Header Ads

Breaking News
recent

کیا انٹرنیٹ زندگی ہے؟....


گزشتہ دنوں ایک ادارے نے رائے عامہ کا جائزہ لینے کی خاطر ایک سوال کیا، اگر انٹرنیٹ ختم ہوجائے تو آپ کی زندگی کیسی ہوگی؟
  
فیصد افراد کاخیال تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، لیکن کچھ مشکلات ضرور ہوں گی۔ 15 فیصد کا کہنا تھا کہ کوئی فرق نہیں پڑے گا، انٹرنیٹ کے بغیر بھی اچھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ باقی کے 10 فیصد کی رائے غیرسنجیدگی کی مظہر تھی، کچھ کا کہنا تھا کہ پیسے اور وقت بچانے کا موقع ملے گا جبکہ بعض کی رائے تھی زندگی رہے گی ہی نہیں کیونکہ انٹرنیٹ ہی ان کی زندگی ہے۔
رائے عامہ کا یہ جائزہ ایک ایسی دنیا میں لیاگیا ہے جس کی مجموعی آبادی سات ارب سے تجاوز کرچکی ہے، جہاں تقریباً تین کروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ ( یاد رہے کہ چودہ برس قبل انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد محض 36 کروڑ تھی) اس وقت 45 فیصد انٹرنیٹ صارفین کا تعلق ایشیا سے ہے۔ انٹرنیٹ کلچر میں ایشیا کے پہلے دس ممالک میں پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے۔
   
ہمارے ہاں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار900 تھی جو اس سال کے شروع تک دوکروڑ 91 لاکھ 28 ہزار 970 ہوچکی تھی۔ کچھ دیگردلچسپ حقائق کا علم بھی آپ کے کام آئے گا۔ انٹرنیٹ پر 55 فیصد ویب سائٹس کاتعلق انگریزی زبان سے ہے لیکن انگریزی اور چینی زبانیں بولنے والے دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انگریزی صارفین 27 فیصد، چینی 25 فیصد۔
رائے عامہ کا مندرجہ بالا جائزہ ظاہرکرتاہے کہ دنیا میں 90 فیصد انٹرنیٹ کو اپنی زندگی کو سنوارنے، بہتراور نفع بخش بنانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے جس تیزی سے پوری دنیا میں بڑھ رہے ہیں، وہی رفتار پاکستان میں بھی ہے۔ تاہم فرق صرف یہ ہے کہ دنیا میں باقی لوگ انٹرنیٹ سے اپنی زندگی کو سنوار رہے ہیں، بہتر اور نفع بخش بنارہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایسے بامقصد صارفین کی تعداد بہت کم ہے۔

ہم اوپر بیان کئے گئے 75 فیصد لوگوں میں شامل ہیں نہ ہی 15 فیصد میں، جو انٹرنیٹ کو ایک ضرورت اور سہولت کے طورپر استعمال کررہے ہیں بلکہ ہم ان 10 فیصد لوگوں میں شامل رہنا چاہتے ہیں جو اسے اپنی زندگی قراردیتے ہیں، چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ گزارناچاہتے ہیں، اگر انٹرنیٹ ختم ہوگا تو وہ بھی ختم ہوجائیں گے۔

ہم میں سے ہر ایک اس امریکی رپورٹ سے آگاہ ہو گا جس کے مطابق ہم جنس پرستی کے متعلق فحش ویڈیو، تصاویر اور مواد دیکھنے میں پاکستانی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس میں کچھ مبالغہ آرائی ہو تاہم یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں انٹرنیٹ کا بامقصد استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ ورنہ دنیا میں ایک فرد انٹرنیٹ کے ذریعے کیا کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اس سے شخصیت کو بہتر بنانے کیلئے بہترین اور ہمہ پہلو رہنمائی ملتی ہے جیسے کوئی بڑا ایک بچے کو سمجھاتاہے، اسی طرح انٹرنیٹ قدم قدم پر بھرپور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
صحت کو مسئلہ درپیش ہو تو انٹرنیٹ بہترین ڈاکٹر ہے، تشخیص بھی کرتا ہے، علاج تجویز بھی کرتاہے، حفاظتی تدابیر بھی بتاتا ہے کہ آئندہ اس مسئلہ سے کیسے بچنا ہے۔ تعلیم سے روزگارتک ہر مرحلے میں انٹرنیٹ مکمل کیرئیر گائیڈنس دیتا ہے، تعلیم کے کس شعبے کا فی زمانہ کتنا سکوپ ہے، کہاں سے بہترین تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے اور پھر تعلیم کے حصول کے دوران بھی انٹرنیٹ ہرلمحہ شفیق اور ماہرٹیوٹر کی طرح ساتھ دیتا ہے، یہ ایک کالج بھی ہے اور یونیورسٹی بھی۔

ریسرچ ورک میں بھلا انٹرنیٹ سے کون استفادہ نہیں کرتا۔ حصول تعلیم سے فراغت پر ملازمت کی تلاش میں رہنما، سی وی سے ٹیسٹ، انٹرویو تک بہترین معاون۔ ملازمت مل جائے تو کیسے بہترین انداز میں ملازمت کی جا سکتی ہے، ترقی کی منازل کیسے حاصل ہوتی ہیں، یہ سب کچھ سکھاتا ہے۔
آپ کاروبار کی دنیا میں جانا چاہیں تو یہ بتاتا ہے کہ کون سا کاروبار کیسے چمکے گا۔ نہ صرف مارکیٹنگ کے گر سکھاتا ہے بلکہ اس کے ذریعے مارکیٹنگ بھی کی جاتی ہے، پہلے پہل یہ آپ کے کاروبار کو خریداروں تک لے جاتا تھا لیکن اب خریداروں کو آپ کے کاروبار تک لاتا ہے۔ یہ صرف چند اشارے ہیں انٹرنیٹ کی ہمہ پہلو افادیت کے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سمجھدار لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی پوری زندگی کو بہتر سے بہترین بناتے ہیں لیکن ناسمجھ اس سے محض تفریح حاصل کرتے ہیں، چوبیس گھنٹے کی تفریح۔

ترقی کے خواہش مند بامقصد زندگی گزارتے ہیں، وہ ہرچیزکا بامقصد استعمال کرتے ہیں، انٹرنیٹ کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ اس سے وقت اور روپیہ بچاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سیکھتے ہیں، مسلسل سیکھتے ہیں، ہرشعبہ زندگی میں سیکھتے ہیں۔ مثلاً کینیڈا ہی کو دیکھ لیجئے، 16 سے 24 سال کی عمر کے 74 فیصد جوان انٹرنیٹ کو تعلیم کے حصول میں مددگار کے طورپر استعمال کرتے ہیں، 55 فیصد ملازمت کی تلاش کرتے ہیں، 58 فیصد صحت اور اس سے متعلقہ ایشوز پر انٹرنیٹ سے رہنمائی لیتے ہیں، 69 فیصد خبریں حاصل کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ کوتفریح کا ذریعہ بنایاجائے گا تو پھراس قدر زیادہ وقت صرف ہوگا جس سے انسانی صحت شدید متاثر ہوگی۔ یاد رہے کہ ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پرایک ہفتے میں 35 گھنٹے سے زائد وقت خرچ کرنا ضرورت سے زیادہ استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ اگرآپ انٹرنیٹ کے استعمال کی وجہ سے اپنے اسکول، ملازمت، تعلقات یا رشتوں سے انصاف نہیں کر پا رہے تو یہ انٹرنیٹ کے غیر ضروری اور منفی حد تک زیادہ استعمال کی نشانی ہے۔ انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال سے دراصل کسی بھی فرد کے سوچنے کے عمل اور عادات پر مضر اثرات دیکھے گئے ہیں۔ ہمیں اوپر بیان کئے گئے 90 فیصد لوگوں کے طبقے میں شامل ہونا چاہئے نہ کہ 10 فیصد میں۔

آخر میں عظیم الشان باکسرمحمدعلی کی یہ بات : ’’دنیا کی ہرچیز مقصد رکھتی ہے، اشجار ، درخت ایک مقصد رکھتے ہیں، بارش ایک مقصد رکھتی ہے، برفباری ایک مقصد رکھتی ہے، ہر پودے کی روئیدگی کے پیچھے ہزاروں مقاصد چھپے ہیں، کوئی چھوٹاہے یا بڑا، اس کا ایک مقصد ہے۔ درند پرند چرند اور حشرات الارض سب کوئی نہ کوئی مقصد ضرور رکھتے ہیں، ہم انسان بھی ایک مقصد رکھتے ہیں۔ 

عبید اللہ عابد

 

No comments:

Powered by Blogger.