سوالوں کا جواب مل چکا تھا، مثبت سوچ اور عملی جدوجہد ہی مسلمانوں کو تمام مسائل سے نجات دلاسکتی ہے۔ انسانیت سے ہمدردی امن کا سب سے بڑا پیغام ہے۔ جس کے دل میں انسانوں کیلئے رحم کا جذبہ ہو وہ کبھی کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دہشت گردی کی اصل جڑ ہی بے رحمی اور انسانی ہمدردی کا فقدان ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کیلئے رحمدلی اور باہمی ہمدردی کا کلچرعام کرنا چاہیئے اور ہر فرد اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے چھوٹے قدم تسلسل کے ساتھ ہو تو بڑے فاصلے طے ہوسکتے ہیں۔

شاہ خالد
 

No comments:

Powered by Blogger.