Header Ads

Breaking News
recent

Kallar Kahar - کَلرکہار ... خوبصورت سیاحتی مقام

کلرکہار ضلع چکوال کا خوبصورت سیاحتی مقام ہے، اور چکوال سے تقریباً 26 کلو میٹر کے فاصلے پر اسلام آباد، لاہور موٹر وے کے ساتھ واقع ہے۔ کلرکہار میں لوکاٹ، ناشپاتی اور انار کے بڑے بڑے باغات کے علاوہ دیگر کئی اقسام کے پھلوں کے درخت کثیر تعداد میں ہیں جن میں کیلے کے درخت قابل ذکر ہیں۔ ان درختوں سے پھل توڑنے کی اجازت نہیں ہے، کیوں کہ سرکار اس کا ٹھیکہ دیتی ہے۔ ان درختوں میں ’’مور‘‘ کھلے عام یعنی آزادانہ پھرتے ہیں۔ پہاڑ ہرے بھرے ہیں، درخت اور جھاڑیاں بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ کلرکہار میں تخت بابری بہت مشہور جگہ ہے، جو انار کے باغ میں واقع ہے۔

 اس کے بارے میں مشہور ہے کہ شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے کشمیر جاتے ہوئے یہاں پڑاؤ کیا تھا۔ گرمیوں میں موسم کافی گرم اور سردیوں میں سرد ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر ایک مزار بھی ہے جہاں اکثر لوگ فاتحہ خوانی کے لئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کافی لوگ ہائیکنگ بھی کرتے ہیں۔لوکاٹ اور انار کے باغات کے ساتھ ہی راستہ جھیل کی طرف جاتا ہے۔ جھیل جانے کے لئے پہلے صرف ایک طرف راستہ تھا یعنی جہاں سے داخلہ وہیں سے واپسی، چھٹی کے روز گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے سیاحوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن اب صورت حال کافی بہتر ہوگئی ہے، کیوں کہ اب ایک طرف سے جاکر دوسری طرف سے واپسی ممکن ہے۔چکوال سے کلرکہار اور خوشاب جاتے ہوئے راستے میں پہاڑی علاقوں میں کافی خطرناک موڑ ہیں جس کے باعث کئی مہلک حادثات ہوچکے ہیں۔ پہلے سڑک کافی تنگ اور خراب حالت
میں تھی لیکن اب کافی بہتر ہے۔ 

پہاڑ کاٹ کر کئی موڑ ختم اور کئی موڑ کافی چوڑے کئے گئے ہیں۔ موٹروے بننے سے کلرکہار کی شہرت اور سیاحوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا روزگار بڑھا ہے اور اس سیاحتی مقام کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔ جھیل پر سہولتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، ریسٹورنٹ اور گیسٹ ہائوسز بنائے گئے ہیں، اس کے علاوہ جھیل کا راستہ مناسب چوڑا کیا گیا ہے۔ کلرکہار سے مشرق کی جانب ایک سڑک چوآسیدن شاہ جانے کے لئے ہے، جس کے راستے میں مشہور جگہ ’’کٹاس‘‘ ہے جس کے مشہور ہونے کی وجہ وہاں ہندوئوں کے پرانے زمانے کے مندروں کا ایک سلسلہ ہے، اور پانی کا ایک چشمہ
بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ’’گنگا کی آنکھ‘‘ ہے۔ 

اس علاقہ میں کوئلے کی بہت ساری کانیں بھی ہیں، ایک سرکاری سکول بھی یہاں قائم کیا گیا ہے۔ کلرکہار سے چوآسیدن شاہ جاتے ہوئے سڑک پر سیمنٹ کے کئی کارخانے قائم کئے گئے ہیں، جن میں ’’لفارجے سیمنٹ‘‘ پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کاسب سے بڑا سیمنٹ کا کارخانہ ہے، اس کا پرانا نام ’’چکوال سیمنٹ فیکٹری‘‘ تھا جو مصر کی ایک کمپنی نے خرید لیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’ڈی جی سیمنٹ‘‘ اور ’’بیسٹ وے سیمنٹ‘‘ کے کارخانے ہیں۔ ان کارخانوں کے قیام سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

Kallar Kahar

No comments:

Powered by Blogger.