Header Ads

Breaking News
recent

ٹھٹھہ تاریخ کا ایک ورق

تاریخی عمارت بے جان نہیں ہوتیں، ان میں ایک تاثر ہوتا ہے یا تو اُس شخصیت کا جس سے عمارت منسوب ہے یا اس ماحول کا جو اس عمارت پر مسلط رہا۔ نظام الدین نے 900 ھ 1494 میں اس شہر کی بنیاد مکلی کی پہاڑی سے نیچے رکھی اس شہر کا نام پہاڑ کے نیچے آباد ہونے کی وجہ سے ’’تہہ تہہ‘‘ مشہور ہو گیا پھر آہستہ آہستہ لوگ اس شہر کو ٹھٹھہ کہنے لگے، ٹھٹھہ سندھ کا بہت ہی قدیم شہر ہے سندھ کی قدیم تا ریخ کی بہت سی علامات اور نشانیاں اس شہر میں ملتی ہیں اس شہر میں سندھ کے بڑے بڑے عالم، شاعر، درویش اور بادشاہ مدفون ہیں۔ 

اگرچہ سندھ کے بعض مورخین نے یہ بات لکھی ہے کہ ٹھٹھہ کی بنیاد جام نظام الدین نندا نے رکھی، لیکن ٹھٹھہ بہت پہلے سے آباد تھا۔ ہمیں ٹھٹھہ کا نام جام نظام الدین نندا سے پہلے پہلے محمد شاہ تغلق کے زمانے 751ھ 1350 میں بھی ملتا ہے اس سے قیاس ہوتا ہے کہ ٹھٹھہ آباد تو پہلے ہو چکا تھاغالباً جام نظام الدین نندا نے اپنی حکومت کے زمانے میں اسی شہر کی توسیع اور جدید تعمیر کی ہو گی جن کے باعث مشہور ہو گیا کہ جام نظام الدین نندا نے ٹھٹھہ کی بنیاد رکھی۔

ٹھٹھہ 651ھ ، 1253 (امیر خسرو کی پیدائش) سے بھی پہلے آباد تھا ورنہ نا ممکن ہے کہ یہ شہر اپنے آباد ہونے کے بعد 16 یا 19 سال کے نوجوان امیر خسرو کو اس قدر متاثر کرتا کہ وہ اپنے شعر میں اس شہر سے تشبیہ کا کام لے سرو چوتو، در اُچو و درتتہ بنا شد گل مثل رُخ خوب تو البتہ بنا شد ترجمہ: ترے مثل سرو اُچ اور ٹھٹھہ میں نہیں ہوگا۔ پھول تیرے حسین چہرے کے مثل ہر گز نہیں ہو سکتا۔ 

ٹھٹھہ کا ذکر کینجھر جھیل اور شاہ جہاں مسجد کے بغیر ادھورا ہے کینجھرجھیل کراچی سے 122 کلو میٹر اور ٹھٹھہ سے 18 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے یہ میٹھے پانی کی پاکستان میں دوسری بڑی جھیل ہے جس سے کراچی اور ٹھٹھہ کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔   
جہاں سردیوں کے موسم میں دنیا بھر سے پرندے آتے ہیں اور افزائش نسل کرتے ہیں کینجھرجھیل ایک اہم تفریحی مقام بھی ہے جہاں کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ و دیگر مقامات سے لوگ جوق در جوق اپنے اہل خانہ کے ساتھ آتے ہیں۔ کینجھرجھیل کی لمبائی 24 کلو میٹر اور چوڑائی 6 کلو میٹر ہے۔

 شاہ جہانی مسجد ٹھٹھہ شہرہ آفاق مسجد ہے جو شاہ جہاں کے حکم پر ٹھٹھہ کے صوبے دار میر ابوالبقاء نے اس زمانے میں بنوائی جب وہ دوسری مرتبہ ٹھٹھہ کا گورنر ہو کر آیا اس مسجد کی تعمیر 1054ھ 1644 میں شروع ہوئی اور 1057ھ 1647میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی اس کی تعمیر میں نو لاکھ صرف ہوئے، مسجد کی چھت پر 92 گنبد واقع ہیں ان میں تین بڑے اور مرکزی ہیں آثار قدیمہ کے ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس قسم کی خوبصورت ٹائلس اور اینٹوں کے حسین و خوبصورت امتزاج کا دنیا میں یہ ہی واحد نمونہ ہے، مسجد کا رقبہ 170/305 فٹ ہے۔ 

ٹھٹھہ کی تاریخی اور سیاسی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں مسجد کے اطراف شالامار گارڈن کی طرز پر ایک چھوڑا سا باغیچہ تعمیر کیا گیا ہے۔ جس سے مسجد کی رونق مزید دوبالا ہو گئی ہے۔ اسی طرح یہ شہر مکلی قبرستان کی وجہ سے اپنی شہرت رکھتا ہے۔ یہ تاریخی قبرستان ہے۔
مکلی تقریباً 50فٹ بلند ایک پہاڑی اور اس کے اطراف کے علاقے کے نام ہے جو ٹھٹھہ شہر سے مغربی طرف ہے۔ 12 میل لمبی اس پہاڑی پر دنیا کا سب سے بڑا قبرستان واقع ہے۔ ٹھٹھہ شہر سے کراچی جانے والی نیشنل ہائی وے اس پہاڑی کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، جنوبی حصہ میں حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، مخدوم ابو القاسم نقشبندی، مخدوم آدم نقشبندی کے مزارات ہیں جبکہ شمالی حصہ میں شہنشاہ مکلی سید عبداللہ شاہ صحابی، حضرت شاہ مراد شیرازی، شیخ جیئہ چراغ مکلی اور شکر الٰہی سادات کے مزارات ہیں، اس پہاڑی کا نام مکلی کیسے پڑا اس کے متعلق مختلف روایات موجود ہیں،جن کی تفصیل پھر کبھی سہی

محمد سعید جاوید

No comments:

Powered by Blogger.