Header Ads

Breaking News
recent

’’ظالم‘‘ میڈیا سے وزیراعظم کے شکوے.....


سوال جواب کے سلسلے سمیت وزیراعظم نواز شریف کے سی پی این ای میٹنگ میں خطاب کے جلوے اسی میڈیا کے ذریعے پوری قوم نے براہ راست دیکھے جس میڈیا کے ساتھ وہ عدم تعاون کا شکوہ کر رہے تھے۔ یہ میڈیا بھی کتنا ظالم ہے کہ جس کی لاٹھی، گولی، گیس کھاتا ہے اس کی دشنام طرازیوں سمیت ایک ایک لفظ عوام کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے، جس کے انقلابی اور تحریکی جلوسوں میں دھکے کھاتا بے عزت ہوتا ہے اس کی ہر بات بھی عوام تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور جس کی گھنٹوں پر محیط دھاڑوں سے خود کو بھی غیر محفوظ سمجھتا ہے اس کی ترنگ والی ہر ’’ادا‘‘ کی قوم کو جھلک دکھانا بھی اپنے فرائض منصبی کی مجبوری بنا لیتا ہے۔ جس میڈیا پر ان کا قہر ٹوٹتا ہے وہی میڈیا سیاسی بازار میں ان کے گھٹیا، خام اور غیر معیاری مال کے بھی بڑے دام لگانے اور وصول کرنے میں معاون بنتا ہے۔

جناب! آپ کو میڈیا سے تعاون حاصل کرنے کی بھلا ضرورت ہی کہاں پڑتی ہے کہ رطب اللسانوں کے غول کے غول آپ کے قدم ناپتے آپ کی کوتاہیوں کو بھی اچھا بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ جب آپ کی اس ’’ذرہ بکتر‘‘ میں آپ کی ناکردنیوں کے جواز میں بھی بھونڈی دلیلوں کے ہتھیار استعمال کر کے قوم کو سب اچھا پر قائل کرنے کا جبر کیا جا رہا ہو تو آپ کی ناک کا بال بنا میڈیا ہی آپ کو لبھا سکتا ہے۔ مگر کیمرے کی آنکھ بڑی ظالم ہے جو اس سب اچھا میں موجود کیڑے نکال نکال کر قوم کو اسی طرح ان کی جھلک دکھاتی رہتی ہے جیسے رجوعہ کی زمین کے اندر سے اُگلنے والے لوہے اور تانبے کی شکل میں قدرتی خزانے کا کریڈٹ لینے کا آپ کو موقع مل رہا ہوتا ہے۔ 

اگر فی الواقع گورننس مثالی ہو جس میں بلا امتیاز ہر شہری کی داد فریاد اور رسائی کے لئے دروازے کھلے ہوں، روزگار سمیت لوگوں کا ہر کام بغیر قائداعظم کے پہیے لگائے خالص میرٹ پر ازخود ہو رہا ہو اور امن و خوشحالی کا راج ہو تو نہ عوام پاگل ہیں کہ وہ اپنے مخلص حکمرانوں کا خواہ مخواہ سیاپا کرنے سڑکوں پر نکل آئیں اور نہ میڈیا کو کسی کتے نے کاٹا ہے کہ وہ قصرِ سلطانی (سلطانیٔ جمہور) کے بے کار لتے لینا اپنے فرائض منصبی کا حصہ بنا لے۔ اگر جمہوری سلطانوں نے سلطانیٔ جمہور کو اپنے لئے ثواب اور جمہور کے لئے عذاب بنا دیا ہو تو دل کے پھپھولے پھولنے کے لئے میڈیا کے سوا جمہور کے پاس اور کون سا سہارا رہ جاتا ہے۔

ریاست یقیناً زمین کے ایک ٹکڑے پر قائم ہوتی ہے مگر زمین کے اس ٹکڑے پر آئین اور قانون کے تابع گورننس قائم کر کے اور اسے مستحکم بنا کر ہی اس ریاست کو مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری ارضِ وطن تو مملکت خداداد ہے جسے بانیان پاکستان قائد و اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو انگریز اور ہندو کے استحصالی نظام سے نجات دلانے کے لئے ہی تشکیل دیا تھا جس کا بنیادی مقصد جدید فلاحی اسلامی معاشرے کی فراہمی تھی جس میں ریاست (مملکت) اپنے شہریوں کو بلاامتیاز ضروریات زندگی کی ہر چیز فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ 

اس میں شہریوں کو روٹی روزگار اور جان و مال کے تحفظ کی ریاست کی جانب سے ضمانت فراہم کی جاتی ہے۔ ہمارے آئین میں شامل بنیادی حقوق کی شقیں اس کی ہی متقاضی ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں کے حکمران اشرافیہ طبقات نے ریاست پاکستان کے شہریوں کو آج تک یہ ضمانت فراہم ہی نہیں ہونے دی جس کے باعث یہاں فلاحی ریاست کا تصور تو پنپ ہی نہیں پایا جبکہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کی آزادی نے آج ہمیں وہ دن دکھا دیا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو اپنی جان کے تحفظ کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

 فرقہ بندیوں میں بٹی یہ مذہبی آزادی ہماری ریاست کو شرفِ انسانیت کے تقاضوں سے بھی کہیں دور بھٹکا لے گئی ہے۔ بہرحال مجھے وزیراعظم کے ارشادات کی روشنی میں آج صرف فلاحی ریاست کے تصور پر بات کرنی ہے کیونکہ ریاست (مملکت) نے اپنے شہریوں کو روزگار، علاج معالجہ کی سہولتوں، یکساں معیاری تعلیم، توانائی کے حصول اور اچھی آب و ہَوا والے ماحول سے مسلسل محروم رکھ کر اس معاشرے کو جتنا غیر متوازن بنایا ہے اس سے بطور ریاست اس معاشرے کی بقاء معجزات میں شمار ہو چکی ہے۔ اگر ریاست کے وسائل پر صرف حکمران طبقات قابض نہ ہوں اور تمام شہریوں کو بلاتفریق و امتیاز روٹی روزگار، علاج معالجہ اور تعلیم کی سہولتیں بغیر کسی ردوکد کے فراہم ہو رہی ہوں تو اس کے نتیجہ میں خوشی خوشحالی سے مزین ہونے والا معاشرہ ہی فلاحی ریاست بنتا ہے جو بانیان پاکستان قائد و اقبال کا خواب تھا۔

 اگر یہ خواب ریاست پاکستان کے شہریوں (پسے کچلے مقہور عوام الناس) کے لئے شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا جس کے نتیجہ میں قبیح اور گھنائونے جرائم سمیت بے شمار سماجی معاشرتی برائیوں اور بیماریوں نے جنم لیا ہے تو اس کے ذمہ دار وہی حکمران اشرافیہ طبقات ہیں جو اس مملکت کی گورننس کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے فلاحی ریاست کے تصور سے دور بھگا لے جاتے رہے ہیں۔

اگر ریاست خود اپنے شہریوں کی روزگار، تعلیم، صحت کی ضروریات قطعی میرٹ پر پوری کر رہی ہو تو پھر کسی شہری کو اپنی روزمرہ زندگی کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے لئے کسی کا دستِ نگر کیوں ہونا پڑے۔ یہاں تو حصول تعلیم کے بعد حکمران طبقات نے اس ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونہار بچوں بچیوں کے لئے میرٹ پر روزگار کا حصول بھی ناممکنات میں شامل کر دیا ہے تو اس مملکت خداداد کے مقہور عوام الناس کیا اسی طرح ایڑیاں رگڑتے زندہ درگور ہوتے اپنے تنفس کا سلسلہ برقرار رکھنے کی خاطر نان جویں کے چند ٹکڑوں کے حصول کے جتن میں اپنی عزت آبرو اور شرافت کا سودا کرنے پر مجبور ہوتے رہیں۔

جناب! عوام کے لئے جہنم بنایا گیا ایسا معاشرہ اپنی بقا کا جواز کھو دیتا ہے۔ آپ میڈیا سے اپنے قومی ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے دو سال تک حکومت کا رطب اللسان بننے کا تقاضہ کر رہے ہیں تو یہ تقاضہ درحقیقت مسائل کے دلدل میں دھنسے ایڑیاں رگڑتے عوام کی آہوں، کراہوں کی جانب کیمرے کی آنکھ بند رکھنے اور قلم کی کاٹ میں ڈنڈی مارنے کا ہے۔ آپ دو سال کے لئے نہ سہی، چلیں ایک ماہ کے لئے ہی سب اچھا سُنانے والے اپنے رطب اللسانوں سے بے نیاز ہو کر اپنے عوام کی صفوں میں جا کر اپنی آنکھوں سے ان کے معمولات زندگی کا مشاہدہ کر لیں اور اس ملک کی دھرتی پر موجود قدرت کے تمام وسائل اور قیمتی ذخائر ان راندۂ درگاہ عوام کی بہتر زندگی کے لئے وقف کر دیں،

 آپ کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے جتن کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، یہی سارے عوام آپ کے رطب اللسان ہوں گے اور میڈیا بھی آپ کا دم بھرتا نظر آئے گا۔ آپ سلطانیٔ جمہور کے حقیقی قالب میں ڈھل جائیے، جمہور آپ کی سلطانی کو کبھی گزند تک نہیں پہنچنے دے گی ورنہ میڈیا تو وہ ظالم آئینہ ہے جو مجبور عوام کی بے بسی کی جھلک من و عن دکھاتا ہے تو حکمران طبقات کی عیاشیوں کے پھیلائے گئے گند کی سڑاند بھی اس آئینے میں تعفن چھوڑتی ہی نظر آئے گی۔ آپ اس آئینے کو لپیٹنے کی بجائے اپنا پھیلایا گند صاف کر لیں۔ سب اچھا خود بخود ہی ہو جائے گا۔

سعید آسی

No comments:

Powered by Blogger.