Header Ads

Breaking News
recent

کیا جمہوریت مضبوط ہوگئی؟؟؟


پی پی پی کے اہم رہنما اور قابل احترام سینیٹر رضا ربانی کو وہ عہدہ (تقریباً) مل گیا جو انہیں اپنی پارٹی کے اقتدار کے دوران اُس وقت کے صدر اور پارٹی کے چئیرپرسن آصف علی زرداری نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سینیٹر ربانی کا شمار پاکستان کے بہترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے مگر گزشتہ پی پی پی دور میں ان کی قدر نہ کی گئی۔ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم کا عہدہ پیش کیا گیا۔ فاروق ایچ نائیک اور نئیر بخاری کو چئیرمین سینیٹ کے عہدے دیے گئے حتی کہ پارٹی میں عبدالرحمن ملک، بابر اعوان اور کئی افراد کی حیثیت اور شنوائی رضا ربانی سے بہت زیادہ تھی۔ مگر اللہ نے رضا ربانی کو صبر کا پھل دیا اور وہ آج ایک متفقہ امیدوار کے طور پر سامنے آگئے۔ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو تو اس بات کا یقین ہی نہ تھا کہ ربانی کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اس طرح سے مکمل حمایت کا یقین دلوا دیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی کا کہنا ہے کہ رضا ربانی کا نام تو انہوں نے تجویز کیا۔ اپنے اخباری بیان میں اسفندیار نے کہا آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران انہوں نے زرداری صاحب کو کہا کہ ماضی کے برعکس اب جو نام چئیرمین سینیٹ کے لیے وہ دیں گے پی پی پی کی طرف سے اُس کی حمایت کی جائے۔ زرداری صاحب کے مثبت جواب پر اسفندیار ولی نے رضا ربانی کا نام پیش کر دیا۔ اب خطرہ یہ تھا کہ ربانی کے مقابلہ میں حکومت اپنا امیدوار لائے گی مگر وزیر اعظم نواز شریف نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضا ربانی کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا جو یقینا ایک قابل تحسین قدم ہے اورجسے عمومی طور پر جمہوریت کی مضبوطی اور مثبت سیاسی و جمہوری رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

مجھے ذاتی طور پر بھی حکومت کے اس فیصلہ سے خوشی ہوئی کیوں کہ میری نظر میں رضا ربانی نہ صرف اس عہدے کے لیے ایک بہترین چوائس ہیں بلکہ ایسے صاف ستھرے سیاستدانوں کو اعلیٰ ترین حکومتی عہدے دیے جانے چاہییں تا کہ بہتر طرز حکمرانی کے خواب کو یہاں بھی شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔ اگر زرداری صاحب 2008 کے الیکشن کے بعد یوسف رضاگیلانی یا راجہ پرویز اشرف کی بجائے رضا ربانی کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیتے تو مجھے یقین ہے کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کا یہ حال نہ ہوتا۔اس نکتہ پر مزید بات کرنے کی بجائے میںوزیر اعظم نواز شریف کی سیاست پر بات کروں گا۔ کہا جا رہا کہ رضا ربانی کی حمایت کر کے میاں صاحب نے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ اس پر زرداری صاحب بھی خوش اور دوسرے بھی خوش ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اسی انداز میں بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مالک بلوچ کو صوبہ کا وزیر اعلیٰ بنوا دیا اور جمہوریت کو مضبوط کیا۔ اسی طرح بلوچستان میں پختون خواہ عوامی ملی پارٹی کے محمد خان اچکزئی کو گورنر تعینات کر کے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ خیبر پختون خواہ اسمبلی میں ن لیگ نے تحریک انصاف کو حکومت بنانے کی دعوت دی اور مولانا فضل الرحمن کے اصرار کے باوجود صوبے میں حکومت بنانے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اس پر بھی کہا گیا کہ جموریت مضبوط ہوئی۔ 

صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو بھی تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کر کے وزیر اعظم نے جمہوریت کو مضبوط کیا۔ سیاسی طور پر تو میاں نواز شریف نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے بہت اچھے اقدامات کیے اور اپنے سیاسی مخالفین کو بار بار مشاورت اور فیصلہ سازی کے لیے بھی بلایا۔ کچھ اسی انداز میں اپوزیشن جماعتوں اور پارلیمنٹ نے حکومت کے ساتھ اُس وقت مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کسی اشارے پر دھرنوں کے ذریعے حکومت کو ختم کرنے کے در پر تھے۔ اس طرح جمہوریت کو مزید مضبوط کیا گیا۔ یہ سب بہت اچھا ہوا۔ حکومت نے بھی اچھا کیا اور اپوزیشن نے بھی اچھا کیا۔

مگر میں ایک بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کا تعلق سیاسی پارٹیوں کے درمیان عہدوںاور حکومتوں کی بندر بانٹ سے ہی کیوں ہے؟؟؟ اصل جمہوریت کا مطلب تو یہ کہ وہ تمام اقدامات کیے جائیں جس سے جمہور یعنی عوام خوش ہوں اور ان کی زندگی میں بہتری آئے۔ میرا یہاں وزیر اعظم نواز شریف اور اپوزیشن رہنمائوں بشمول آصف علی زرداری، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن حتیّٰ کہ عمران خان وغیرہ سے سوال ہے کہ انہوں نے عوام کی بہتری کے لیے مل کر کون سے اقدامات کیے اور کن اصلاحات کا نفاذ کیا۔ اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے تو آپ سب مل جاتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ راضی ہو جاتے ہیں مگر میرٹ اور قانون کی حکمرانی کے لیے آپ کیوںآپس میں مل نہیں بیٹھتے؟؟؟

کرپشن کے خاتمہ پر آپ سب کے درمیاں ایکا نظر کیوں نہیں آتا؟؟؟ معیشت کی بہتری اور مہنگائی میں کمی کے لیے سب رہمنا آپس میں مل بیٹھ کر کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیوں نہیں کرتے؟؟؟ عوام کو جلد انصاف کی فراہمی، پولیس اور سول سروس میں اصلاحات لانے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف نے زرداری صاحب اور دوسرے رہمناوں کے ساتھ کتنی میٹنگز کیں تا کہ ملک کے حالات بہتر ہوں اور عوام کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی آئے؟؟؟

 تعلیم اور صحت کے دگرگوں حالات کی بہتری کے لیے ہمارے رہمنا کیوںسر جوڑ کر بیٹھنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں؟؟؟ جمہوریت کی مضبوطی کا تعلق عوام کی خوشحالی سے ہے یا خواص کی؟؟ اگر ہمارے سیاستدان مل بیٹھ کر متفقہ طور پر یہ فیصلے کر سکتے ہیں کہ کون سی حکومت کس پارٹی اور کون سا عہدہ کس شخص کو دیا جائے تو یہ طرز عمل عوامی مسائل کے حل، کرپشن کے خاتمہ، اعلیٰ حکمرانی کے حصول، ٹیکس ، پولیس اور سول سروس اصلاحات وغیرہ کے لیے ہمیں کیوں نظر نہیں آتا۔اس سب کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت مضبوط ہو گئی جو ایک دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں۔

انصار عباسی
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.