Header Ads

Breaking News
recent

ڈیڑھ کروڑ بچے مسلح تصادم سے متاثر ہوئے....

اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2014 میں ایک اندازے کے مطابق 20 کروڑ 30 لاکھ بچے ایسے ممالک یا علاقوں میں رہتے ہیں جہاں مسلح تصادم جاری ہے۔

یونیسف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل ایفریکن رپبلک، عراق، جنوبی سوڈان، فلسطین، شام اور یوکرین میں ڈیڑھ کروڑ بچے پرتشدد کارروائیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال اسرائیل کی جانب سے 50 روزہ کارروائیوں میں 538 بچے ہلاک، تین ہزار سے زائد زخمی، ڈیڑھ ہزار یتیم، جبکہ 54 ہزار بچے بے گھر ہوئے۔

شام میں بچوں کی صورتِ حال پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔
عراق میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں دو کروڑ 70 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ 

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کو بیچا گیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق عراق میں  نہ صرف بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے بلکہ کئی بچوں کو یا تو زبردستی پرتشدد کارروائیاں دیکھنے یا ان میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں دنیا بھر میں اتنے مسلح تصادم ہوئے ہیں لوگ یا تو ان کو جلد بھول گئے یا پھر ان پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، کانگو، پاکستان، صومالیہ، سوڈان اور یمن میں کئی عرصے سے جاری مسلح تصادم کے باعث کئی بچے متاثر ہوئے ہیں۔
جنوبی سوڈان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں ایک سال سے جاری مسلح تصادم میں ساڑھے سات لاکھ بچے پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اس کے علاوہ جنوبی سوڈان میں 12 ہزار بچوں کو جنگجوؤں یا فوج نے بھرتی کیا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.