Header Ads

Breaking News
recent

قرضوں کی معیشت اور غریب عوام

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مالی سال 2014-15 کی تیسری سہ ماہی کے دوران معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی ہے جو اب پارلیمنٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر رہا، برآمدات میں کمی ہوئی، شرح نمو 5.1 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.25 فیصد رہی جب کہ خدمات اور صنعت کے شعبوں کی شرح نمو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی، جولائی 2014 تا مارچ 2015 کے دوران ٹیکس وصولیوں میں اضافہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.2 فیصد کم رہا، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 3.8 فیصد رہا جب کہ حکومتی اخراجات میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا، مہنگائی میں کمی ہوئی، روپیہ مستحکم رہا، زرمبادلہ کے ذخائر دگنے ہوگئے۔
ملکی معیشت میں واضح بہتری آگئی، اتحاد سپورٹ فنڈ میں اچھی وصولیاں ہوئیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ ملک میں فی کس آمدن جو گزشتہ سال 1348 ڈالر تھی، 9.3 فیصد اضافے کے ساتھ 1512 ڈالر فی کس ہوگئی ہے۔ اور اشیا کی قیمتوں اور افراط زر میں بھی کمی ہوئی۔

ادھر اقوام متحدہ نے ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے اقتصادی اور سماجی جائزہ رپورٹ کا اجرا کردیا ہے۔ ’’پائیدار ترقی کے لیے نمو کو زیادہ جامع بنانا‘‘ کے عنوان سے اس سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی نمو 2014 میں بڑھ کر 4.1 فیصد ہوگئی جو گزشتہ تین برسوں میں اوسطاً 3.4 فیصد تھی۔ 2015 میں 5.1 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔
برطانوی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت بلندیوں کو چھو رہی ہے جس کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔ اقتصادی استحکام کی فراہمی بڑی حوصلہ افزا ہے لیکن پاکستان کو سالانہ 5 تا 7 فیصد کی شرح نمو کی ضرورت ہے تاکہ وہ غربت کو ختم کرسکے کیونکہ اس وقت تقریباً ایک چوتھائی پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی تو اس وقت ملک کی آبادی 13 کروڑ 71 لاکھ تھی۔ اس وقت ملک کی آبادی ساڑھے 18 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جس میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں وسائل کی کمی کے باعث آبادی کا 40 فیصد طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے خوش و خرم ممالک میں پاکستان کا 81 واں نمبر ہے۔

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ یا عالمی خوشی کی رپورٹ 2015 میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں ’’خوشی اور اطمینان‘‘ کا بہت اہم کردار ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حکومتوں کو منصوبہ بندی کرتے ہوئے عوام کی خوشی کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔

ہمارے یہاں عوام کی خوشی کا یہ عالم ہے کہ وہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے۔ بس اتنا ہی چاہتے ہیں کہ پانی کی سبیل اور مٹکے کے ساتھ رکھا گلاس زنجیروں میں جکڑا نہ ہو، سجدہ کرتے ہوئے اس کا دھیان جوتوں کی چوری کی طرف نہ ہو، دو وقت کی روٹی کی خاطر کسی کو اپنی عصمت نہ بیچنی پڑے، کسی معصوم کے کاندھے پہ بوٹ پالش کا باکس نہ ہو، کوئی بڑا انقلاب، کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے۔

محض اتنا چاہتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت چیتے کی رفتار سے تیز تر نہ ہو، سونے کی قیمت ہرن کی رفتار کے مانند نہ ہو، سبزی کی قیمتیں کینگرو کی رفتار کی طرح اچھلتی ہوئی نہ ہوں، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بلز خرگوش کی رفتار کی مانند نہ ہوں، ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہیں کچوے کی چال کے موافق نہ ہوں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، انسانی جان و مال عدم تحفظ کے شکار ہیں، روزگار کے دروازے بند ہیں، مہنگائی نے لوگوں کو خودکشی و ڈکیتی کرنے پر مجبور کردیا ہے جو ایسا نہیں کرسکتے وہ زندہ درگور ہیں۔

یہ معیشت کی کیسی ترقی ہے اشیائے ضرورت کی قیمتیں سرکاری نرخ کے بجائے من مانی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ ٹماٹر، توری، لوکی، گوبھی 60 روپے کلو، کھیرا 80 روپے کلو، بھنڈی 100 روپے کلو، لہسن 160 سے بڑھ کر 220 روپے کلو، ادرک 240 روپے کلو ، دھنیا پودینہ 40 روپے پاؤ، پھول گوبھی 80 روپے کلو، سلاد کے پتے کی قیمت 20 روپے پاؤ کی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔

بکرے، گائے اور مرغی کا گوشت غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہیں، دال کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ چینی 64 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، پیاز 30 روپے کلو، آلو 20 روپے کلو، چنے کی دال 85 روپے کلو، بیسن کی قیمت 95 روپے کلو، آٹا 45 روپے کلو، دودھ 80 روپے لیٹر، چاول 80 سے 140 روپے کلو میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ صحت کے لیے پھل ضروری ہیں جو غریبوں کی دسترس سے دور بہت دور کردیے گئے ہیں۔ اسی طرح دیگر اشیا کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ مہنگائی مافیا کو لوٹ مار کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ اور کمی آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ مصنوعی مہنگائی کی یہ لہر گھر گھر قیامت برپا کر رہی ہے، جمہوری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈتی ہیں مگر یہ جمہوری حکمران عوام سے ریلیف بھی چھین رہے ہیں۔ مہنگائی کا یہ عفریت غریبوں کا خون خشک کر رہا ہے، مہنگائی کا گراف بہت ہی بلند ہے، خوردونوش کی اشیا قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں غریب آدمی کی پریشانیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں، لوگوں کو ابھی دو وقت کا کھانا نصیب نہیں رہا، عوام کی محرومیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ 77 لاکھ خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مہنگائی کے باعث ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ملک میں ساڑھے 37 لاکھ محنت کش بے روزگار ہیں ملک کا 45 فیصد پڑھا لکھا طبقہ بے روزگار ہے، اگر مہنگائی کو قابو نہیں کیا جاسکتا تو پھر تنخواہیں اس قدر بڑھائی جائیں تاکہ غریب عوام زندہ رہ سکے اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر مہنگائی کے ایٹم بم کی بجائے دشمن کے لیے بنائے گئے ایٹم بم ہی سے کام لیا جائے تاکہ سسک سسک کر مرنے سے بچا جا سکے۔

شبیر احمد ارمان

No comments:

Powered by Blogger.