Header Ads

Breaking News
recent

وہ جو پی آئی اے تھی

مجھ میں کوئی ایسا ہنر نہیں تھا کہ میں پی آئی اے کے کسی بھی شعبے میں جگہ پا سکتا سوائے ایک ہنر کے کہ سرکاری ٹکٹ پر کبھی پی آئی اے سے سفر کر لیا اور بعد میں سفر کا کارڈ سامنے کی جیب میں رکھ لیا جسے دوست احباب دیکھتے رہے اور دل ہی دل میں رشک کرتے رہے جیسے کوئی کسی بڑے ہوٹل کے سامنے دانتوں میں خلال کرتا ہوا دکھائی دے کہ اس نے کھانا بھی اسی ہوٹل میں کھایا ہو گا۔

ہم ملازمت پیشہ لوگوں کے لیے پی آئی اے کا ٹکٹ دوسروں کے پاس دیکھنے کی چیز تھی لیکن اتفاق سے پیشہ ایسا اختیار کر لیا کہ دوسروں کے خرچ پر پی آئی اے کا ٹکٹ ملتا رہا اورہم ہوا میں اڑتے رہے۔ پی آئی اے بھی ایک نمونے کا پاکستانی ادارہ ہے جس کی اڑان تو بہت شاندار تھی لیکن پھر ہمارے دیکھتے دیکھتے پاکستانی اسٹائل میں اس کا زوال بھی شروع ہو گیا۔

ایک زمانہ تھا کہ پی آئی اے نے دنیا کی کوئی بیس کے قریب ہوائی کمپنیوں کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کو کامیابی کے ساتھ ہوا میں اڑنے کا موقع دیا۔ زمین اور آسمان کی وسعتوں میں ان کمپنیوں کو اڑنے میں سہارا دیا اور خود بھی ایک نمونہ بن کر ان کے سامنے اڑتی رہی لیکن ادارے خود بخود نہیں چلتے چلانے پڑتے ہیں اور لائق لوگ اداروں کو کاغذوں اور فائلوں سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لے آتے ہیں۔
پی آئی اے کو چند لائق و فائق نگران مل گئے جنہوں نے اسے دنیا کے سامنے ایک مثال بنا دیا لیکن جب وہ لوگ اس ادارے سے چلے گئے تو آج ہم حیران ہیں کہ اس مثالی ادارے کو زندہ کیسے رکھیں۔ پی آئی اے میں ایک رومانس تھا، ایک دنیا اس کی اداؤں کی فریفتہ تھی اور دنیا کے خوبصورت نظارے اس کے سامنے کھلے ہوئے تھے، سفر کے دوران مہذب اور خوبصورت خواتین آپ کو چائے پلاتی اور کھانا کھلاتی تھیں اور یہ ایک ایسا واحد سفر تھا جو جی چاہتا کہ ختم نہ ہو، اس کی کوئی منزل نہ ہو اور یہ کسی منزل کی تلاش میں جاری رہے۔

میں یہ پی آئی اے کے اس زمانے کی بات کر رہا ہوں جس کی خبر بھی مجھے بعد میں ملتی رہی یعنی وہ زمانہ جس میں دنیا کے بہترین ہوا باز (ایئر مارشل) گولہ بارود والے جہازوں کی جگہ ان پرامن اور خوبصورت جہازوں کو اڑاتے تھے اور پی آئی اے کو اپنی عزت اور توقیر سمجھتے تھے۔

یہ فضائی کمپنی ایئر مارشل اصغر خان اور ایئر مارشل نور خان کی کمپنی تھی جن کی پاک ایئر فورس نے دشمن پر دھاک جما رکھی تھی۔ ایسا واقعہ شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ جنگ کے زمانے میں دشمن کی ایئر فورس ہوائی اڈوں پر ہی ختم کردی جائے اور ہواؤں میں پاک فورس کا مقابلہ کرنے کو کچھ باقی نہ رہے سوائے مایوسی اور احساس شکست کے۔

خبریں عام تھیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے لیکن ایئر فورس کو اس کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں تھی چنانچہ پاک ایئر فورس کے کمانڈر ایئر مارشل نور خان جی ایچ کیو گئے اور پوچھا کہ کیا یہ خبریں درست ہیں، انھیں بتایا گیا کہ بھارت حملہ کرنے پر تلا ہوا ہے، اس سے پہلے ایسی زبردست اطلاع نہ ملنے پر ایئر مارشل نور خان غصے میں پھنکارتے ہوئے واپس اپنے دفتر پہنچے۔

پائلٹوں کو جمع کیا، نقشہ سامنے رکھا اور ان سے کہا کہ ہمیں دشمن کی ایئر فورس کو اس کے ہوائی اڈوں پر ہی ختم کر دینا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا، تھوڑی بہت بچ گئی کہ بڑے ملک میں ہوائی اڈے دور دور تھے لیکن ایئر مارشل نور خان نے اس کی جان نکال لی اور اس جنگ میں بھارت کی ایئر فورس کچھ کر نہ سکی یہانتک کہ وہ جیسے اندھی ہو گئی۔

ہمارے قریبی شہر مٹھا ٹوانہ کا ایک ہندو پائلٹ تھا اور ہمارے سکیسر جیسا ایئر فورس کا نشانہ تھا لیکن نہ ہندو پائلٹ جس کا پڑوسی سکیسر دیکھا بھالا تھا اپنے ساتھیوں سے بار بار پوچھتا رہا کہ بلڈی سکیسر کہاں ہے جب کہ یہ اس کے اوپر اور قریب کی فضاؤں میں اڑ رہا تھا، وہ سکیسر کی تلاش میں ناکام لوٹ گیا۔
میں یہ کہہ رہا تھا کہ ادارے افراد بناتے ہیں اور پی آئی اے کو بھی پاک ایئر 
فورس کے ہیرو ہوا بازوں نے بنایا تھا۔ پہلے ایئر مارشل اصغر خان جنہوں نے دنیا کی بہترین ایئر فورس بنائی تھی پھر اسی ایئر فورس میں ایئر مارشل نور خان آ گئے اور پاک ایئر فورس ایک فضائی قلعہ بن گئی۔ پاک و ہند کی فضائیں ’تہہ بال و پر است‘ بن گئیں، فضاؤں پر ہماری حکومت بن گئی اور ہمارے ہوا بازوں نے اپنے شعبوں میں ریکارڈ بنا دیے۔

پاکستان ایئر فورس کے کمالات پر اب کتابیں بھی چھپ چکی ہیں اور لاتعداد مضامین بھی۔ ایک حقیقت جو دستاویز میں آ گئی۔ بات تھی ان افراد کی جو اداروں کی جان ہوتے ہیں۔ پی آئی اے میں نور خان آئے۔ یہ اس کمپنی کے سربراہ نہیں تھے اس کے ’مالک‘ تھے اور اس میں ان کی جان تھی۔ ایک بار پھر ایک واقعہ سن لیجیے جو میں پہلے بھی سنا چکا ہوں۔

کراچی میں پی آئی اے کا جہاز اغوا ہو گیا۔ ایئر مارشل نور خان کو اطلاع ملی تو انھوں نے ضروری ہدایات جاری کیں اور مطمئن ہو کر دفتر سے گھر روانہ ہو گئے لیکن راستے میں ان کو خیال آیا کہ یہ تو میرا جہاز ہے جو کسی نے اغوا کر لیا ہے اور میں ایسے حالات میں گھر جا رہا ہوں یہ بے حسی کی انتہا ہے۔

انھوں نے ڈرائیور کو گاڑی واپس لے جانے کے لیے کہا اور کراچی ایئر پورٹ پر اپنے مغوی جہاز کے پاس پہنچ گئے اور اس میں گھس کر اغوا کرنے والوں سے بھڑ گئے۔ اس لڑائی میں وہ زخمی بھی ہو گئے لیکن انھوں نے جہاز آزاد کرا لیا کیونکہ یہ جہاز کسی کمپنی کا نہیں ان کا اپنا تھا۔ ان کی عزت تھی جو انھوں نے دشمنوں سے بچا لی اور مطمئن ہو گئے تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پی آئی اے کی بنیاد رکھی تھی اور اسے اپنا خون دے کر زندہ رکھا تھا یا یوں کہیں کہ اس کی بنیادوں کو اپنا خون پلایا تھا۔

ایسے لوگوں کی غیر معمولی مہارت میں پی آئی اے ایک بڑا ادارہ بن گیا، بہت بڑا جو دنیا کی چار پانچ بڑی ہوائی کمپنیوں میں شمار ہوتا تھا لیکن جب اصغر خان اور نور خان جیسے لوگ چلے گئے، اپنی دیانت امانت ساتھ لے کر تو یہ بڑا بہت بڑا پاکستانی ادارہ صرف کاروباری اور نفع خور ہاتھوں میں آ گیا اور آج اس کے اپنے کارکن اسے معطل کر کے بیٹھے ہیں۔

یہ مسئلہ حل تو ہو ہی جائے گا لیکن پی آئی اے سے جان نکال لے گا، یہ فضائی کمپنی تو ہماری عزت تھی اور پوری قوم کو اس پر فخر تھا۔ بیرون ملک پاکستانی دنیا کی مشہور کمپنیوں پر سفر نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ جب پی آئی اے کے جہاز میں داخل ہوتے ہیں تو لگتا ہے پاکستان پہنچ گئے ہیں یوں پی آئی اے پاکستان تھی یہ دیسی پاکستانیوں کے لیے۔ اس مثالی ادارے کی بحالی اور واپسی ہمارا قومی فرض ہے ورنہ دنیا ہمیں کیا کہے گی۔

عبدالقادر حسن


No comments:

Powered by Blogger.