Header Ads

Breaking News
recent

دینی مدارس اور دہشت گردی؟....

مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ مدارس کو بے جاتنقید کا نشانہ مت بنائیں۔ مدارس سے وابستہ جید علمائے کرام دہشت گردی کے خلاف قوم کے ساتھ ہیں۔‘‘ یہ الفاظ وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان کے ہیں جو انہوں نے گزشتہ رات طویل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ مدارس کے بارے میں یہ وہ سچ اور حق بات ہے جو وزیر داخلہ نے کہی۔ قارئین! 16 دسمبر کو جب سانحہ پشاور ہوا تو اس کی تمام علمائے کرام اور اربابِ مدارس نے بھرپور مذمت کی۔ اس کے باوجود بلاسوچے سمجھے اور بغیر تحقیق کے کئی دانشوروں نے اس کا سارا الزام مدارس پر لگاتے ہوئے طرح طرح کے سوالات اٹھانا شروع کردیے۔ ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیاکہ مدارس میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے، حالانکہ دینی مدارس کے ذمہ داروں کی طرف سے بار بار یہ پیشکش کی گئی ہے جس کسی کو مدارس کے بارے میں اس قسم کا شبہ ہو، اسے کھلی دعوت ہے وہ مدرسوں میں آکر خود دیکھے۔

 سراغ رسانی کے حساس ترین آلات استعمال کرکے پتہ لگائے آیا کہیں ناجائز ہتھیاروں یا ان کی خفیہ تربیت گاہ کا کوئی نشان ملتا ہے؟ اگر کسی مدرسے کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے کہ وہاں دہشت گردی کی تربیت دی جارہی ہے یا اس قسم کی کوئی کارروائی ہورہی ہے تو اس کے خلاف مناسب کارروائی کا نہ صرف خیر مقدم کیا جائے گا، بلکہ وفاقوں کے ذمہ دار حضرات بارہا یہ اعلان کرچکے ہیں ہم خود بھی اس کارروائی میں تعاون کریں گے، لیکن مدارس کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈہ پوری شدت اور حدت سے جاری ہے۔ ’’بعض مدرسوں‘‘ کا لفظ استعمال کرکے تمام دینی مدارس کو آخر کیوں مشکوک اور مطعون قرار دیا جارہا ہے؟ فرض کریں اگر 26 ہزارسے زائد مدارس میں سے کوئی ایک دو مدرسوں کے بارے میں یہ الزام ثابت ہو بھی جاتا ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اس کی بنیاد پر تمام دینی مدارس کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے؟ 
کیا ملک بھر بلکہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں بعض اوقات کچھ جرائم پیشہ افراد داخل نہیں ہوجاتے؟ کیا اس کی بنا پر تمام تعلیمی اداروں کو جرائم پیشہ قرار دے دینا عقل وانصاف کے کسی خانے میں فٹ ہوسکتا ہے؟ جب سے موجودہ حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز ہوا ہے، تو ہرجگہ سے دہشت گرد گرفتار ہورہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے لے کر پنجاب یونیورسٹی تک، لیاری سے لے کر نائن زیرو تک،  پیپلزپارٹی کی اوطاقوں تک، منشیات کے اڈوں سے لے کر مری کے ریسٹ ہاؤس تک سے پکڑے جارہے ہیں۔ ان کا تعلق کسی نہ کسی طرح تمام ہی سیاسی جماعتوں سے ثابت ہورہا ہے۔

ان دہشت گردوں میں فوجی بھگوڑوں سے لے کر پولیس سے بھاگنے والوں تک، نجی سیکورٹی ایجنسیوں سے وابستہ افراد سے لے کر مختلف مافیا گروپوں کے سرغنوں تک سب ہی شامل ہیں۔یہ مختلف قسم کی دہشت گردیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ دہشت گرد وںنے اپنے بھیانک مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف حلیے اپنائے اور کئی روپ دھارے ہوئے ہیں۔ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد کے فائیواسٹار ہوٹل ہوں یا مری، سوات، کا غان، ناران اور زیارت کے ریسٹ ہاؤس۔ کراچی یونیورسٹی کا آئی بی اے ڈپارٹمنٹ ہو یا پنجاب یونیورسٹی کا ہال نمبر ایک۔ مدارس کے تہہ خانے ہوں یا مساجد کے حجرے۔ 

ہر جگہ دہشت گردوں نے اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈ رکھی ہیں۔ اب جواب طلب سوال یہ ہے جب دہشت گرد تمام جگہوں، علاقوں اور مقامات سے برآمدہورہے ہیں تو پھر مدارس ہی پر لعن طعن کیوں کی جارہی ہے؟دہشت گردی کا لیبل صرف مدارس پر ہی کیوں لگایا جارہاہے؟ ملک بھر میں جب بھی کوئی بڑی دہشت گردی ہوتی ہے تو سیکولر اور نام نہاد دانشوروں کی توپوں کا رُخ دینی مدارس کی طرف ہوجاتا ہے۔ مغربی این جی اوز کے ایجنٹ بھی مدارس کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ میڈیا کی چمک دمک میں اصل حقائق چھپ جاتے اور مدارس کے خلاف فضا ہموار ہونے لگتی ہے۔ پھر دینی مدارس کے علماء وطلبہ کی انکوائریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ 

علماء و طلبہ کو حراساں کیا جاتا ہے۔ کئی بے گناہوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ جھوٹے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ زمینی حقائق سے نابلد بعض لوگوں کی طرف سے مدارس کو بند کرنے، مساجد کو جلانے اور علماء کو پھانسی دینے کی نازیبا باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔

گزشتہ 35 سالوں سے جتنا زہریلا پروپیگنڈا دینی مدارس، طلبہ، علماء اور صلحاء کے بارے میں کیا گیا ہے، شاید ہی اتنا کسی اور طبقے کے بارے میں ہوا ہو۔ دینی مدارس کے اُجلے دامن کو کن کن طریقوں سے داغدار کرنے کی بھونڈی کوشش نہیں کی گئی؟ دینی مدارس کو کس کس طرح دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی؟ دینی مدارس میں ہونے والی جسمانی ورزش کو دہشت گردی کی تربیت کہا گیا۔ مدارس کے تمام طلبہ و علماء کو شمالی علاقہ جات اور وزیرستان کے طالبان قرار دیاگیا۔کسی بھی عام گاؤں کی مسجد کے غیر عالم امام اور صرف حفظ کرکے گھر میں ٹیوشن پڑھانے والے کسی بھی شخص کی انفرادی غلطی کو مدارس و علماء کے سر تھوپنے اور پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ 

جو کام کالج یونیوسٹیوں میں ترقی کی علامت قرار دیا گیا، اسے مدارس کے لیے قابلِ تعزیر گردانا گیا۔ دینی مدارس میں ہونے والی جسمانی ورزش کو دہشت گردی کی تربیت کہا جاتا ہے، جبکہ اسکولوں میں ہونے والی ورزش کو ایکسرسائز کا نام دیا گیا۔ کالج کا نوجوان اگر کراٹے کلب جاتا ہے، اسے ایتھلیٹ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ مدارس کے لڑکے عصر کے بعد ریاضت کریں انہیں طالبانائزیشن کا خطرہ قرار دیا جائے۔ انصاف تو دیکھئے! اگر قومیت وتعصب کے بدبو دار نعرے لگانے والے سر عام ملک کو توڑنے کی بات کریں تو واہ واہ! اور اگر قرآن وسنت کے حاملین دل جوڑنے کی بات کریں تو نفرین اور آہ آہ۔ کراچی میں خون کی ہولی کھیلنے والے آزاد اور کراچی کے مدارس کے طلبہ وعلماء کی خصوصی نگرانی اور انکوائری۔ یہ سب کیا ہے؟ مدارس پر ہر طرف سے اعتراضات اور طعنوں کی بوچھاڑ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، جتنی باتیں اتنے طعنے ہیں۔ روشن حقیقت یہ ہے کہ دینی مدارس نے ناگفتہ بہ حالات میں بھی روکھی سوکھی کھاکر دین کا تحفظ کیا ہے، ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ خواندگی کی شرح میں حیرت ناک اضافہ کیا ہے۔ اس پر امریکا اورمغرب حیرت سے گنگ ہیں، مگر ہمارے ہاں کا ایک مرعوب، مغرب کا پروردہ طبقہ بلاوجہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی سعی لاحاصل میں لگا ہوا ہے۔

اس ماحول میں وزیر داخلہ کا یہ بیان نہایت ہی حوصلہ افزا ہے کہ 90 فیصد دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ مدارس کو بے جاتنقید کا ہدف نہ بنائیں۔ ہم سمجھتے ہیں اگر حکومت کو کسی مدرسے کے بارے میں تحفظات ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں تو ان کے منتظمین اور وفاق المدارس سے رابطہ کریں۔ ارباب مدارس اور حکومت کے مابین تعاون کا مربوط نظام قائم کیا جائے۔ مدارس پر براہ راست چھاپوں کے بجائے منتظمین سے رابطہ کیا جائے۔ چند سال پہلے وزیر داخلہ کی زیر صدارت اجلاس ہواتھا ۔ 

اس میں پانچوں وفاقوں وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعۃ، تنظیم المدارس اور رابطۃ المدارس کی تنظیم ’’تنظیمات مدارس‘‘ کے سربراہوں نے شرکت کی تھی اس اجلاس کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا وہ یہ تھا دینی مدارس نجی تعلیمی اداروں کے انداز میں کام کریں گے۔ تمام مدارس میں دینی علوم کے ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جائیں گے۔ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں اور اعلیٰ پوسٹوں پر تعینات کیا جائے گا۔ دینی مدارس کے پانچوں وفاقوںکو بورڈ کا درجہ حاصل ہوگا۔ حکومت دینی مدارس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ دینی مدارس کے علماء اور طلبہ کا احترام کیا جائے گا۔‘‘ غلطیاں دہرانی نہیں چاہئیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ ماضی کو بھول کر معاملات سلجھانے چاہئیں تاکہ قوم وملک ترقی کریں۔

انور غازی
 شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.