Header Ads

Breaking News
recent

مصیبتوں کا سیلاب.....




گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان چوتھی بارایک بڑے سیلاب کے بھیانک تجربے سے گزررہا ہے۔ سیلابوں کی فراوانی اور بڑھتی ہوئی شدت نا صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات کا پتہ دیتی ہے، بلکہ نئی حکومتوں کی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

ہر سال مون سون میں ملک کے بڑے دریاؤں میں سیلاب کی بڑھتی ہوئی شدت کے باعث ناصرف ہندوستان کے ساتھ مل کر پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے زیادہ مضبوط بنیادوں پر کوششوں کی ضرورت ہے، بلکہ اس معاملے میں زیادہ ضرورت ایک دوسرے کے اعتماد کو جیتنے کی ہے، بجائے اس موجودہ رویے کے، جس میں یک رخی توجہ صرف زیادہ اورآزاد دوطرفہ تجارت کی جانب ہے۔
جتنا جلدی ہم پانی کے اس اہم معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کرلیتے ہیں، اتنا ہی اس علاقے کے امن واستحکام کے لیے خوش آئند بات ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی اورعلاقائی اثرات پر ہونے والی تمام تحقیقوں کے مطابق ان کا سب سے شدید اثر جنوبی ایشیا پر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ اس علاقے کی آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے اوراس کا دارومدار زراعت پر ہے، اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں اور سخت موسمی حالات کے اثرات زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

گرم موسم اوربارشوں کے غیریقینی انداز کی وجہ سے بڑی آبادیوں کے لیے خوراک کا انتظام پوری طرح سے تیار اور وسائل کی حامل قوموں کے لیے بھی دشواری کا باعث ہوسکتا ہے۔ عالمی فنڈ برائے زرعی ترقی کے مطابق 2050ء تک زرعی پیداوار میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں 30 فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں ہر 1 فیصد اضافے کے ساتھ زراعت کے لیے پانی کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔

اس قیامت خیز منظر میں پاکستان کے بارے میں سوچیے، جہاں آخری ڈیم کی تعمیر 38 سال پہلے 1976ء میں ہوئی تھی، جہاں ٹیکس کی وصولی کی شرح جی ڈی پی کا 9 فیصد ہے، جہاں وفاق Disaster Risk Management پر سالانہ صرف 18 کروڑ روپے خرچ کرتا ہے، یعنی ایک روپیہ فی شخص۔ ماحولیاتی تبدیلی پر بحث کبھی نہیں ہوتی۔ ہاں پارلیمنٹ کو لاحق خطرات اور جہاز سے سینیٹر رحمان ملک کو اتار دیے جانے کے واقعات نے لیڈروں کو پریشان کردیا ہے اور ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

پاکستان کی آبادی ساڑھے بتیس کروڑ تک پہنچ جائے گی، اور ان لوگوں کے لیے ایک خوفناک تباہی سر اٹھا رہی ہے۔
شکر کا مقام ہے کہ اس سال سیلاب نے 2010ء کے بھیانک سیلاب سے کم نقصان پہنچایا ہے جس کا درست طور پرطوفان نوح سے موازنہ کیا گیا تھا۔ اس سال سیلاب کا زور کم تھا جبکہ 2010ء کے سیلاب سے ملک کے پانچویں حصے پر آباد تقریباً دوکروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ زرعی پیداوار اورمویشیوں کے نقصانات، پیداواری عمل، نقل وحمل اور دوسری معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ نے پوری جی ڈی پی کی ترقی کی شرح تقریباً 2 فیصد کم کر دی۔ 2010ء کے سیلاب سے سڑکوں، آبپاشی نظام، مکانات، اسکول، صحت کے انفرااسٹرکچر، بجلی کی ترسیل، آمدنی اوراثاثوں کوپہنچنے والے نقصانات کا اندازہ تقریباً 9.7 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

اس بارکا سیلاب زیادہ تر دریائے چناب اور اس کی شاخوں تک محدود تھا، جبکہ دریائے سندھ اور دریائے کابل 2010ء کی طرح اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ لہٰذا زیادہ تر نقصانات شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب تک محدود رہے، جس سے National Disaster Management Authority کے مطابق 36 اضلاع متاثر ہوئے۔ اسی ایجنسی کی 17 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، لوگوں کی مکمل تعداد جو متاثر ہوئی وہ اٹھارہ لاکھ تھی، اور کاشت کے قابل تقریباً 23 لاکھ ایکڑ علاقہ متاثر ہوا، جبکہ 2010ء میں تقریباً 60 لاکھ ایکڑ علاقہ متاثر ہوا تھا۔
کھڑی فصلیں جنہیں نقصان پہنچنے کے امکانات ہیں، ان میں روئی، چاول، سبزیاں اور کسی حد تک گنّے کی فصل شامل ہے۔ روئی اور چاول کی فصل کے معیار اور سائز کی بنا پر اس کا براہ راست اثر ملک کی برآمدات سے آمدنی پر پڑتا ہے، جبکہ عام فصل کا نقصان افراط زر کے دباؤ کے کھاتے میں چلاجاتا ہے۔ 2010ء کے برعکس اس سال کے سیلاب میں مویشیوں کا نسبتاً کم نقصان ہوا ہے۔ بہرحال، یہ ابھی بالکل بنیادی اندازے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں جب پانی کم ہونا شروع ہوگا، تو زیادہ صحیح پتہ چلے گا اور تباہیوں کا تخمینہ لگانے کی حکومتی صلاحیت زیادہ موثر طور پر کام کرے گی۔

نقصانات کا حتمی تخمینہ جو بھی ہو، اہم بات یہ ہےہمیں ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس بڑی تصویر کو دیکھنا ہے جو اس تباہی کے پس منظر میں ابھر رہی ہے۔ جب اس سال کا سیلابی پانی پوری طرح اتر جائے گا، تو محتاط اندازوں کے مطابق 2010ء کے بعد سیلابوں سے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 16 بلین ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔

ایک بہت اہم حقیقت جو سیلاب اپنے پیچھے چھوڑجائے گا، اور جو کئی پلوں کے بہہ جانے، یا اتنے کلومیٹر سڑکوں کی تباہی، یا اتنے ایکڑ تیار فصلوں کی سیلاب سے متاثر ہونے سے بھی زیادہ اہم ہے وہ ان لوگوں کی زندگیاں ہیں جو اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ بالکل 2010ء کی طرح وہ لوگ جو سیلاب کی بے رحم اور تند موجوں کا نشانہ بنے وہ بیچارے غریب اور ستم زدہ لوگ تھے، جن کی کھڑی فصلیں، مویشی، آمدنی، روزگار، مکان، کھیت کھلیان، بیج اور خوراک کے ذخیرے اور قیمتی چھوٹی موٹی بچت سب سیلاب کی نذر ہوگئی۔ ان میں سے اب زیادہ تربھیانک غربت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

اتنے بڑے سیلاب کے بعد پلاننگ کمیشن نے غربت کی لکیر کے اعدادوشمار میں 13 فیصد کی ایک واضح کمی کا اعلان کیا جو تاریخ میں سب سے کم تھی۔ یہ ان تمام دوسرے اعدادوشمار سے بالکل متضاد اور مختلف ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ ایک خاندان کسی بھی بیرونی جھٹکے، جیسے کہ صحت سے متعلق مسائل یا کسی قدرتی آفت کی وجہ سےغربت کی لکیر سے نیچے چلاگیا تو وہ سالوں اس سے نیچے ہی رہتا ہے، جب تک کہ وہ انتہائی خوش قسمت ہو نا ہو۔
جولوگ اس سال اور 2010ء کے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان میں سے کتنے غربت کی لکیر سے نیچے گئے ہیں، ایک شفاف اور قابل بھروسہ طریقے سے سروے کر کے اس کا اندازہ لگانا حکومت کا فرض ہے۔
ایک مرتبہ یہ بات طے ہوجائے توحکومت کو کوشش کرنی چاہئے کہ بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مدد سے ان خاندانوں کو وہ مدد دی جائے جس کی انہیں ضرورت ہے، ان کو نقد رقم اور فصل کے لیے بیج وغیرہ، یا قرضوں کی سہولت اور کھیت کے اوزار وغیرہ دیے جائیں تاکہ غربت کے چکر کو کسی طرح توڑا جاسکے۔

 
ترجمہ: علی مظفر جعفری
لکھاری سابق معاشی مشیر ہیں، اور اب اسلام آباد میں ایک کنسلٹنٹ فرم کی سربراہی کر رہے ہیں۔
 

No comments:

Powered by Blogger.