Header Ads

Breaking News
recent

زبان کی دہشت گردی کون روکے؟....وسعت اللہ خان


دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے، ضربِ عضب اور خیبر ون، مجوزہ فوجی عدالتیں، سراغرساں نظام کی بہتری کا منصوبہ، امن و امان کے ذمہ دار اداروں میں ربط و ضبط باضابطہ کرنے کی کوشش، دہشت گردوں کے خلاف پالیسی میں طویل مدت سے جاری دو عملی اور دوغلے پن سے تائب ہونے کا عہد۔
یہ سب تو ٹھیک ہے مگر اس پہاڑ جیسی مہم سر کرنے کے لیے جس انفرادی اور قومی ذہن سازی کی اشد ضرورت ہے اس کی جانب پالیسی سازوں کا ذہن کیوں نہیں جا رہا؟

فی زمانہ ذہن سازی کا سب سے بڑا سکول الیکٹرونک میڈیا ہے۔ مگر اس کا دائرہِ اثر جتنا وسیع ہے کیا وہ اپنی ذمہ داریاں بھی پیشہ ورانہ حساسیت کے ساتھ نبھانے کی سوچ رہا ہے؟ اور اگر نہیں سوچ رہا تو کیا کوئی فرد، ادارہ، لابی ہے جو اس جانب توجہ دلا ئے اور میڈیا کو وقت کی نزاکت کے اعتبار سے سنجیدگی اختیار کرنے پر مجبور کرے؟

یہ ٹھیک ہے کہ حکومت میڈیا کو مسلسل یاد دلا رہی ہے کہ دہشت گردی کے مبلغوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ترجمانوں کو نشریاتی سپیس فراہم نہ کیا جائے۔

یہ بھی ٹھیک ہے کہ میڈیا اس ذمہ داری کو آزادیِ صحافت پر ایک اور حملہ نہیں سمجھ رہا اور اگر کوئی سمجھ بھی رہا ہے تو اسے یاد دلایا جا سکتا ہے کہ آئرلینڈ کی شورش سے نمٹنے کے زمانے میں دنیا کے سب سے آزاد برطانوی میڈیا نے یہ پابندی بادل ِناخواستہ قبول کرلی تھی کہ دہشت پسند تنظیم آئرش رپبلکن آرمی کو صرف آئی آر اے کہا جائے اور آئی آر اے کے کسی ترجمان کا بیان شائع یا نشر نہ کیا جائے اور اگر موقف شائع یا نشر بھی کرنا ہے تو صرف آئی آر اے کے سیاسی بازو شن فین کا موقف مشتہر کیا جائے مگر ترجمان کی اصلی آواز اور تصویر کے ساتھ نہیں بلکہ بلاتصویر اور کسی ثانوی آواز میں۔

نائن الیون کے بعد امریکی میڈیا نے ازخود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے لیے کچھ ضوابط خود پر نافذ کیے، جبکہ کرگل کی لڑائی جب تک جاری رہی بھارتی میڈیا نے ضرورت سے زیادہ ناقد ہونے سے پرہیز کیا۔ یہ منطق بھی سمجھ میں آنے والی ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔

مگر ان میڈیائی علما (ٹیلی وانجلسٹس) کا کیا کیا جائے جو سمارٹ ہیں، بظاہر دینی و دنیاوی معلومات سے بھی آگہی رکھتے ہیں، خوبرو اور جواں سال بھی ہیں، جدید طرزِ زندگی کی تمام سہولتیں اور آسائشوں کے خوگر بھی ہیں، ان کا کسی انتہا پسند یا دہشت گرد تنظیم سے بھی کوئی تعلق نہیں، عوامی سطح پر ان کی پذیرائی بھی ہے مگر جب وہ گفتگو کرتے یا کرواتے ہیں تو لگتا ہے گویا آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

لگتا ہے گویا ان کے توسط سے دہشت گردوں کے خلاف نرم گوشہ رکھنے والے طبقات، ادارے اور تنظیمیں آکسیجن حاصل کررہی ہوں اور اپنی وقتی پسپائی کو نئی پیش قدمی سے بدل رہی ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت اور اس کے ادارے تعصب و نفرت کے خاردار پودوں سے جتنی زمین صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔اتنی ہی صاف کردہ زمین پر میڈیائی علما پٹرول کو پانی بتا کر اپنی لسانی مشک سے پیچھے پیچھے چھڑکاؤ کرتے چل رہے ہیں۔

اس وقت تو ضرورت تھی کہ انتہا پسند نظریے کے خلاف اعتدال پسندی اور رواداری کو فروغ دینے والی اسلامی روایات کو زیادہ نشریاتی سپیس ملتی۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ اس خلا کو اعتدال پسندی کی پوشاک پہنے انتہا پسند تن دہی سے پر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور انھیں چیلنج کرنا تو کجا ان کی سرزنش کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ نہ ان کے اپنے اداروں میں اور نہ ہی ضابطۂ اخلاق نافذ کرنے کے دعویدار پیمرا جیسے اداروں میں کوئی ہے جو یاد دلائے کہ زبان کی دہشت گردی تلوار کے ظلم سے بھی زیادہ بھیانک قاتل ہے۔ جس سے بھی پوچھو یہی کہتا ہے، ’او چھڈو جی ان زہریلوں کے منہ کیا لگنا آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔‘

برا ہو اس منحوس لفظ ریٹنگ کا اور کیڑے پڑیں اس ناہنجار مارکیٹنگ کلچر میں جو تمام منافع بخش زہریلوں کی چھتری بنا ہوا ہے۔ عرض صرف اتنا کرنا ہے کہ سامنے کی دہشت گردی کا صفایا کرنے سے کچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔ کیونکہ آپ کے عقب میں، آپ ہی کے درمیان آپ ہی کے راج دلارے جو باریک کام دکھا رہے ہیں اس کے آگے دس شمالی وزیرستان بھی کچھ نہیں بیچتے۔

اچھی بات ہے کہ حکومت اس ضمن میں دو عملی کا کرتہ بدلنے کا عندیہ مسلسل دے رہی ہے، لیکن دلوں کو گلزار یا جہنم بنانے کی صلاحیت رکھنے والا میڈیا پوشیدہ خنجر آزماؤں سمیت اپنی آستینیں اور پاجامہ کب بدلے گا؟

No comments:

Powered by Blogger.