Header Ads

Breaking News
recent

ہمارے معاشرے کا زوال اور سماجی رویے

ہمارے معاشرے میں گھریلو لڑائی جھگڑے یا خاص طور پر ساس اور بہو کی روایتی لڑائیاں ایک بہت لمبی اور افسوس ناک داستان رکھتی ہیں جن کا نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شروع کب ہوئیں اور نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ ختم کب ہوں گی۔ اور نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ شروع کیوں ہوئیں۔ ایک اہم نکتے کو ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سب سے اہم رشتے اللہ تعالیٰ نے بالکل منفرد بنائے ہیں۔ جیسے بچوں کیلئے ماں باپ کا رشتہ اور ماں باپ کیلئے بچوں کا رشتہ، جن کے آپس کے تعلق میں ہم کسی صورت بھی کسی قسم کا ردوبدل نہیں کر سکتے۔ 

آپ جس کی اولاد ہیں، اس کی ہی رہیں گے دوسرے کی کسی طرح نہیں بن سکتے، چاہے آپ کا اس سے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو کیونکہ یہی چیز فطرت کے قانون کے مطابق ہے اور آپ فطرت کو کسی صورت دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اکثر خرابی یہاں پیدا ہوتی ہے کہ ہم خود تو کسی کو کچھ دینے کے اہل ہوتے نہیں لیکن دوسرے سے ہر وقت جائز و نا جائز مطالبے اور توقعات رکھتے ہیں جن کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کا فوری اثر ہمارے اپنے رویوں اور بچوں کی تربیت پر آتا ہے۔

 اکثر مرد حضرات (تعلیم یافتہ یا ان پڑھ دونوں) کے ذہنوں پر یہ چیز ہر وقت حاوی رہتی ہے کہ وہ چونکہ مرد ہیں، اس لیے ان کی عورتوں کو ہر صورت میں ان کے جائز یا نا جائز مطالبے کو فوراً کسی تا خیر کے بغیر پورا کرنا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں وہ ان کے نزدیک لونڈیوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب اس بنیادی اختلاف کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان اکثر معاملات پر انڈر سٹینڈنگ پیدا نہیں ہو پاتی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید خرابی کا باعث بن جاتی ہے‘ اس کا سب سے زیادہ نقصان ان کی اگلی نسل کا ہوتا ہے جو روزانہ اپنے ماں باپ کو معمولی معمولی بات پر جھگڑتے دیکھ کر ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

 میاں بیوی کی اپنی صحت بھی ان لڑائی جھگڑوں کی بنا پر بلڈ پریشر جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اس خاندان کے تمام افراد کے رویوں میں ہر وقت تلخی نمایاں رہتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان انڈر سٹینڈنگ نہ ہونے کی بے شمار وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ساری عمر لڑائی جھگڑوں میں گزر جاتی ہے لیکن اکثر خواتین اپنے بچوں کی وجہ سے ہر طرح کا ظلم و ستم برداشت کرتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ر ویہ اتنا زیادہ زوال پذیر ہے کہ اب گھر کے نارمل جھگڑے بھی تیزی کے ساتھ پر تشدد رخ اختیار کر گئے ہیں اور مردوں کا خواتین پر جسمانی تشدد کرنا اتنا عام ہو گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میںایسا کوئی تشدد کا واقعہ انوکھا بالکل محسوس نہیں ہوتا۔

 حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان واقعات میں تعلیم یافتہ لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس طرح ان تمام لڑائی جھگڑوں کے اثرات ہماری اگلی نسل میں منتقل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بچے چھوٹی عمر ہی سے چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے رویے مستقل طور پر زیادہ تر منفی ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو عملی زندگی میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔

گھریلو لڑائی جھگڑوں کی ایک اہم وجہ خاندانی جائیداد پر قبضہ کرنا یا اس میں سے فوری طور پر اپنا حصہ لینا ہوتا ہے جس کی زیادہ اہم وجہ معیشت کی خرابی اور اچھے روزگار کا نہ ہونا ہے اور یہ ایسا خوفناک معاملہ ہے کہ اس کا انجام اکثر اوقات قتل و غارت کی شکل میں نکلتا ہے ۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ہمارے معاشرتی رویے کس حد تک گر چکے ہیں جن کو ان کی نارمل پوزیشن پر لانا مشکل بلکہ نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔

 (ہمارے معاشرے کا زوال اور سماجی رویے از محمد شاہد عادل)    

No comments:

Powered by Blogger.