Header Ads

Breaking News
recent

بلوچستان : عوام کہاں جائیں


بلوچستان کے حالات اسی طرح سے ہیں جس طرح پہلے تھے۔ صوبہ دہشت گردی، انتہا پسندی، پسماندگی، اغوا برائے تاوان سمیت دیگر کئی مسائل میں کمی کے بجائے اضافے سے دوچار ہے۔ عوام نے عام انتخابات کے بعد نئی صوبائی حکومت سے کئی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں کہ بلوچستان میں پائی جانے والی شورش زدہ کیفیت میں کمی واقع ہوگی لیکن یہ وہ صوبہ ہے کہ جہاں وزیراعلیٰ کی نامزدگی مسئلہ بنی رہی اور پھر چار ماہ تک صوبائی کابینہ بڑی لے دے کے بعد بنی، یعنی سیاسی صورت حال ہی مستحکم بنیادوں پر ہی قائم نہیں ہوسکی، جب کہ ان دنوں اتحادی جماعتوں میں کھینچا تانی جاری ہے۔ ن لیگ جو کہ ابتدا ہی سے صوبہ کی بڑی جماعت بن کر ابھری اور اس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی معاملہ فہمی کے باعث وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑا مگر وہ اب نالاں ہے۔ مالک بلوچ مسلسل انھیں نظر انداز کر رہے ہیں، اس حوالے سے ان کے تحفظات ہیں جوکہ خاطر میں نہیں لائے جارہے۔ اس کشمکش صورت حال کی وجہ سے قیام امن اور عوام کا تحفظ مسلسل خطرات سے دوچار ہے۔

مسائل کے انبار لگ رہے ہیں، معاشی ترقی ابتری کی جانب رواں دواں ہے۔ عوامی حلقے اپنے مسائل کے حل کے لیے سرگرداں ہیں۔ 11 مئی 2013 سے قبل بھی صوبہ آگ کی لپیٹ میں تھا اور اب بھی اس میں کمی واقع نہیں ہورہی۔ زائرین سابقہ دور میں بھی لقمہ اجل بن رہے تھے جب کہ موجودہ دور میں بھی انھیں عدم تحفظ کے خطرات لاحق ہیں۔ یہ کہا جانا بے جا نہ ہوگا کہ اب بھی حکومتی رٹ نہیں دکھائی دیتی البتہ حکومت اپنی رٹ کی رٹ لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی، مذہبی اور عام افراد سمیت حکومتی شخصیات کا اغوا عام بات ہوگئی ہے۔ چند دن قبل صوبے کے قبائلی و مذہبی رہنما سید احمد شاہ قبائلی رہنماؤں کی جدوجہد کے بعد چھ ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بازیاب ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ کچ کے ڈپٹی کمشنر عبدالحمید ابڑو اور تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حسین بلوچ اغوا ہوگئے اور افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے جانے والی ٹیم بھی اغوا کرلی گئی۔ ذمے داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی۔ اہم بات یہ ہے کہ صوبے میں کئی علیحدگی پسند تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں مگر ان کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات نہیں کیے جارہے۔

درست ہے کہ مشرف دور میں بلوچستان کے حالات گمبھیر صورت حال اختیار کر گئے لیکن بعد کی حکومتیں اس پر بہتری لانے میں ناکام کیوں رہیں۔ ایڈولف ہٹلر نے کہا تھا کہ کسی بھی قوم پر کاری ضرب لگانی ہو تو سب سے پہلے اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اس قدر مشکوک بنادیا جائے کہ وہ اپنے ہی محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ یہی صورت حال یہاں پائی جاتی ہے۔ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ صوبے میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑھ کر پاک آرمی نے خدمات انجام دیں لیکن مسلسل انھیں روکنے کی کوشش کی گئی۔ مختلف مقامات پر امداد و بحالی پر مامور ٹیموں کو ہدف بناکر نقصان پہنچایا گیا حالانکہ فوج کا کسی بھی لحاظ سے محاذ آرائی کا ارادہ نہ تھا۔ شرپسندی بہرکیف عروج پر ہے، جو خود ان کے لیے اور صوبہ بھر کے پسماندہ عوام کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ 2013 میں ایف سی کے 360 اہلکار شہید کیے گئے۔ پولیس بھی مسلسل خطرات کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہے۔

لاپتہ افراد کی تعداد میں بھی کمی واقع نہیں ہورہی۔ کچھ لوگ تاوان کی ادائیگی کی صورت میں رہا یا بازیاب ہوئے مگر ایک بڑی تعداد اب بھی لاپتہ کے زمرے میں شمار ہورہے ہیں۔ مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی ایک المیہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ماما قدیر خواتین سمیت ایک قافلے کی صورت گزشتہ سال ستمبر سے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے لانگ مارچ کر رہے تھے۔ کسی حد تک اس حوالے سے پیش قدمی بھی نظر آئی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سرگرم دیکھا گیا لیکن خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبر کے انکشاف نے تشویش کی ایک نئی لہر کو ہوا دی ہے۔ یہ ایسا دل گداز واقعہ ہے کہ اگر یورپ یا کسی اور متمدن ملک میں ایسا کوئی سانحہ رونما ہوتا تو ممکن ہے لوگ حواس باختہ ہوجاتے، آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا، انسانی حقوق کی تنظیمیں واویلا مچادیتیں۔ لیکن بلوچستان چونکہ ملک کا پسماندہ صوبہ ہے اور یہاں عرصہ دراز سے کشت و خون کا بازار گرم ہے روزانہ کی بنیاد پر لاشیں گر رہی ہیں اسی وجہ سے نظر انداز کرنا یا سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کرنا غیر معمولی کیفیت نہیں۔ بھلا ہو ہمارے ملک کی عدلیہ کا جو اس صورت حال میں بھی عوام کی داد رسی کے لیے متحرک ہے کہ موجودہ چیف جسٹس نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے از خود نوٹس لیا اور اجتماعی قبر کی تحقیقات کا بیڑا اٹھایا۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل نے اس حوالے سے آواز بلند کی مگر ان کی یہ آواز حکومتی بنچوں تک باز گشت نہ پیدا کرسکی۔ دوسری جانب اس سانحے کے چند دن بعد ہی سبی کے بیدار قبرستان کے قریب پانی کے جوہڑ سے ایک تشدد زدہ نوجوان کی بوری بند لاش ملی جو کہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

الغرض یہ کہ صوبے کے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے عوام قدرتی گیس سے محروم ہیں۔ حالانکہ یہ گیس اس صوبے کی پیداوار ہے، اسکول بند ہیں، اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں، سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اول تو عوام عدم تحفظ کے باعث گھروں میں ہی محصور ہیں اور اگر نکلیں بھی تو نوگو ایریاز کے باعث محدود حد تک کسی قسم کی سرگرمی انجام دے سکتے ہیں۔ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کا راگ الاپا جارہاہے جب کہ صوبائی حکومت اختیارات سے بہرہ ور نہیں۔ عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا جو عسکریت پسندوں کو توانائی پہنچانے کا باعث ہے جس سے نہ صرف معاشی و اقتصادی معاملات پر قدغن ہے بلکہ ریاست کمزور کی جارہی ہے اور عالمی سطح پر صوبے کا چہرہ مسخ ہورہا ہے۔ اب کون بتائے کہ بلوچستان کے مسائل جن سے عوام مسلسل نبرد آزما ہے ان کو حل کون کرے گا۔ حکمران یقین دہانیوں پر زور دیتے ہیں اور صوبے میں سیاسی صورت حال مستحکم نہیں۔ عوام کا پرسان حال کون ہوگا؟

مجاہد حسین

No comments:

Powered by Blogger.