Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی...



فروری کو رحیم یار خان پیپلزپارٹی کے رابطہ کار چودھری جاوید اقبال وڑائچ کے مکان پر اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید احمد شاہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے قومی مفاد کے حصول میں ناکام ہو گئی ہے لہٰذا اس میں تبدیلی لانے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس منعقد کی جانی چاہیے۔ 16 فروری کے انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے صفحہ اول پر دو کالمی سرخی میں شاہ صاحب کا بیان بڑے نمایاں طور پر شائع کیا گیا تھا لہٰذا قارئین کو تجسس ہوا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیونکر ناکام ہوئی لیکن خبر کا پورا متن پڑھنے کے بعد صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ پی پی کے رہنما کا خاص ہدف بیچارے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی تھے جن کی تقرری پر موصوف کو شدید اعتراض ہے ان کا کہنا ہے کہ آخر کل وقتی وزیر خارجہ کا تقرر کیوں نہیں کیاجاتا؟ 

شاہ صاحب حزب اختلاف کے رہنما ضرور ہیں اس لیے انہیں ہر ملکی اور غیر ملکی مسئلہ پر اظہار خیال کا حق پہنچتا ہے لیکن اتنے ذمہ دار شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ ذاتیات اور پارٹی بندی سے بلند ہو کر داخلی و خارجہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی جائے ، ان کے بیان سے کسی طرح یہ مترشح نہیں ہوتا کہ آخر خارجہ پالیسی میں کیا سقم ہے جس کا ازالہ ضروری ہے نیز یہ کہ نواز حکومت کی خارجہ پالیسی زرداری کی خارجہ پالیسی سے کتنی مختلف ہے، اس ضمن میں شاہ صاحب کا بیان مایوس کن ہے۔
یہ کہنا کہ موجودہ کابینہ میں کل وقتی وزیر خارجہ کا قیام لازمی ہے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیا بھٹو حکومت میں کوئی کل وقتی وزیر خارجہ تھا؟ البتہ ایک متنازع سرکاری اہلکار عزیز احمد کو وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنا دیا گیا تھا جبکہ خارجہ پالیسی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو وضع کرتے تھے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی جانبدارانہ پالیسی میں توازن پیدا کر کے اسے بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ کیا۔ یاد رہے کہ انہوں نے مشرقی یورپ کی اس وقت کی کمیونسٹ حکومتوں اور ویتنام سے پاکستان کے سیاسی و سفارتی تعلقات استوار کیے ساتھ ہی 1974ء میں اسلامی ممالک کی کانفرنس منعقد کر کے کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق خود اختیاری کی بحالی کو علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

اگر برصغیر کی سطح پر دیکھا جائے تو بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے اپنے دورِ اقتدار میں کوئی وزیر خارجہ نہیں مقرر کیا بلکہ یہ قلمدان خود اپنے پاس رکھا۔ ایسی کئی مثالیں دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ شاہ صاحب کو سرتاج عزیز اور طارق فاطمی پر کیا اعتراض ہے؟

سرتاج عزیز انتہائی لائق اور منجھے ہوئے ٹیکنو کریٹ ہیں۔ اسی طرح طارق فاطمی صاحب پاکستان کی خارجہ ملازمت Foreign Service کے سند یافتہ اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جن کی علاقائی اور عالمی امور پر گہری نظر ہے اور شاہ صاحب وزیراعظم نواز شریف کو کیا سمجھتے ہیں ان میں کس چیز کی کمی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ سے لے کر تین بار وزارت عظمیٰ پر مامور رہ چکے ہیں اور اسلامی ممالک میں ان کی بڑی ساکھ ہے جبکہ وہ کاروباری دنیا میں بھی معزز مقام رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب بتائیں کہ زرداری، گیلانی، اشرف ٹولے نے خارجہ پالیسی میں کیا تیر مارا تھا؟ 

ان کے امور خارجہ کے کارناموں میں سلالہ چوکی پر تعینات پاکستان کے فوجیوں پر امریکہ کا قاتلانہ حملہ، کارگل فوجی اکادمی کے نزدیک بلال ٹاؤن میں واقع اسامہ بن لادن کی مبینہ رہائش گاہ پر امریکی فضائی حملے اور زرداری کی امریکہ کو مبارکباد، افواج پاکستان کو ملک کی سیاست میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے امریکی فوج کی مبینہ کارروائی اور بیرون ملک بینکوں میں پاکستان کی لوٹی اور چرائی ہوئی دولت کے خفیہ کھاتوں کا تحفظ۔ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے تابع کرنے جیسے اقدامات وغیرہ جیسے شرمناک سکینڈل شامل ہیں۔

شاہ صاحب کو امور خارجہ کا ذرا کم ہی ادراک معلوم ہوتا ہے جبھی تو بے تکی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین جغرافیائی محل وقوع ، تاریخی پس منظر ، اقتصادی اور دفاعی ضروریات جیسے عوامل اور زمینی حقائق کرتے ہیں اور یہ روز روز نہیں بدلتے البتہ فروعی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اگر ملک کی داخلی پالیسی استحکام، امن و امان، اقتصادی خود کفالت پر مبنی ہو تو وہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 ویسے اقتصادی خود کفالت کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ ترقی کے ثمرات ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوں جبکہ عوام دانے دانے کو ترس رہے ہوں۔ اگر ملک کی 70 فیصد آبادی زراعت پیشہ ہے تو کسانوں میں زرعی اراضی کی منصفانہ تقسیم لازمی ہے ورنہ ملک میں غربت اور جرائم ڈیرے ڈال دیں گے۔ اسی طرح اگر بنیادی صنعت پر ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری ہے تو منافع خوری، زخیرہ اندوزی، اشیائے صرف کی مصنوعی قلت و گرانی جیسی سماجی برائیاں عام ہو جائیں گی۔ مثال کے طور پر ملک میں گنے کی وافر کاشت ہوتی ہے لیکن مل مالکان کاشتکار کو حکومت کی متعین کردہ گنے کی قیمت بھی ادا نہیں کرتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر چینی بنانے والے کارخانے سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی ملکیت ہیں جو گھوم پھر کر برسراقتدار ہو جاتے ہیں جبکہ منافع خور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے کھلے عام منافع خوری کرتے ہیں جنہیں رشوت خور افسران کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کی قلت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ویسے تو یہ ملک کا اندرونی مسئلہ ہے لیکن ملک کی آبادی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے خوراک درآمد کرنی پڑتی ہے۔ جس کے باعث ملک دوسرے ملک کا دستنگر ہو جاتا ہے۔

اسی طرح جب مالی میزان خسارے کا شکار ہو جاتا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے IMF سے قرض لینا پڑتا ہے اور بڑی طاقتیں مقروض ریاست پر کڑی شرائط عائد کرتی ہیں جس سے اس کا اقتدار اعلیٰ مجروح ہوتا ہے۔ پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ ہر حکومت خود کفالت کی بجائے بیرونی قرضہ جات پر انحصار کرتی رہی ہے بالخصوص پی پی اور مسلم لیگ کی منتخب حکومتیں۔ کیا خورشید احمد شاہ یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کی حکومت نے اپنے دوبارہ برسر اقتدار آنے پر ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟ جہاں تک نواز شریف کی حکومت کا تعلق ہے تو انہوں نے قرض اتارنے اور ملک کو سنوارنے کا نعرہ تو لگایا یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنے عزم پر ثابت قدم نہیں رہے۔

اگر نواز حکومت کی کوتاہیوں کے ساتھ ان کے مثبت اور تعمیری اقدام کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہو گی۔ نواز حکومت نے فوج کے سربراہ کے ساتھ مل کر اندرون ملک برپا دہشت گردی کے انسداد کے لیے لائحہ عمل نہ صرف تیار کیا بلکہ اس کو عملی جامہ پہنایا۔جس دن اوباما بھارت میں نریندر مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہے تھے اسی دن پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف چین کی عسکری اور سیاسی قیادت سے تعلقات میں وسعت پیدا کر رہے تھے جس کا اظہار عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اور اس سے دفاعی، تزویراتی ، سیاسی اور اقتصادی روابط سے ہوتا ہے۔

 افغانستان میں بھارت اور امریکہ کے تسلط کے خلاف عوامی جمہوریہ چین نے افغانستان میں طالبان اور اشرف غنی جنتا میں مفاہمت کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں جبکہ اس عمل میں پاکستان کی شرکت کو ناگزیر قرار دیا۔ چین نے افغانستان میں تانبے کی نکاسی اور آب پاشی اور پن بجلی کے منصوبے میں امداد کی پیشکش کر کے بھارت کی اجارہ داری کو چیلنج کر دیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اوباما کو صاف کہہ دیا کہ پاکستان کو سلامتی کونسل میں بھارت کی رکنیت ہرگز قابل قبول نہ ہو گی جس پر اوباما نے نواز شریف سے ملاقات کی درخواست کی۔ اب جلد ہی چین کی شراکت اور امداد سے کاشغر اور گوادر شاہراہ کے علاوہ ریلوے ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے۔

اس کے برعکس زرداری ٹولے نے پاکستان میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی آمد کے موقع پر یادداشت اور مفاہمت کو معاہدوں کی شکل نہ دے کر روسی صدر کو اپنا دورہ مبینہ طور پر منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اگر خورشید احمد شاہ نواز حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انہیں باقاعدہ اپنی تجاویز پیش کرنی چاہیے۔

پروفیسر شمیم اختر
"بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.