Header Ads

Breaking News
recent

نوجوان سرمایہ کاری کیسے کریں



ہمارے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو جنوبی ایشیائی خطے میں پاکستانی نوجوان بہت بہتر ذہنی اور جسمانی قوت کے مالک ہیں ان کا سب سے بڑا مسئلہ مناسب روزگارکی فراہمی ہے۔ اپنے کاروبار کا خود مالک ہونا ایک ایسا خوش آیند خواب ہے جو ہر نوجوان بلاشبہ دیکھتا ضرور ہے۔ بہتیرے شاید اس ایک محض سراب سمجھتے ہوں کیونکہ وہ اس کے بنیادی تقاضوں سے یا تو لاعلم ہوتے ہیں یا محروم ہوتے ہیں۔

سرمایہ ایک کاروبارکی اولین ضرورت ہے انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے کہ وزیر اعظم یوتھ بزنس لون اسکیم نے نوجوانوں کے لیے ایک باعزت روزگار کے بڑے گیٹ کی کنجی فراہم کردی ہے لیکن اس بڑے گیٹ سے اندر داخل ہونے کے بعد مرحلہ وار کئی دروازے آئیں گے جن سے گزرنے کے لیے ہر نوجوان کو کچھ ذاتی خوبیاں خود پیدا کرنی ہوں گی۔ وہ ہیں مسلسل محنت، بلند حوصلہ اور ارادے کی پختگی۔ ان خوبیوں کو اگر دیانتداری کا جامہ پہنا دیا جائے تو یہ کسی بھی کاروبار کی کامیابی کی ضمانت بن جاتے ہیں۔

کاروبار کئی قسم کے ہوسکتے ہیں ۔ سائنس، ٹیکنالوجی کی ترقی جدید دنیا کی آسائشوں نے نت نئے کاروبار کی دنیا آباد کردی ہے۔ نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک جیسے کہ امریکا، چین، یورپ ان کی معیشت کے ستون چھوٹے کاروباروں سے پیوستہ ہیں صرف امریکا میں 27 ملین چھوٹے کاروبار ہیں۔ چین نے آزادانہ معاشی ترقی کا سفر 1978 سے شروع کیا اور اس ملک میں 1992 تک چھوٹے کاروبار کا جال بچھ گیا تھا۔

ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ کاروبار شروع کرنے کے لیے مقامی حالات، ڈیمانڈ، سپلائی، پوزیشنز کا جائزہ لیں، صنعتی علاقوں میں جائیں اپنے دوست اقارب جو کسی کاروبار سے منسلک ہوں ان کے پاس کچھ وقت گزاریں اور اپنی ذہنی استعداد، قابلیت، معلومات اور دلچسپی کے مطابق کسی کاروبار کا انتخاب کریں۔ وہ کوئی چھوٹا کارخانہ لگا سکتے ہیں جس میں اوزار بن سکیں یا خوراک کی فراہمی کے لیے پیکیجنگ یا ٹریڈنگ جیسے مال ایک جگہ سے دوسری جگہ سپلائی کرنا بھی متوقع شعبے ہوسکتے ہیں۔ خدمات میں کاروبار کے لیے بھی وسیع مواقعے موجود ہیں بوتیک قائم کرنا، خواتین کے لیے بیوٹی پارلر، بچوں کا ڈے کیئر سینٹر، الغرض کئی امکانات موجود ہیں اگر کسی نوجوان کے علاقے میں کھیلوں کے میدان ہیں مگر بچے بیٹ بال، ہاکی یا دیگر اشیا کے خریدنے کے لیے دور جاتے ہوں تو وہاں وہ سپلائی بیس بن سکتا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہر پراڈکٹ جو مارکیٹ میں موجود ہے اس کے پیچھے ایک پورا مارکیٹ میکنزم موجود ہے۔ خام مال کی تیاری سے مکمل پراڈکٹ تیار ہونے تک اس کی سپلائی چین میں کئی اسٹیک ہولڈرز ہیں جن سے ایک آپ بن سکتے ہیں۔ کیا آپ آپ کو معلوم ہے کہ جو پراڈکٹ آپ نے منتخب کی ہے اس میں ٹیکنالوجی کی کیا اہمیت ہے کیونکہ جو پراڈکٹ جتنی زیادہ عمدہ ٹیکنالوجی سے تیار ہوگی مارکیٹ میں اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

کہا جاتا ہے کہ چھوٹے کاروبار میں جدت اور نئے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی بڑی وسعت ہوتی ہے کیونکہ یہ انفرادی گاہکوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ ہنری جان ہینز نے ابتداً چھوٹے پیمانے پر اچار، کیچپ بنائے اور گھوڑا گاڑی پر سپلائی کیے آج Heinz پراڈکٹ ایک عالمی چین اسٹور ہے، سائمن ووڈ ورڈز نے پہلا Yu Susli ریسٹورنٹ ایک جاپانی ریسٹورنٹ کی طرز پر کھولنے کی کوشش کی اور آج اس فوڈ چین سے سب واقف ہیں۔

ایک نوجوان جو کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے وہ پہلے بنیادی نکات طے کرلے جیسے کہ (1)۔کیا کام کرنا چاہیے۔ (2)۔کاروبار کا نام سوچیں۔(3)۔اپنی ٹیم بنائیں مگر اختیارات اپنے پاس رکھیں کیونکہ سرمایہ آپ کا ہے۔ (4)۔کاروبار کی بنیادی باتیں لکھ لیں۔(5)۔بزنس پلان بنائیں۔(6)۔آپریشنل پلان بنائیں۔

اس وقت چھوٹے کاروبار کے لیے حکومت کی طرف سے نہ صرف سرمایہ فراہم کیا جا رہا ہے بلکہ یقینی طور پر حکومت اس اسکیم کو کامیاب کرنے کے لیے کوشاں رہے گی اور نوجوانوں کو ہر معاملے میں ممکنہ سپورٹ حاصل رہے گی مگر چونکہ کچھ عرصے کے بعد آپ نے سرمایہ واپس بھی بتدریج کرنا ہے اپنے فکسڈ اور جاری اخراجات نکالنے ہیں اور کچھ منافع بھی کمانا ہے۔ لہٰذا ابتدائی دور آپ سے بہت زیادہ سنجیدگی اور سوچ و بچار کے متقاضی ہیں سب سے زیادہ ضروری مارکیٹ ریسرچ اور سروے ہیں جو آپ لامحالہ کرتے ہیں اگرچہ ہر کاروبار کے لوازمات مختلف ہوتے ہیں لیکن کچھ بنیادی ستون ایسے ہیں جن کے لیے آپ رقم کا تعین پہلے سے کرلیں گے۔ مختصراً ہم چند کا ذکر کردیتے ہیں مثلاً فکسڈ اخراجات یا کاروبار کی لوکیشن کا مرحلہ بہتر ہوگا کہ جو جگہ، بلڈنگ یا کارخانہ کرایہ پر لیں وہ کسی حد تک آپ کی رہائش سے قریب تر ہو اسی فہرست میں مشنری، اوزار، میز، کرسیاں، کمپیوٹر آئیں گے۔ جاری اخراجات میں سب سے اہم ہنرمند کاریگر یا ورکرز وغیرہ، مارکیٹ کا جائزہ لے کر اجرتوں کے متعلق جو معلومات ہو ان کو لکھ لیں اور کم ازکم ڈیڑھ سال کے لیے تنخواہوں کی رقم محفوظ رکھیں۔ زیادہ بہتر صورتحال یہ ہوگی کہ کام کے گھنٹوں کے لحاظ سے ابتداً اجرأت طے کریں کیونکہ ایک پروجیکٹ کے لیے کام کرنے والے ورکرز چاہیے ہیں اس کے بعد سب سے اہم تخمینہ جاری اخراجات کا ہوگا جس میں اندازہ کرنا ہوگا کہ کتنے اخراجات باقاعدگی کے ساتھ کرنے ہوں گے ایک انتہائی ضروری امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں نوجوانوں کو لازم ہے کہ جدید دنیا کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ اگرچہ بیشتر نوجوان کمپیوٹر چلانے سے واقف ہوتے ہیں اگر نہیں تو اپنے فکسڈ انوسٹمنٹ میں ایک کمپیوٹر سسٹم خریدنے کی گنجائش پیدا کریں کمپیوٹر چلانا سیکھیں انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کریں اگر Wi-Fi آسانی سے میسر نہ ہوسکے تو PTCL کی USB اسٹک خریدیں اور اپنے مجوزہ کاروبار کے بارے میں مکمل آگہی حاصل کریں۔ یہ نوجوانوں کے ذہنوں میں وسعت پیدا کرے گا اور ان کے اندر آگے بڑھنے کے جذبے کو جلا بخشے گا۔ کمپیوٹر آپ کو Cash Flow بنانے میں بڑی مدد دے گا آپ کو قلیل عرصے میں اندازہ ہوجائے گا کہ آپ کا کاروبار کیا رخ اختیار کر رہا ہے۔ بروقت آپ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اپنی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لیں اور اس کو مارکیٹ عوامل سے ہم آہنگ کرلیں۔

آخر میں ایک بہت مفید مشورہ پیش کیے دیتے ہیں وہ تمام نوجوان جو چھوٹے کاروبار کے لیے قرض حاصل کر رہے ہیں اور اپنا ذاتی کاروبار قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں انھیں چاہیے کہ وہ Facebook یا کسی دوسری سوشل سائٹ پر Small Business Group کے نام سے ایک نیٹ ورک قائم کریں اور انھیں جو بھی مشکلات یا پریشانیاں پیش آرہی ہیں وہ اسے دوسروں کے سامنے لائیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ڈسکس کریں۔ یقین کریں کہ تبادلہ خیال سے بہتر کوئی حکمت عملی نہیں ہوسکتی ہوسکتا ہے کہ کاروبار قائم کرنے، اسے چلانے یا اس کی مارکیٹنگ کرنے کے سلسلے میں نوجوانوں کو کسی خاص علاقے یا کسی شعبے میں جو رکاوٹیں نظر آرہی ہوں کسی دوسرے کے پاس اس کا بہتر حل موجود ہو۔ نیٹ ورکنگ کریں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور معاشی پہیے کا فعال حصہ بنیں۔

شاہدہ قیصر 

No comments:

Powered by Blogger.