Header Ads

Breaking News
recent

ممتازقادری کی پھانسی، میڈیا دو واضح حصوں میں تقسیم

ممتازقادری کی پھانسی اور اس فیصلے خلاف احتجاج کی کووریج پر پاکستانی میڈیا دو حصوں میں منقسم ہوگیا۔ گزشتہ روز ہی میڈیا کو ہدایت کردی گئی تھی کہ ممتازقادری کی پھانسی کی خبر کو کم سے کم جگہ پر شائع کیا جائے چنانچہ آج کے روزنامہ جنگ، ایکسپرس، نئی بات اور خبرین نے تین کالمی خبر شائع کی جبکہ روزنامہ "دنیا" نے محض دو کالمی خبر غیرنمایاں انداز میں شائع کی۔

تاہم کراچی کے روزنامہ جسارت، روزنامہ امت نے اس ہدایت کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے پھانسی اور اس کے خلاف احتجاج کی خبروں کو بھرپور کووریج دی۔ روزنامہ جسارت نے سب سے پہلے پھانسی کی خبر شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور گزشتہ روز یہ خبر شہ سرخی کے ساتھ شائع کردی تھی، روزنامہ امت نے آج بھرپور کورریج دی۔
 امت نے شہ سرخی لگائی کہ "عاشق رسول کی پھانسی پر قوم سوگ میں ڈوب گئی"۔ اخبار کے صفحہ اول میں ممتاز قادری کا یہ بیان بھی شامل ہے کہ "حرمت رسول پر جان دے رہا ہوں، اہل خانہ کو استقامت کی وصیت"۔ روزنامہ امت نے یہ خبر بھی نمایاں انداز میں شائع کی کہ شاتم رسول آسیہ مسیح کو پانچ برس بعد بھی پھانسی نہ دی جاسکی۔ روزنامہ پاکستان نے بھی شہ سرخی کے ساتھ اس خبر کو شائع کیا۔

No comments:

Powered by Blogger.