Header Ads

Breaking News
recent

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا....


اندھوں کی کتنی اقسام ہیں ؟اس سوال کا حتمی جواب توماہرین بصریات ہی دے سکتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں موجود انواع و اقسام کے نابینائوں میں سے کچھ کے بارے میں تو مجھ ایسا کالم نگار بھی تفصیل فراہم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ساون کے اندھے جنہیں سب ہرا ہرا ہی دکھائی دیتا ہے۔ ان کیلئے ساون کا مطلب اقتدار کی باغ و بہار ہے ۔جب تک یہ اقتدار کی رنگینیوں میں کھوئے رہتے ہیں ان کی آنکھیں چندھیائی رہتی ہیں اور انہیں ملک کے طول وعرض میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔

ان سے پوچھیں تو پاکستان میں سب اچھا ہے ۔پولیس کا قبلہ درست کردیا گیا ہے اور اب اس محکمے نے عوام کی مدد کو ہی حرزجاں بنا لیا ہے۔ان کی نظر میں نہ تو سانحہ ماڈل ٹائون میں شرمندگی و ندامت کا کوئی پہلو تھا نہ ہی معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر بصارت سے محروم افراد پر پولیس کا تشدد کوئی معنی رکھتا ہے۔ محض دو سو نہتے لوگ جو دیکھ نہیں سکتے اور اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلے تھے ،پولیس کے شیر دل جوان ان پر یوں ٹوٹ پڑے جیسے یہ ایوان وزیر اعلیٰ پر دھاوا بولنے والے دہشت گرد ہوں ۔

پہلے تو پولیس بصارت سے محروم ان افراد کو کلب چوک پہنچنے کے لئے ایبٹ روڈ اور ڈیوس روڈ پر بھٹکاتی رہی لیکن جب ان نابینوں کو بھی ڈھونڈنے پر راستہ معلوم ہوگیا اور وہ اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا ۔اس ظالمانہ سلوک کی تاویل یہ پیش کی جا رہی ہے کہ چونکہ کلب چوک پر کسی اہم شخصیت کا روٹ لگا ہوا تھا اس لئے اس طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اگر وہ اہم شخصیت واقعی غیر ملکی تھی تو اسے بتایا جا سکتا تھا کہ ہم سفید چھڑی کے حامل افراد کی بہت تعظیم و تکریم کرتے ہیں ،چونکہ ان کا ایک وفد یہاں آرہا ہے اس لئے آپ انتظار فرمائیں یا متبادل راستہ اختیار فرمائیں۔وہ غیر ملکی مہمان نہ صرف خوشدلی سے یہ بات مان لیتے بلکہ اپنے ملک جا کر بتاتے بھی کہ پاکستان میں اسپیشل افراد کو بہت پروٹوکول دیا جاتا ہے۔اگر تصادم کی اطلاع ملتے ہی کوئی صوبائی وزیر اپنی ’’بے پناہ مصروفیات ‘‘ میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر موقع پر پہنچ جاتے ،ان افراد کو کلب روڈ لیجا کر ڈنڈوں کے بجائے سموسوں اور چائے سے ان کی تواضع کی جاتی اور ان کے مطالبات وزیراعلیٰ تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی جاتی تو کونسی قیامت آجاتی؟

یہ عذر گناہ بد تر از گناہ والی بات نہیں تو اورکیا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ملک میں ہوتے تو یہ سب نہ ہوتا۔گویا ان کے علاوہ تمام وزیر،مشیر اور انتظامی افسران سب بے اختیار ہیں؟ایسی تاویلیں تراشنے والے عقل کے اندھے نہیں تو اور کیا ہیں؟

میرے رب کی تقسیم بھی کیا خوب ہے،کچھ افراد کو اس نے بصارت سے تو نوازا لیکن بصیرت سے محروم رکھا۔یہ ایسے بد نصیب ہیں جن کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر دیدہ ء بینا نہیں ۔اندھوں کی ایک قسم رب کائنات نے قرآن مجید میں بھی بیان کی ہے۔’’کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں تاکہ ان کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر سینوں میں دھڑکتے دل اندھے ہو جاتے ہیں‘‘یہ دل کے اندھے ہیں جو عقل اور ضمیر کے اندھوں سے بھی بدتر ہیں۔

انہیں دکھائی اور سجھائی تو دیتا ہے مگر آنکھوں کے راستے بننے والی شبیہ دل و دماغ تک پہنچتے پہنچتے دھندلی ہوجاتی ہے۔ یہ وہ دل کے اندھے ہیں جنہیں بلوچستان میں رواں سال جنوری سے نومبرتک پھینکی گئی 144 مسخ شدہ لاشیں دیکھ کر بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوا۔ یہ وہ دل کے اندھے ہیں جنہیں تھر میں بھوک سے ایڑیاں رگڑ کر مرتے بچے دکھائی نہیں دیتے،یہ وہ دل کے اندھے ہیں جنہیں جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں جانوروں کے ساتھ ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے انسان نظر نہیں آتے، یہ وہ دل کے اندھے ہیں جنہیں بصارت کے باوجود خیبر پختونخوا میں غربت و بے روزگاری کا ننگا ناچ دکھائی نہیں دیتا۔

معذوروں کے عالمی دن پر اپنے حقوق کیلئے نکلنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ذہنی معذور،فکری اپاہج اور قلبی طور پر مفلوج افراد جسمانی طور پر معذور لوگوں سے کہیں زیادہ قابل رحم ہوتے ہیں۔ انہیں کسی نے بتایا ہوتا کہ یہ اندھوں کا دیس ہے تو وہ اس شہر نا پرساں میں آئینے لیکر ہر گز نہ نکلتے۔ وہ بیچارے اس اندھے معاشرے میں انصاف لینے نکلے تھے جہاں ہر سال سینکڑوں افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ کاش کسی نے انہیں بتایا ہوتا کہ اس دیس میں اندھے قتل ہی نہیں ہوتے، قانون بھی اندھا ،لولا، لنگڑا ،بہرا اور گونگا ہوتا ہے۔ یہ وہ دیس ہے جہاں اندھے قیافہ شناسوں کی بھیڑ ہے ،ایسے قیافہ شناس جنہیں اندھیرے میں بہت دور کی سوجھتی ہے اور ان کا فرمایا ہوا مستند بھی ہوتا ہے۔ یہاں ایمان و ایقان ہی نہیں یقین و اعتقاد بھی اندھے ہوتے ہیں۔ یہاں صبح بے نور ہی نہیں آئین و دستور بھی اندھا ہے۔ اس دیس میں ساقی ہی نہیں واعظ و زاہد بھی اندھے پن کا شکار ہیں۔ اگر اپنے دوست شاعر خالد مسعود خان کے الفاظ مستعار لوں تو یہ اندھوں کا دیس ہے جہاں انتخاب کے پیمانے ہی الگ ہیں:
اَنا فیر سلیکٹ ہوا ہے اَنے واہ
بیبا فیر ریجیکٹ ہوا ہے اَنے واہ
سوئی میں دھاگہ ڈالنے والی نوکری پر
اَنا اِک سلیکٹ ہوا ہے اَنے واہ
اس دیس کے اندھے پن سے متعلق اگر ساغر صدیقی کے شاعرانہ تخیل سے 

استفادہ کیا جائے تو دریا کوزے میں بند کھائی دیتا ہے
دستور یہاں بھی گونگے ہیں ،فرمان یہاں بھی اندھے ہیں

اے دوست خدا کانام نہ لے،ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپٹے ہیں

مضمون یہاں بھی بہرے ہیں،عنوان یہاں بھی اندھے ہیں
کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر

بے چین یہاں یزداں کا جنوں ،انسان یہاں بھی اندھے ہیں
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصور بھوکا ہے،سلطان یہاں بھی اندھے ہیں

مگر ان اندھے سلطانوں کو ہم ہی اندھا دھند منتخب کرتے ہیں۔ لچ لفنگ کو سلیکٹ اور بیبیے کو ریجیکٹ کرنے کا حق ہمارے پاس ہی تو ہے۔ ہم ہی ان کے جلسوں کی رونق بڑھاتے اور گلے پھاڑ کر نعرے لگاتے ہیں لیکن جب دھوکہ کھاتے ہیں 

تو ٹسوے بہاتے ہیں۔ گویا ہماری حالت یہ ہے کہ
بے علم بھی ہم لوگ ہیں ،غفلت بھی ہے طاری
افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

ماہرین امراض چشم بتاتے ہیں کہ اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ موتیا ہے خواہ یہ سفید ہو یا کالا۔ہمارے ہاں بھی کسی کی آنکھ میں خود غرضی کا سفید موتیا ہے تو کوئی نفرت کے کالے موتیے کے باعث بصارت و بصیرت سے محروم ہے۔اس لئے شاعر کی یہ التجاء بے جا نہیں کہ

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.