Header Ads

Breaking News
recent

’ضرورت پڑے تو تارکین وطن کو گولی مار دیں‘

جرمنی میں دائیں بازو کی ایک پارٹی کی رہنما نے کہا ہے کہ اگر پناہ گزین ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ’ضرورت پڑنے پر‘ پولیس انھیں گولی مار دے۔

يورپی یونین کی مخالف پارٹی آلٹرنیٹیو فيور ڈایچلینڈ (اے ایف ڈي) پارٹی کی سربراہ فروکے پیٹری نے ایک مقامی اخبار سے کہا: ’میں بھی ایسا نہیں چاہتی مگر آخری حربے کے طور پر مسلح افواج ہی ہیں۔ 
ان کے اس بیان کی بائیں بازو کی جماعتوں اور جرمن پولیس یونین نے مذمت کی ہے۔
گذشتہ سال جرمنی میں 11 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن آئے تھے۔
سنیچر کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ شام اور عراق سے آنے والے زیادہ تر پناہ گزین ان کے ملک میں جاری جنگ ختم ہونے کے بعد واپس چلے جائیں گے۔

انھوں نے اپنی سي ڈي يو پارٹی کے ایک اجلاس میں کہا کہ گذشتہ ہفتے اپنائے جانے والے سخت اقدام کی وجہ سے تارکین وطن کی آمد میں کمی ہوگی مگر پھر بھی اس کے لیے ایک یورپی حل کی ضرورت ہے۔
جرمنی میں تارکین وطن کے ٹھکانوں پر حملوں کی تعداد گذشتہ سال 2014 کے مقابلے بڑھ کر پانچ گنا یعنی 1005 تک ہو گئی تھی
پیٹری نے جرمن زبان کے ’مینہیمر مورگن‘ اخبار سے کہا تھا، پولیس کو غیر قانونی طور پر آسٹریا سے آ نے والے تارکین وطن کو جرمنی میں گھسنے سے روکنا چاہیے اور ’ضرورت پڑے‘ تو بندوق کا استعمال کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا، ’اور یہی قانون بھی کہتا ہے۔ 

سوشل ڈیموکریٹس پارٹی کے ایک اہم رکن تھامس اوپرمن کے مطابق: ’آخری بار جرمن لیڈر، جن کے زمانے میں تارکین وطن پر گولی چلائی گئی، وہ ایرک ہونیکر تھے‘، جو کمیونسٹ مشرقی جرمنی کے رہنما تھے۔

جرمنی کی پولیس یونین گویکشیفٹ ڈر پولیزیئی نے کہا کہ حکام تارکین وطن پر کبھی بھی گولی نہیں چلائیں گے۔ یونین نے کہا کہ پیٹری کا بیان قدامت پسند اور غیر انسانی ذہنیت کا مظہر ہے۔
جرمنی میں تارکین وطن کے ٹھکانوں پر حملوں کی تعداد گذشتہ سال 2014 کے مقابلے بڑھ کر پانچ گنا یعنی 1005 تک ہو گئی تھی۔

No comments:

Powered by Blogger.