Header Ads

Breaking News
recent

حیران کن منصوبے اور پسماندہ پیرس

چہرہ ہو، شخصیت ہو، شہر ہو یا قصبہ۔ اگر خوبصورتی باطن میں ہو گی تو ظاہر میں بھی اسکی جھلک ہوگی۔ ہمارا چہرہ ہمارے دل کا عکاس ہوتا ہے۔ جیسے اعمال ہوں وہ شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بچے اسلئے خوبصورت ہوتے ہیں کہ وہ معصوم، سچے اور بے ضرر ہوتے ہیں مگر عمر اور تجربے کے ساتھ منافقت یا باطن کی خباثت چہرے اور شخصیت کو کھردرا، بد نما اور کرخت بنا دیتی ہے۔ ہمارے اکثر حکمرانوں، سیاستدانوں کے چہرے اور شخصیت میں آپ کو یہ سقم بدرجہ اتم نظر آئےگا۔

 جب تک اقتدار کے جھولے جھولتے ہیں۔ تھری پیس سوٹ، ٹائیاں، چمچماتے جوتے، لیموزین، بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز اور طیاروں، ہیلی کاپٹروں سے خوشبوﺅں میں نہا کر باہر نکلتے ہیں تو بشاشت دکھائی دیتی ہے مگر جونہی شکست و ریخت سے دو چار ہوتے ہیں۔ بیمار پڑتے ہیں یا جیل کی ہوا کھاتے ہیں تو عوام کو انکے اصلی چہرے دکھائی دیتے ہیں۔

انسان جتنا بھی بے ضمیر ہو جائے۔ اس کا لاشعور اسے کچوکے مارتا رہتا ہے بلکہ اندر ہی اندر نوچتا رہتا ہے۔ باطن اسے مضطرب رکھتا ہے۔ اکثر لوگوں کو اپنے شر، زیادتی اور حق تلفیوں یا کرپشن کا احساس اس قدر تاخیر سے ہوتا ہے کہ مداوے کی صورت نہیں بچتی، آج کل پاکستان میں پیسے کی دوڑ نے حکمرانوں، سیاستدانوں سمیت زندگی کے ہر طبقہ کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ ہر آدمی پیسے کی خاطر جھوٹ، بے ایمانی، رشوت، خوشامد، حرام اور کرپشن پر اترا ہوا ہے اونچا طبقہ جتنا کرپٹ ہے نچلا طبقہ اس سے کئی گنا زیادہ کرپٹ اور مکر باز ہے۔ 

پاکستان میں روزانہ سینکڑوں اور عبرتناک، غیر طبعی، حادثاتی اموات کی وجہ یہی پیسے کی دوڑ ہے۔ ہر چیز میں ملاوٹ، دھوکہ، بددیانتی اور جعلسازی ہے، ہماری معاشرتی اقدار کی اموات کا سب سے بڑا سبب پیسہ ہے اور پیسے کی دوڑ نے پاکستان سے انسانیت کو ختم کردیا ہے۔ نچلے طبقے کی کرپشن کی ایسی ہولناک کہانیاں ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر حکمرانوں اور ان نام نہاد قومی لیڈروں کو اس لئے فوکس کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ عوام کے خون پسینے کی کمائیاں لوٹ کر کھاتے ہیں اور ڈھٹائی سے جھوٹ، فریب، حیلہ، بددیانتی کرتے ہیں۔

عوام کے پیٹ پر لات مارتے ہیں۔ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور بے شرمی سے کہتے ہیں کہ ہم عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ ہم عوام کیلئے اپنی جان لڑا دینگے۔ ہم انصاف کیلئے عوام سے رجوع کرینگے۔ غضب خدا کا کہ جس عوام کی بوٹیاں بھی نوچ نوچ کر کھا چکے اور ہڈیاں بھی چیچوڑ چکے۔ اب کیا عوام کی ہڈیوں کا سرمہ بنا کر بیچیں گے۔ کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ اسحاق ڈار کہتے ہیں ہم نے عوام کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ صاف کیوں نہیں کہتے کہ عوام کی ہڈیوں کا بھی دلیہ بنا لیا اور وہ بھی ڈھٹائی سے کھا لیا۔ شوکت عزیز کے بعد وہ پاکستان کے دوسرے بڑے معتوب وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے پاکستانی عوام کی رگوں سے خون ہی نہیں نچوڑا، پانی بھی چوس لیا ہے۔ دوسری طرف انکے سمدھی وزیراعظم ہیں جو ہر وقت شہنشاہ معظم بنے رہتے ہیں۔

باراک اوباما یا ڈیوڈ کیمرون نے تو تین سالوں میں ایک بار بھی پاکستان آکر جھانکا تک نہیں مگر وزیراعظم ہر دو تین ماہ بعد امریکہ، انگلینڈ پہنچ جاتے ہیں، ستر اسی افراد کا قافلہ لےکر چل پڑتے ہیں اور سارا خرچہ قومی خزانے سے ادا ہوتا ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم کو پاکستان میں عید منانا تو بالکل پسند نہیں یا کسی سنیاسی بابے، عامل جوتشی نے کہہ دیا ہے کہ وہ ہر عید پر ملک سے چلے جایا کریں، عیدالفطر پر تو سعودیہ چلے جاتے ہیں کہ جی عمرہ کرنا ہے حالانکہ عیدالاضحی پر بھی سعودی جا سکتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ حج کون کرے۔ اس میں اتنے دن لگتے ہیں اور اتنی ہی محنت و مشقت بھی۔ 

اس لئے ہمارے اکثر قومی رہنما عمرہ پیکج پر تو بھاگ کر پہنچ جاتے ہیں مگر حج کرنے نہیں جاتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ایک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔ چینی وزیر نے اپنی زبان میں کہاکہ وزیراعلیٰ ایک انتہائی محنتی، ذہین اور قابل فخر وزیراعلیٰ ہیں۔ اطالوی ایلچی نے کہاکہ شہباز شریف جیسا ایک وزیراعلیٰ اگر اٹلی میں پیدا ہوتا تو آج اٹلی کی شکل بدل چکی ہوتی۔ ترکی کا صدر کہتا ہے کہ کاش ہمارا وزیراعظم شہباز شریف ہوتا۔

مذاق کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور وزیراعلیٰ اللہ کے فضل سے اس قسم کے مذاق میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ لاہور کو ہر وقت پیرس بنانے کی باتیں کرنے والے عظیم وزیراعلیٰ نے چند سڑکیں اور میٹرو بنا کر سمجھ لیا ہے کہ انہوں نے لاہور کو پیرس، فیصل آباد کو مانچسٹر، نندی پور کو لندن، ملتان کو ہانگ کانگ، بہاولپور کو بیجنگ، ساہیوال کو شنگھائی، اوکاڑہ کو ٹوکیو بنا دیا ہے، لاہور میں صرف اپنی گزر گاہوں کو ضرور خوبصورت سڑکوں اور گرین بیلٹ کا روپ دیا ہے کیونکہ یہاں سے شاہی سواری نے گزرنا ہوتا ہے ورنہ اندرون شہر تو یہ حال ہے کہ نہ پتہ یہ سڑک ہے یا فٹ پاتھ، گلی ہے یا کوئی کھڈا۔ پنجاب کے تمام اضلاع اور قصبات نوحہ کناں ہیں۔ 

خاص طور پر تونسہ شریف جو ڈیرہ غازی خان کی تحصیل ہے جہاں سے کھوسہ، لغاری ہمیشہ اقتدار میں رہے۔ فاروق لغاری صدر رہے۔ سابق گورنر پنجاب ذوالفقار کھوسہ، دوست محمد کھوسہ وزیراعلیٰ رہے۔

یہ جنوبی پنجاب کا پسماندہ ترین علاقہ ہے یہاں انسان اور جانوروں میں کوئی امتیاز نہیں۔ تونسہ شریف میں انسان اور جانور ایک جگہ پانی پیتے ہیں۔ اس طرف ہماری توجہ عرفان اعظم خان صاحب نے کرائی اور اس علاقے کی ایسی تصاویر بھیجی ہیں کہ دل پھٹتا ہے۔ اکیسویں صدی میں ایسے دلخراش، غیر انسانی مناظر کہ خدا یاد آجائے۔ وزیراعلیٰ کس پیرس کی باتیں کرتے ہیں۔ تونسہ شریف تو بہت دور ہے، بہت پسماندہ ہے۔ آپ تو لاہوریوں کو صاف پانی فراہم نہیں کر سکے۔ آپ کے پسماندہ پیرس میں انسانیت روتی ہے۔ آپ تقریروں، بیانات اور فوٹو سیشن سے باہر آئیں اور اس تلخ دنیا کا ادراک کریں اور سوچیں کہ یہی آپ کی وزارت اعلیٰ کا چمتکار ہے؟
 
ڈاکٹر عارفہ صبح خان
بہ شکریہ روزنامہ  نوائے وقت 

No comments:

Powered by Blogger.