Header Ads

Breaking News
recent

ملک کے معززین سے معزز سوال ......


خاتون استاد کا سوال سیدھا اور واضح تھا‘ میں سوال سمجھ گیا مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ پوری کلاس کی نظریں مجھ پر جمی تھیں اور میں شرمندگی کے عالم میں خاموش کھڑا تھا‘ میں نے سوچا میں جھوٹ بول دیتا ہوں‘ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ‘ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں کچھ نہیں جانتے‘ میں جھوٹ بول کر خفت سے بچ جائوں گا لیکن پھر سوچا ہمارے رسولؐ جھوٹ سے نفرت کرتے تھے‘ وہ اعلان نبوت سے پہلے صادق اور امین اسٹیبلش ہو چکے تھے‘ میں آج جھوٹ بول کر خفت سے بچ جائوں گا مگر کل اپنے رسولؐ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔
   
میں نے خاتون اور کلاس سے معذرت کی اور عرض کیا ’’ مجھ میں ان تینوں 
ہستیوں کی کوئی عادت موجود نہیں‘‘ خاتون استاد نے یہ سن کرمیرا شکریہ ادا کیا اور علی کی طرف مڑ گئی۔ آپ زندگی میں بے شمار سوال پوچھتے ہیں‘ آپ سے بھی سیکڑوں ہزاروں سوال پوچھے جاتے ہیں‘ ہمارا ذہن بھی روزانہ چار ہزار سوال پیدا کرتا ہے مگر کچھ سوال ہمارے وجود کو جکڑ لیتے ہیں‘ یہ ہمیں مفلوج کر دیتے ہیں‘ انکل نسیم انور بیگ (اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے‘ تین دن قبل ان کی برسی تھی) فرمایا کرتے تھے ’’ بعض سوال اپنے جوابوں سے زیادہ معزز ہوتے ہیں‘‘ خاتون استاد کا سوال بھی جواب سے زیادہ معزز تھا چنانچہ مجھے چپ لگ گئی‘ میں شرمندگی اور خاموشی کی تہہ میں ڈوبتا چلا گیا‘ میں خاتون استاد کے سوال کی طرف آنے سے قبل آپ کو سوال کی بیک گرائونڈ بتاتا چلوں۔

یہ بیک گرائونڈ معاملہ سمجھانے میں آپ کی مدد کرے گی‘ بی ہیورز (Behavers) اور اخلاقیات سائنس ہیں‘یہ سائنس تین درجوں میں مکمل ہوتی ہے‘ ہماری اخلاقیات اور ہمارے بی ہیورز کی عمارت ہماری پیدائش سے قبل بننا شروع ہو جاتی ہے‘دوسرا مرحلہ پیدائش کے بعد شروع ہوتا ہے‘ ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہم ماحول سے اخلاقیات اور بی ہیورز لینا شروع کرتے ہیں‘ ایک بچہ عالم کے گھر پیدا ہوتا ہے‘ ایک سیاستدان‘ ایک شاعر اور ایک طوائف کے گھر آنکھ کھولتا ہے‘ ان چاروں بچوں کی تاریخ پیدائش خواہ ایک ہو مگر ان کی اخلاقیات اور بی ہیورز میں زمین آسمان کا فرق ہو گا‘ یہ چاروں ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے‘ یہ بچے اس کے بعد معاشرے میں جائیں گے‘ معاشرہ اخلاقیات سازی کا تیسرا مرحلہ ہوتا ہے۔

معاشرے کی اخلاقیات اور بی ہیورز بچے کے جنیات اور خاندانی بی ہیورز اور اخلاقیات کے ساتھ ملتی ہیں‘ یہ بچے جن اسکولوں میں جاتے ہیں‘ یہ جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ یہ جو پیشہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو ٹیلنٹ ودیعت کر رکھا ہے‘ ان کی اخلاقیات بچے کی خاندانی‘ جنیاتی اور معاشرتی اخلاقیات میں شامل ہوتی چلی جاتی ہیں یہاں تک کہ یہ بچے 14 سال کی عمر میں پہنچ کر پرسنیلٹی بن جاتے ہیں‘ یہ بچے باقی زندگی اس پرسنیلٹی کے تحت زندگی گزارتے ہیں‘ ہم اس پرسنیلٹی کو کریکٹر بھی کہہ سکتے ہیں‘ دنیا کی مختلف یونیورسٹیاں بی ہیورز‘ اخلاقیات اور مینرز پر کورس کرواتی ہیں‘ میں نے آج سے پانچ برس قبل امریکا کی ایک یونیورسٹی سے ’’بی ہیورز‘‘ پر پندرہ دن کا کورس کیا‘ کورس میں مختلف ممالک کے 25 طالب علم شامل تھے۔

میں اور علی اس کلاس میں دو مسلمان تھے‘ علی مصر سے تعلق رکھتا تھا‘ علی کو 45 سال کی عمر میں پہنچ کر اندازہ ہوا وہ ’’بی ہیورز‘‘ کے بحران کا شکار ہے چنانچہ اس نے بھی کورس میں داخلہ لے لیا‘ وہ ہماری کلاس کا چوتھا دن تھا‘ خاتون استاد نے ہمیں کاغذ دیا اور ہمیں اپنی اپنی آئیڈیل شخصیات کے نام لکھنے کا حکم دیا‘ میں نے کاغذ پر نبی اکرم ؐ ‘ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نام لکھ دیے‘ علی نے نبی اکرم ؐ‘ حضرت علی ؓ اور سلطان صلاح الدین ایوبی لکھا‘ خاتون استاد نے کاغذ جمع کیے اورپرچوں کا نفسیاتی تجزیہ شروع کر دیا‘ میں اور علی کلاس میں صرف دو لوگ تھے جنہوں نے اپنے رسول ؐ‘ اپنے بابائے قوم یا کسی صحابی ؓ کو آئیڈیل شخصیت قرار دیا۔

کلاس میں22 عیسائی اور ایک بودھ تھا‘ کسی عیسائی طالب علم نے حضرت عیسیٰ ؑکا نام نہیں لکھا‘ بودھ نے بھی مہاتما بودھ کا نام تحریر نہیں کیا ‘ زیادہ تر لوگوں کی آئیڈیل شخصیات سوشل ویلفیئر سے وابستہ شخصیات‘ بزنس ٹائی کونز‘ اسپورٹس مین‘ اداکارہ‘ گلو کار‘ والدین اور سائنس دان تھیں‘ بودھ طالب علم نے ایک عالمی سیاح کا نام لکھا تھا‘ ڈیٹا سامنے آنے کے بعد میں نے علی کی طرف دیکھا اور علی نے میری طرف دیکھا اور ہم دونوں نے فخر سے گردن اونچی کر لی‘ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہو رہا تھا‘ ہم فخر کیوں نہ کرتے‘ ہم لادین‘ کمرشل اور دنیا دار لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے‘ ہم خوش تھے لیکن پھر اگلا مرحلہ شروع ہو گیا‘ خاتون استاد نے سب سے پہلے مجھے کھڑا کیا اور مجھ سے پوچھا’’ آپ کے رسولؐ آپ کے آئیڈیل ہیں۔

آپ یہ بتائیے آپ میں ان کی کون کون سی عادتیں موجود ہیں‘‘ میرے لیے یہ سوال سرپرائز تھا‘ میرے سامنے نبی اکرم ؐ کی ہزاروں لاکھوں خوبیاں اور عادتیں آ رہی تھیں‘ آپؐ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘ کبھی خیانت نہیں کی‘ کم کھاتے تھے‘ کم سوتے تھے‘ کم بولتے تھے‘ نظریں جھکا کر چلتے تھے‘ آہستہ بولتے تھے‘ کبھی انتقام نہیں لیا‘ وعدہ کیا تو نبھایا‘ یتیموں کے والی تھے‘ بیوائوں کا آسرا تھے‘ بچے گستاخی بھی کر جاتے تو ہنس پڑتے تھے‘ اپنی مسجد کو کمیونٹی سینٹر بنایا‘مہمانوں کی غلاظت تک دھو دی‘ جوتے گانٹھتے تھے‘ جانور چراتے تھے‘ لباس پر پیوند لگا کر پہن لیتے تھے‘ لوگوں میں اس طرح گھل مل کر بیٹھتے تھے کہ اجنبی کے لیے آپؐ کو پہچاننا مشکل ہو جاتا تھا‘ بڑے سے بڑے دشمن کو دو سیکنڈ میں معاف کر دیا‘ نظام پر یقین رکھتے تھے‘ لڑنا پڑا تو لڑے‘ جانوروں کے لیے ضابطہ بنوایا‘ دوسروں کے عقائد کا احترام کیا۔

صحابہؓ کو حکم دیا دوسروں کے جھوٹے خدائوں کو بھی برا نہ کہو اور انصاف اتنا کہ فرمایا ’’ فاطمہ بنت محمدؐ بھی ہوتی تو ہاتھ کاٹ دیتا‘‘ میری پہلی آئیڈیل شخصیت میں ہزاروں خوبیاں اورلاکھوںشاندار عادتیں تھیں مگر عبادت کے سوا ان کی کوئی عادت میری زندگی کا حصہ نہیں تھی‘ میں شرمندہ ہو گیا‘ خاتون استاد مجھے اس کے بعد قائداعظم اور علامہ اقبال کی طرف لے گئی‘ میرے اندر قائداعظم اور علامہ اقبال کی بھی کوئی خوبی موجود نہیں تھی‘ قائداعظم نے جیل یاترا کے بغیر دنیا کی کامیاب ترین مسلم تحریک چلائی‘ یہ جیل کیوں نہیں گئے؟ کیونکہ قائد نے کبھی کوئی قانون نہیں توڑا‘ وہ زندگی بھر قانون کے دائرے میں رہے‘ ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی‘ پوری جائیداد تعلیمی اداروں کو عطیہ کر دی۔
خاندان کے کسی شخص کو سرکاری عہدہ نہیں دیا اور زندگی کا ایک لمحہ ضایع نہیں کیا اور علامہ اقبال! وہ سچے عاشق رسولؐ تھے‘ آپ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے تو قرآن کے ورق آنسوئوں سے بھیگ جاتے تھے‘ آپ پوری زندگی نیل کے ساحلوں کو کاشغر کی خاک سے ملانے کے خواب کاتتے رہے‘ قوم ہاشمی کو اقوام مغرب کی غلامی سے آزاد دیکھنے کی آرزوئیں کاشت کرتے رہے اور ممولے میں عقاب سے لڑنے کی قوت پیدا کرتے رہے لیکن افسوس مجھ میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی بھی کوئی عادت‘ کوئی خوبی موجود نہیں تھی‘ میں نے شرمندگی سے منہ نیچے کر لیا‘ علی کی باری آئی تو علی کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ وہ بھی میری طرح شرمندہ ہو گیا۔

یہ سوال دوسرے طالب علموں سے بھی پوچھا گیا‘ ان کے آئیڈیل عام لوگ تھے چنانچہ وہ اپنے آئیڈیل اور اپنے درمیان موجود مشترکہ عادتیں دھڑا دھڑ بیان کرنے لگے‘ وہ خاتون استاد سے بحث کر رہے تھے اور میں اور علی ان کا منہ دیکھ رہے تھے‘ خاتون استاد نے اس اسٹڈی کے آخر میں تین نکتے سمجھائے‘ اس کا کہنا تھا‘ نبی‘ سینیٹ اور لیڈر عام لوگ نہیں ہوتے‘ یہ عام لوگوں سے بالاتر ہوتے ہیں‘ ہم کچھ بھی کر لیں ‘ ہم ان جیسے نہیں بن سکتے‘ ہم بہت زور لگا لیں تو ہم اپنے اندر ان جیسی کوئی ایک آدھ خوبی پیداکر لیں گے اور بس لہٰذا ہمیں ان کی صرف اتباع کرنی چاہیے‘ ان جیسا بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ کوشش ہمارے اندر بی ہیور کا بحران پیدا کر دیتی ہے اور لوگ ہمیں منافق کہنے لگتے ہیں۔

دو‘ ہم اگر گزرے ہوئے لوگوں کے بجائے زندہ لوگوں کو آئیڈیل بنائیں تو ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں‘ زندہ لوگوں اور ہم میں زبان‘ ٹیکنالوجی‘ لباس‘ کرنسی اور انفراسٹرکچر بے شمار چیزیں کامن ہوتی ہیں‘ بل گیٹس اور آپ دونوں ’’کیپو چینو‘‘ پیتے ہیں اور آئی فون استعمال کرتے ہیں چنانچہ آپ ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور تیسرا آپ کسی ایک زندہ شخص کو آئیڈیل مان کر اس کی اخلاقیات اور بی ہیورز کی کاپی کرلیں۔آپ اس کی عادتیں اپنا لیں‘ آپ کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے۔

وہ کورس ختم ہو گیا‘ میں واپس آ گیا مگر میں پچھلے پانچ برسوں سے ملک کے تمام لیڈروں کو وہی غلطی کرتے دیکھ رہا ہوں جو میں نے اور علی نے کورس کے دوران کی تھی‘ میاں نواز شریف ملک کو علامہ اقبال کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں‘ علامہ طاہرالقادری ملک میں مصطفوی انقلاب لانا چاہتے ہیں‘ عمران خان پاکستان کو قائداعظم کا ملک بنانا چاہتے ہیں اور آصف علی زرداری پاکستان کو شہید بھٹو کے خوابوں کی سلطنت دیکھنا چاہتے ہیں۔

میں اپنے لیڈروں کے خیالات کا احترام کرتا ہوں لیکن میں احترام کے باوجود ان سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں‘ مجھے میاں نواز شریف بتائیں ان میں علامہ اقبال کی کون سی خوبی موجود ہے؟‘ علامہ طاہر القادری نے رسول اللہﷺ کی کون سی خوبی اپنائی‘ عمران خان نے قائداعظم کی کس خوبی کی پیروی کی اور آصف علی زرداری میں بھٹو کی کون سی خوبی موجود ہے؟‘ یہ لوگ اگر اپنے پونے چھ فٹ کے جسمانی رقبے میں اپنے آئیڈیل کی ایک خوبی پیدا نہیں کر سکے تو یہ 19 کروڑ لوگوں اور سات لاکھ مربع کلو میٹر کے اس ملک کو اپنے آئیڈیل کے رنگ میں کیسے ڈھالیں گے؟۔

کیا آپ میں سے کسی شخص کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے!۔

No comments:

Powered by Blogger.