Sunday, December 29, 2013

Real causes of Turkey corruption scandal

یہ امریکہ کی ریاست پنسلوانیا (Pennsylvania) کے شہر سیلرس برگ کے سرسبز و شاداب ماحول میں گھری ہوئی ایک خوبصورت عمارت ہے۔ گہرے بادامی رنگ کی ڈھلوان چھتوں والی V(وی) کی شکل میں بنی اس عمارت کی عقبی سڑک کے دائیں بائیں سے پکی پگڈنڈیاں آگے محرابی شکل کے صدر دروازے تک آتی ہے۔سامنے کی پگڈنڈی کے آگے گھنے درختوں کے جھنڈ ہیں۔ یہیں پر معروف امریکی رسالے Foreign Policy کے سروے کے مطابق عالمِ اسلام کی پانچ سو سب سے با اثر مُسلم شخصیات میں سے ایک فتح اللہ گولن بظاہر گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہیں سے وہ اس تحریک کی ڈوریوں کو حسبِ ضرورت حرکت دیتے ہیں جسے ’ گولن تحریک ‘ کہا جاتا ہے اور یہ ’خدمت تحریک ‘(Hizmet Movement) کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ یہ تحریک رفاہِ عامہ اور فروغِ تعلیم کے ظاہری مقاصد کے تحت چل رہی ہے ۔ سائنسی مضامین کی تعلیم کو وہ عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔اس تعلیمی تحریک کی وجہ سے وہ اسی طرح مغرب کی گُڈ بکس میں ہیں جس طرح ہمارے ہاں خورشید محمود قصوری اور ان کا خاندان ہے جنہوں نے ملک میں ’بیکن ہاؤس ‘ اور ’سِٹی سکولز‘ کا جال بچھا رکھا ہے۔گولن تحریک کا نیٹ ورک ترکی، وسطِ ایشیا اوردنیا کے تقریباً ڈیڑھ سو دیگرممالک میں پھیلا ہوا ہے ۔ خودامریکہ کی پچیس ریاستوں میں اس وقت ان کے ایک سو بیس سکول ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ان کے مرید ذاتی سطح پر ہمہ نوع ادارے قائم کرتے ہیں اور پھر ان کو طے شدہ پالیسی کے تحت اصل نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے۔ اشرافیہ کے لیے بھاری فیسوں والے بڑے مہنگے سکولوں اور یونیورسٹیوں کے علاوہ اس کے زیرِ اہتمام متعددخیراتی ادارے ، تعمیراتی کمپنییاں، طِبی مراکز، اقتصادی ادارے اورطاقتورمیڈیا مراکز قائم ہیں، جن میں ریڈیو اور ٹی وی سٹیشن، اخبارات اور رسائل شامل ہیں۔ترکی کا ایک کثیر الاشاعت اخبار ’زمان ‘ اور اس کا انگریزی ورژن Today\’sZaman\’ اسی تحریک کا ایک بڑا ابلاغی ہتھیار ہے۔یہ تحریک ترکی کی طلبہ اور دیگر پیشہ ورانہ تنظیموں میں بھی گہرا اثر رکھتی ہے۔ترکی کی عدلیہ اور محکمہ پولیس میں اس تحریک کے سرگرم حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس وقت ترکی میں گولن کے حامیوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

فتح اللہ گولن1999 علاج کی غرض سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مولانا روم کی روحانی روایت اور بیسویں صدی کے معروف مُصلح اور داعی بدیع الزّماں سعید نورسی ؒ کی اصلاحی فکر کے وارث کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں۔ مغربی دنیا میں ایک اعتدال پسند مسلم سکالر اور روحانی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔وہ بین المذاہب مکالمے اور تفاہم و تقرب کے اس وقت سب سے بڑے داعی ہیں۔ترکی کی اسلامی تحریک ، خاص طور پر، بدیع الزّمان سعید نورسی ؒ کی نوری تحریک میرے مطالعہ کا اہم موضوع رہا ہے۔میں گولن یا خدمت تحریک کو شاید اتنی جلدی اپنا موضوع بنانے کی فرصت نہ نکالتا لیکن یہ جو وزیرِ اعظم طیب اردگان کی جماعت AKP اور گولن تحریک کے درمیان ایک ’کھلی جنگ ‘ کی کیفیت سامنے آئی ہے ضروری سمجھا کہ اپنی معلومات قارئین سے شیئر کروں۔بات چلی تھی کہ گولن تحریک کے تحت چلنے والے پریپ سکولوں کو حکومت بند کرنا چاہتی ہے۔معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے۔لیکن یہ سکول چونکہ اس تحریک کے لیے اس کی بے پناہ آمدنی اور بالائی سماجی طبقے سے قریبی رابطے کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ان کا بند ہونا اس کے لیے بڑے نقصان کا باعث ہو گا۔اسی بات پر حکومت اور اس تحریک کے مابین کشیدگی بقول میڈیا ’کھلی جنگ‘ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ابھی حکومتی وزرا کے بیٹوں کے خلاف کرپشن کے جو کیس سامنے لا کر ایک ہلچل مچائی گئی ہے یہ اسی کشمکش کا شاخسانہ ہے۔ نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹوں میں وزیرِ اعظم طیّب اردگان کو پیش آنے والے تازہ بحران میں فتح اللہ گولن کا ہاتھ بتایاہے۔ یکطرفہ طور پر یہ تلخی پہلے بھی موجود تھی۔فتح اللہ گولن کا بین المذاہب دوستی اور ڈائیلاگ کا ایک خاص فلسفہ ہے ۔ مئی2010کے آخر میں فلسطین میں محصورینِ غزّہ کے لیے امدادی سامان لے کر چھ بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا ترکی کی بندرگاہ سے گیا تھا۔ اسرائیلی کمانڈوز نے اپنی سمندری حدود سے باہر کمانڈو ایکشن کیا اور آٹھ نو ترک باشندے اور ایک امریکی ترک کو ہلاک کر دیا تھا۔اس پر ترکی کی حکومت نے اس قدر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو معذرت کرنی پڑی تھی۔ انسانی ہمدردی کی یہ امدادی مہم فتح اللہ گولن کے نزدیک قابلِ اعتراض اوران کے بین المذاہب دوستی اور ڈائیلاگ کے فلسفے کے خلاف تھی۔ انہوں نے اس پر ترک وزیرِ اعظم کو تو تنقید کا نشانہ بنایالیکن اسرائیل کے وحشیانہ اقدام کی مذمت نہیں کی۔مصر میں گزشتہ جولائی میں منتخب صدر محمد مرسی کو فوجی طاقت سے معزول کر دیا گیا۔ اس غیر جمہوری کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بہیمانہ تشدد ہوا۔سینکڑوں اخوانی کارکن بڑی بے دردی سے شہید کر دیے گئے۔ان مظلوموں اور مقتولوں سے تو جناب گولن نے کوئی ہمدردی ضروری نہ سمجھی لیکن مرسی کی حمایت اور اخوانوں کے بے دردانہ قتل پرطیّب اردگان کے دکھ اور صدمے کے اظہار کو انہوں نے دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا۔ ان کا ہر موقف اسرائیل اور مغربی قوتوں کے تو قریب نظر آتا ہے لیکن مِلی سوچ سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔

فتح اللہ گولن بظاہر صوفی مسلک کے آدمی ہیں لیکن ان کی تحریک کے مزاج کا تجزیہ کریں تو یہ دنیا داری اور مادہ پرستی کی ایک جدید مثال ہے۔ یہ دنیوی اثر و رسوخ اور ترکی کے حلقہِ خواص اور قومی اداروں میں اپنے اثرات کو گہرا کر رہے ہیں۔ بزرگانِ دین کے ہاں مقبولیت ہمیشہ بڑا نازک معاملہ رہا ہے۔ وہ اسے ایک فتنہ ہی سمجھتے رہے اور اس سے دور بھاگنے ہی میں اپنے دین و ایمان کی سلامتی خیال کرتے تھے۔ یہ مقبولیت اس لیے بھی بڑا امتحان ہے کہ کچھ قوتیں مقبول تنظیموں اور شخصیات کو اپنے پھندے میں پھنسا لیتی اور اپنے مکروہ ایجنڈے کے تابع کر لیتی ہیں۔ طیب اردگان کی قیادت میں ترکی کو کچھ امتیازات حاصل ہو رہے ہیں۔یہ ملک عالمِ اسلام کی قیادت کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ یہ بڑی تیزی سے دینی روح، اقتصادی ترقی اورسیاسی استحکام کی طرف لوٹ رہا ہے۔یہی چیز اسلام دشمن قوتوں کو گوارا نہیں ہے۔اس لیے ترکی کو اس منزل سے ہٹانے کی سازشوں کا شروع ہو جانا ہر گز باعثِ تعجب نہیں ہو گی۔ اردگان نے پاکستان کے دورے سے واپسی پر اپنے بیان میں ملک کے اندر اور باہر بیٹھی ہوئی جن سازشی قوتوں کا نام لیے بغیر ذکر کیا یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے اس سے واضح طور پر گولن تحریک مراد لی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ ترکی کی پولیس فورس اور عدلیہ اور بیوروکریسی میں کلیدی پوزیشنوں پر گولن کے مرید بیٹھے ہوئے ہیں جو جب چاہیں حکومت کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔یہ تحریک اب اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ کوئی اور تحریک اپنے اثرات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ترکی کے مردِ بیمار نے ابھی ایک عشرہ ہی ہوا ہے سنبھلنا شروع کیا تھا، پھر اس کے روگ تازہ کرنے کی سازشیں ہونے لگی ہیں۔ گولن ہوں یا طاہر القادری یا الطاف حسین ، سیاست کرنے کا صاف اور سیدھا راستہ یہ ہے کہ ملک کے اندر آئیں، اپنے منشور اور پروگرام کے ساتھ حصہ لیں۔اپنی مقبولیت کو امتحان میں ڈالیں۔ عوام کے ووٹوں سے اقتدار تک پہنچیں۔ اپنی حریف سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں قوم کو فلاح و ترقی کی منزل سے ہمکنار کرنے کا اہل ثابت کریں۔ رضاکارانہ جلاوطنی ہمیشہ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے شکوک کو جنم دیتی ہے اور یہ شکوک ان تینوں شخصیات کے بارے میں موجود ہیں۔

منیر احمد خلیلی

                                                                                                                                                               

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Real causes of Turkey corruption Scandal

Enhanced by Zemanta