Header Ads

Breaking News
recent

مودی کا گجرات کیوں جل رہا ہے؟

دو مہینے پہلے تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے خود ان کی اپنی ریاست گجرات سے ایک بڑا چیلنج کھڑا ہوسکتا ہے اور بغاوت کا پرچم بلند کرنے والا ایک اکیس سال کا نوجوان ہوگا۔
گجرات کی سڑکوں پر 13 سال کے بعد تباہ کاری کے ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ سینکڑوں بسیں نذر آتش کی جاچکی ہے، جگہ جگہ سے آگ زنی کے واقعات کی اطلاعات ہیں، تشدد میں کم سے کم نو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور اس مرتبہ سڑکوں پر ا ترنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے بی جے پی اور نریندر مودی کی مضبوطی کے ساتھ حمایت کی ہے۔

گجرات کی پٹیدار یا پٹیل برادری خوشحال بھی ہے اور سیاسی اعتبار سے طاقتور بھی۔ گجرات کا شمار ملک کی سب سے خوشحال ریاستوں میں ہوتا اور وہاں کاروبار اور صنعت پر پٹیل برادری کا غلبہ ہے۔ ملک کے پہلے وزیر داخلہ ’مرد آہن‘ سردار ولبھ بھائی بھی پٹیل تھے اور موجودہ وزیر اعلیٰ اور نریندر مودی کی معتمد آنندی بین کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔ ریاست میں ان کی آبادی تقریباً پندرہ فیصد ہے۔ بی جے پی کے 120 اراکین اسمبلی میں سے چالیس پٹیل۔
لیکن برادری کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ دوسرے پسماندہ طبقات کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں حاصل ریزرویشن کی سہولت کی وجہ سے پٹیل نوجوان محرومی کا شکار ہیں، نہ انہیں نوکریاں ملتی ہیں نہ پروفیشنل کالجوں میں داخلے۔

دو مہینے پہلے تک نہ یہ مطالبہ کبھی سنجیدگی سے اٹھایا گیا تھا اور نہ کسی کو یہ اندازہ تھا کہ چند ہی ہفتوں کے اندر ریزرویشن کے لیے پٹیلوں کی تحریک اتنی شدت اختیار کر لے گی۔
تحریک کی کمان ہاردک پٹیل نے سنبھال رکھی ہے جو صرف 21سال کے ہیں۔ ان کے والد بی جے پی سے وابستہ رہے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے تک وہ ’سبمرسبل پمپ‘ کے کاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔
لیکن جب انہوں نے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم سے ریزرویشن کا مطالبہ کیا تو اچانک لوگ ان کے ساتھ جڑنا شروع ہوگئے۔ ان کے آخری دو جلسوں میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور احمدآباد کی ریلی کے بعد جب پولیس نے انہیں گرفتار کیا تو پوری ریاست میں تشدد کی لہر دوڑ گئی۔

خوشحال برادریوں کی جانب سے ریزرویش کے مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ حال ہی میں راجستھان میں بھی پرتشدد تحریک کے بعدجاٹوں اور گوجروں کو ریزرویش دیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کی وجہ سے ملازمتوں اور کالجوں میں پچاس فیصد سے زیادہ سیٹیں ریزرو نہیں کی جاسکتیں۔

گجرات میں پہلے سے ہی پسماندہ طبقات (او بی سی) کو 27 فیصد ریزرویشن حاصل ہے، اس کے علاوہ پسماندہ ذاتوں کو ساڑھے سات فیصد اور قبائلیوں کو 15 فیصد ریزرویشن کی سہولت پہلے سے ہی حاصل ہے۔ ایسے حالات میں مزید برادریوں کے لیے ریزرویشن کی گنجائش پیدا کرنا مشکل ہے۔ اور اگر قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی کوشش بھی کی گئی تو جو لوگ ریزرویشن کے دائرے سے باہر ہیں، یا پٹیلوں کو ریزرویشن دینے کی وجہ سے جن کا حصہ کم ہوجائے گا، وہ سڑکوں پر اتر سکتے ہیں۔

گجرات کے پٹیلوں کی تحریک وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست میں بی جے پی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ وہ اگر بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیں تو لمبے عرصے کے بعد ریاست میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خود وزیر اعظم کو بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
 
اس لیے حکومت نہ پٹیلوں کا مطالبہ آسانی سے منظور کر سکتی ہے اور نہ مسترد۔ یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر ہاردک پٹیل اچانک اتنے مقبول کیسے ہوگئے؟ کیا ان کے پیچھے کسی دوسری سیاسی طاقت کا ہاتھ ہے؟ اتنی بڑے جلسے کرنے کے لیے انہیں فنڈز کون فراہم کر رہا ہے؟ حکمت عملی کون وضع کر رہا ہے اور کیا یہ ممکن ہے کہ خود بی جے پی یا ہندتوا پریوار کے کچھ ناراض حلقے ان کی پشت پناہی کر رہے ہوں؟

فی الحال ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں، لیکن گجرات کی سڑکوں پر 13 سال بعد فوج گشت کر رہی ہے۔ 2002 کے فسادات آج تک نریندر مودی کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں، وہ دعا کر رہے ہوں گے ہاردک پٹیل جلد سے جلد گھر لوٹ کر دوبارہ اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیں۔

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.