Header Ads

Breaking News
recent

زین قتل کیس، ملزمان طاقتور ہیں اکیلی نہیں لڑ سکتی : والدہ

  رواں سال 2 اپریل کی ایک عام سی رات تھی جب لاہور میں کیولری گراؤنڈ کے علاقہ میں معمولی سی بات پر جھگڑا شروع ہوا، اس جھگڑے میں ایک امیر زادے کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا اور اس ٹوٹے شیشے کا بدلہ لینے کیلئے اس امیر زادے نے اپنی گاڑی سے گن نکالی اور ایک بے گناہ غریب لڑکے کو گولیوں سے چھلنی کر دیا، چونکہ جھگڑے کے وقت ایک مجمع اکھٹا تھا اور سب نے اپنی آنکھوں سے یہ پورا واقعہ دیکھا، واقعے کے بعد بیشتر لوگ وہاں سے فرار ہوگئے، ابھی اس امیر زادے کا ڈرائیور اور گارڈ وہیں موجود ہی تھے کہ پولیس آگئی اور گارڈ کو گرفتار کرلیا۔ جس کلاشنکوف سے فائرنگ ہوئی تھی، وہ بھی جائے وقوعہ سے قبضہ میں لے لی گئی۔ قتل ہونے والے لڑکے کی شناخت 15 سالہ زین کے طور پر ہوئی جو نویں جماعت کا طالبعلم تھا اور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔  

ذرائع ابلاغ سے لے کر سوشل میڈیا تک اس قتل کی بازگشت سنی گئی، اِس پر پولیس کچھ فعال ہوئی اور اِس امیر زادے کا پیچھا کرتے کرتے خوشاب تک جا پہنچی جہاں سے اُسے گرفتار کرلیا گیا۔ اِس امیر زادے کی شناخت ’’مصطفی کانجو‘‘ کے نام سے ہوئی اور یہ سابق وزیر مملکت ’’صدیق کانجو‘‘ کا صاحبزادہ تھا۔ روایتی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے پہل مصطفی کانجو اپنے اس فعل سے انکاری رہا۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور معاملہ اپنے سیکورٹی گارڈ پر ڈال دیا کہ زین سیکورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ہلاک ہوا (یہاں پر مصطفی کانجو نے یہ اعتراف کرلیا کہ زین اسی کے اسکواڈ کے ہاتھوں قتل ہوا تھا، اب صرف یہ طے ہونا باقی تھا کہ کس کی بندوق سے نکلنے والی گولیاں لگنے سے زین کی ہلاکت ہوئی) پولیس نے مصطفی کانجو کو ریمانڈ پر لیا تو نازو نعم سے پلا یہ لڑکا چند دن بھی جیل کی مہمان نوازی برداشت نہ کر سکا اور چند ہی دنوں میں اعترافِ جرم کر لیا کہ
 زین کو میں نے ہی قتل کیا تھا، میں غصے میں بدحواس ہوگیا تھا، میرا ارادہ زین کو قتل کرنا نہ تھا اور نہ ہی میں زین کو زخمی کرنا چاہتا تھا، میں ہوائی فائرنگ سے اسے وہاں سے بھگانا چاہتا تھا مگر نجانے کس طرح گولیاں سیدھی نکلیں اور اس کے جسم میں پیوست ہوگئیں‘‘۔
اسی دوران فنگر پرنٹس رپورٹ میں بھی کلاشنکوف پر موجود نشانات مصطفی کانجو کی انگلیوں کے نشانات سے مل گئے جس سے تصدیق ہوگئی کہ فائرنگ خود مصطفی کانجو نے ہی کی تھی۔

ایک عام آدمی کی نظر سے تو کیس یہیں پر ختم ہوجاتا ہے کہ جب ملزم اعترافِ جرم کرلیتا ہے، آلہِ قتل پر اس کی انگلیوں کے نشانات مل جاتے ہیں اور جائے وقوعہ پر موجود درجنوں لوگ اس کی شناخت کرلیتے ہیں مگر قانونی موشگافیاں جاننے والے سب چور راستوں سے واقف تھے، لہٰذا انہوں نے یہیں سے اپنا اصل کھیل شروع کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے مخالفین کو یعنی زین کے گھر والوں کو دھمکانا شروع کیا۔ انہیں فون کیے گئے، ڈرایا گیا، حتیٰ کہ بیٹیوں کو اٹھانے تک کی دھمکیاں دی گئیں مگر پولیس بھی سوئی رہی اور قانون بھی جامد رہا، البتہ مدعی ڈٹے رہے اور پیشی پر پیشی، تاریخ پر تاریخ مگر کیس آگے بڑھتا رہا۔

پھر اس کیس کو کمزور بنانے کیلئے دوسرا وار کیا گیا اور گواہان کی بولیاں لگنا شروع ہوئیں اور آہستہ آہستہ سب گواہ ’’خرید لیے گئے‘‘ اور معذرت! میں جذبات کی رو میں بہہ گیا، میڈیا اطلاعات کے مطابق سب گواہ ’’منحرف‘‘ ہوگئے اور مصطفی کانجو کو پہچاننے سے انکار کردیا، حتیٰ کہ زین کے ماموں نے بھی بطور مدعی کیس کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ (اب جس مقتول کا ماموں ہی قاتلوں کے ساتھ مل جائے اسے انصاف کیونکر مل سکتا تھا) ٹرائل کورٹ کے جج نے مصطفی کانجو کو بے گناہ پایا اور رہا کردیا۔ عدالت نے یہ تو بتادیا کہ مصطفی کانجو نے زین کو قتل نہیں کیا مگر سوال یہ تھا کہ،
 WHO KILLED ZAIN
 DID NO ONE KILL ZAIN

زین قتل ہوا تھا، یہ تو سب جانتے ہیں اگر بالفرض اعترافِ جرم کرنے والے مصطفی کانجو نے اسے قتل نہیں کیا تھا تو پھر کس نے اسے قتل کیا تھا؟ کیس تو ابھی بھی ادھورا ہے، اسی جواب کی تلاش میں غالباً چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے اس پر سو موٹو ایکشن لیا اور جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے گذشتہ روز لاہورمیں زین قتل کیس پر ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی جانب سے گواہان کے بکنے کی بات اور مقتول زین کی والدہ کی جانب سے یہ بیان کہ 

’’زین کے ماموں خود اس کیس میں مدعی بنے، میں نے اجازت نہیں دی‘‘۔
نے پورے کیس کو عیاں کردیا۔ باقی جہاں تک عدالتی معاملات اور انصاف کے تقاضوں کی بات ہے تو جو کچھ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ٹرائل کورٹ کے جج کے بارے میں کہا اگر کوئی عام شخص کہے تو یقیناً ساری عمر توہینِ عدالت کے مقدمات بھگتا رہے۔ جسٹس امیر کے ان الفاظ سے کہ 
’’جس جج نے فیصلہ دیا اس نے زیادتی کی، ذیلی عدالت کے مقدمے میں لگتا ہے کہ انصاف نہیں ہوا‘‘۔
جہاں ایک اُمید کی کرن نظر آئی وہیں زین کی ماں کے چند جملوں نے ہر دل کو پارہ پارہ کر دیا۔ وہ الفاظ دکھ، کرب، اذیت اور نااُمیدی و یاسیت کا کھلم کھلا اظہار تھے کہ
’’مجھ میں مقدمہ لڑنے کی سکت نہیں، بیٹے کے قتل اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اللہ تعالی کی رضا سمجھ کر قبول کرلیا‘‘۔

پھر میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہنا کہ
’’مجھ پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں، امید ہے کہ عدالت انصاف کرے گی، اگر سماعت شروع ہوئی تو پیروی نہیں کروں گی تاہم بیٹے کا قتل معاف نہیں کیا لیکن تنہا کیس نہیں لڑسکتی  

ظاہر کر رہے ہیں کہ اس ماں پر کس قدر بوجھ ہے، اسے بیٹے کے قتل کا کیس واپس لینے کیلئے کس قدر ستایا جا رہا ہے۔ ایک ماں اپنا خون تو معاف کرسکتی ہے مگر اپنی اولاد کے قاتلوں کو کبھی بھی معاف نہیں کرسکتی۔ وہ کیسے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے کے قاتل کو دندناتا دیکھ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر کیا وجوہات تھیں کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئی؟ یہ وہی جان سکتا ہے کہ جس کا بیٹا چلا گیا اور اس کے کاندھوں پر دو بیٹیوں کا بوجھ ہو۔ مخالفین طاقتور، با اثر اور حکومت میں ہوں، پیسے کے زور پر گواہان کی بولیاں لگ رہی ہوں اورملزم اعترافِ جرم کے باوجود آنکھوں میں دھول جھونک کر باعزت بری ہوجائیں۔

جہاں تک گواہوں کے بکنے کی بات ہے تو سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گواہی کو چھپانا گناہِ کبیرہ ہے اور جھوٹی گواہی دینا تو ساتوں آسمانوں اور زمینوں کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ گواہان کے بکنے میں بھی سب سے بڑا کردار پولیس کا ہے، پہلے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے گواہوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا، یا انہیں ملزم پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ جس طرح مرضی انہیں ڈرا دھمکا کر انہیں من پسند بیان دینے کیلئے راضی کرلے؟

جوان بیٹے کا چِھن جانا ایسا دکھ ہے جو لفظوں کی قید سے ماورا ہے، یہ بس محسوس کرنے والا ہی جان سکتا ہے کہ اس پر کیا کچھ بیتا مگر جوان بیٹے کے قاتلوں کو چاہتے ہوئے بھی کیفرِ کردار تک نہ پہنچا سکنا وہ کرب ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی جہنم سے کم نہیں ہے۔ آج لوگوں کیلئے تماشا شاید یہیں تک ہو کہ مصطفی کانجو پیسے کے زور پر رہا ہوگیا ہے مگر اُس ذوالجلال کی عدالت میں نہ روپوں کے زور پر کسی کو خریدا جا سکتا ہے اور نہ طاقت کے بل پر کسی کو دھمکایا جاسکتا ہے اور ان پیسے والوں کو انصاف کے ترازو میں زر تولتے ہوئے ڈرنا چاہئے کہ اُس کے میزان میں فرق نہیں آتا اور جب وہ بے سہاروں کا سہارا بنتا ہے تو سب ٹھاٹ پڑے رہ جاتے ہیں۔

رہے عوام تو وہ تو تماشائی ہیں، انہیں کسی سے کیا غرض؟ کل شاہ رخ جتوئی عدالت سے وکٹری نشان بنا کر پیسے کے قالین پر چل کر رہا ہوا تھا، اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس نے پیسوں کے پل سے قانون کا دریا عبور کیا تھا، آج مصطفی کانجو بھی چھوٹ جائے گا، اور پرسوں کوئی اور بگڑا ہوا امیر زادہ اٹھے گا اور ان بھیڑ بکریوں میں سے ایک پسند کرے گا اور اسے مار کر آرام سے قیمت ادا کرنے کے بعد چلتا بنے گا۔ عوام یونہی تماشا دیکھنے میں مصروف رہیں گے پھر کوئی زین مرے گا تو شاید امیرزادوں اور مقتول کے ورثاء کے درمیان ’’گلاب گینگ‘‘ والے یہ ڈائیلاگ ذرا سی ترمیم کے ساتھ سننے کو ملیں گے۔
قتل کے لئے کیا ریٹ دیا ہم نے اس سال؟
پورے 2لاکھ سر
ارے یہ تو مائنر ہے
او! سوری سر، 3لاکھ روپے
آہ ہا! یہ مہنگائی بھی کیا چیز ہے، پھر کوئی قدموں سے چل کر آجائے تو۔۔۔
 لاکھ روپے۔ گن کر پورے 5لاکھ روپے 
منظور ہیں تو بولو، ورنہ ۔۔۔ سُنا ہے تمھاری ابھی دو بیٹیاں بھی ہیں‘‘۔

اویس حفیظ

No comments:

Powered by Blogger.