Header Ads

Breaking News
recent

پاک چین اکنامکس کا ریڈور یا دوسرا کالا باغ ڈیم ؟

گزشتہ روز بھی اندیشوں کی بات کی گئی تھی۔ آج ایک اور اندیشہ ابھرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ اندیشہ پاکستان اور چین کے درمیان ’’اکنامکس کاریڈور‘‘ جیسی خوش آئند تجویز یا پروگرام، پلان یا منصوبے کو غیر ذمہ دارانہ سیاسی بیانات کے ذریعے ’’دوسرا کالا باغ ڈیم‘‘ بنا دینے کی کوشش کا اندیشہ ہے۔
اندیشوں کی ایک خاص بات ہوتی ہے کہ یہ آئندہ یعنی آنے والے حالات سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ان میں منفی نوعیت کی پیش گوئیاں ہوتی ہیں جن کے صحیح ثابت ہونے کا پورا یقین نہیں ہوتا اور مذکورہ بالا اندیشے کے صحیح ثابت ہونے کا بھی کوئی یقین نہیں ہے مگر شاعر نے کہا ہے کہ

پیش از وقت کے اندیشوں سے جاں جاتی ہے
کیا گزری ہو گی کہ جب ہم نے بھی آنکھیں کھولیں

بعض سیاسی بیانات میں یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ پاکستان چین کے درمیان اکنامکس کاریڈور کا راستہ نقشہ تبدیل کیا گیا ہے مگر اس کی تردید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اکنامکس کا ریڈور کسی ایک سڑک یا راستے کا نام نہیں ہے یہ بہت سی سڑکوں، راستوں اور سفر کے ذرائع کے مجموعے یا اجتماعی صورت میں ہو گا جس کا کسی ایک صوبے یا علاقے سے نہیں ملک کی اجتماعی اقتصادیات سے منعقد ہو گا اور ملکی اجتماعی اقتصادیات تمام صوبوں کے ذرائع اور وسائل کو جمع کرنے سے وجود میں آتی ہے۔ یہ سوچ غلط اور گمراہ کن ہو گی کہ اکنامکس کاریڈور ’’موٹر وے‘‘ جیسی کوئی شاہراہ ہو گی جو دولت اور سرمایہ بانٹتی اور بکھیرتی چلی جائے گی۔ یہ کاریڈور کسی ایک ملک یا علاقے کی بجائے اس سارے علاقے اور تمام متعلقہ ملکوں کے اجتماعی فائدے اور مفاد میں ہو گی۔

کچھ ایسی ہی باتیں ’’کالا باغ ڈیم‘‘ کے بارے میں بھی کہی جاتی تھیں مگر بھانت بھانت کے بیانات نے تاثر یہ دیا کہ اس ڈیم سے پنجاب کو فائدہ پہنچے گا مگر سندھ اور صوبہ سرحد سیلاب کی زد میں آ جائیں گے یا پانی کی کمی کی زد میں آ جائیں گے۔ شور شرابہ ہمیشہ اور ہر حالت میں دلیل اور وجوہات کے بیان سے زیادہ بلند آواز میں ہوتے ہیں اور غالباً کالا باغ ڈیم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی حادثہ پیش آیا ہے۔

پاکستان چین اکنامکس کاریڈور کو پاکستان، چین اور وسط ایشیا کی ریاستوں سے بھی آگے تک پھیلے ہوئے تمام علاقے اور تمام ملکوں اور قوموں کی اجتماعی اور برابر کی اقتصادی اور معاشی ترقی کا ’’گیم چینجر‘‘ (حالات کو تبدیل کر دینے والا) منصوبہ قرار دیتے ہوئے اور ایک نعمت سمجھا جانا چاہئے مگر چاہئے تو اور بھی بہت کچھ مگر ضروری ہے کہ لوہے کو سونے میں تبدیل کرنے والا سفوف چھڑکتے وقت ہمارے ذہنوں میں بندروں کا خیال نہ آئے لیکن بندروں کی ایک خرابی ہے کہ ان کا خیال ذہن میں چلا آئے تو پھر آتا ہی چلا جاتا ہے اور لوہا سونے میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔

چین پاکستان اکنامکس کاریڈور کا سوچنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کاریڈور پر علاقے کے تمام ملکوں کے تمام اہم علاقے اور شہر موجود ہوں گے اور اس کے فوائد بھی تمام ملکوں تک پہنچیں گے یہاں تک کہ گلگت بلتستان کے علاقے کو بھی اس کاریڈور کا فائدہ ہو گا۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق گوادر اس کاریڈور کے اجتماعی مرکز کا کردار ادا کرے گا جس سے تمام علاقے کی شاہراہوں کا براہ راست تعلق ہو گا اور یہ تعلق گوادر سے خنجراب تک بلکہ عوامی چین تک چلا جائے گا۔ اس میں پشاور، اسلام آباد، لاہور، سکھر، کراچی اور کوئٹہ بھی برابر کے حصہ دار ہوں گے ملک بلکہ ملکوں کی تمام اہم شاہراہوں کا اس کاریڈور سے تعلق اور رابطہ اور واسطہ ہو گا۔

اس اکنامکس کاریڈورر کی تکمیل سال 2020ء تک ہو گی جبکہ سال 2025ء سے اس پر پاکستان اپنی دوگنی طاقت سے عملدرآمد شروع کر دے گا۔ اس کاریڈور میں ایک سڑک نہیں کئی سڑکیں، ریلویز اور راستے عملی طور پر حصہ لیں گے۔ تمام علاقے میں روزگار، اجرت اور تنخواہوں کے وسائل پیدا ہوں گے اور انشاء اللہ پاکستان چین اکنامکس کاریڈور کو دوسرا کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا جائیگا۔

منو بھائی
"بشکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.