Header Ads

Breaking News
recent

بندوقوں کے سائے میں تعلیم کا حصول ؟.....

سانحہ پشاور کے بعد حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کیلئے اپنی سکیورٹی لازمی قراردینے کے احکامات کی وجہ سے صوبے کے اکثر تعلیمی ادارے تاحال نہ کھل سکے جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ وطالبات کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے ۔حکومت نے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لئے لازمی قراردیا تھا کہ وہ اپنی چاردیواری کو آٹھ فٹ تک بلند کرکے ان پر خاردار تار لگائیں گے جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں اور سکول کے آگے حفاظتی بیئریر کی تنصیب بھی ضروری قراردی گئی اسکے علاوہ سکولوں کی سکیورٹی کے لئے سکیورٹی گارڈزرکھنا بھی لازمی بنادیاگیا جبکہ اساتذہ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ۔

حکومت نے مذکورہ اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کو کہا اور کسی بھی سکول کو تمام ضروری اقدامات کے بغیر کھولنے سے منع کردیا جس کے نتیجے میں ہزاروں سکول ، کالجزاور یہاں تک یونیورسٹیاں تک سانحہ پشاور کے ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود تاحال بند ہیں ۔تعلیمی ادروں خصوصا نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے جہاں طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے وہاں ان سے فیسوں کی وصولی کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

دوسری جانب اکثر نجی تعلیمی اداروں نے سکیورٹی انتظامات پر اٹھنے والے اخراجات طلباء وطالبات سے ان کی فیسوں میں اضافہ کرکے وصول کرنا شروع کردیا ہے ۔حکومت نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کو فیسوں میں اضافہ نہیں کرنے دیا جائے گا تاہم اس کے باوجود نجی تعلیمی ادارے زائد فیس طلب کررہے ہیں ۔

مارچ میں میٹرک جبکہ مئی کے شروع میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات منعقد ہوتے ہیں جبکہ یونیورسٹی کی سطح پر مارچ اور مئی میں سمسٹرکے امتحانات منعقد ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود اس اہم وقت میں تعلیمی اداروں کی بندش طلباء وطالبات کے مستقبل کو تاریکی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے ۔ سکولوں کی سکیورٹی کے نام پر سب سے افسوسناک عمل اساتذہ کو اسلحہ ساتھ رکھنے کی اجازت دینا ہے اب متعدد سکولوں کے اساتذہ کلاس روم کے اندر کلاشن کوفوں اور بندوقوں کے ساتھ طلبہ کو پڑھاتے نظر آرہے ہیں اسکے علاوہ سکولوں کے تمام مرکزی دروازوں پر بندوق بردار محافظین کو دیکھ کر ان معصوم
بچوں کے ذہنوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی اس کے بارے میں بھی حکومت کو سوچنا ہوگا۔

صوبائی حکومت نے گزشتہ روزسانحہ پشاور کے شہداء کے چہلم کے سلسلے میں اچانک صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کردیایہ اعلان رات گئے کیا گیا جس کی وجہ سے اکثر سکولوں کی انتظامیہ اور بچوں کو خبر نہ ہوسکی اور اگلے روزوہ سکولوں میں موجود تھے جہاں انہیں بتایا گیا کہ آج عام تعطیل ہے جس کی وجہ سے بچوں اور انکے والدین کو نہ صرف پریشانی اور ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ یہ سنگین سکیورٹی کی خامی بھی ثابت ہوسکتی تھی کیونکہ اس دن تعطیل کیو جہ سے سکیورٹی گارڈزموجود نہیں تھے۔

اسکے علاوہ آئے روز تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے بچوں کا قیمتی وقت کا ضیاع ہو رہا ہے اور تعلیمی ادارے ایک ایسے وقت میں مسلسل بند کئے جا رہے ہیں جب امتحانات سروں پر ہیں ۔ پشاور اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کے والدین کے مطابق سانحہ پشاور کے بعد حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں تھے جس سے دہشت گرد محسوس کرتے کہ پاکستانی قوم اتنے بڑے سانحہ کے باوجودخوفزدہ نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے 16 دسمبر سے 11 جنوری تک تعلیمی اداروں کی بندش نے دہشت گردوں کے خوف کو مزید تقویت دی ۔

 مارچ کے پہلے ہفتے میں میٹرک کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں ستمبر سے فروری تک ایک ایک دن طلباء کے لئے نہایت قیمتی ہوتا ہے اور ان ایام میں وہ دن رات مطالعہ کرتے رہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سانحہ پشاور کے بعد 22 دنوں تک تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کابہت سا قیمتی وقت ضائع ہوا ۔سانحہ پشاور ملکی تاریخ کا بلاشبہ ایک سیاہ باب ہے لیکن اس سیاہ باب سے اگر ہمیں سبق لینا چاہئے تھا تو وہ یہ تھا کہ ہمیں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی بجائے ان دہشت گردوں کو ایک ایسا پیغام دینا چاہئے تھا کہ سکولوں کو کھلا رکھا جاتا بچوں کی حاضری یقینی بنائی جاتی ٗ اس پیغام سے دہشت گردوں کو کوئی اور بہتر پیغام نہیں دیا جا سکتا ۔

آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد حکومت کو تعلیمی اداروں کی جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے تھی سکیورٹی ایک بنیادی ضرورت ہے لیکن بچوں کی حاضری اس سے بھی بڑی ضرورت ہے اور اس پیغام کو دینے میں حکومت مکمل طور پر ناکام رہی ۔اس ہفتے کی ایک اہم خبر یہ ہے کہ پشاورہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کے صنعتی اورگھریلوصارفین سے بجلی کے بلوں میں 4مختلف اقسام کے سرچارج کی وصولی روک دی ہے اورپیسکو کو ہدایات جاری کی ہیں کہ تاحکم ثانی پیسکوصارفین سے یہ سرچارج وصول نہ کریں عدالت عالیہ کے جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس ارشاد قیصر پرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روزپیسکوکی جانب سے خیبرپختونخوا کے صنعتی اور گھریلوصارفین سے بجلی کے بلوں میں 4مختلف اقسام کے سرچارج کی وصولی کے خلاف دائررٹ پٹیشن پرجاری کئے ۔

 وکلاء نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے صنعتی اورگھریلوصارفین سے بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج ٗ ڈیٹ سرچارج ٗ فکس سرچارج اورایکولائزیشن سرچارج وصول کئے جارہے ہیں یہ تمام سرچارجز نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31(5) کے تحت لگائے گئے ہیں حالانکہ یہ سیکشن قانون میں فنانس بل 2008ء کے ذریعے شامل کئے گئے ہیں جوغلط ہیں اس کے ساتھ ساتھ پیسکو نیپراکی منظوری کے بغیرٹیرف کاتعین نہیں کرسکتاکیونکہ قانون کے تحت ساری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں کسی بھی صارف پرسرچارج عائد نہیں کرسکتی، کسی بھی سرچارج کے نفاذ کیلئے اس معاملے کو سب سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل میں لانااوراسے منظوری کے بعد نفاذ آئینی تقاضا ہے جبکہ نیپرا نے مؤقف اختیار کیاکہ یہ سرچارجزمختلف قرضوں کی ادائیگی کیلئے لگائے گئے ہیں تاہم ابھی تک صارف کو اس سے بے خبررکھاگیاہے کہ یہ قرضے کتنے ہیں کس کو ادا کرنے ہیں اورصارف کے ذمے یہ قرضے کیوں ڈالے گئے ہیں 

علاوہ ازیں ایکولائزیشن سرچارج ٗ لائن لاسسزکی مد میں وصول کئے جارہے ہیں حالانکہ ریگولر صارف پریہ غیرقانونی لگائے گئے ہیں علاوہ ازیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ سرچارج کدھرجارہے ہیں۔ بجلی پرٹیکس صرف صوبائی حکومت عائد کرسکتی ہے اوراس ضمن میں آئین کا آرٹیکل57(2) سی واضح ہے جبکہ ٹیکس کے نفاذ میں پارلیمنٹ سے منظوری بھی لینی پڑے گی جو خیبرپختونخوا کے بجلی کے صارفین سے موصول ہونے والی بلوں کی مدمیں نہیں لئے گئے۔واضح رہے کہ لاہورہائی کورٹ پہلے ہی 8دسمبر2012 ء کو یہ تمام ٹیکس پنجاب کے صارفین کی حدتک معطل کرچکی ہے۔

فدا خٹک

No comments:

Powered by Blogger.